پاکستان پڑوسیوں کے لئے ایک بوجھ یا سازشوں میں گھری لاچار ریاست؟

roznama-taqatarticle may 15 iqrar

 
پاکستان کو اس وقت ایک ناخوشگوار صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ اس کے تین ہمسائے اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ یہ ان کے دشمنوں کا سہولت کار بنا ہو ا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے نا صرف دہشت گرد گروپ جیش العدل کو پناہ دینے کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے بلکہ پاکستان کو دھمکی بھی ہے کہ وہ اس کی حدود کے اندر دہشت گردوں کو براہ راست نشانہ بنا سکتے ہیں ۔
دوسری جانب افغانستان پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ اس کی پشت پناہی میں حقانی گروپ کابل حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ بھارت بھی پٹھان کوٹ اور اووری حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان پر مسلسل سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہے۔
دریں اثناء پاکستان کا موقف ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے ساتھ ملکر پاکستان کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے ایرانی سرزمین کو بھی استعمال کیا جار ہاہے جس کا واضح ثبوت ایرانی سرحدکے ذریعے پاکستانی حدود میں داخل ہوتے وقت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے۔گزشتہ سال مارچ میں بلوچستان کے علاقے ماشخیل میں گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک جعلی نام کے ساتھ ایران میں رہ رہا تھا اورپاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے اسے این ڈی ایس کی آپریشنل حمایت حاصل تھی۔
کلبھوشن یاد و کے بیان سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان کے تین پڑوسی ایران، افغانستان اور بھار ت بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسے غیر مستحکم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی تھی، اور تہران کی اس وضاحت کو اسلام آباد نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔
کیایہ اتفاق تھا کہ 25مارچ 2016کو آئی ایس پی آر کی جانب سے کلبھوشن یادو کی گرفتاری سے متعلق خبر ایک ایسے وقت میں شائع ہوئی جب ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان کے دوروزہ سرکاری دورے پر تھے۔پاکستان میں سفارتی حلقوں کا خیا ل تھاکہ ایرانی صدر کے دورے کے موقع پر یہ مناسب نہیں تھا کہ کلبھوشن یادو کی گرفتاری کی خبر کو منظر عام میں لایا جائے۔تاہم پاکستان کے سفارتی کیڈر کا موقف تھا کہ ریاستی اداروں کا یہ استحقاق ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کونسی خبر کو کس وقت شائع کرنا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہو ا ہے لیکن پھر بھی اسے خطے میں دہشت گردوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر حمایت فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا جار رہا ہے۔گزشتہ10سالوں میں پاکستان میں 70,000سے زائد معصوم شہریوں کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے شہید کر دیا جس کے امیر ملا فضل اللہ بلاشبہ افغانستان میں روپوش ہیں۔ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے اعترافی بیان میں دنیا کو یہ واضح طور پر بتادیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے مالی جبکہ افغان حکومت کی طرف سے آپریشنل تعاون حاصل ہے۔
ایران کا دعوی ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں موجود دہشت گرد تنظیم جیش العدل کے جنگجوؤں نے سرحد پار سے حملہ کر کے ایرانی سرحد کی نگرانی پر مامور10 گارڈز کو ہلاک کر دیا۔حیرت کی بات ہے کہ ایران اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ جیش العدل سب سے خطرناک دہشت گرد گروپ جنداللہ کی ایک شاخ ہے اور جو گزشتہ چھ سالوں میں 500سے زائد پاکستانی شہریوں سے ان کی زندگیاں چھین چکا ہے۔جیش العدل دہشت گرد تنظیم جنداللہ (خدا کے سپاہی) کے سربراہ عبدالماک ریگی کی پھانسی کے بعد قائم کی گئی ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سن 2000کے وسط میں جنداللہ کراچی اور بلوچستان میں موجود تھی اور پاکستان اور ایران کے اندر بہت سی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہی۔پاکستان میں سرگرم جنداللہ کو ٹی ٹی پی چلاتی تھی جبکہ جنداللہ کا امیر عبدالمالک ریگی پاکستان میں ہی پلابڑا اور کراچی کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کرتا رہا۔جنداللہ مبینہ طور پر کراچی میں 2004میں پاکستان آرمی کے ایک جنرل پر حملے میں بھی ملوث رہی تاہم جنرل اس میں محفوظ رہے۔
عبدالمالک ریگی ایران میں گرفتار ہوا اور پھر 2010میں اسے پھانسی دے دی گئی۔اس کی گرفتاری کی تفصیلات کے مطابق،وہ 23فروری 2010کو دبئی سے کرغستان کے دارلحکومت بشکیک جانے والے ایک تجارتی ہوائی جہاز میں سوار تھا۔جب تجارتی جہاز خلیج فارس میں داخل ہوا تو ایرانی جنگی طیاروں نے پائلٹ کوجہاز ایران میں اتارنے کو کہا۔جہاز نے بند ر عباس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کیا ،ایرانی فورسز نے عبدالمالک ریگی کی شناخت کی اور اسے گرفتار کر لیا۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریگی کے پاس افغان پاسپورٹ ہونے کے علاوہ پاکستان، خلیجی ممالک، یورپین ممالک اور مشرق وسطی کے ممالک کے ویزے تھے جو اسے کابل میں قائم ان ممالک کے سفارت خانوں نے جاری کئے تھے۔اپنے اعترافی بیان میں ریگی نے دعوی کیا کہ وہ بشکیک شہر کے قریب قائم مناس ایئر بیس میں موجود امریکی فوجیوں کو اطلاع دینے جا رہا تھا۔
ایرانی حکام کہ معلوم ہے کہ عبدالمالک ریگی افغان حکام کے ساتھ رابطے میں تھا اور وہ افغان پاسپورٹ اور شناخت کو استعمال کر رہا تھا۔ایرانی حکام کو یہ بھی معلو م ہے کہ جنداللہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہی ہے اور اب وہ افغانستان میں موجود ہے۔
اسی طرح ایرانی حکام کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ جنداللہ ہی وہ دہشت گرد تنظیم ہے جس نے پاکستان میں بہت سے دہشت گرد حملوں بشمول 2013میں نانگا پربت میں سیاحوں پرحملے، 2013میں پشاور چرچ پر حملے، واہگہ بارڈر پر خودکش دھماکے اور 30جنوری 2015میں شکاپور میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔
جنداللہ پاکستان کے دشمن کے طور پر جانی جاتی ہے اور جیش العدل اسی کی ایک شاخ ہے۔
پاکستان نے 9مئی 2017کوایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے سرحد پار حملوں سے متعلق بیان پر اپنے تحفظات سے ایران کو آگاہ کیا ۔اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے مابین قائم دوستانہ تعلقات کی روح کے خلاف ہیں۔ایران سے کہا گیا کہ ایسے بیانات دینے سے گریز کیا جائے جس سے دوستانہ تعلقات کا ماحول خراب ہو جائے۔
پاک ایران تعلقات یقیناًگزشتہ ایک سال سے مشکل دور سے گزرہے ہیں لیکن پھر بھی دونوں ممالک اس حقیقت کو کھلے عام تسلیم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ایران پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے زیر قیاد ت عسکری اتحاد کو فراہم کردہ فوجی حمایت سے خوش نہیں ہے۔ایران نے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ)راحیل شریف کی بطور سعودی عسکری اتحاد کے سربراہ کے تعیناتی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ جنرل (ریٹائرڈ)راحیل شریف سعودی عرب او رایران کے دو طرفہ تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کردا ر ادا کر سکیں گے ،اور عسکری اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے استعمال ہو گا۔
تاہم علاقائی مبصرین کا ماننا ہے کہ 20فیصد سے بھی کم امکانات ہیں کہ سعودی عرب عسکری اتحاد میں ایران کی شمولیت کو تسلیم کرے گا۔پاکستان پر امید ہے کہ یہ سعودی عر ب اور ایران کے کشیدہ تعلقات کو بہتر کر نے میں اپنا تاریخی کردار نبھا پائے گا۔تاہم صرف وقت ہی یہ بتا پائے گا کہ کیسے عرب اور عجم اپنے ہزاروں سال پرانے نظریاتی اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کو قبول کر لیں گے یا نہیں، اور کیسے ایران کی شیعہ ریاست اپنی حریف سعودی عرب کی وہابی ریاست کے ساتھ گھل مل جائے گی؟
یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے باہمی اختلافات مشرق وسطی میں ان کے مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ ان کے ایک دوسرے سے مختلف نظریات بھی ہیں۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے ،اور اسلام آباد اور تہران کے درمیان ماضی میں خوشگوار روابط رہے ہیں لیکن ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد اس کی معیشت پر بھارتی اثرات نے تہران کو اسلام آباد کے لئے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا ہے۔امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیئے تھے لیکن بھارت اور چین نے باوجود امریکی پابندیوں کے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات قائم رکھے۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب اور سپر پاور امریکہ کے ساتھ پاکستان اپنے تعلقات بگاڑ نہیں سکتا ہے جبکہ یہ دونوں ممالک ایران کو اپنے لئے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان گزشتہ 40سالوں سے امریکہ اور مشرق وسطی کی جانب جھکاؤ رکھتی خارجہ پالیسی کو اپنائے ہوئے ہے، اور ان دونوں ممالک کے ساتھ ملکر افغانستان میں سابق سوویت یونین کے ساتھ جنگ لڑ چکا ہے۔پاکستان اب خود کو سعودی عرب سے الگ نہیں کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایک اہم دروازہ ہے جس کے ذریعے پاکستان امریکہ اور مشرق وسطی میں اپنے داخلے کو یقینی بنائے رکھتا ہے۔
ایران پاکستان کے روائتی حریف بھارت کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے میں مکمل آزاد ہے لہذا پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ سعودی عرب اور امریکہ کا ساتھ دیکر اپنے مفاد ات کو پورا کرے۔
صرف چین اور ایران کے مابین تعلقات ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پاکستان کے اعلیٰ حکام کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کے زیر انتظام گوادر بندگاہ کو ایران بجلی فراہم کرتا ہے اور ایران چین کو اپنے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ایک اہم جزوسمجھتا ہے ۔چین نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو گوادرپورٹ کی سیٹلائٹ بندرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چابہار بندرگاہ وسطی ایشیاء کی ساتھ منسلک ہے۔
تہران کو یہ سمجھنا چاہئے کہ چین ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر رہا ہے،اور سعودی عرب کے بادشاہ کے حالیہ دورہ چین کے دوران دونوں ممالک نے 65ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئے۔
پاکستان کو دھمکیاں دینے یا اس پر جیش العدل کو پناہ دینے کا الزام لگانے سے ایران کو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ بھارت کو۔بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں رکاوٹ ڈال کر ناصرف جنوبی چین کی صنعتی ترقی کو روکا جائے بلکہ پاکستان اور ایران کی معاشی ترقی کو بھی جمود کا شکا ر کیا جائے کیونکہ سی پیک کے مکمل طور پر آپریشنل ہو جانے کے بعد گوادر کا شمار دنیا کے بڑی بندرگاہوں میں ہو گا اور چابہار بندرگاہ اس کا ایک اہم حصہ ہو گی۔
آغا اقرار ہارون گزشہ 29سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *