بھارت نے 2016 میں 400 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی

بھارت نے 2016 میں 400 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی
اسلام آباد (ڈی این ڈی):گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات سرحد پر کشیدگی سمیت دوسرے عوامل کی وجہ سے کافی تناؤ کا شکار رہے اور مجموعی طور پر بھارتی فورسز نے 2016کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل ا و سی)اور ورکنگ باؤنڈری پر 400سے زائد مرتبہ بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی۔
بھارتی فورسز نے 2016کے دوران ایل او سی پر 360مرتبہ جبکہ ورکنگ باؤنڈری پر 40مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ گزشتہ سال پاک بھار ت سرحد پر تواتر کے ساتھ بھارتی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا اور کشیدگی برقرار رہی۔
گزشتہ سال آزاد کشمیر میں بھارتی جارحیت کا زیادہ تر عام شہری نشانہ بنے اور 38شہری شہید ہوئے جبکہ 130شدید زخمی ہوئے۔بھارتی فورسز نے ناصرف شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا بلکہ مسافر بسوں پر بھی شدید گولہ باری کی گئی جس سے کافی جانی نقصان ہوا۔

kashmir-border
مختلف ذرائع سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستانی چوکیوں پر بھارتی فورسز کی فائرنگ کے جواب میں پاکستانی افواج کے فائرنگ سے 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔
اگرچہ 2016 کے آغاز میں پاکستان اور بھارتی کے درمیان نسبتاََ بہتر سفارتی تعلقات تھے جس کی بنیادی وجہ 25دسمبر 2015 کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا دورہ لاہور تھا جس کے دوران انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات بھی کی۔تاہم 2جنوری 2016 کو بھارتی پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کی ایئربیس پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پھر سے سرد مہری کا شکار ہو گئے۔اس کے بعد تواتر کے ساتھ مختلف واقعات جیسے کہ مارچ میں بھارتی جاسوس کل بھوشن یادو کی گرفتاری اور اس کے پاکستان میں تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہونے کے اعتراف، ستمبر میں مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبے اْڑی میں بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹر پر مسلح افراد کے حملے،ستمبر میں ہی بھارت کے پاکستانی سرزمین پر سرجیکل سٹرائیک کے دعوے اور بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات کے باعث دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی بڑھتی گئی۔اس دوران کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا اور پاک بھارت مذاکرات بھی منقطع رہے۔
ڈیفنس ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت نے اپنے معاندانہ طرزعمل اور اشتعال انگیز بیانات سے پاکستان کو مکمل جنگ میں گھسیٹنے کی بھرپور کوشش کی لیکن پاکستانی کی سیاسی اور عسکری قیادت کامیابی کے ساتھ اس سے نبر د آزما ہوئی۔

برطانوی جریدے ’’اسپیکٹیٹر‘‘ نے جنرل راحیل شریف کو قومی ہیرو قرار دے دیا۔

اسلام آباد (ڈی این ڈی) جریدے نے جنرل راحیل شریف کو قومی ہیرو قرار دیا اور اآپریشن ضرب عضب کو سراہتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں بھرپور اآپریشن کیا گیا اور طالبان کا صفایا کیا گیا، ضربِ عضب نے القاعدہ اور طالبان کی خفیہ پناہ گاہوں کو ختم کرکے ان کی کمر توڑنے میں کلیدی کردارادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق ممتاز بین الاقوامی برطانوی جریدے ’’اسپیکٹیٹر‘‘ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت کو نمایاں جگہ دیتے ہوئے کراچی می بھی امن کے قیام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔برطانوی جریدے میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ صرف چند برس قبل پاکستان تخریبی کارروائیوں سے متاثرہ ایک خطرناک ملک تھا جہاں طالبان موجود تھے اور بین الاقوامی خفیہ اداروں کا خیال تھا کہ اسلام ا?باد سے صرف 100 کلومیٹر کی دوری پر طالبان کے گڑھ ہیں جو پاکستان کے نیوکلیائی پروگرام پر گھات لگائے ہوئے تھے لیکن اب صورتحال بہت بہتر ہے تاہم پاکستان کے سیکیورٹی مسائل اور چیلنجز ختم نہیں ہوئے ہیں۔جریدے کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 2 برسوں میں دہشت گردی میں تین چوتھائی ( 75 فیصد) کمی واقع ہوئی ہے اور پاکستان 15 سال قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے قبل کسی پرسکون مقام پر آچکا ہے۔

raheel
دوسری جانب جریدے نے نواز شریف حکومت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ 2 کروڑ سے زائد اآبادی والا شہر کراچی تخریب کاری سے سلگ رہا تھا جہاں اب امن قائم ہوچکا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں طالبان اور دیگر گروپس اغوا، منشیات فروشی اور بھتہ خوری میں ملوث تھے جو شہر میں ایک صنعت کا درجہ اختیار کرچکی تھی لیکن نواز شریف حکومت نے رینجرز کو کراچی میں وسیع تر اختیارات دیئے جس سے سیاست اور جرم کا نیٹ ورک کمزور ہوا۔جریدے کے مضمون میں بتایا گیا ہیکہ نمبیو انٹرنیشنل کرائم انڈیکس نامی ایک تنظیم نے 2013 میں کراچی کو دنیا کا چھٹا خطرناک شہر قرار دیا تھا اور اب یہ 31 ویں نمبر پر ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن کا معاہدہ

pak-chenاسلام آباد(ڈی این ڈی) پاکستان اور چین کے درمیان ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن کا معاہدہ طے پا گیا۔پاک چین دوستی کا ایک اور معاہدہ طے پا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بیجنگ میں پاکستان اور چین کے مابین لاہور سے مٹیاری کے درمیان پہلی ہائی کپیسٹی ٹرانسمیشن لائن کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس پر ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔یہ لائن لاہوراورمٹیاری کے درمیان پاکستان کی پہلی ہائی کپیسٹی ٹرانسمیشن لائن ہوگی۔
معاہدے پر پاکستان کی طرف سے سیکرٹری پانی و بجلی محمد یونس جبکہ چین کی جانب سے چیئرمین سٹیٹ گرڈ آف چائنہ نے دستخط کیے۔معاہدے کے موقع پر پاکستانی سے صوبائی وزراء اعلیٰ موجود تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چین ڈیڑھ ارب ڈالرکی مالیت سے مٹیاری سے لاہورکے درمیان ٹرانسمیشن لائن بچھائیگا، منصوبے کے تحت 4ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی جبکہ ٹرانسمیشن لائن سے جنوبی اور شمالی قومی گرڈ کو منسلک کیا جائے گا۔یہ لائن لاہوراورمٹیاری کے درمیان پاکستان کی پہلی ہائی کپیسٹی ٹرانسمیشن لائن ہوگی۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب سٹیٹ گیسٹ ہاوس بیجنگ میں منعقد کی گئی جس میں سندھ ، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے وفاقی وزراء اور وزراء ا علیٰ بھی موجود تھے جبکہ چین کے اعلیٰ عہدیداران بھی اس موقع پر تقریب میں شریک تھے۔

واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تناؤ میں اضافہ

washingtanواشنگٹن (ڈی این ڈی) امریکہ نے صدارتی انتخابات میں سائبر حملوں کے دعووں کے باعث کل واشنگٹن اور سان فرانسسکو میں متعین بتیس روسی سفارتکاروں کو بہتر گھنٹوں کے اندر ملک کو ترک کرنے کا حکم دیا تھاجس کے باعث واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
روسی دفترِ خارجہ نے صدر ولادیمر پوتن کو متحدہ امریکہ کے روس میں تعینات پینتیس سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔روسیہ۔ چوبیس چینل کو انٹرویو دینے والے وزیر خارجہ لاوروف کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بتیس روسی سفارتکاروں کو ملک کو ترک کرنے کے لیے بہتر گھنٹوں کی مہلت دینے کے حکم کے خلاف ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے، دو طرفہ ڈپلومیسی اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے قوانین کو بالائے طاق رکھا جائیگا۔ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے روس پر ‘اس کے عام انتخابات میں مداخلت کرنے کے الزامات’ بے بنیاد ہیں امریکہ کی اس حرکت کا ضرور جواب دیا جائیگا، لہذا ہم نے صدر پوتن کو ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ میں تعینات پنتیس امریکی سفارتکاروں کی ملک بدری کی تجویز پیش کر دی ہے۔واضح رہے کہ امریکہ نے صدارتی انتخابات میں سائبر حملوں کے دعووں کے باعث کل واشنگٹن اور سان فرانسسکو میں متعین بتیس روسی سفارتکاروں کو بہترگھنٹوں کے اندر ملک کو ترک کرنے کا حکم دیا
یاد رہے کہ جمعرات کے روز امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری لینڈ اور نیویارک میں واقع دو روسی کمپاؤنڈز کو جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا اور اسی وجہ سے انہیں بند کر دیا جائے گا۔امریکی وزارت خارجہ نے روس کے پینتیس سفارت کاروں کو جاسوسی کی سرگرمیوں میں ’ملوث‘ قرار دیتے ہوئے ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دے دیا تھا۔
واشنگٹن نے روسی فوج کے اہم انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جی آر یو) پر الزام لگایا تھاکہ اس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے کے ارادے سے مختلف ویب سائٹس اور ای میل اکاؤنٹس ہیک کیے اور اس عمل میں اسے روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کی مدد بھی حاصل رہی۔جبکہ ماسکو حکومت نے ان امریکی الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے ان اقدامات کے خلاف ’انتقامی کارروائی‘ کی جائے گی۔
جمعرات کو رات گئے کریملن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پابندیاں عائد کرنے کی صورت میں ’’روس کے ساتھ امریکی سفارتی تعلقات تباہ ہو جائیں گے دوسری طرف دیکھا جائے تو امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ مستقبل میں بہتر تعلقات رکھنے کا اعلان کر چکے ہیںwashingtan

ترکی میں قتل ہونے والے روسی سفیر کے لئے سیکورٹی انتظامات نہیں کئے گئے تھے، ابتدائی تفتیش میں انکشاف

ترکی میں قتل ہونے والے روسی سفیر کے لئے سیکورٹی انتظامات نہیں کئے گئے تھے، ابتدائی تفتیش میں انکشاف
انقرہ،ترکی (ڈی این ڈی):ترکی میں گزشتہ ہفتے روس کے سفیر آندرے کارلوف کے قتل کے بعد روسی تفتیشی ٹیم کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہو ا ہے کہ انقرہ میں ایک نمائش کے دوران قتل ہونے والے روسی سفیر کی سیکورٹی کے لئے سرکاری سطح پر کوئی انتظامات نہیں کئے گئے تھے۔
یاد رہے 19دسمبر کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک22 سالہ پولیس اہلکار مولود مرت التنتاش نے فنون لطیفہ کی ایک نمائش کے دوران اس وقت روسی سفیر کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ وہاں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ روسی تفتیشی ٹیم کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمائش کے دوران روسی سفیر کی حفاظت کے لئے سرکاری سطح پر سیکورٹی کے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انقرہ کے میئر کا کہنا ہے کہ حملہ آور پولیس اہلکار نمائش میں تعینات نہیں تھا۔تاہم شہر کے سیکورٹی حکام یہ وضاحت دینے میں ناکام رہے ہیں کہ اگر مولود مرت التنتاش نمائش میں تعینات نہیں تھا تو ڈیوٹی پر کون مامور تھا ؟اور روسی سفیر کی سیکورٹی کے لئے کیا انتظامات کئے گئے تھے؟
روسی تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ روس کے سفیر آندرے کارلوف کا قتل ایک سوچی سمجھی دہشت گردی کی کاروائی تھی اور حملہ آور پولیس اہلکارسازشی منصوبے میں ایک معاون تھا۔
ترکی کے حکام کا دعوی ہے کہ حملہ آور مولود مرت التنتاش، جو کہ انقرہ کی بلوہ پولیس میں کام کر رہا تھا، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے مخالف فتح اللہ گولن کے ساتھ منسلک تھا۔ تاہم روسی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ مولود مرت التنتاش کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ہو سکتے ہیں۔ روسی تفتیش کاروں کے مطابق مولود مرت التنتاش روسی سفیر کو قتل کرنے سے پہلے کافی مذہبی ہو گیا تھا اور زیادہ وقت مذہبی سرگرمیوں میں مصروف رہتا تھا۔
روسی تفتیش کاروں کے ان دعوؤں کی بلواسطہ تصدیق مولود مرت التنتاش کے والد کے ترک ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں بھی ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کا رویہ انقرہ کی بلوہ پولیس میں شامل ہونے کے بعد تبدیل ہو نا شروع ہو گیا تھا ،وہ زیادہ تر خاموش رہتا تھا اور باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگا تھا۔انہوں نے کہا کہ مولود مرت التنتاش پولیس میں شامل ہونے سے پہلے اتنا مذہبی نہیں تھا۔
واضح رہے کہ روسی تفتیش کاروں کی ٹیم ترکی میں موجود ہے اور وہ ہر پہلو سے روس کے سفارت کار کے قتل کی تفتیش کر رہی ہے۔روسی تفتیش کار اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ ترکی کے پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو گولیاں مار دی تھیں اگرچہ وہ اسے زندہ گرفتار کر سکتے تھے۔
ماسکو میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی تفتیش کار قتل کی تحقیقات کے مکمل ہونے تک اس پر بات نہیں کریں گے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ روسی سفیر کے قاتل نے یہ اقدام خود سے نہیں کیا۔

ترکی میں قتل ہونے والے روسی سفیر کے لئے سیکورٹی انتظامات نہیں کئے گئے تھے، ابتدائی تفتیش میں انکشاف

ہم آپ کی ان چالوں میں نہیں آنے والے”صدر رجب طیب ایردوان

rajab-tyabانقرا (ڈی این ڈی) پی کے کے کی شامی شاخ کو اسلحے کی امداد فراہم کرنے پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے واشنگٹن انتظامیہ پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔صدر ایردون نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ سب دہشتگرد تنظیموں کو اسلحے کی امداد فراہم کرتے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم اسلحے کی نہیں ایمونیشن کی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ہم ان چالوں میں نہیں آنے والے”۔
ترکی کی سائنس و ٹیکنالوجی تحقیقاتی کونسل کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب میں صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی مغربی دنیا سے ایک طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیموں کے درمیان امتیاز نہ کرنے اور اس معاملے میں اصولی طرزعمل اختیار کرنے کی اپیل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ان اپیلوں کے مقابل امریکہ سمیت بعض ممالک مختلف بہانوں کے ساتھ ہمارے علاقے میں معصوم انسانوں کو قتل کرنے والی تنظیموں کو کھلے عام مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یعنی پہلے تو آپ علاقے میں ان دہشتگرد تنظیموں کو ہر طرح کی اسلحے کی امداد فراہم کرتے ہیں اور پھر اسے ایک غلاف میں لپیٹ کر کہتے ہیں کہ ہم اسلحے کی تو نہیں ایمونیشن کی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ ہم آپ کی ان چالوں میں نہیں آنے والے”۔صدر رجب طیب ایردوان نے فرات ڈھال آپریشن کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے ساتھ نہ تو نیٹو نے تعاون کیا ہے اور نہ ہی کولیشن ممالک نے۔

پیٹرول کی فی بیرل قیمت میں اضافہ

petrolواشنگٹن(ڈی این ڈی) برنٹ پیٹرول کی فی بیرل قیمت مستقل بلندی کی طرف جا رہی ہے۔پیٹرول کی فی بیرل قیمت میں اضافہ 5 ویں روز بھی جاری رہا اور 57 ڈالر فی بیرل کے بعد 56.2 ڈالر پر ٹھہرا ہے۔برنٹ پیٹرول کل 56.53 ڈالر کے ساتھ 2 ہفتوں کی بلند ترین قیمت کے ساتھ فروخت ہوا اور دن کو 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 56.16 ڈالر کے ساتھ بند کیا۔یاد رہے کہ برنٹ پیٹرول کی فی بیرل قیمت ، امریکہ میں پیٹرول کے اسٹاکوں میں اضافہ ہونے کے بعد 50 ڈالر تک گر گئی۔

دمشق میں روس کے سفارت خانے پر مارٹر گولوں کے ساتھ حملہ

roos-picدمشق (ڈی این ڈی) شام کے دارالحکومت دمشق میں روس کے سفارت خانے پر مارٹر گولوں کے ساتھ حملہ کیا گیا۔جبکہ حملے میں میں  کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔روس کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق دمشق میں روس کے سفارت خانے پر مارٹر گولوں کے 2 حملے کئے گئے۔اطلاع کے مطابق ایک مارٹر گولہ سفارت خانے کے باغیچے میں گرا لیکن پھٹا نہیں جبکہ دوسرا گولہ سفارت خانے کی اراضی کے بالکل ساتھ گرا۔
مزید معلومات کے مطابق نہ پھٹنے والے گولے کو ناکارہ بنانے کے لئے بارودی سرنگوں کے ماہرین کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔ روس کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملہ شام میں امن کوششوں کو سبوتاڑ کرنے کے لئے ایک تحریکی حرکت ہے۔