جنوبی ایشیا ء میں بھارتی بالادستی اور پانی پر جنگ کے منڈلاتے بادل

jinnah

article april 26 jinah

جنوبی ایشیا ء میں بھارتی بالادستی اور پانی پر جنگ کے منڈلاتے بادل
پانی کے وسائل کے اشتراک اور جنگوں کی تاریخ رکھنے والے جنوبی ایشیاء کے دو روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایک بار پھرایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔
دونوں اب ایٹمی طاقت کے حامل ممالک ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف چوتھی جنگ کے لئے تیار ہیں۔روائتی فوجی وسائل میں عد م توازن کی وجہ سے پانی وسائل کے تنازع پر جنگ کی صورت میں پاکستان بھار ت کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو ترجیح دے سکتا ہے۔
پاکستان کا دعوی ہے کہ اگرچہ اس کے اور بھارت کے مابین ایک سے زیادہ تنازعات ہیں لیکن بھارت پہلے ہی اس کے خلاف پانی کے مسئلے پر جنگ چھیڑ چکا ہے۔
ناصرف پاکستان کی جانب سے بھارت پر الزام ہے کہ وہ پانی کو ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہاہے بلکہ دیگر پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور نیپال کے بھی بھارت کے ساتھ پانی کے مسئلے پر تنازعات چل رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے ان تینوں پڑوسی ممالک کے ساتھ پانی کے معاہدے ہیں لیکن وہ مبینہ طور پر پانی کے وسائل پر انہیں ان کا حق نہیں دے رہا۔
بھارت کو اپنی جغرافیائی اور ٹاپو گرافیکل حیثیت کی وجہ سے پاکستان پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ پاکستان میں بہنے والے تمام دریا بھارتی سرزمین سے ہو کر آتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کے تنازع کا آغاز اسی وقت ہو گیا تو جب 1947میں دونوں ممالک وجود میں آئے تھے ،اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پانی ہی وہ سب سے اہم معاملہ ہے جس کی وجہ سے دونوں کے دوطرفہ تعلقات شروع سے متاثر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کو پانی کی کمی،طلب میں اضافے،خشک سالی اور سیلاب جیسے مسائل کا سامنا ہے اس لئے پانی کی تقسیم، استعمال، مینجمنٹ اور آب پاشی ،اور پانی کے کنارے پر واقع بالائی اور زیریں علاقوں کو متاثر کرنے والے ہا ئیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس جیسے معاملات
آہستہ آہستہ ان کے تعلقات کو متعین کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان کو 2010میں تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے 20ملین افراد متاثر ہوئے تھے، اور اقوام متحدہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے تسلیم کیا کہ 2010کا سیلاب بدترین قدرتی آفت تھی جو اقوام متحدہ کے حکام کی طرف سے ریکارڈ کی گئی ۔
نیپا ل میں بھی 2010میں جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں سیلاب آئے تھے جس سے 43اضلاع متاثر ہوئے تھے۔ماہرین کا خیال ہے کہ 2010کے سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آئے تھے۔بھارت کو بھی پاکستان میں آنے والے سیلابوں سے دو سال قبل ایسی ہی قدرتی آفات کا مسلسل سامنا کرنا پڑا تھا۔
بھارت میں 2008میں آنے والے سیلابوں میں 3,000افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ مہاراشٹر اور آندھرا پردیش کے مغربی علاقوں میں 40,000سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے تھے۔
برصغیر میں شمالی اور جنوبی پولز سے باہر پانی کے سب سے بڑے ٹاورز ہیں ،لہذا پینے کے پانی کی دستیابی اس علاقے میں بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔مسئلہ پانی کی تقسیم، اس کی ذخیرہ اندوزی اور بروقت دستیابی ہے جس کی بنا ء پر دریاؤں کے کناروں کے بالائی اور زیریں علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستان اپنی زرعی اور پن بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اس کے مطابق پانی کو ذخیرہ کرنے میں ناکام رہا ہے اسی لیے گزشتہ چار دہائیوں سے اسے پانی کی شدت قلت کا سامناہے۔علاوہ ازیں پاکستان نے نہر کے نیٹ ورکس کو بھی تعمیر نہیں کیا ہے اور ابھی بھی برطانوی راج کے بنائے گئے صدی پرانے نہر کے نیٹ ورک پر انحصار کر رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اس ساری صورت حال کابھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ و ہ جانتا ہے کہ پاکستان کا انحصار بھارت سے اپنی طرف بہنے والے پانی کے ایک ایک قطرے پر ہے۔اس کے علاوہ پانی کی نامناسب ذخیرہ اندوزی اوربیراجوں کی کمی کے ہوتے ہوئے پاکستان ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کر سکتا ہے جب بھارت ایسے وقت میں دریاؤں میں زیادہ پانی چھوڑ دے جب پاکستان میں موجود بیراج اور ڈیمز پہلے ہی پانی سے بھرے ہوئے ہوں۔اس صورت حال کا نتیجہ پاکستان میں جولائی، اگست اور ستمبر میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی صورت میں نکلتا ہے جب ملک میں مون سون کی شدید بارشوں کی وجہ سے پانی کی کمی نہیں ہوتی۔پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی بھارت کے اقدام کے باعث مون سون کے دوران دریاؤں کے کناروں میں آباد بستویوں میں سیلاب آ جاتا ہے۔
ٓٓاگرچہ بھارت اپنے محل و قوع، سائز اور بالائی حصے پر ہونے کے اعتبار سے خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کئے ہوئے ہے مگر بھوٹان کے سوا اپنی سرحدوں سے ملحقہ تمام جنوبی ایشیا ئی ممالک کے ساتھ اس کے تنازعات ہیں۔
جنوبی ایشیائی ممالک کے مابین بد اعتمادی کی فضاء میں بالائی خطے پر واقع بھارت کو زیریں خطے کے ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سنجیدہ نوعیت کے مسائل کو حل کرنا ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف بھارت ہی ان مسائل اور ان کے حل میں تعطل کا ذمہ دار ہے اگرچہ اپنی جسمانی حدود اور سیاسی خدشات میں گھرے دوسرے ممالک کی نسبت بھارت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
دنیا میں بالخصوص برصغیر میں انسانی آبادی میں تیزی سے اضافہ جاری ہے ،اور ماحولیاتی آلودگی اور آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کی نسبت اس کے وسائل میں نمایاں کمی آرہی ہے ۔پانی کے وسائل میں کمی کو دیکھتے ہوئے انسانی سلامتی اور پانی کا تحفظ جیسے معاملات جلد بہت زیادہ اہمیت اختیار کر جائیں گے۔
پانی کی تقسیم اوراس کے انتظام کے مسائل کو چونکہ دوستانہ طریقے سے حل نہیں کیا جار ہا اس لئے یہ نا صرف خطے کے ممالک کو بلکہ ریاستوں اور صوبوں کے اند ر علاقوں کو بھی تصادم کی طرف لا رہے ہیں۔پاکستان میں اس کی سب سے بڑی مثال سند ھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر کشیدگی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر کے ممالک نے باہمی معاہدوں کے ذریعے پانی کی تقسیم کے مسئلے پر اختلافات کو حل کرنے کے لئے غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔
بھارت اور پاکستان نے 1960میں سندھ طاس معاہد ہ کیا جس کے تحت بھارت کو تین مشرقی دریاؤں راوی ،ستلج اور بیاس جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں دو جنگوں کے باوجود سند ھ طاس معاہدہ برقرار رہا اگرچہ بھارت مبینہ طور پر معاہدے کے خلاف پانی کے ذخائر کی تعمیر اور پاکستان کو دیئے گئے تین دریاؤں کے پانی کا رخ موڑنے جیسے اقدامات کر تا رہا ہے۔بھارت نے دریا جہلم پر دو منصوبوں اور دریا چناب پر نو منصوبوں کی تعمیر کر کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سند ھ طاس معاہدہ پاکستان اوربھارت کے مابین آبی مسائل کے حل کے لئے قانونی طریقہ کار فراہم کرتا ہے لیکن بھارت تین مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حق کی پرواہ نہیں کر رہا اور دعوی کرتا ہے کہ اس کے منصوبے کسی معاہدے کے خلاف نہیں ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت اسے پانی کا مناسب حصہ نہیں دے رہا ہے۔اب بھارت سند ھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دے رہا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ کو اس کے خلاف ایک مکمل جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے حالیہ ریاستی انتخابات کے دوران پانی کے مسئلے کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کیا اور پاکستان کو دھمکی دی کہ بھارت مغربی دریاؤں سے پاکستان کو ایک قطرہ بھی نہیں دے گا جس پر پاکستان نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔یوں دونوں ممالک کے تعلقات 1971کی جنگ کے بعد کی نچلی ترین سطح پر چلے گئے۔
آبی مسائل پر بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین دوطرفہ تعلقات کی صورت حال بھی مختلف نہیں ہے۔دونو ں ممالک نے 1996میں گنگا پانی کی تقسیم کے معاہدے(جی ڈبلیو ایس ٹی)پر دستخط کر کے فراخا بیراج کے تنازع کو حل کیا تھا لیکن بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ مون سون کے علاوہ دیگر ایام میں بھارت اس کے حصے کا پانی روک لیتا ہے۔بھارت جی ڈبلیو ایس ٹی کی خلاف وزری کرتے ہوئے دریاسے منسلک منصوبے پر کام کر رہا ہے اور گنگا اور برہمپتر سے پانی کا رخ تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
نیپال نے بھی بھارت کے ساتھ 1996میں مہاکالی معاہدے پر دستخط کئے تھے لیکن 35مربع کلومیٹر پر پھیلا کالاپانی کا علاقہ اب بھی متنازع معاملہ ہے اور مہا کالی معاہدے پر موثر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
انتہائی وسیع رقبے کا حامل اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بھارت اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور جو ممالک اس سے اپنے پانی کا حصہ مانگتے ہیں یہ ان کے ساتھ نارواسلوک اختیار کرتا ہے۔بنگلہ دیش اور نیپال چھوٹے ممالک ہیں اور معاشی طور پر ان کا انحصار بھارت پرہیں لیکن پاکستان بھارت کو اپنے پانی کے حصے پر کھیل کھیلنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہے۔
اگرچہ بھار ت پوری کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ آبی مسائل کو دبایا جائے لیکن پاکستان بھی کشمیر کے مسئلے پر جارحانہ انداز میں جواب دے رہا ہے کیونکہ تمام مغربی دریا بھارت کی زیر قبضہ کشمیر وادی سے ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ۔کشمیر کے مسئلے کے حل سے دونوں ممالک کے درمیان پانی کے مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
پانی کی قلت کے باعث برصغیر میں کئی تہذیبیں بشمول ہاکڑ ا دریا کی تہذیب ختم ہو گئیں۔ہاکڑا دریا ہزاروں سال پہلے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ختم ہو گیاتھا۔اب وہاں ایک وسیع صحرا ہی نظر آتا ہے جہا ں کبھی سر سبز سطح مرتفع وادی تھی اور اس کی مضبوط زراعت بھارتی گجرات تک کے علاقے کو خوراک فراہم کرتی تھی۔اور اب صرف صحرا ہی آپ کو بہاولپور کے قریب ہاکڑا دریا کے سابقہ کناروں پرخوش آمدید کہتا ہے۔
آغا اقرار ہارون گزشتہ 29سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں مبصر کے طور جانے جاتے ہیں۔

پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے ,صدر مملکت ممنون حسین

اسلام آباد۔ 25 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کیلئے بہترین مراعات فراہم کرتاہے، بیرون ملک پاکستان کے بہتر تشخص کو اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو یہاں ایوان صدر میں ڈنمارک کیلئے پاکستان کے نامزد سفیر سید ذوالفقار حیدر گردیزی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ صدر نے کہا کہ ڈنمارک میں تجارتی برادری کو پاکستان میں بالخصوص متبادل توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا جائے۔ سفیر کو ان کی نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم ڈنمارک کیلئے روایتی اور غیر روایتی اشیاء4 میں ہماری برآمدات مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صدر نے توقع ظاہر کی کہ نئے نامزد سفیر کی تقرری سے دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ mamnoon

وزیراعظم محمد نواز شریف کا ممتاز مصنف ایم اے راحت کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

ایم اے راحت پاکستان کا اثاثہ تھے،انہوں نے اردو ادب میں بے مثال خدمات سرانجام دیں
وزیراعظم محمد نواز شریف کا ممتاز مصنف ایم اے راحت کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
اسلام آباد۔ 24 اپریل (ڈی این ڈی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے ممتاز مصنف ایم اے راحت کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ایم اے راحت پاکستان کا اثاثہ تھے۔ انہوں نے اردو ادب میں بے مثال خدمات سرانجام دیں، ان کی وفات سے ادب کے شعبہ میں خلاء4 پیدا ہو گیا ہے، ایم اے راحت پاکستان کا اثاثہ تھے،انہوں نے اردو ادب میں بے مثال خدمات سرانجام دیں ان کی تصانیف نئی نسل یاد رکھے گی۔ انہوں نے مرحوم کی روح کیلئے ایصال ثواب اور غمزدہ خاندان کیلئے صبر جمیل کی دعا کیMA Rahat

ماہ رمضان کے دوران کم از کم لوڈ شیڈنگ کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں

اسلام آباد (ڈی این ڈی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ ماہ رمضان کے دوران کم از کم لوڈ شیڈنگ اور ٹیرف کے ایشوز کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ پیر کویہاں توانائی بارے کابینہ کمیٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے وزارت پانی و بجلی کوہدایت کی کہ مختلف ذرائع بشمول ایل این جی سولر، کول، فرنس آئل، ڈیزل اور گیس کیلئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ درپیش ٹیرف مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ توانائی کے منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کیلئے انتظامی اور قانونی ایشوز کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ این ٹی ڈی سی کو ہدایت کی گئی کہ ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائنز اور دیگر ٹرانسمیشن لائن منصوبوں پر کام کی رفتار میں اضافہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے توانائی کے مختلف ذرائع کی صلاحیت سے متعلق مسابقتی مطالعہ کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اسے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بجلی پیدا کرنے کے مختلف آپشنز پر کام کر رہی ہے تاکہ صارفین کو بلاتعطل بجلی فراہم ہو سکے۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے بیس لوڈ تھرمل پاور پراجیکٹس پر توجہ دی ہے جس سے سال بھر کے دوران حتیٰ کہ 2018ء اور اس کے بعد ہائیڈرو پاور جنریشن کی مدت کے دوران بجلی کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے گاmeeting nawaz

وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے وعدے کرکے بھی ایفا ء نہیں کئے ,سابق صدر آصف علی زرداری نے

اسلام آباد(ڈی این ڈی) پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اقتدار میں آکر اپنی تجوریاں بھر نے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے وعدے کرکے بھی ایفا ء نہیں کئے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کوئی جانتا ہی نہیں، خان کا لاحقہ لگا کر پشتون بننے کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے، پشتون ہونے کے لئے شجرہ نصب ہونا چاہئے، عمران خان کا شجرہ کسی پختون سے تو نہیں لیکن ’’ٹائیگر نیازی ‘‘ سے ضرور ملتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو بہت جلد جانا پڑے گا ، میاں صاحب سندھ میں جا کر کہتے ہیں کہ وہ جیبیں بھر کر آئے ہیں ، وہ ایسا کیوں کہتے ہیں کیا وہ یہ پیسا اپنی جیب سے دے رہے ہیں ، تمام ججوں نے بھی گو نواز گو کا نعرہ لگا دیا ہے،عجیب بات ہے کہ کیس کے دونوں فریقین فیصلے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں حالانکہ عدالتی بینچ کے دو ججز نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔
عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ ایک کپتان نکلا ہے جو سمجھتا ہے کہ وہ پختون ہے، جس کے نام کے ساتھ خان لکھا ہے، لیکن پختون ہونے کے لیے پہلے پختون زبان آنی چاہیے اور پھر اس کا شجرہ بھی پختونوں سے ہونا چاہیے، جبکہ کپتان کا شجرہ ٹائیگر نیازی سے ملتا ہے۔عمران خان خود کو نواجوانوں کا لیڈر کہتے ہیں حالانکہ ان کی عمر مجھ سے بھی زیادہ ھے تو وہ وہ کیسے نوجوانوں کے لیڈر ہوسکتے ہیں؟ حقیقت میں نوجوانوں اور بچوں کا لیڈر صرف بلاول بھٹو زرداری ہےasif ,emran nawaz

چھٹی مردم و خانہ شماری کا آخری مرحلہ منگل سے شروع ہو گیا۔

mardum shmariاسلام آباد۔ 25 اپریل (ڈی این ڈی) حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر کے مطابق چھٹی مردم و خانہ شماری کا آخری مرحلہ منگل سے شروع ہو گیا۔ اس مرحلے مین مقامی اضلاع میں مردم و خانہ شماری ہو گی۔ ادارہ شماریات کے مطابق ملک بھر میں چھٹی مردم و خانہ شماری کا دوسرا اور آخری مرحلہ 25 اپریل سے شروع ہو گیا ،دوسرے مرحلہ میں 87 اضلاع میں مردم و خانہ شماری ہو گی جن میں پنجاب ور سندھ کے 21 اکیس اضلاع ، خیبر پختونخوا کے 12 بلوچستان کے 17، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 5 ، 5 اضلاع ، فاٹا کی 6ایجنسیاں شامل ہیں۔ دوسرا مرحلہ آئندہ ماہ کی 24 تاریخ تک جاری رہے گا۔

خیبر ایجنسی کے 91ہزار 689 خاندان واپس اپنے علاقوں میں پہنچ گئے

اسلام آباد۔ 25 اپریل (ی این ڈی) حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر کے مطابق ضرب عضب میں متاثر ہونے والے خیبر ایجنسی کے عارضی طورپر بے گھر افراد کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے، 91ہزار 689 خاندان واپس اپنے علاقوں میں پہنچ گئے ہیں ، واپس جانے والے افراد میں 25ہزار روپے کیش گرانٹ جبکہ ٹرانسپورٹ کی مد میں 10ہزار روپے بذریعہ موبائل سم ادا کئے جارہے ہیں۔ ایف ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق آپریشن ضرب عضب میں متاثر ہونے والے خیبر ایجنسی کے عارضی طورپر بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی کا عمل جاری ہےfata

آ ج ملیریا کے مر ض سے بچاؤ کا دن منایا جا رہا ہے

اسلام آباد (ڈی این ڈی)آ ج ملیریا کے مر ض سے بچاؤ کا دن منایا جا رہا ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آ ج ملیریا کے مر ض سے بچاؤ کا دن منایا جا رہا ہے۔ دن منانے کامقصد دنیا بھر میں ملیریا کے مرض سے آگاہی اجاگر کر نا ہے۔ دن کی منا سبت سے سیمینارز، کانفرنسزز، واکس اور دوسری تقریبات کاانعقاد کیا جا رہا ہے۔ملیریا کا دن 25 اپریل کو پوری دُنیا میں منایا جاتا ھے۔یہ دن اس بیماری پر قابو پانے کی خوشی میں بھی منائے جاتا ھے ساتھ ساتھ اس بیماری سے آگاہی بھی دی جاتی ھے تاکہ اس جا لیوا بیماری سے بچا جا سکے۔ہر سا پوری دُنیا میں 40,000 اموات ہو جاتی ہیں۔2010اور 2015 میں 29% کمی واقع ہوئی ھے۔اگر عالمی سطع پر دیکھا جائے تو 21% کمی نظر آتی ھے۔

Asian Tiger Mosquito (Aedes albopictus); Shutterstock ID 507914392