سلمانی ٹوپی پہن کر شیخ رشید غائب

rasheedاسلام آباد (ڈی این ڈی ) شیخ رشید کا جلسہ لال حویلی کی جگہ کمیٹی چوک میں ہو گیا ، للکار کا جواب پہنچ گیا۔شیخ رشید کی آنکھ مچولی ختم ہو گئی۔وہ لوگوں میں موجود تقریر جاری رکھے ہوئے تھے اور حکومت کو سگار پکڑے ہوئے للکار رہے تھےاور کہا کہ میں یہاں پہنچ گیا ہو ں اور دو نومبر تک یہیں ہوں اور اچانک جس طرح وہ اپنے کارکنوں کے درمیان پہنچے ویسے ہی وہاں سے غائب بھی ہو گے۔ پولیس ہاتھ ملتی رہ گئی،کئی کارکنوں کی پولیس کی طرف سے کئی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں ہیں۔

شیخ رشید کی ٹویٹ, میں لال حویلی آ رہا ہوں

sheikh-rasheedاسلام آباد (ڈی این ڈی ) شیخ رشید کی ٹویٹ کے جواب میں جس میں اُنھوں نے کہا ھے کہ میں لال حویلی آ رہا ہوں کوئی روک سکے تو روک لے مسلم لیگ نون کے رہنما زعیم قادری نے اُن کو للکارا ھے کہ وہ چوہے کی طرح بل میں نہ چھپے ہمت ھے تو سامنے آئیں اور بات کریں۔اسلام آباد میں سیاسی محاز گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا ھے ،اور یہ بھی کہا جا رہا ھے کہ لا ل حویلی جلسہ کرنے کی جگہ نہیں ھے بلکہ یہاں پر اسلام آبا د کو بند کرنے کی پلاننگ اور سازش ہو گی۔شیخ رشید نے یہ بھی کہا ھے کہ وہ ہر حال میں وقت پر لا ل حویلی پہنچے گے

ترکی اور قطر کی مشترکہ دفاعی تنصیبات میں پاکستا ن کا بھی اشتراک

pakistan-terqi-pic-n-sاسلام آباد ( ڈی این ڈی) پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ترکی اور قطر کی مشترکہ دفاعی تنصیبات میں پاکستا ن بھی اشتراک کرسکتا ہے۔وزیراعظم نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں قطرکے وزیر دفاع ڈاکٹر خالد بن محمد العطیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قطر اور ترکی دفاع سے متعلقہ فوجی آلات کی تیاری کے لئے مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود مضبوط بردرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ڈاکٹر خالد بن محمد العطیہ نے کہا کہ قطر پاکستان کو سٹرٹیجک شراکت دار تصور کرتا ہے اور ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قطر انسداد دہشت گردی کیلئے تربیتی اکیڈمی قائم کرے گا اور وہاں تربیتی کورسز کیلئے پاکستانی تربیت کاروں کی خدمات اور مہارت سے استفادہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے گزشتہ دورہ قطر کے دوران ایل این جی منصوبہ طے ہونے کے بعد دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کہیں زیادہ مضبوط اقتصادی تعاون میں ڈھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاونت اور تعاون سے ہم خطے میں موجود دہشت گردی کے غیر یقینی خطرے کی تیاری کے لئے اپنے ملٹری ہارڈ ویئر کو بہتر بنانا چاہتے ہیں وزیر دفاع نے کہا کہ قطر پاکستان سے سپر مشاق اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے کا خواہشمند ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، قطر اور ترکی دفاع سے متعلق عسکری سازوسامان کی تیاری کے لئے مشترکہ منصوبے قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قطر کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور وہ قریبی اتحادی اور برادر ریاست کی حیثیت سے پاکستان پر انحصار کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد بن محمد العطیہ نے کہا کہ قطر پاکستان کو اپنا سٹریٹجک پارٹنر تصور کرتا ہے اور ان تعلقات کو اولین حیثیت دیتے ہوئے اس ضمن میں ہر کاوش بروئے کار لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے گزشتہ دورہ قطر کے دوران ایل این جی منصوبہ طے ہونے کے بعد دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کہیں زیادہ مضبوط اقتصادی تعاون میں ڈھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاونت اور تعاون سے ہم خطے میں موجود دہشت گردی کے غیر یقینی خطرے کی تیاری کے لئے اپنے ملٹری ہارڈ ویئر کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر دہشت گردی کے غیر روائتی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تربیتی اکیڈمی قائم کرے گا اور وہاں تربیتی کورسز کے لئے پاکستانی انسٹرکٹرز کی خدمات اور مہارت سے استفادہ کا خواہاں ہوگا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی تعاون آنے والے وقتوں میں نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے سپر مشاق اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کے خواہاں ہیں اور پاکستان اور ترکی کی معاونت سے قطر میں سازوسامان کی تیاری اور فوجی تعاون قائم کرنا چاہتا ہے

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کوچیلنجز کا سامنا ہے

nawaz-shareef-picاسلام آباد ( ڈی این ڈی ) پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کوچیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کی بھر پور اور موثر صلاحیت رکھتے ہیں ، حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام حا صل کر لیا اور غربت میں کمی لانے کے لئے علاقائی اتحاد کے ذریعے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے میں پرعزم ہیں’علاقائی اتحاد ’امن ’استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے ‘‘کاریک ’’ کا فورم امید افزا ہے وزیراعظم محمد نوازشریف نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان غربت میں کمی لانے کے لئے علاقائی اتحاد کے ذریعے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی اتحاد ‘ امن ‘ استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے “کاریک” کا فورم امید افزاء4 ہے۔
وہ بدھ کو وسط ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون (کاریک)کے 15 ویں وزارتی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کاریک ایک اہم پروگرام ہے جو فزیکل نیٹ ورک ‘ بنیادی ڈھانچے‘ امن ‘ استحکام اور اقتصادی ترقی جیسے بڑے شعبوں میں علاقائی ممالک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاریک رکن ممالک کے مابین تجارت کی سہولت پر ممبنی پالیسیوں کے ذریعے غربت میں کمی لانے کا اہم فورم ہے۔انہوں نے کاریک اجلاس میں شرکت کرنے والے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس سے علاقائی ترقی و خوشحالی کے خواب کو حقیقی شکل دینے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ پاکستان 2010ء4 میں کاریک کا ممبر بنا اور پائیدار ترقی کے لئے ضروری منصوبوں کی سہولت میں فعال کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے کاریک کے ویڑن کو فروغ دینے کے لئے اہم اقدامات تجویز کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کے شعبہ میں علم پر کام کرنے کے لئے کاریک ممالک کے ماہرین کا ایک پول تشکیل دیا جانا چاہئے‘فنانس ‘ بینک ‘ مارکیٹنگ ‘ توانائی اور انفرسٹرکچر کے شعبوں میں ان کی مہارت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، اس کے نتیجے میں خطے میں علوم کی منتقلی ممکن ہوسکے گی۔

,مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جارحیت کے خلاف ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں یومِ سیا ہ, ایک رپورٹ

black-day-1 ڈی این ڈی) رپورٹ )
مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جارحیت کے خلاف ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں یومِ سیا ہ کشمیر منایا گیا۔
یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب میں بڑی تعداد میں انقرہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی اور ترک باشندوں نے شرکت کیتقریب کا آغاز شہداء کشمیر، کوئٹہ کے شہدا اور 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے شہداء4 کے احترام میں ایک منٹ ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے سے ہوا۔ایک منٹ کی خاموشی کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔تلاوتِ کلام کے بعد سفیر ِ پاکستان جناب سہیل محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے شانہ بشانہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے حالیہ بھارتی فوج کی جارحیت کی مذمت کی۔انہوں نے کشمیری عوام پر بھارتی افواج کی تفصیلات پر بتاتے ہوئے حالیہ عرصے میں برہان وانی اور ایک سو سے زائدکشمیریوں کی شہادت کے بعد زور پکڑنے والی تحریک آزادی کشمیر کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے اس موقع پر ترکی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستانی موقف کی مکمل حمایت کرنے پر حکومت ترکی اور ترک عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ ترکی مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد پر امن طریقے سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ ترکی نے ہمیشہ ہی مسئلہ کشمیر کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ ترکی تنظیم اسلامی کانفرنس میں ” کشمیر رابطہ گروپ ” کا رکن ہے اور اس کے اجلاسوں میں بڑی باقاعدگی سے شرکت کرتے چلا آیا ہے۔ ترک عوام اور ترکی کی انسانی حقوق ست متعلق تنظیموں نے ہمیشہ ہی کشمیری عوام کے حق میں اور ان کے حقوق کے لیے آوازیں بلند کی ہیں۔ترکی اور پاکستان ایک دوسرے سے قریبی تعاون تعاون کرنے والے دو ممالک ہیں۔ black-dayعالمی پلیٹ فارم میں ترکی اور پاکستان کے تعللقات منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔
بعد میں پاکستان ترکی کلچرل ایسوسی ایشن کے صدر بران قایا ترک نے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر دنیا کے بڑے ترین مسائل میں سے ایک ہے، اس مسئلے کوکشمیری عوام کی خواہشات اور ضروریات کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر، کشمیریوں کے لیے کسی جیل کی شکل میں بدل چکی ہے۔ اس سر زمین پر ہندوستانی مسلح افواج حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کرتی چلی آرہی ہے۔
برہان قایا ترک کے خطاب کے بعد کشمیری عوام پر کیے جانے والے ظلم و ستم پر مبنی ایک دستاویزی فلم پیش کی گئی جس کی کرب تمام شرکا ء نے اپنے دل میں محسوس کی۔اس کے بعد پاکستانی اسکول کے طلبا اور طالبات نے “آنسو کی زبان کوئی سنتا نہیں” پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر پاکستانی اسکول کے ڈرایکٹر غالب گیلانی نے کشمیری عوام کے حق میں دعا کروائی اور بعد میں اس تقریب میں شریک تمام افراد نے شہدا کی یاد میں موم بتیوں کو روشن کیا۔ یہ تقریب تمام شرکاء4 کو گرام گرم چائے پیش کرتے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچی

بھنڈی کیوں کھانی چاہیے

بھنڈی کیوں کھانی چاہیے

lady-fingerبھنڈی ایک ایسی سبزی ہے جسے اکثر لوگ لیس دار ہونے کی وجہ سے کھانا پسند نہیں کرتے ہیں، لیکن یہ ہماری صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ طبی محققین کے مطابق اس سبزی میں وٹامنز، معدنیات اور دیگر غذائی اجزاء4 موجود ہوتے ہیں جس کے استعمال سے کئی بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ذیابیطس کے علاج اور گردے کے مرض میں بھی فائدہ مند ہے۔ اس میں کیلوریز، فائبر، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چربی، وٹامن سی اور میگنیشیم جیسے اہم قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں جو ہمارے جسم کے لیے فائدہ مند ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق بھنڈی کولیسٹرول کو کم کرنے، دمہ سے بچاو? کے علاوہ شوگر کے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ ابتدائی عمر میں دمہ کی علامات مثلاً خرخراہٹ کے خلاف اثر دکھاتی ہے۔بھنڈی نہ صرف نظام انہضام کے لیے بہتر ہے بلکہ فائبر کے ساتھ صحت مند کولیسڑول کا ذریعہ بنتی ہے۔
بھنڈی میں موجود فائبر حل پذیر ہوتا ہے اور پانی میں تحلیل کیا جاسکتا ہے، جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ فائبر غذا کی نالی میں گویا پھیل جاتا ہے اور کھانے کی دوسری چیزوں میں کولیسڑول کے ساتھ چپک کر جسم سے فضلے کے ساتھ خارج ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے مجموعی طور پرکولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے۔ اگر ذیابیطس جیسے خطرناک مرض کی بات کی جائے تو بھنڈی اس کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
سائنسی ریسرچز کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ حل پذیر ریشے کی وجہ سے بھنڈی شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے اور یہ ایسی سبزی ہے جس میں گلوکوز کی سطح جسم میں برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔ دوسری طرف بھنڈی وٹامن سی اور اینٹی ا?کسیڈنٹ اجزا سے بھرپور سبزی ہے جس سے مدافعتی نظام کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی مدافعتی نظام کو خون کے سفید خلیات پیدا کرنے کے لیے متحرک کرتا ہے اور یہ جراثیم اور بیماریوں کے حملے کے خلاف لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھنڈی (okra) کھانے سے ڈپریشن (depression) اور جسمانی کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے۔ بھنڈی (okra) کھانے سے السر (alsar) اور جوڑوں کے درد (arthritis pain) میں آرام آتا ہے۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں (lung) میں انفیکشن (infection) اور گلے کی خرابی بھی بھنڈی کھانے سے دور ہوجاتی ہے۔ بھنڈی وہ واحد سبزی ہے جو اپنے اندر وٹامن سی (vitamin C) کی بڑی مقدار رکھتی ہے اور بھنڈی کا زیادہ استعمال کرنے سے کولیسٹرول (cholesterol) بھی کنٹرول (control) کیا جاسکتا ہے۔

یورپ جانے کے خواہشمند مزید چودہ مہاجرین ہلاک ہو گئے ہیں

amsal-picاٹلی(ڈی این ڈی) یورپ جانے کے خواہشمند مزید چودہ مہاجرین ہلاک ہو گئے ہیں۔اٹلی کے کھلے سمندر میں گشت کرنے والی کوسٹ گارڈ نے کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے والے 2400 مہاجرین کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے۔ ان مہاجرین میں نومود بچے بھی شامل ہیں۔ حالیہ چار دنوں میں بحیرہ روم سے بچائے جانے والے مہاجرین کی تعداد 5700 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس سال کے آغاز سے لیکر ابتک اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ چھیالیس ہزار ہے۔ بہتر زندگی گزارنے کی امید کیساتھ امسال یورپ جانے کے خواہشمند 3200 مہاجرین سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ سمندر کے راستے یورپ سفر کے دوران ہلاک ہونے والے مہاجرین کی تعداد 2016 میں ریکارڈ رہی ہے

عوام منفی سیاست کرنے والوں کو قبول نہیں کریں گے

shbaz-srefاسلام آباد (ڈی این ڈی) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا کہ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کرنے والے پاکستان کی تباہی کا ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں۔ایوان وزیر اعلٰی لاہور سے جاری بیان میں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر فیصلے کرنے والوں کو مایوسی اور ناکامی ہو گی۔ پاکستان کے باشعور عوام منفی سیاست کرنے والوں کو ہر سطح پر مسترد کر چکے ہیں۔ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کرنے والے شکست خوردہ عناصر عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے بعد اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کا کوئی سیاسی ، جمہوری، آئینی اور اخلاقی جواز باقی نہیں۔اس سے پہلے ایوان وزیر اعلیٰ لاہور سے جاری پولیو کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس دن کو منانے کا مقصد پولیو سے بچاؤ کیلئیعوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لئے پنجاب کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ پولیو کے تدارک کیلئے دن رات کام کر رہی ہے اس سال پنجاب میں پولیو کا کوئی ایک کیس بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان مرتب کیا گیا ہے ، بر وقت ویکسی نیشن کے ذریعے بچوں کو پولیو سے بچایا جا سکتا ہے پولیو کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کا تسلسل معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔