بھار ت کا کنٹرول لائن پر جارحیت کا مقصد مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے، شرکاءکا نیشنل پریس کلب میں سیمینار سے خطاب

بھار ت کا کنٹرول لائن پر جارحیت کا مقصد مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے، شرکاءکا نیشنل پریس کلب میں سیمینار سے خطاب

بھار ت کا کنٹرول لائن پر جارحیت کا مقصد مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے، شرکاءکا نیشنل پریس کلب میں سیمینار سے خطاب
اسلام آباد (ڈی این ڈی):پاکستان و آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی سے پریشان ہو کر کنٹرول لائن پر جارحیت کر رہا ہے، جس کا مقصد کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے، کیل سیکٹر میں سرجیکل سٹرائیک نہیں بلکہ پاکستانی پوسٹ پر گولہ باری کی گئی جس کا پاکستانی فوج نے داندان شکن جواب دیا، وزیر اعظم نوازشریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اٹھا کر حق ادا کر دیا۔
ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان ”مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور مودی کا جنگی جنون“ میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم متحد ہے کسی بھی بھارتی جارحیت کا نہ صرف دفاع کیا جائے گا بلکہ بھرپور جواب بھی دیا جائے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے مسئلہ کشمیر بڑے جاندار انداز میں جنرل اسمبلی میں پیش کر دیا اور واضح کر دیا کہ ہم کسی بھی موقع پر کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی سیاسی، اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنے خون سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر دیا ہے اور اب بھارت کو اس مسئلہ کا حل نکالنا ہی پڑے گا۔ سابق چیئرمین سینٹ اور پیپلزپارٹی کے رہنما سید نئیر حسین بخاری نے کہا کہ بھارت ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کر کے کشمیریوں سے کئے گئے وعدے پورے کرے، مودی کی انتہا پسندانہ سوچ نے خطے میں کشیدگی کی فضا پیدا کر دی ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم چھپانے کیلئے سیز فائر پر گولہ باری کر رہا ہے اور وہ اپنے عوام اور میڈیا کو مطمئن کرنے کیلئے اس گولہ باری کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بطور قوم پوری طرح متحد ہیں اور بھارتی اوچھے ہتھکنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہمیں عوامی سطح پر بھی بھارتی جارحیت کے خلاف تیاری کرنی ہوگی اور فنڈز اکٹھے کرنے ہوں گے کیونکہ جنگیں پیسے اور اسلحہ سے لڑی جاتی ہیں۔ سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف نے ہمارا موقف بڑے جاندار انداز میں پیش کر کے مسئلہ کشمیر اجاگر کر دیا جس پر کشمیری قوم ان کی شکرگزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کشمیر سے آنے والے دریاﺅں میں کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے جس سے پاکستان کی زمینیں سیراب ہوتی ہیں، برہان وانی کی شہادت نے کشمیر میں نئی تحریک برپا کر دی ہے ہمیں اپنے اتحاد سے کشمیریوں کو حق آزادی دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرجیکل سٹرائیک کے حوالے سے جھوٹ بول رہا ہے، کنٹرول لائن پر گولہ باری میرے حلقے میں کیل سیکٹر میں کی گئی، یہ گولہ باری پاک فوج کی پوسٹ پر کی گئی جس کا داندان شکن جواب دیا گیا۔

جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم نے کہا کہ کشمیر پر بنائی جانے والی کشمیر کمیٹی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، چیئرمین کمیٹی مولانا فضل الرحمن کا قومی اسمبلی میں خطاب بھی بہت متنازعہ ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو انہوں نے فاٹا کی صورت حال سے ملا دیا اور کنٹرول لائن اور ڈیورنڈ لائن سے تشبیہہ دے کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کی۔

%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1-%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%86%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af

حریت رہنما غلام محمد صفی نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کا جنرل اسمبلی میں خطاب کشمیریوں کی امنگوں کا ترجمان ہے اب حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہوں گے، بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن کا محاذ گرم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو حقائق تسلیم کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے حل کی طرف آنا ہوگا، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، میں ایک اور بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بھارت اب زیادہ دیر تک کشمیر پر قابض نہیں رہ سکتا اسے بہت جلد مقبوضہ کشمیر چھوڑنا ہوگا۔ انصار الامہ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ مودی کا یہ جنگی جنون نہیں بلکہ میں کہوں گا کہ مودی مجنون ہو چکا ہے اور وہ اپنے پاگل پن کا اظہار مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے، کشمیریوں کی تحریک آزادی سے پریشان ہو کر بھارت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے تاہم اب بھارت پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاگل مودی اب کشمیریوں کی تحریک کو زیادہ دیر نہیں دبا سکتا، پوری پاکستانی قوم بھی متحد ہے اور مودی کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے، قوم جنرل راحیل شریف کی بھی شکر گزار ہے جن کی قیادت میں پاک فوج ہر محاذ پر دشمن سے نبردآزما ہونے کیلئے تیار کھڑی ہے۔ سیمینار میں حریت رہنما میر طاہر مسعود اور سردار صغیر چغتائی، سابق سینٹر سردار سلیم، رفیق ڈار، صاحبزادہ ذوالفقار، آغا اقرار ہارون نے بھی اظہار خیال کیا۔ قائم مقام صدر نوید اکبر اور سیکرٹری نیشنل پریس کلب عمران یعقوب ڈھلوں نے سیمینار میں شرکت پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ ممبر گورننگ باڈی بشیر عثمانی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ثقافتی تعاون پروٹوکول پر دستخط ہو گئے ہیں

terqi-and-sudiانقرا(ڈی این ڈی) وزیر ثقافت و سیاحت نبی آوجی اور انقرہ کے سرکاری دورے پر موجود سعود ی وزیر ثقافت و انفارمیشن عادل زید الا ترافی نے اس پروٹوکول پر دستخط کیے۔ جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی تعارف اور میلوں، موسیقی اور اسٹیج فنون، ادب ، کتب ، ثقافتی ورثوں کا تحفظ، بچوں کی ثقافت، پلاسٹک فنون اور فنونی نمائشوں کا تبادلہ ہو گا۔ سن 2017 اور 2018 میں باہمی ثقافتی روابط کو مزید تقویت دینے کے لیے مل جل کر کام کیا جائیگا۔کتابوں کی نمائش اور دیگر سرگرمیوں پر توجہ دی جائیگی۔ترکی۔ سعودی عرب میں ثقافتی ایام کا اہتمام کرے گا تو سعودی عرب بھی اسی طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد کرے گا۔مہمان وزیر نے دستخط کی تقریب کے بعد کہا کہ سعودی شاہ اور عوام ترکی کو بے حد پسند کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں

فوجی کو واپس لانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں: راج ناتھ

rajnath-singh-afp
نئی دہلی، 30 ستمبر ( ( ڈی این ڈی)) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ حکومت جموں کشمیر میں غلطی سے سرحد پار جانے کے بعد پاکستانی فوجیوں کے ہاتھ لگے ہندوستانی فوجی کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
فوج نے کہا کہ 37 آسام رائفلس کا جوان چندو بابو لال چوہان کل غلطی سے میدھر سیکٹر میں کنٹرول لائن پار کر گیا تھا جہاں پاکستانی فوجیوں نے اسے پکڑ لیا تھا۔
مسٹر سنگھ نے سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بلائی گئی اعلی سطحی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ اس جوان کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی

پاکستانی سنیما گھروں نے ہندوستانی فلمیں دکھانا بند کیا

indian-moviکراچی، 30 ستمبر (ڈی این ڈی) پاکستانی سنیما گھروں نے ملک کی مسلح فوج کے تئیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لئے ہندوستانی فلموں کو آج سے دکھانا بند کر دیا۔پاکستانی تھیٹر مالکان نے ہندوستانی فلموں کو دکھانا بند کرنے کا فیصلہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے پھیلاؤ اور ہند،پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر کیا ہے۔پاکستانی عوام سے لے کر ہر شعبہ بھارت کی اس جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہا ھے۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے وفاقی کابینہ کو کنٹرول لائن کی تازہ ترین صورت حال سے باخبر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنڑول لائن کی خلاف ورزی یا کسی جارحیت کی صورت میں پاکستان اپنی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
کشمیر کو تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے انہوں نے ہندستان پر کشمیریوں کے حریت کے جذبے کو کچلنے کا الزام لگا یا اور کہا کہ ’’کشمیر میں جاری اندھا دھند بربریت اور جارحیت ناقابل قبول ہے‘

لائن آف کنٹرول پر چین تشویش اورکیا بھارت کا یہ حملہ دشتگردی میں اضافہ کرئے گا۔

john-kirbychians-spokes-person-for-ministry-of-foreign-affairs

بیجنگ(ڈی این ڈی) لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت، کی وجہ سے چین نے اظہار تشویش کیا ھے، ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام تر تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں ، چین کشیدگی کم کرانے کیلئے دونوں ملکوں سے رابطے میں ہیں۔دارالحکومت بیجنگ میں بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوئانگ کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کا دوست ہے اور بھارت سے بھی تعلقات بہترہیں۔ انکا کہنا ہے کہ امید ہے دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات حل کریں گے اور آپس میں تعان، خطے میں امن و استحکام پیدا کریں گے۔سارک کے متعلق سوال پر گینگ شوئانگ کا کہنا تھا کہ سارک جنوبی ایشیا میں تعاون اور استحکام کا بہترین فورم ہے، یقین ہے کہ ملتوی ہونے کے باوجود سارک کا اجلاس جلد ہوگا۔ دوسری طرف
ترجمان امریکی محکمہ جان کربی کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کیلئے پاک بھارت رابطے انتہائی ضروری ہیں۔بھارت کا کوئی بھی حملہ کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔جان کیری نے بھارت کو2 روز پہلے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔جان کربی نے کہا کہ پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر گہری نظر ہے۔کشیدگی کو کم کرنے کیلئے دونوں ممالک کو اقدامات کرنے ہوں گے، اس کے کیلئے دونوں ممالک کے پاک بھارت رابطے بہت ضروری ہیں۔دہشت گردی خطے کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔جان کربی نے کہا کہ جان کیری نے بھارت کو2 روز پہلے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا،دہشت گردی خطے کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے ، بھارت کا کوئی بھی حملہ کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا،آنہوں نے یہ بھی کہا ھے کہ د شت گردوں کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتی آپس کے تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے ضلد حل کریں تا کہ کوئی دشت گرد اس موقع سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔

حلب کے شمال میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان گھمسان ​​جنگ

halub
بیروت، 30 ستمبر (رائٹر) شام میں حلب شہر کے شمال میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان آج بھی گھمسان جنگ جاری ہے۔
شامی فوج نے روسی فضائیہ کی مدد سے پورے حلب شہر پر قبضہ کرنے کے لئے ایک ہفتے پہلے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔
لیکن اب بھی حلب کے نصف حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے

سپہ سالار جنرل راحیل شریف لاہور پہنچ گئے

raheel-shreefلاہور ( ڈی این ڈی ) ایک اطلاع کے مطابق سپہ سالار جنرل راحیل شریف لاہور پہنچ گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف مختصر دورے پرآج لاہور پہنچے ہیں جہاں وہ مختصر قیام کریں گے تاہم آرمی چیف کے اس دورے کی نوعیت کے بارے میں تا حال کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

بھارت کا لائن آف کنٹرول پر حملہ تھا یا ، سرجیکل سٹرائیکس‘ کا جھوٹا کھیل۔ حقیقت کیا ھے؟

control-line
اسلام آباد (ڈی این ڈی) انڈیا نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس کا رنگ دینا حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہے۔ انڈین وزارت دفاع نے کہا ہے کہ بدھ کی شب کی جانے والی اس کارروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔انڈین برّی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہا کہ کنٹرول لائن کے اْس جانب ’دہشت گرد جموں و کشمیر اور ملک کے دوسرے شہروں میں تخریب کاری کی غرض سے دراندازی کے لیے جمع ہوئے تھے جنھیں ختم کر دیا گیا ہے۔‘ لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے کہا کہ اس کارروائی میں ’متعدد دہشت گرد اور ان کے سہولت کار مارے گئے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کن علاقوں میں کی گئیں۔ اس نیوز کانفرنس سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سلامتی سے متعلق کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت بھی کی۔انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد جمعرات کو پاکستانی فوج کے شعب? تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا ہے تاہم انڈین فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ ضرور کی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف واضح کرچکے ہیں کہ اگر بھارت نے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت اور شدید جواب دیا جائے گا۔ آج اس قسم کا حملہ کرنے کے دعوے کے بعد آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے بھی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا ہے۔ اور اس بات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے کہ بھارت جھوٹ کا سہارا لے کر لائن آف کنٹرول پر کی جانے والی بلا اشتعال فائرننگ کو ’سرجیکل آپریشن‘ کا نام دے رہا ہے۔نئی دہلی کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے قابل نہیں ہے۔ یہ جنگ شروع ہو گئی تو اس کے حجم اور شدت و تباہ کاری کے بارے میں کوئی اندازہ قائم کرنا مشکل ہو گا۔ امریکہ بھی بھارت کو تحمل سے کام لینے اور پاکستان کے خلاف جوش و خروش پر ہوش کو حاوی رکھنے کا مشورہ دے چکا ہے۔ تاہم بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف اپنے لوگوں کو اس قدر مشتعل کردیا ہے کہ توازن اور مصالحت کی بات کرنا یا سننا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ ان حالات میں بھارت کی حکومت یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح اپنے عوام پر یہ ثابت کرسکے کہ اسے پاکستان پر برتری حاصل ہے اور وہ اوڑی حملہ کے بعد پاکستان سے فوجی اور سفارتی انتقام لے رہی ہے۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ نریندر مودی کی حکومت نے بلند بانگ دعوے کرنے کے بعد کوئی اقدام نہیں کیا۔ نئی دہلی کی پریس کانفرنس جس میں ایک فوجی جنرل کو سچائی کا گواہ بنا کر پیش کیا گیا تھا، اسی سیاسی مجبوری کی وجہ سے منعقد کی گئی ہے۔ لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ جلد یا بدیر اس کا بھانڈا پھوٹ ہی جاتا ہے۔ بھارت نے خود اپنے لئے ایک ایسی مشکل صورت حال پیدا کرلی ہے ، جس سے نکالنا خود مودی حکومت کے لئے ناممکن ہو چکا ہے۔ اس لئے کبھی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی بات ہوتی ہے، کبھی سارک کو ناکام بنانے کا اقدام سامنے آتا ہے اور کبھی پاکستان کے علاقے میں بھارتی فوج کی کارروائی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ نئی دہلی کو چاہئے کی وہ اب ان ’اقدامات ‘ کو کافی سمجھے کیوں کہ جس قدر اشتعال پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا، دونوں ملکوں میں جنگ کے دعویداروں کی قوت اور توقع میں اضافہ ہو گا۔ ایسی صورت میں یہ جنگی ہوس ہزاروں انسانوں کا خون پئے بغیر کم نہیں ہو گی۔