چیئرمین پیمرا ابصار عالم کو دھمکیاں

خالد جمیل
Khalid Jamil
ابصار عالم سے پہلا تعارف بیس سال قبل ہوا تھا ، جب میں نوائے وقت میں تھا اور ابصار عالم دی نیشن میں ۔ بطور صحافی ابصار کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اعلی صحافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فرائض سرانجام دئے ۔ وہ ایک سبک رفتار رپورٹر ، دوست نما منیجر اور معاملہ فہم ایڈیٹر/ڈائریکٹر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ تاہم جب سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سربراہ کی حیثیت سے کام شروع کیا تو مختلف سیاسی و صحافتی حلقوں میں تنقید بھی کی گئی ۔
معاشرہ کے ہر فرد کی طرح صحافی کی بھی کسی نہ کسی نظریہ ، سوچ ، فکر ، سیاسی جماعت یا ریاستی ادارہ سے وابستگی یا ہمدردی ہوتی ہے ۔ اچھے صحافی کا یہی کمال ہوتا ہے کہ وہ کسی قسم کی وابستگی سے بالا ہوکر عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے ۔ ابصار عالم نے دوران صحافت ایسی ہی اقدار کی حتی الامکان کوشش کی ۔ تاہم مسلم لیگ نون کے قائد کا انتخابی نتائج کی تکمیل سے قبل ہی جشن فتح کا خطاب شروع ہوا تو ابصار عالم بھی ان چند افراد میں نوازشریف کے شانہ بشانہ موجود تھے ۔ یہیں سے پہلے چند نامور صحافیوں نے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا اور پھر جب ابصار عالم کو چیئرمین پیمرا تعینات کیا گیا تو سیاسی مخالفین نے بھی تنقید کے نشتر برسائے ۔
بطور چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے متعدد اچھے اقدامات بھی کئے ۔ بے لگام آزادی صحافت کے نام پر ٹی وی سکرین پر جس قسم کی بےہودہ نشریات اور پروگرام دکھائے جا رہے تھے ، کوئی بھی شریف النفس فرد انہیں خاندان کے ہمراہ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اطلاعات و معلومات اور اصلاح کے نام پر جس نوعیت کے مجرمانہ افعال و کردار کی تشہیر کی جارہی تھی ، اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی ۔ ابصار عالم نے کم وقت میں اس نوعیت کی بیشتر نشریات کو ضابطہ اخلاق کے دائرہ کار میں لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی ۔
ابصار عالم کی ان کوششوں کے سبب ، ٹی وی مالکان اور ان کے محکمہ اشتہار والے اشتہاری کارندے بھی ان سے ناراض ہوگئے ، جن کا سارا دھندا ہی اس سستی شہرت کے ریٹنگ سسٹم پر کھڑا تھا ۔ پھر بول ٹی وی کا مسئلہ شروع ہوا اور ایسی طول پکڑی کہ معاملہ پہلے تنازعہ بنا اور پھر انا کی جنگ میں بدل گیا ۔ بول ٹی وی کے معاملہ میں حکومت اور پیمرا کے کردار پر متعدد جائز سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔ اٹھائے بھی گئے اور مستقبل میں بھی یہ کیس بطور حوالہ استعمال کیا جاتا رہے گا ۔ مگر جو کچھ بول کی سکرین پر کیا جارہا ہے ، شاید وہ بھی مستقبل میں ایک منفی صحافت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا ۔
ابصار عالم کی قیادت میں پیمرا کے کچھ ایسے اقدامات بھی ہیں ، جن کو تنقید اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتاہے ۔ ایک سال قبل اسی فیس بک پر ایک حساس معاملہ کی کوریج کے تناظر میں میں نے بھی پیمرا کو تنقید کا نشانہ بنایا ، ابصار عالم کے جوابی ردعمل پر طنز کے نشتر سے بھرا جواب بھی دیا ، مگر صحافتی روایات و اقدار کے دائرہ میں رہ کر یہ مباحثہ ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ہمارے دلوں میں نفرت کی بجائے آج بھی ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات پائی جاتی ہیں ۔
ابصار عالم کی ذات یا پیمرا سے کسی کو لاکھ اختلافات ہوسکتے ہیں ، ہونے بھی چاہیں ، مگر ان اختلافات کا اظہار تہذیب کے دائرہ میں ہی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے ۔ اختلاف کرنے والے ان اداروں اور افراد کو ، جو خود آزادی اظہار اور اعلی صحافتی اقدار کا دعوی کرتے ہوں ، یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قومی اداروں کے سربراہوں یا اہلکاروں کو دھمکیاں دیں ۔ الفاظ کی مدد سے حقوق کی جنگ لڑنے کے دعویداروں کو گولی یا گالی کی زبان میں بات کرنے سے قبل قلم اور کیمرہ ترک کردینا چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *