علیم خان آن کیمرہ معافی مانگیں: پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن

اسلام آباد (ڈی این ڈی)  پاکستان تحریک انصاف کی چیف وہپ ڈاکٹر شیریں مزاری نے پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن کی نو منتخب ایگزیکٹو باڈی کی اعزاز میں ریسیپشن دیا۔ پارلیمانی رپورٹر ایسوسی کے صدر قربان بلوچ، سیکرٹری جنرل بہزادسلیمی ، سینئر نائب صدر ارشد وحید چوہدری اور سابق صدر صدیق ساجد سمیت پی آر اے کے عہدیداران نے شیری مزاری سے ملاقات میں تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی جانب سے صحافی اویس کیانی کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان فوری طور پر اس معاملہ کا نوٹس لیں ، علیم خان اس واقعہ پر آن کیمرہ معافی مانگیں، پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز کا واٹس ایپ گروپ کی غیر مشروط فوری بحالی عمل میں لائی جائے اور بیٹ رپورٹرز کے ساتھ ملاقات کرکے ان کے تحفظات دور کیے جائیں،

پارلیمانی رپورٹر ایسوسی ایشن

پارلیمانی رہورٹرز ایسوسی ایشن کے مطالبہ پر شیری مزاری نے تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات نعیم الحق کو بھی فوری وہاں بلایا ، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے نعیم الحق کو اپنے مطالبات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تحریک انصاف کی قیادت نے فوری طور پر مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو پی آراے پارلیمنٹ سیشن کے دوران واک آئوٹ اور تحریک انصاف کی کوریج کے بائیکاٹ کا آپشن اختیار کرے گی، شیری مزاری اور نعیم الحق نے پی آراے کے تمام مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے اتفاق کیا کہ وہ آج ہی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کرکے ان کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کریں گے، نعیم الحق نے کہا کہ علیم الحق سے معذرت کا ویڈیو بیان ریکارڑ کرانے کے لیے بولا جائے گا۔

پارلیمانی رہورٹرز ایسوسی کی ایگزیکٹو باڈی سے ملاقات کے بعد شیری مزاری اور نعیم الحق عمران خان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے جس کے بعد وہ آج ہی صحافتی تنظیموں کو تحریک انصاف کی قیادت کے فیصلوں سے آگاہ کریں گے ۔ ری سیپشن میں پارلیمانی رپورٹر ایسوسی کے صدر قربان بلوچ، سیکرٹری جنرل بہزادسلیمی ، سینئر نائب صدر ارشد وحید چوہدری، سابق صدر صدیق ساجد ، نائب صدر سہیل خان ، جوائنٹ سیکرٹری ذیشان شمسی ، چیئرمین واک آئوٹ کمیٹی اظہر فاروق ، چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی عظیم صدیقی ، خواجہ بابر ، علی شیر ، رانا طارق ، حافظ ماجد ، جاوید نور، روزینہ اور رزاق کھٹی سمیت دیکر نے شرکت کی ۔اس موقع پر پارلیمانی رہورٹرز ایسوسی ایشن کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے ممبران اور تمام ساتھی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی

فضائی کاروائیوں اور جھڑپوں میں 4 طالبان کمانڈروں سمیت 93 شدت پسند ہلاک اور 79 زخمی ہوگئے ہیں

province hilmndکابل(ڈی این ڈی) صوبہ ہلمند میں افغان سیکیورٹی فورسز کی فضائی کاروائیوں اور جھڑپوں میں 4 طالبان کمانڈروں سمیت 93 شدت پسند ہلاک اور 79 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے 8 موٹر سائیکل اور 5 ٹھکانے تباہ کردیے گیے ہیں۔ دریں اثناء وزرات دفاع کے حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لشکر گاہ شہر میں کاروائی کی گئی۔صوبہ فراہ کے ضلع بالا بولک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں 45طالبان جنگجو ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے ہیں۔فوجی کمانڈر عبدالجلال جلال نے بتایا ہے کہ ضلع بالا بولک میں شدت پسندوں کیخلاف آپریشن کیاگیا تھا۔ اس دوران2افغان فوجی بھی ہلاک اور7دیگر زخمی ہوگئے جبکہ افغان اسپیشل فورسز نے مشرقی صوبہ ننگرہار میں داعش کے خلاف ایک آپریشن کے دوران 3 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ آپریشن ضلع کھیوا میں کیا گیا۔

پاک چین اقتصادی راہداری سے علاقے کا مستقبل تبدیل اور بڑے پیمانے پر روزگار کے موقع پیدا ہوں گے

sader mamnounاسلام آباد(ڈی این ڈی) پاکستان کے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے علاقے کا مستقبل تبدیل ہو کر رہ جائے گا اور بڑے پیمانے پر روزگار کے موقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد پاکستان اور یہ خطہ دنیا کے ساتھ نئے سرے سے منسلک ہو جائے گا ، سائنس دان اور انجنیئرز اقتصادی راہداری کو کامیاب بنانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ راہداری کے فعال ہو جانے کے بعد خطے میں نئی ٹیکنالوجیز آئیں گی اور نئے کاروبار شروع ہو ں گے ، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں بڑی تعداد میں افرادی قوت کی ضرورت ہوگی ، پاکستان کے تعلیمی اداروں کو چین اور دنیا کے دیگر حصوں میں علوم و فنون کے اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کر نے چاہییں۔ صدر مملکت نے یہ بات نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور انسٹیٹیوٹ آف انجنیئرز پاکستان کے زیر اہتمام پاک چین اقتصادی راہداری ؛ مواقع اور چیلنجز کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر رانا تونیویر حسین، پاکستان میں چین کے سفیر سن دی ڈونگ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

سی پیک 51 ارب ڈالر سے زائد کے سرمایہ کاری حجم کی حامل توانائی، شاہرات، موٹر ویز، پائپ لائنوں، ریل نیٹ ورک اور آپٹک فائبر راہداری ہے

pak bahreenاسلام آباد(ڈی این ڈی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے بحرین کی حکومت اور کاروباری برادری کو پاک چین اقتصادی راہداری سے پیدا ہونے والے شاندار مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک نہ صرف علاقائی روابط کے فروغ کا ڈھانچہ ہے بلکہ یہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا، سی پیک 51 ارب ڈالر سے زائد کے سرمایہ کاری حجم کی حامل توانائی، شاہرات، موٹر ویز، پائپ لائنوں، ریل نیٹ ورک اور آپٹک فائبر راہداری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بحرین کو اپنا قریبی دوست اور بااعتماد شراکت دار سمجھتا ہے ، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات مشترکہ تاریخ ، ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر رابطوں سے عبارت ہیں۔ انہوں نے یہ بات بحرین کے وزیر برائے صنعت تجارت و سیاحت زید آر الزیانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے دوسری پاک بحرین کاروباری مواقع کانفرنس میں بحرین کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے وفد کو پاکستان کے تجارتی اور سیاحتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی میدان میں تعاون سے برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے انہوں نے یہ بات بحرین کی ممتاز کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں پر مشتمل اعلیٰ سطح کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے بدھ کو وزیراعظم آفس میں ان سے ملاقات کی۔ بحرین کے وزیر صنعت، تجارت و سیاحت زید آر الزیارانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد کی قیادت بحرین چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹریز (بی سی سی آئی) کے چیئرمین خالد المعید کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے وفد کا پرجوش استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحرین کے کاروباری افراد کی طرف سے پاک بحرین مشترکہ ہولڈنگ کمپنی کے قیام کے اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اس سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔کاروباری مواقع کے بارے میں دوسریپاکستان بحرین کانفرنس آج اسلام آباد میں شروع ہورہی ہے۔ پاکستان اوربحرین کے وزرائے تجارت کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔اس سے دونوں ملکوں کے درمیان کاروبارکے مزید مواقع تلاش کرنے اورتجارت کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگی۔

ڈاکٹروں اور نرسوں کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

shbaz shareef pic 4پنجاب(ڈی این ڈی) وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کا سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں اور نرسوں کا کام دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے اور جن اسپتالوں میں ڈاکٹر اور نرسیں مسیحائی نہیں بلکہ سیاست کرتے ہیں ان کے خلاف جنگ کریں گے، عوام کو ڈاکٹروں کے احتجاج کی نہیں علاج کی ضرورت ہے۔لاہور میں کڈنی اسپتال ملتان کی انتظامی باگ ڈور نجی تنظیم کے حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ صوبائی حکومت فروغ دینے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن یہ بد گمانی پھیلانا درست نہیں کہ شہباز شریف نے پرائیوٹائزیشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ان کا کہنا ہے تھا کہ عوام ایسی سیاست رد کرتے ہیں جہاں ان کی جانیں اس کی نذر ہو جائیں،لوگ اسپتال جاتے ہیں لیکن ان کا سامنا ہڑتالوں اور سیاست سے ہوتا ہے،20کروڑ عوام ایسی سیاست کو رد کرتے ہیں جہاں ان کی جانیں اس کی نظر ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا اور ان کے مستقبل کو سنوارنا ہے

پاکستان کے کسی بھی کونے میں کسی بھی صحافی کا مطالبہ میرا مطالبہ ہے

free jurnalism 1اسلام آباد۔ 30 مارچ (ڈی این ڈی) حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر کے مطابق وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں اور صحافتی اداروں کی تضحیک کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہدایات پر پاکستان کے اندر صحافت کی آزادی کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دوں گی‘صحافیوں اور صحافتی اداروں کی سکیورٹی اور سیفٹی کے لئے وزارت اطلاعات ہر ممکن صلاحتیں بروئے کار لارہی ہے ‘چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے بات ہو گئی ہے‘(آج) جمعہ سے گلگت بلتستان کے بند ہونے والے اخبارات کی اشاعت دوبارہ شروع ہو جائے گی‘جی بی کے اخبارات کی بقایا ادائیگیوں کی ایک قسط ادا ہو گئی ‘باقی ادائیگی بھی وزیراعلی جی بی کے وطن واپس پہنچتے ہی کر دی جائے گی‘صحافیوں پر قائم مقدمات کے حوالے سے تحفظات قانون اور آئین کے مطابق دور کرنے لئے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمننٹ کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ‘ہر موقع پر صحافیوں کے جائز مطالبات پر صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہوں اورکھڑی رہوں گی۔وہ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس کے باہر پی ایف یو جے کے زیر اہتمام آزادی صحافت ریلی سے خطاب کر رہی تھیں۔پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ ‘نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم ‘دیگر صحافتی گروپوں کے قائدین اور سینکڑوں صحافی اس موقع پر موجود تھے۔صحافی برادری نے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کی قیادت میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے ریلی نکالی ۔وزیر مملکت مریم اوررنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں کسی بھی صحافی کا مطالبہ میرا مطالبہ ہے ‘ ہر جائز مطالبے پر میں صحافیوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہوں اور کھڑی رہوں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہدایات پر پاکستان کے اندر صحافت کی آزادی کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دوں گی۔

رو س داعش کوآمو دریا پر روکے گا، وولگا پر نہیں

jinnah

article 30 april jinnah
افغانستان اور اس کے گردو نواح میں سیاسی تبدیلیاں بہت تیزی کے ساتھ رونما ہورہی ہیں ۔ ماضی میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے مسلسل انکار کرنے والے طالبان نے بالا آخر 14اپریل کو ماسکو میں ہونے والے کثیر الملکی افغان امن مذاکرات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
امریکہ نے یہ کہتے ہوئے افغان امن مذاکرات میں شرکت سے معذرت کر لی ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے ہر اقدام کی حمایت جاری رکھے گا۔دریں اثنا امریکی حکام نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ افغان امن مذاکرات کا میزبان روس طالبان کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔
افغانستان کئی وسطی ایشیائی ریاستوں کی سرحدوں کے ساتھ منسلک ہے لہذا پاکستان، چین، روس، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، قزاقستان ، کرغستان اور ایران کی کی مشترکہ کاوش ہے کہ کالعدم اسلامی ریاست (داعش) کو جنگ سے متاثرہ ملک میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے سے روکا جائے جبکہ بھارت بھی افغان امن مذاکرات سے الگ نہیں ہونا چاہتا ہے کیونکہ نومبر 2011میں قائم ہونے والی ہارٹ آف ایشیا۔استنبول پراسس میں شمولیت کے بعد سے وہ بھی افغانستان کے مسئلے پر ایک سٹیک ہولڈر بن چکا ہے۔
سال 2015کے آخر میں طالبان کے افغانستان کے صوبوں کنٹر، خوشت، ننگرہار، پکتیا، لوگر، پکتیا اور زابل سے غائب ہو جانے سے جنوبی علاقوں میں خلا پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث داعش کو تیز ی سے عروج حاصل ہوا ،نتیجے کے طور پرصورتحال مزید گھمبیر ہو تی گئی۔
طالبان کا موقف ہے کہ کنٹر، خوشت، ننگرہار، پکتیا، لوگر، پکتیا اور زابل صوبوں کو چھوڑ دینا ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ شمال کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے قندوز سمیت ان صوبوں کا کنٹرول حاصل کیا جائے جو ماضی میں کبھی طالبان کے زیر اثر نہیں رہے۔واضح رہے کہ 1995سے 2001کے درمیان جب طالبان افغانستان کے 70فیصد سے زائد علاقے پر حکمران تھے تب بھی قندوز ان کے قبضے میں نہیں تھا۔شمال کی طرف بڑھتے ہوئے طالبان نے کامیابی کے ساتھ ایران ، پاکستان اور ترکمانستان کی سرحدونں سے ملحقہ صوبوں بشمول نمروز، فراہ، ہرات، ہلمند اور قندھار میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وسطی ایشیائی ممالک داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوفزدہ ہیں ،یہی وجہ ہے کہ انہیں طالبان کی اپنی سرحدوں پر موجودگی پر اعتراض نہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ طالبان داعش کو وسطی ایشیاء کی سرحدوں کی طرف بڑھنے سے روکیں گے۔جب ایک سابق انٹیلی جنس افسر کو افغانستا ن کی تازہ صورت حال پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیائی ممالک کے لئے دو برائیوں میں سے اسی کا انتخاب بنتا تھا۔
کابل میں موجود امریکی نواز حلقوں کا دعوی ہے کہ طالبان کو روس اور پاکستان سے ہتھیار مل رہے ہیں ،تاہم افغان حکومت سرکاری طور پر روس پر طالبان کی حمایت کا الزام لگانے سے گریز کر رہی ہے۔یہ حلقے دراصل افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو دہرا رہے ہیں کہ روس طالبان کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔
صدر اشرف غنی کی حکومت میں شامل کچھ باشعور قائدین نجی محفلوں میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حکومت افغانستان کے تقریبا ہر صوبے میں اپنا اثرورسوخ کھو رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے طالبان کے جنگجوؤں نے ضلع تالا برفک اور انتہائی اہم ضلع سنگین پر قبضہ کر لیا۔ مقامی افغان کمانڈر اور فوجی حکام نے امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ضلع سنگین اب افغان حکومت کے زیر اثر نہیں رہا۔
کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 23مارچ سے صوبہ بغلان میں افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے جنگجؤؤں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
روسی سٹریٹجک حلقوں کا ماننا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طالبان اپنی پوزیشن مستحکم کرتے جائیں گے تاکہ آئندہ ماہ ماسکو میں امن مذاکرات کے دوران شکست خوردہ افغان حکومت سے اپنے مطالبات منوائے جا سکیں۔
روس طالبان کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے یا نہیں ا س پر بحث ہو سکتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ سے جب بھی افغانستان کے اندر حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو افغان اسٹیبلشمنٹ اس کا الزام دوسروں پر لگاتی ہے۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 35سالوں سے جاری خانہ جنگی کا پر امن حل چاہتے ہیں اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی جانب داعش کی پیش قدمی کو روکنا چاہتے ہیں۔روس میں پوٹن انتظامیہ کی یہ حکمت عملی ہے کہ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف وولگا دریا کے بجائے آمو دریا پر لڑا جائے۔یاد رہے کہ آمو دریا افغانستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے الگ کرتا ہے۔
روس افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے سخت خلاف ہے کیونکہ اسے خطرہ ہے کہ افغانستان میں قابض ہونے کے بعد داعش سابقہ سوویت یونین کی ریاستوں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔روس اپنی تعمیراتی صنعت کے لئے تاجکستان اور ازبکستان سے 40فیصد سے زائد افرادی قوت درآمد کرتا ہے۔اگر ان ریاستوں کو شدت پسندی کی طرف دھکیل دیا گیا تو ایسا روس کے لئے خطرے کا باعث ہو گا کیونکہ وسطی ایشیائی ممالک کے شہریوں کو روس میں داخل ہونے اور وہاں کام کرنے کے لئے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
روس شدت پسندوں کے خلاف ناکامی پر کھل کر افغان حکومت پر تنقید کر رہا ہے اور موقف اختیار کئے ہوئے ہے کہ افغان حکومت کو ملک کو خانہ جنگی سے نکالنے کے لئے طالبان کے ساتھ بیٹھ کر گفت و شنید کرنی چاہئے۔کابل میں کچھ حلقے افغانستان میں قیام امن کے لئے روس کی جانب سے کی جارہی کوششوں کوطالبان کی ’’اخلاقی حمایت‘‘ سمجھتے ہیں کیونکہ ماضی میں صدر اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش نہیں رکھتی تھیں اور یہ یقین رکھتی تھیں کہ وہ نیٹو اور امریکی افواج کی مدد سے طالبان کو شکست دے سکتے ہیں۔
ذرائع کا دعوی ہے کہ چین کے مطالبہ پر افغان حکومت نے ماسکو میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی کیونکہ چین افغانستان میں سب سے زیادہ سرمایہ لگانے والا ملک ہے اور اس نے وہاں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث اپنے تمام بڑے منصوبوں پر کام روک لیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس نے دسمبر 2016میں ماسکو میں ایک سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کی تھی جس میں پاکستان اور چین نے شرکت کی تھی۔
سہ فریقی اجلاس نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں داعش کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔اجلاس کے اختتام کے بعد ماسکو میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا تھا کہ داعش کے ابھرنے کے بعد افغانستان میں امن کا قیام روس کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں مفاہمت اور امن کے قیام کے لئے چین ،پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے مابین چار ملکی مذاکرات کے بے نتیجہ ثابت ہونے کے بعد روس نے ماسکو میں سہ فریقی مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ کیاتھا۔
روسی تھنک ٹینکس کا ماننا ہے کہ امریکہ ماسکو میں ہونے والے افغان امن مذاکرات کو بگاڑ سکتا ہے کیونکہ15سال سے نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر طاقت کا بھر پور استعمال کرنے کے بعد بھی وہ افغانستان میں امن لانے میں ناکام رہا ہے۔
اس سوال کا جواب تو مستقبل میں ہی ملے گا کہ امریکہ روس کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کے لئے کی جانے والے کوششوں کو کامیاب ہونے دیتا ہے یا نہیں؟

آغا اقرار ہارون گزشہ 27سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔