منتخب وزیر اعظموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا, سابق وزیر اعظم نواز شریف

لاہور (ڈی این ڈی) “منتخب وزیر اعظموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا- ایک جماعت کی جانب سے اسلام آباد کے گھیراﺅ کے اعلان پر سپریم کورٹ نے سماعت شروع کردی ،اور پھر جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہا یہ فیصلہ بے تو قیر ہو چکا ہے ،فیصلے کے اثرات کا دکھ نہیں ماضی میں بھی اس طرح کے فیصلوں کا نشانہ بنا رہا ہوں ،صدیوں کا اصول ہے انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے فیصلے سے عدلیہ کی ساکھ پر بھی منفی اثرات ڈلتے ہیں”۔سابق وزیر اعظم نواز شریف

ایوان اقبال میں وکلا برداری سے ملاقات کے بعد خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کہا کہ کہنے کو ہم جمہوری نظام میں رہتے ہیں لیکن یہاں ہر وزیر اعظم کو اوسطً دو سال سے زیادہ چلنے نہیں دیا گیا ،73کے آئین کے بعد آئین شکنی کو آرٹیکل 6 کے تحت جرم قرار دیا گیا ،44سالوں  میں 20سال ڈکٹیٹر وں نے حکمرانی کی باقی 24سال میں 12وزیراعظم آئے ۔انتخابی عمل کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو آیا ،پہلے ان کا تختہ الٹا دیا گیا پھر پھانسی چڑھا دیا گیا ،پھر بے نظیر آئی لیکن دونوں بار ان کی حکومت کو فارغ دیا گیا بلآخر قتل کردی گئیں ۔عوام نے تین بار نواز شریف کو محبت سے نوازا لیکن پہلے 58ٹو بی کی تلوار چلائی گئی ،دوسری بار ڈکٹیٹر نے وزیراعظم ہاوس سے اٹک قلعے میں ڈال دیا ،تیسری بار عدالت نے مجرم قرار دے کر نکال دیا ۔اس تاریخ کا حاصل یہ ہے کہ ستر سالوں میں ایک بھی وزیر اعظم آئینی مدت پوری نہیں کر سکا ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال کی اصلاح ہونی چاہیے ،چاہے اسے تبدیلی کا نام دیں یا انقلاب کہیں ،اس مرض کا علاج ضروری ہو گیا ہے ،اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ،سیاستدانوں ،وکلا ،دانشوروں ،مزدوروں ،سول سوسائٹی کے نمائندو ،اساتذہ اور صحافیوں سمیت مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا ،اور اس مسئلے کے حل کے لیے کام کیا جائے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف نہیں بنتی ،ممکن ہے مجھ میں کمزوری ہو لیکن لیاقت علی خان سے لے کر آج تک کسی ایک کی تو بنتی ،کیا 18کے 18وزیراعظم نواز شریف تھے ؟۔نواز شریف نے کہا کہ ایک طرف منتخب وزیر اعظموں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا ،دوسری جانب آئین کو پامال کرنے والے کئی دہائیاں حکومتیں کرتے رہے ،افسوسناک پہلویہ ہے ہماری عدالتیں ڈکٹیٹر وں کے اقدامات کو شرف قبولیت بخشتی رہیں ،بلکہ آئین میں من پسند ترمیم کرنے حلیہ بگاڑنے کی کھلی چھٹی دیتی رہیں۔ایسے جج دیکھنے کو ملے جو آئینی حلف سے انحراف کرکے حلف اٹھایا کرتے ،طاقت اور عدالت کے گٹھ جوڑ نے ملک کو آمریت کے پنچوں میں جکڑ کر رکھا ۔اب یہ صورتحال بدلنا ہو گی اور ان سوراخوں کو بند کرنا ہوگا ،جہاں سے ڈسا جاتا ہے ۔

تفصیل کے مطابق ایوان اقبال میں وکلا برداری سے ملاقات کے بعد خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے سوال کیے کہ کیا آج تک ایسا ہوا ہے کہ وٹس ایپ کالز پر پراثرار طریقے سے تفتیش کرنے والوں کا انتخاب کیا گیا ہو؟،کیا آج تک اس قسم کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ نے اس طرح کی جے آئی ٹی تشکیل دی ؟،کیا اس سے پہلے قومی سلامتی اور دہشت گردی سے ہٹ کر کسی معاملے کی تحقیقکے لیے خفیہ ایجنسیوں کے ارکان کو ذمہ داری سونپی گئی ؟،کیا آ تک سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایسی جے آئی ٹی کی ہمہ وقت نگرانی کی ہے ؟کیا کسی درخواست میں دبئی کی کمپنی اور تنخواہ لینے کی بنیاد پر نا اہلی کی استدعا کی گئی ؟کیا کوئی بھی عدالت واضح ملکی قانون کو نظر انداز کر کے مطلب کے معنی تلاش کرنے کے لیے ڈکشنری کا سہارا لے سکتی ہے ؟کیا ہماری 70سالہ تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک مقدمے میں 4فیصلے سامنے آئے ہوں ؟،کیا کبھی وہ جج صاحبان بھی پھر سے حتمی فیصلے والے بینچ میں شامل ہوئے جو پہلے ہی اپنا فیصلہ دے چکے ہوں ؟،کیا ان جج صاحبان کو بھی رپورٹ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ دینے کا حق تھا جنہوں نے جے آئی ٹی رپورٹ دیکھی تک نہیں اور نہ اس پر بحث سنی ،نہ سماعت کے مرحلے میں شریک ہوئے ؟کیا پوری عدالت تاریخ میں کبھی ایسا ہوا کہ نہ صرف نیب کی کارروائی بلکہ ٹرائل کورٹ کی مانیٹرنگ کے لیے بھی سپریم کورٹ کے ایسے جج کا تقرر کردیا جائے جو پہلے ہی خلاف فیصلہ دے چکا ہو ؟کیا سپریم کورٹ کے جج کی مانیٹرنگ کے نیچے ٹرائل کورٹ آزادانہ کام کر سکتا ہے ؟کیا نیب کو اپنے قواعد سے ہٹ کر کام کرنے کے لیے کوئی عدالتی ہدایت دی جا سکتی ہے ؟۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سوالات ہم نے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست میں بھی اٹھائے ہیںتا کہ غلط انداز میں کیا گیا یہ فیصلہ واپس لیاجائے ۔

انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کا معاملہ سامنے آتے ہیں سپریم کورٹ کے کسی عزت ماب جج کا کمیشن بٹھا کر تحقیقات کرانے کی پیشکش کی لیکن کئی ہفتے عدالت سے جواب نہ ملا ،پھر معاملہ ٹی او آر پر پھنس گیا ،اس کے بعد پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی لیکن اس پر بھی کوئی لچک نہ دکھائی گئی ،اصل مسئلہ یہ تھا کہ معاملے کو گلیوں اور سڑکوں پر لا کر کرائسز کی فضا پیدا کی جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جب سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی درخواست دائر کی گئی تو عدالت اعظمیٰ نے اسے بے معنی قرار دے دیا ،پھر دھرنے اور اسلام آباد کو لاک ڈان کرنے کا اعلان ہوا تو فضول پٹیشن پر سماعت شروع ہو گئی ،بعد میں جو کچھ ہوا وہ سب جانتے ہیں ۔نواز شریف نے کہا کہ ہم نے پاناما کیس فیصلے پر عملد ر آمد پر ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی ،میں فوری طور پر اپنے منصب سے فارغ ہو گیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک غلط مثال بنانے والے اس فیصلے کو قبول بھی کر لیا جائے ،ایسے فیصلے پر عملد ر آمد کے باوجود قبول نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بے تو قیر ہو چکا ہے ،فیصلے کے اثرات کا دکھ نہیں ماضی میں بھی اس طرح کے فیصلوں کا نشانہ بنا رہا ہوں ،صدیوں کا اصول ہے انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی دینا چاہیے ،بد قسمتی سے یہ ایسے فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں سرے سے انصاف ہوا ہی نہیں ،قدم قدم پر دکھائی دیتا رہا کہ انصاف نہیں ہو رہا ۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے فیصلے سے عدلیہ کی ساکھ پر بھی منفی اثرات ڈلتے ہیں۔

پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 ہوگئی، رپورٹ

ملک کی چھٹی مردم شماری کی ابتدائی رپورٹ جاری
پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 ہوگئی، رپورٹ
پنجاب کی آبادی11 کروڑ 12 ہزار 442 ہوگئی، مردم شماری رپورٹ
سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار 51 ہوگئی، رپورٹ
خیبر پختونخواہ کی آبادی 3 کروڑ 5 لاکھ 23 ہزار 371 ہوگئی۔
بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 ہوگئی
اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ 6 ہزار 572 ہوگئی، رپورٹ
فاٹا کی آبادی 50 لاکھ 1 ہزار 676 ہوگئی، مردم شماری رپورٹ
ملک میں مردوں کی آبادی 10 کروڑ 64 لاکھ 49 ہزار 322 ہوگئی
ملک میں خواتین کی آبادی 10 کروڑ 13 لاکھ 14 ہزار 780 ہوگئی
مردم شماری رپورٹ میں رجسٹرڈ خواجہ سراؤں  کی کل تعداد 10 ہزار 418 ہے

پاکستان اور بھارت دو طرفہ مذاکرات کا آغاز کریں .اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے پاکستان اور بھارت کی سرحدی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، جاری بیان میں انھوں نے پاکستان اور بھارت سے کہا ہے کہ دو طرفہ مذاکرات کا آغاز کریں، دونوں ملکوں کی جانب سے اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔

عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل نے حال ہی میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب پاکستانی اور بھارتی شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کی تشویش اپنی جگہ صائب ہے لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ خطے کے امن و امان میں بڑا بگاڑ اور سرحدی خلاف ورزیوں کا وتیرہ بھارت کی جانب سے ہی اپنایا گیا ہے، جب کہ پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ معاملات مذاکرات کی میز پر حل کیے جاسکیں، پاکستان کسی بھی قسم کی مخاصمت اور محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جب کہ یہ بھارت ہی ہے جس کی جانب سے جھوٹے سرجیکل اسٹرائیکس اور متعدد بار سرحدی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے محض ایک سال یعنی یکم نومبر2016 سے اگست 2017تک دونوں ممالک کے مابین سیز فائر معاہدے کے باوجود خلاف ورزی کرتے ہوئے 319 مرتبہ پاکستانی علاقوں پر گولہ باری کی، جب کہ گزشتہ 4 برسوں کے دوران بھارتی گولہ باری سے 66 شہری شہید اور 230 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان سے متصل لائن آف کنٹرول اور 5 ورکنگ باؤنڈریوں پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھی مستقل انحراف برتتا آیا ہے۔ بھارت کے جنگی جنون اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواب پر بند باندھنے کے لیے صائب ہوگا کہ عالمی ادارے بھارت کی گوشمالی کا فریضہ بھی انجام دیں۔ خطے کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کا طرز عمل اور راست بازی سب پر عیاں ہے، اگر عالمی ادارے حقیقتاً چاہیں تو بھارت بھی اپنی ’ہٹ دھرمی‘ سے باز آکر راہ راست پر آسکتا ہے۔

 

کشمیر ہائوس، اسلام آباد میں صحافی پر تشدد, کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا

  اسلام آباد: کشمیر ہائوس، اسلام آباد میں صحافی پر تشدد اور کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا۔

صحافی تنظیموں کے دعوی کے مطابق کشمیر ہائوس  کے ملٹی پرپز ہال کے عقب میں شراب کی بوتلوں اور دیگر قابل اعتراض اشیا کی موجودگی کو رپورٹ کرنے کی پاداش میں صحافی بابر انور عباسی اور ان کے ساتھی رپورٹر حافظ حسیب کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا، جس کے بعد متعلقہ پولیس اسٹیشن کو جھوٹی درخواست دی گئی اور صحافی کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

صحافی تنظیموں کے دعوی کے مطابق گزشتہ روز صحافی بابر انور عباسی نے  تصویری و وڈیو ثبوت کے ہمراہ ’’شرابیوں‘‘ کی عیاشی کو عیاں کیا تھا، خبر کے بعد کشمیر ہائوس میں شراب کی خالی بوتلوںو دیگر قابل اعتراض اشیا کو تلف کیا جا رہا تھا ، جس کو رپورٹ کرنے کیلئے موقع پر پہنچنے والے صحافی کو کشمیر ہاوس میں موجود سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی جانب سے  تشدد کیا، موبائل لے کر شراب کی بوتلوں والی ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل کا تمام مواد ڈیلیٹ کر دیا۔سماجی و صحافتی تنظیموں کی جانب سے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ غنڈہ گرد عناصر کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بابر انور عباسی کی جانب سے گزشتہ روز رپورٹ کی جانے والی حقائق پر مبنی خبر ذیل میں پڑھی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس ،آئی جی آزاد کشمیر اور چیف سیکریٹری کے دفاتر کے عقب میں ملٹی پرپز ہال کی دیوار سے ملحقہ علاقے میں شراب کی سینکڑوں بوتلیں بکھری پڑی ہیں جبکہ متعدد مرتبہ ریسٹ ہاؤس کے کمروں کی الماریوں میں بھی شراب کی خالی بوتلیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ زرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر ہاؤس کی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے ہاؤس میں آئے روز محفل جام سجائی جاتی ہے جس میں کئی پردہ نشیں اپنا غم غلط کرنے کو شریک ہوتے ہیں۔

صحافی تنظیموں کے دعوی کے مطابق جب کشمیر ہاؤس کے انچارج سٹیٹ آفسر سے ٹیلفونک رابطہ کرنے کی کوشش کی تو متعدد مرتبہ کال  موصول ہونے کے باوجود انہوں نے جواب نہیں دیا جبکہ وزیراعظم کے پریس سیکرٹری اور ڈی جی پی ایم سیکرٹریٹ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سٹیٹ آفسر سے رابطہ کیا جائے ،واضح رہے کہ کشمیر ہاؤس میں ریسٹ ہاؤس کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر آزاد کشمیر کے کیمپ آفسز کے علاوہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کے کیمپ آفسز بھی موجود ہیں ۔

 

افغان پالیسی کا اعلان جلد متوقع، پرائیویٹ فوجی کنٹریکٹر بھیج دیئے جائیں گے

افغان پالیسی کا اعلان جلد متوقع، کئی آپشن زیر غور ہیں،جیمز میٹس
کابل ۔ (ڈی این ڈی)امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغان جنگ کے خاتمے سے متعلق حکمت علمی کا فیصلہ کرنے کے نزدیک پہنچ چکی ہے جو امریکی تاریخ کا طویل ترین تنازع ہے ۔امریکی وزیر دفاع نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم فیصلے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں اور بہت جلد اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 16 سالہ جنگ سے متعلق اس وقت جن آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے وہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا یا اپنے تمام فوجیوں کا وہاں سے انخلاء شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں کہ افغانستان سے فوج نکالنے کے بعد سکیورٹی کی صورت حال میں مدد کے لیے وہاں پرائیویٹ فوجی کنٹریکٹر بھیج دیئے جائیں۔واضع رہے اس وقت افغانستان میں 8400 امریکی اور تقریباً 5000 نیٹو فوجی موجود ہیں جو بنیادی طور پر مشاورت اور تربیت کے فرائض سرا نجام دے رہے ہیں۔

دستور پاکستان کے متاثرین

سابق وزیر اعظم نواز شریف قوم سے اور اپنے چاہنے والوں سے بار بار یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ انہیں ’’کیوں نکالا گیا ‘‘،یعنی وہ پارلیمنٹ سے باہر بذریعہ نااہلی کیوں بھیجے گئے۔دراصل یہ سوال تو قوم کو ان سے پوچھنا چاہئے کہ انہیں کیوں نکا لا گیا کیونکہ نواز شریف صاحب تو اقتدار میں تھے اور پھر معلومات پر ان کی رسائی تھی اور اگر برسر اقتدار رہتے ہوئے بھی ان کی رسائی ایسی معلومات تک نہیں تھی تو پھر ان کو اقتدار خود ہی چھوڑ دینا چاہئے تھا۔
دوسری بات جس کا جواب عوام ان سے مانگتی ہے کہ اگر ان کے خلاف سازش کی گئی تھی جیسا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ سازش کا شکار ہوئے ہیں تو پھر یہ سازش کس نے کی تھی؟ اگر ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے خلاف سازش کس نے کی تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو وزر ات عظمی پر فائز ہو اور انہیں بھی معلوم نہ ہو کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور وہ کون کر رہا ہے ، اور وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہو ں کہ انہیں نکالا جا رہا ہے تو پھر کیا ایسے شخص کو حکمران رہنا چاہئے۔
نواز شریف صاحب اب دستور پاکستان کے آرٹیکلز 62 اور 63 کو بدلنا چاہتے ہیں اور ایک نئے عمرانی معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو یہ ایک اچھا قدم ہے۔ ’’دیر آید درست آید‘‘
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جب سازش ہو رہی تھی تو ان کو پتہ تھا کہ سازش ہو رہی ہے اور کونسی قوتیں ان کے خلاف کار فرما ہیں ۔وہ راجہ بازار راولپنڈی میں عوام سے یہ پوچھنے نہیں آئے تھے کہ ان کے خلاف سازش کو ن کر رہا ہے ؟ اور کیا سازش ہو رہی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹوتو صرف عوام کو بتانے آئے تھے کہ ان کو نکالا جا رہا ہے۔
نواز شریف صاحب کی نااہلی کے پیچھے کوئی قانونی یا سیاسی یا دونوں محرکات ہیں اس بحث میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کی نااہلی قانون اور آئین کے مطابق ہوئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا صرف  آئین کے آرٹیکلز 62اور 63 ہی سیاست دانوں پر لٹکتی تلوار ہیں؟ اور کوئی ایسا آرٹیکل آئین میں موجود نہیں جو مستقبل میں کسی منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا باعث نہیں بنے گا؟ اس سوال کا جواب نواز شریف صاحب کو ابھی سے ڈھونڈنا چاہئے۔
تاہم اگر ماضی حال اور ماضی بعید میں وزرائے اعظم اور حکومتوں کی برطرفی ، اور اس کے بعد کی پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان تمام مہم جوئیوں کے باوجود ملک میں ناصرف تمام قوتیں جمہوریت کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں ناکام رہیں بلکہ قومی سطح کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے وجود کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں بار بار براجمان ہوتی رہیں۔
نواز شریف کی 28جولائی2017 کو وزارت عظمی سے سبکدوشی کے کچھ ہی دنوں بعد ملک کے نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیاباوجود اس کے کہ وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا اور تین سال تک پاکستان مسلم لیگ نواز کا میڈیا ٹرائل ہوتا رہا ،شاہد خاقان عباسی کی یکم اگست کو قومی اسمبلی کے نئے قائد ایوان کے انتخاب میں 221ووٹوں کے ساتھ کامیاب کے ساتھ ہی پارٹی نے اقتدار میں شاندار انداز میں واپسی کی ۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پانامہ پیپرز کیس کے فیصلے میں مسلم لیگ نواز کے صدر نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کا موقف ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔نواز شریف کی نااہلی بھی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ماضی میں دیگر کئی حکومتوں کی برطرفی کے طرح پاکستان کے آئین کے تحت کی گئی۔
اب تک آئین کی کچھ شقوں کو استعمال کرتے ہوئے چھ منتخب حکومتوں کو ختم کیا جا چکا ہے اگرچہ 1973کے آئین کا مقصد پارلیمنٹ کے حاکمیت کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے استحکام اور تسلسل کو یقینی بناناتھا۔
ملک میں اس وقت ایک سنجیدہ نوعیت کی بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ پارلیمنٹ کی حاکمیت کو دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ منسلک کیا جار ہا ہے۔اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے رہنما اور سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ریاست کا ایک ایگزیکٹو جزوپارلیمنٹ کے لئے سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ پارلیمنٹ پر بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے۔ان کے خیال میں پارلیمنٹ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے مابین عدم توازن ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔
آئین کے مطابق پارلیمنٹ خود مختار ہے اور اسے دیگر اداروں پر فوقیت حاصل ہے۔تاہم اگر ہم 1977کے مارشل لاء کے بعد کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو حقیقت کچھ اور سامنے آتی ہے۔اس دوران پارلیمنٹ ہمیں خود مختار نظر آتی ہے اور نہ دیگر اداروں پر بالادست ،کیونکہ اعلیٰ عدلیہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کے لئے ایک چیلنجر ثابت ہور ہی ہے جبکہ عسکری بیورکریسی منتخب حکومتوں کو گھر بھیج رہی ہے۔
کے آئین کے نفاذ سے اب تک پانچ وزرائے اعظم کو اپنے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے جبکہ پارلیمنٹ کو سات مرتبہ ختم کیا گیا ہے۔
کے آئین کے بانی ذوالفقار علی بھٹو فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے عہدے سے ہٹا کر جیل بھیج دیا تھااور بعدازاں سپریم کورٹ نے ایک قتل کے مقدمے میں انہیں پھانسی کے سزا سنا دی۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے غیر آئینی اقتدار کو طول دینے کے لئے اپنی مرضی کے مطابق 1973کے آئین میں ترامیم کیں ۔تب سے 1973کا آئین مختلف وزرائے اعظم اور حکومتوں کو برطرف کرنے کے لئے جواز فراہم کرنے میں معاون رہا ہے۔
اگر منتخب حکومتوں اور پارلیمان کی برطرفی کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ درحقیقت موجودہ آئین ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو جنرل ضیاء الحق نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے آئین اور معاشرے میں متعارف کروائی۔
1973کے آئین میں آرٹیکلز 62اور 63کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں شامل کیا گیا ،اور پھران کی مدد سے دو منتخب وزرائے اعظم کو نااہل کیا گیا۔آئین کے آرٹیکل 58 (2)بی کے ذریعے اسمبلیاں تحلیل کر کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو ،وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور وزیر اعظم نواز شریف کو گھر بھیج دیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کا پاکستان آرمی چیف بننا بھی 1973کے آئین کے ذریعے ہی ممکن ہوا تھا کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کے دیئے ہوئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ضیاء الحق کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دی تھی حالانکہ وہ باقی تین تھری سٹار جنرلز میں جونیئر آرمی جنرل تھے۔بعدازاں اسی جنرل ضیاء الحق نے1977میں ذوالفقار علی بھٹوکو برطرف کر کے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا اور مبینہ طور پر سپریم کورٹ سے ان کی پھانسی کی سزا کو یقینی بنایا۔
آئین کے مطابق ایک منتخب وزیر اعظم کسی بھی تھری سٹار جنرل کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کا چیف بنا سکتا ہے چاہے وہ دوسرے تھری سٹار جنرلز میں جونیئر ہی کیوں نہ ہو۔ذوالفقارعلی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو دوسرے جنرلز پر فوقیت دی جسکی قیمت انہیں بعد میں اپنی زندگی کی شکل میں چکانا پڑی۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی 1998میں ذوالفقار علی بھٹو والی غلطی کو دہرایا اور ایک جونیئر جنرل پرویز مشرف کو ترقی دے کر چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔اور بعد ازاں نواز شریف کو بھی 1999میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ان دونوں صورتوں میں، وزرائے اعظم نے پاکستان آرمی میں اہلیت اور سینئرٹی پر تقرری کرنے کی بجائے 1973کے آئین کے دئیے ہوئے اختیارات کو استعمال کیا ۔نواز شریف خوش قسمت رہے کہ ان کے خلاف آرٹیکل  6 کے تحت غداری کا مقدمہ تو قائم کیا گیا لیکن بعد میں انہیں ملک بد ر کر کے سعودی عرب بھیج دیا گیاجہاں وہ جدہ کے سرور پیلس میں ایک گیسٹ کے طور پر قیام کرتے رہے۔
اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی 1977کے مارشل لاء کے بعد تین بار اقتدار میں آئی اور 1999کی فوجی بغاوت کے بعد بھی پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت بنی لیکن پھر بھی دونوں جماعتوں نے آئین کی اس دفعہ پر نظر ثانی نہیں کی جس کے تحت وزرائے اعظم کواپنی مرضی کے مطابق کسی بھی جونیئر آرمی جنرل کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان کے دو وزرائے اعظم کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکلز 62اور 63کے تحت نااہل قرار دیا۔ان کی ناہلی 1973کے آئین کے آرٹیکلزاور دفعات کو استعمال کرتے ہوئے کی گئی ۔
اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پہلا ہدف بنے ،انہیں توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزاوار ٹھہرایا گیا اور عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
یوسف رضا گیلانی کو نااہل کروانے کے لئے پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں دو علیحدہ علیحدہ پیٹیشنز دائر کیں او ریہ موقف اختیا ر کیا کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے سز ا ملنے (جو کہ صرف 30سیکینڈزتک کی تھی)کے بعدیوسف رضا گیلانی رکن پارلیمنٹ رہنے کے اہل نہیں رہے۔دونوں پیٹیشنرزنوازشریف اور عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 63کی دفعہ جی کا حوالہ دیا جس کے مطابق اگرعدالت کسی بھی شخص کو عدلیہ کو بدنام کرنے یا اس کا مذاق اڑانے پر سزاد دے تو وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم ہو جاتا ہے۔
19جون 2012کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی جانب سے 26اپریل 2012کو سنائی جانے والے سزا کا حوالہ دیتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ 26اپریل کو سنائی جانے والی سزا کے بعد یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کے عہدے کے اہل نہیں رہے ،اور اس وقت کے بعد سے ان کی جانب سے جاری کئے گئے تمام احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں۔سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا نو ٹیفیکیشن جاری کر دیا۔
تاریخ نے 28جولائی 2017کو اپنے آپ کو دہرایا جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت وزیر اعظم نواز شریف کو صادق اور امین نہ ہونے پر نااہل قرار دے دیا ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آرٹیکل 58 (2)بی کو 1985میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے 1973کے آئین کا حصہ بنایا گیا تھا، اورپھر اس کے تحت پانچ وزرائے اعظم کو گھر بھیج دیا گیا ۔
آٹھویں ترمیم کو جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے نافذ کیا تھا، اور جس نے ناصرف صدر کے اختیارات کو مزید مستحکم کیا بلکہ انہیں ایک منتخب وزیر اعظم اور حکومت کو برطرف کرنے کے اضافی اختیارات بھی تفویض کئے ۔ان اختیارات میںآئین کے آرٹیکل 58میں شامل سب سیکشن2(بی)کے تحت یہ حق بھی دیا گیا کہ صدر قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں اگر ان کی رائے میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ جن میں آئین کی دفعات کے مطابق امور مملکت چلانا ناممکن ہو جائے اور نئے انتخابات ناگزیر ہو جائیں۔
آٹھویں ترمیم نے تمام صدارتی احکامات، آرڈیننسز،مارشل لاء قوانین، اورمارشل لاء کے دوران جاری کردہ احکامات بشمول 5جولائی 1977اور 13ستمبر 1985کو جاری کردہ ریفرنڈم آرڈرز کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا۔
آرٹیکل 58 (2)بی کے تحت محمد خان جونیجو ، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کا خاتمہ تو ہوا تاہم پارلیمنٹ نے اس آرٹیکل کو منسوخ کر دیا۔لیکن قانون ساز ادارے نے آرٹیکلز62اور 63کو منسوخ کرنے سے اجتناب کیا جن کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان ارکان پارلیمنٹ بشمول وزیر اعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو صاد ق اور امین نہ ہونے کی صورت میں نااہل قرار دے سکتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کی جانب سے ناہل قرار دیئے جانے پر اسے جوڈیشل مارشل لاء کا نشانہ بنایا گیا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنی نااہلی کے بعد بالواسطہ طور پر یہ شکوہ کیا کہ پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ کو کام کرنے کی آزادی نہیں ہے۔نواز شریف کے کابینہ کے اراکین پانامہ کیس کی سماعت کے دوران یہ دعوی کرتے رہے کہ ان کے خلاف ’’ٖفرشتے‘‘بر سر پیکار ہیں ۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ’’فرشتے‘‘کون ہیں؟
ارکان پارلیمنٹ فوجی بیوروکریسی اور اعلیٰ عدلیہ پرالزام لگاتے ہیں کہ وہ انہیں کام کرنے نہیں دیتے لیکن یہ خود ارکان پارلیمنٹ آئین کی ان دفعات اور آرٹیکلز کو منسوخ کرنے کی کوشش نہیں کرتے جن کے ذریعے وزرائے اعظم کو نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔الزامات کا یہ سلسلہ تب ہی رک سکتا ہے جب 1973کے آئین میں ترامیم کر کے فوجی بیوروکریسی اور اعلیٰ عدلیہ پرپارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
حقیقت میں اعلیٰ عدلیہ 1973کے آئین کے اندر رہ کر ہی اپنے فیصلے سناتی ہے۔اگر پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون بناتی ہے جو کہ بظاہر اسلامی قوانین کے خلاف ہے تو اعلیٰ عدلیہ ایسے قانون کو منسوخ کر سکتی ہے کیونکہ پاکستان کا آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جن سے اسلام کے بنیادی اصولوں کو ٹھیس پہنچے۔ اسی طرح اگر پارلیمنٹ کو ئی ایسا قانون بناتی ہے جو کہ بظاہر 1973کے آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور عدلیہ اسے منسوخ کر سکتی ہے۔
آئین اعلیٰ عدلیہ کو تمام اختیارات دیتا ہے کہ وہ قوانین پر نظر ثانی کرے ،لہذاقوانین پر نظر ثانی اور ان سے متعلق حتمی فیصلے کے اختیار کے باعث عدلیہ پارلیمنٹ پر سبقت رکھتی ہے۔پارلیمانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آٹھویں ترمیم کے نفاذ کے بعد 1973کا آئین پارلیمنٹ کی حاکمیت کو یقینی نہیں بناتا ۔
کیا ارکان پارلیمنٹ 1973کے آئین سے ضیاء الحق کو باہر پھینک سکیں گے؟اس سوال کا جواب پاکستان میں پارلیمنٹ کی حاکمیت اور جمہوریت کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا۔  دستور پاکستان بذات خود ایک مہلک ہتھیار ہے جو کہ سوائے ارکان پارلیمنٹ کے ریاست کے دیگر تمام اداروں کو کسی بھی مہم جوئی کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔صرف ایک آرٹیکل 6ایسا ہے کہ جس کے ذریعے دستور پاکستان خود اپنا تحفظ کرسکتا ہے ۔ آرٹیکل 6ماضی میں1973کا آئین معطل کرنے والے فوجی ڈکٹیٹرزجنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف تو کبھی استعمال نہیں کیا گیا لیکن جنرل پرویز مشرف نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اسی آرٹیکل کے تحت ان کے کے خلاف مقدمہ قائم کیا اور انہیں سزا دی ۔

آغا اقرار ہارون گزشہ 29سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء،وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

کانگو میں جھیل اِلبرٹ کے کنارے واقع ماہی گیروں کے دیہات پر مٹی کا تودہ گرنے سے 40 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔

برازاویلی ۔ 18 اگست (ڈی این ڈی) حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر کے مطابق کانگو کے شمال مشرقی حصے میں جھیل اِلبرٹ کے کنارے واقع ماہی گیروں کے دیہات پر مٹی کا تودہ گرنے سے 40 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔کانگو کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق گزشتہ روز کی گئی ہے۔ اتوری نامی صوبے کے نائب گورنر پیسیفیک کِیٹا کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں ایک پہاڑ کا ایک حصہ گر گیا جس سے یہ افسوسناک واقع رونما ہوا ہے۔ زخمیوں اور متاثرین کی ہر ممکن امداد کی جارہی ہے۔