ماں تجھے سلام

ماں تجھے سلام

shakila jalil logoماں کی قدر اس کی زندگی میں کریں ، محبت بھرا سایہ اٹھ گیا تو پھر صرف پچھتاوا ہوگا
ماں کے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں، کوئی لفظ، جملہ، عبارت ،مضمون اس کا حق ادا نہیں کر سکتا

گلاب کی خوشبو، چاندنی کی ٹھنڈک، لازوال محبت، شفقت ، تڑپ ، ےاس و قربانی اگر ان تمام لفظوں کو یکجا کیا جائے، تب تین لفظوں پر مشتمل لفظ ”ماں“ بنتا ہے۔ بلاشبہ دنیا میں ”ماں“ سے زیادہ میٹھا لفظ اور سچا رشتہ کوئی اور نہیں۔ ”ماں“ کے تصور میں جاتے ہی لگتا ہے کہ جیسے تپتی دھوپ میں ایک دم سر پر کسی نے سایہ تان دیا ہو، ماں بچے کےلئے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے ماںبچے کو ڈانٹ دے تب بھی بچہ اسی کی باہوں میںپناہ لیتا ہے۔کیونکہ اس کی ڈانٹ ڈپٹ میں بھی پیار چھپا ہوتا ہے ۔زندگی میں رشتے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور زندگی کی تمام تر خوبصورتیاں اس سے منسلک رشتوں میں ہیں ماں باپ، بہن بھائی ، دوست ، عزیز رشتہ دار یہ سب رشتے ہمیں زندگی کا احساس دلاتے ہیں انھی رشتوں سے ہم خوشیاں کشید کرتے ہیں ، مگر ان تمام رشتوں میں ماں باپ وہ واحد رشتہ ہے جو خود غرضی سے پاک ہوتا ہے جس میں حسد نہیں ہوتا،آج کے مادیت پرستی کے دور میں جب بہن بھائی ایک دوسرے کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے زمین جائیداد کے بٹواروں کے ساتھ دل بھی ایک دوسرے کی محبت سے خالی ہو چکے ہیں۔ ہر شخص صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے کوئی کسی کو ترقی کرتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتا بلکہ حسد میں مبتلا ہو جاتا ہے اس دور میں بھی ایک ایسا رشتہ موجود ہے جو باہیں پھیلا پھیلا کر اپنی اولاد کی ترقی و سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے۔ وہ رشتہ بھلا ماں کے سوا اور کون سا ہو سکتا ہے۔ ماں باپ کی ہستی ایسی ہے جو اپنی اولاد کوآگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتی ہے ،اور ماں باپ میں بھی ”ماں“ اپنی اولاد کے زیادہ نزدیک ہوتی ہے ماں جو اپنے بچے کی ایک تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے۔ بقول شاعر
اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ماں جس کے وجود سے دوسرے وجود کی تخلیق ہوتی ہے اور اسی تخلیق کی ذمہ داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں کے نیچے رکھ دیا۔ وہ جنت جس کے حصول کیلئے لوگ ہزاروں سال عبادتوں میں گزار دیتے ہیں وہ ماں کے قدموں تلے موجود ہے ماں کا وجود تو بذات خود جنت ہے۔ جو گوشت کے ایک لوتھڑے کو جنم دینے کے بعد اس کی پرورش میں دن رات صرف کرتی ہے ابھی ایک ننھا منا وجود پروان چڑھنا شروع نہیں کرتا کہ اس کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بنانا شروع کردیتی ہے۔ کپڑے، موزے، سویٹر، جوتے ، کھلونے اور نہ جانے کیا کیا۔ جب ایک ننھے سے وجود کیلئے ماں کی محبت کا یہ حال ہے تو سوچیے جسے وہ بیس سال لگا کر جوان کرتی ہے اس کے لیے اس کے دل میں کیسی محبت ہوگی۔ ماں کی آغوش بچے کیلئے وہ پناہ گاہ ہے جس پر سر رکھ کر وہ سارے دکھ بھول جائے، سکون کی نیند سوئے، کیونکہ ماں کی آغوش محبتوں سے بھری ہوتی ہے۔
دھرتی کی طرح ماں مجھے آغوش میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
ماں کا رشتہ بھی کیسا عجیب رشتہ ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں کوئی لفظ، جملہ، عبارت ،مضمون اس کا حق ادا نہیں کر سکتا بھلا انسان کس طرح اس رشتے کا قرض اتار سکتا ہے،
ایک بار حضور پاک سے کسی صحابی ؓنے سوال کیا کہ مجھ پر سب سے زیادہ حق کس ہستی کا ہے ،آپ نے جواب دیا تمہاری ماں کا ،صحابی ؓنے پھر سوال کیا اس کے بعد مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے آپ نے پھر فرمایا تمہاری ماں کا ۔صحابی ؓنے پھر پوچھا تو آپ نے پھر کہا کہ تم پر سب سے زیادہ حق تمہاری ماں کا ہے چوتھی دفعہ پوچھنے پر کہا کہ تمہارے باپ کا ۔
اسی طرح ایک صحابی ؓ نے اپنی معزور والدہ کو کندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ،حج سے واپسی پر اس صحابی ؓ نے حضورپاکسے سوال کیا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنی والدہ کو حج کو کندھوں پر بٹھا کر حج کروایا کیا میں نے ان کا حق ادا کر دیا ،آپ نے جواب دیا تم اس ایک رات کا قرض بھی نہیںاتار سکے جب تم نے رات کو بستر گیلا کر دیا تھا اور تمہاری ماں نے تمہیں وہاں سے اٹھا کر خشک جگہ پر لٹا دیا اور اسی جگہ پر رات بسر کی ۔
حضورپاک کے ان چند ارشادات سے پتا چلتا ہے کہ”ماں “ کی ہستی کیا ہے ۔اور اس کا ہم پر کس قدر حق ہے ۔اور ساری زندگی کی خدمت کر کے بھی ان کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا ۔
بھوک اپنی مٹا کر کھلایا ہم کو
نیند اپنی بھلا کر سلایا ہم کو
دکھ نہ دینا کبھی اس ہستی کو
زمانہ کہتا ہے ماں جس کو
عام طور پر ماﺅں کو بیٹے بہت پیارے ہوتے ہیں مگر ہنستی مسکراتی، چہکتی بیٹیاں بھی ماﺅں کے دلوں کی ٹھنڈے ہوتی ہیں اگر بیٹے آنکھوں کا نور ہوتے ہیں، تو بیٹیاں دلوں کی دھڑکن مائیں شروع ہی سے بچیوں پر روک ٹوک جاری رکھتی ہیں۔ انہیں ”پرائے گھر“ کے ڈراﺅے دیتی ہیں، مگر انہیں ذرا سا افسردہ اور پریشان دیکھ کر تڑپ جاتی ہیں ماں کی اس ڈانٹ ڈپٹ میں بھی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوتا ہے اور وہ صرف اس لیے بیٹی کو کم توجہ دیتی ہیں کہ پرائے گھر جا کر اسے ماں کی یاد نہ ستائے، لیکن ماں اپنی محبت بیٹی کے دل میں اس کی اولاد کے لیے ضرور ڈال دیتی ہے کیونکہ یہی بیٹی جب خود ماں بنتی ہے تو اسے ماں کی ممتا کااحساس ہوتا ہے ۔
آج ماں بن کے یہ احساس ہوا
کس قدر چاہتی ہے ماں مجھ کو
ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو پوری دنیا میں ماں کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن منایا جا تا ہے ویسے تو زندگی کے ہر اک لمحے بھی ماں کو خراج تحسین پیش کیا جائے تو کم ہے۔ لیکن عالمی دن کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ دنیاوی ضرورتوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اور ترقی کے راستوں پر گامزن ہونے کے لئے بہت سے دیگر رشتوں کے ساتھ اس خوبصورت رشتے کو بھی فراموش کئے ہوئے ہیں ان کے ذہنوں پر یہ دن ایک دستک ہے کہ اپنے وقت میں سے اپنی جنت کے لئے سال میں ایک دن ضرو ر نکالیں ،کیونکہ اگر وہ ماں کی محبت کھو دیتے ہیں تو وہ دنیا کی حکمرانی حاصل کر کے بھی بد نصیب ہی کہلائیں گے ،اسی طرح بعض لوگ ماں کی نصیحتوں کو اپنے لئے بوجھ سمجھتے ہیں اور اگر ماں کسی بات کا پوچھے تو ان کو ناگوار گزرتا ہے مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ اسی ماں نے ان کی توتلی زبان کو سمجھتے ہوئے اس کی ضرورتیں پوری کیں ۔اور اس کوبولنا، چلنا ،دنیا میں آگے بڑھنا سکھایا ۔کوشش کرئیں کہ کبھی آپ کے لہجے سے دکھی ہو کر ماں کو یہ نہ کہنا پڑے ۔
بیٹا جب تو چھوٹا تھا
تیری ہر بات سمجھ آتی تھی
جب سے تو بڑا ہوا ہے
تیری کوئی بات سمجھ نہیں آتی
ماں جب تک حیات ہو شائد اس وقت تک اس کی محبت کا احساس دل میں نہ جاگے ،مگر جب ماں کا سایہ ان کے سر سے اٹھ جاتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ بھری دنیا میں تنہا رہ گئے اس لیے عہد کیجئے کہ کچھ بھی ہو جائے ماں کی پناہ گاہ اس کی آغوش سے دور نہیں ہونا اس کے قرب میں ہی اطمینان و سکون ہے اور اس کی خوشی میں ہی جنت الفردوس ، ماں کو سلام پیش کریں اور قدر کریں کیونکہ آپ کاوجود اس ”ماں“کے ہی مرہون منت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *