افغان مہاجرین کی واپسی: جنرل صاحب ماجرہ کیا ہے؟

roznama-taqatarticle July 3
افغان مہاجرین کی واپسی: جنرل صاحب ماجرہ کیا ہے؟
مورخہ 29جون کی صبح تقریباََ11بجے ٹیلی فون پر میری بات وفاقی وزیر ریاستی و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ صاحب سے ہوئی۔میرا ایک ہی سوال تھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ حکومت افغان مہاجرین کی پاکستا ن میں رہنے کی مدت میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے ۔جنرل صاحب نے بڑے پر اعتماد لہجے میں کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور مدت میں توسیع کی باتوں کو محض افواہیں قرار دیا۔
مجھے اطمینان ہو گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کیوں کہ جنرل صاحب ہی وہ شخص ہیں جن کی وزار ت افغان مہاجرین کے پاکستان میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔
اس سے پہلے مورخہ 27جون کو صوبہ خیبر پختونخواہ جو کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے نے ایک خط وفاقی حکومت کو لکھا کہ وہ اب افغان مہاجرین کو مزید مہمان رکھنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اگر وفاقی حکومت کو مہمان داری کا بہت ہی شوق ہے تو مہاجرین کو پنجاب لے جائے۔
ویسے مجھے یقین تھا کہ افغان مہاجرین کو مزید رہنے کی مہلت مل جائے گی مگر پھر بھی جنرل صاحب کی بات پر یقین کرنے کو دل چاہا ۔مجھے یقین اس لئے تھاکہ مہاجرین سے منسلک بہت سارے ادارے اپنی روٹی روزی پر لات نہیں مارنا چاہتے ۔جن میں سب سے اہم محکمہ افغان مہاجرین کمشنریٹ ہے یہاں سالانہ کروڑں کا نہیں بلکہ اربوں کا لین دین ہوتا ہے تو پھر یہ ادارہ افغان مہاجرین کو واپس کیوں بھیجے؟ مفت کی روٹی تو سب کو قبول ہوتی ہے اور حرام کی روٹی میں تو کچھ لوگ بہت ہی مزہ کرتے ہیں۔ 80کی دہائی میں میرے ایک کلاس فیلو کے والد پنجاب میں کمشنر افغان مہاجرین تعینات ہوئے، اس وقت انہیں شاید گریڈ 19میں نئی نئی ترقی دی گئی تھی۔مگر صرف سات سالوں میں ان کے تمام بچے امریکہ پڑھنے چلے گئے اور کراچی سے لیکر خیبر تک وہ سینکڑوں مکانات اور کمرشل پلازوں کے مالک بن گئے۔
مورخہ 28جون کی شام افغان سفیر حضرت عمرذخیل وال کی ملاقات وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز صاحب سے ہوئی اور پھر ہمیں پتہ چلا کہ وزیر اعظم نوازشریف صاحب کی ذاتی مداخلت پر افغان مہاجرین کو پاکستان میں مزید رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔یہ ایک بڑی خبر تھی کیونکہ سمری کے بغیر زبانی اجازت دینا اور پھر اس پر عملدر آمدہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت افغان مہاجرین کے لئے ڈھیروں پیار رکھتی ہے اور افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں۔ہماری محبت 1979سے لیکر آج تک صبح کھلے پھول کی مانند تروتازہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور خوبصورت ہوتی جا رہی ہے ۔اللہ کرے کہ حکمرانوں کی محبت ہمیشہ قائم و دائم رہے۔
یکم جولائی کو اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے مطابق وفاقی وزیر برائے داخلہ چوہدری نثار علی خان صاحب کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف صاحب اپنی وطن واپسی پر کریں گے۔یہ خبر تو اتنا ہی بتاتی ہے کہ جو چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کو شاید دو سال میں تبدیل کر دیا جائے کیونکہ چھ ماہ کا فیصلہ تو بہرحال ہو چکا ہے اور ہم نے اقوام متحد ہ کے اداروں کو بتا بھی دیا ہے تو اب وزیراعظم صاحب مزید کیا فیصلہ کریں گے؟
ایک طرف تو حکومتی ادارے کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے دہشت گردی کی جنگ میں نقصان ہو رہا ہے اور مہاجرین کے بھیس میں افغان خفیہ ایجنسی کے دہشت گرد پورے ملک میں پھیل چکے ہیں اور دوسری طرف ان مہاجرین کو واپس وطن بھیجنے کی بات پر ہمارے دل میں اداسی چھا جاتی ہے۔
یہ حالات اور معاملات کچھ ہضم نہیں ہوتے۔
افغانستان کی جنگ نے پہلے ہی ہمار ا ملک تقریباََتباہ کر دیا ہے اور افغان مہاجرین نے افغان معاشرے کو خیبر سے کراچی تک مسلط کر دیا ہے اور اگر ضرب عضب شروع نہ ہوتی تو شاید یہ تباہی کبھی بھی نہ رکتی۔حیرت ہے کہ ہم ابھی بھی انثار ہوتے ہوئے مہاجرین کو دو سال تو کیا 10سال بھی رکھنے کو تیار ہیں۔
آخر ماجرہ کیا ہے؟
افغان حکومت جو بھارت کی محبت میں سر شار ہے اور ہماری سرحدوں پر ہمارے بیٹے شہید کر رہی ہے مگر اب بھی ہم ان سے اس قدر پیار کرتے ہیں کہ سفیر کی ایک ہی ملاقات کافی ہوتی ہے اور ہم اس کی ہر بات ایک اچھے بچے کی طرح مان لیتے ہیں۔
آخر ماجرہ کیاہے؟
افغان مہاجرین  2017 تک رہیں گے یا 2027 تک، اس کا جواب ابھی حکومت کی طرف سے آنا باقی ہے۔
لگتا تو ایسے ہے کہ پاکستان جو پچھلے 35سال سے خون ، گندم ، گوشت، اناج، پھل اور اپنے بچوں کے چہروں کی مسکراہٹ افغانستان کو بیچ رہا ہے، مستقبل میں بھی یہ کاروبار جاری رکھے گا۔
لگتا تو ایسے ہے کہ پاکستان کی حکومت پر کہیں سے بہت سخت دباؤ آیا ہے مگر حکومت اس دباؤ کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتی اور ہمیں بتانا بھی نہیں چاہتی کہ آیا یہ دباؤ بھار ت سے آیا ہے ؟
مشرق وسطی سے آیا ہے ؟
امریکہ سے آیا ہے یا افغانستان سے ؟
سوال ہزار اور جواب صرف یہ ہے کہ
ہم بتلائیں تو بتالائیں کیا۔۔۔
آغا اقرار ہارون گزشہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

 

پشاور سے استنبول : دہشت گردی کا سفر

roznama-taqatپشاور سے استنبول : دہشت گردی کا سفر

اقرار نامہ
پشاور سے استنبول : دہشت گردی کا سفر
ترکی میں دہشت گردی اب کوئی نئی بات نہیں اور شاید دہشت گردی ترکی کی معیشت کو اگلے ایک دہائی میں کھا جائے گی۔استنبو ل ائیر پورٹ پر مورخہ 29جون کو ہونے والے تین بم دھماکے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ترکی اب ایک ایسی ڈگر پر گامزن ہے جہاں خون کی لیکر یں سڑکوں پر نظر آتی ہیں۔ترکی میں پھیلنے والی دہشت گردی ایک دم یا اچانک پید ا نہیں ہوئی بلکہ سن 2013سے یہ نظر آنا شروع ہو گیا تھا کہ آج کا ترکی گزرے کل کے پاکستان کی ڈگر پر تیز رفتاری سے گامزن ہے۔دنیا بھر سے جہادی ترکی کے ہاتے ایئرپورٹ میں پہنچتے اور پھر سرحد پار کرکے شام میں جہاد کے لئے جاتے تھے جیسے کہ 80کی دہائی میں افغانستان میں جہاد کرنے کے غرض سے جنگجو اسلام آباد اور پشاور ایئر پورٹ پر پہنچتے تھے ۔دسمبر 1983میں پشاور ایئر پورٹ دنیا بھر سے آنے والے جہادیوں کے لئے کھول دیا گیا تھا اور پھر تین دہائیوں بعد یعنی 2013میں ترکی نے بھی مبینہ طور پراسی مقصد کے تحت استنبول اور ہاتے کو کھول دیا ۔
پوری دنیاشور مچاتی رہی کہ جہادی ترکی کے راستے شام اور عراق میں جارہے ہیں مگر ترکی کی حکومت نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ترکی میں جہادی مراکز موجود ہیں جیسے کہ80کی دہائی میں پاکستان میں قائم تھے مگر لکھنے والے کمزور اور حکومت طاقت و ر۔میڈیا پر سختی اس قدر کہ اہم ترین اخبارات اور نیو زایجنسیاں جو الزام لگاتی تھیں کہ ترکی کی حکومت ملک کو جہادی جنگ میں جھونک رہی ہے بند کر دیئے گئے اور مغرب جو ویسے تو آزادی صحافت کا علمبردار ہے چپ رہا ،کیونکہ ترکی اور مغرب کا مبینہ طور پر مشترکہ مقصد تھا اور وہ تھا جہادی جونز کو شام تک پہنچانا۔ترکی کی حکومت پر الزام لگایاگیا کہ اس کا اور دہشت گردتنظیم داعش کا آپس میں ایک خاموش معاہدہ ہے جیسے کہ پاکستان اور افغان مجاہدین کے درمیان طے ہوا تھا مگر فرق صرف اتنا تھا کہ پاکستان کا معاہدہ خامو ش معاہدہ نہیں تھا۔
جب ترکی میں دہشت گردی کا آغاز ہوا تو حکومت نے کردوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔یہ سلسلہ شاید جاری رہے اور ترکی کی حکومت مزید سختی سے کردوں کو کچلنے کی کوشش کرے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے انتہاپسندی کو مہمان ٹھہرایا یا انتہاپسندی پر عمل کیا اس کا نتیجہ صرف تباہی کی شکل میں نکلاچاہے وہ ہٹلر کا جرمنی ہو یا پاکستان یا ترکی۔
انتہاپسندی دراصل جنونیت کا نام ہے اور ایک جنونی ہی کسی دوسرے گروہ کو صرف اس لئے زبح کر سکتا ہے کہ وہ گروہ جنونی گروہ کے نقطہ نظر کو نہیں مانتا۔
ترکی جو صرف چار سال پہلے تک دنیا کی سیاحتی صنعت پر راج کر رہا تھا آج ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جہاں سیاح جانے سے گریز کر رہے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دو سال میں آٹھ ار ب ڈالر سے زائد کا بزنس معطل ہو چکا ہے اور ہر آنے والے دن اس میں مزید کمی آرہی ہے۔
80کی دہائی سے پہلے پاکستان بھی سیاحتی دنیا کا چمکتا ستارہ تھا مگر جہادی خارجہ پالیسی نے پاکستان کی سیاحت کو قتل کر دیا اور یہ منظر آج ہم ترکی میں دیکھ رہے ہیں ۔پاکستان اور ترکی دونوں جہادی خارجہ پالیسی اور ہمسائے کی جنگ میں دخل اندازی کا خمیازہ کب تک بھگتتے رہیں گے اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
معصوم لوگوں کا خون اور انتہا پسندی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہ ایک اکائی کے طور پر انسانی تاریخ میں نظر آتے ہیں ۔
خیال کیا جاتا ہے کہ شاید داعش نے 29جون والے حملے کروائے ہیں مگر یہ تنظیم شاید ان حملوں کی ذمہ داری اس لئے قبول نہ کرے کہ ایسا کرنے سے ترکی کی حکومت پر حزب اختلاف کی طرف سے دباؤ آئے گا اور داعش کے خلاف نفرت بڑھے گی اور اس صورت میں ابو بکر البغدادی کی سربراہی میں قائم اس تنظیم کے خلاف شاید ترکی کی حکومت کو کوئی فیصلہ کرنا پڑے۔
ترکی میں جو کچھ ہوا، جس نے بھی کیا ہے وہ ظلم ہے اور ظلم کو روکنا ہوگا۔ترکی کی فوج اس خطے کی مضبوط فوج سمجھی جاتی ہے جبکہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ترکی کی پولیس کے نظام کو سیاسی ریشہ دوانیوں نے تباہ کر دیا ہے۔ان حالات میں شایدترکی کی فوج ہی اس بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے جیسا کہ پاکستان کی فوج نے ضرب عضب میں کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی معیشت پچھلے کچھ سالوں سے ترکی سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے اور اسلام آباد میں قائم حکومت بہت سارے اہم منصوبوں کو ترکی کی کمپنیوں کو دے چکی ہے اور دے رہی ہے،ایسے میں اگر ترکی کی معیشت کو مزید نقصان ہوا تو اس نقصان کے اثرات شاید پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ جائیں۔
ترکی اور پاکستان دو ایسے بھائی ہیں جن کا درد ایک ہے اور وہ درد ہے اپنے ہمسائے کی جنگ میں اپنے آپ کو جھونکنا۔مجھے ڈر ہے کہ ترکی کو سب کچھ نہ دیکھنا پڑے جس سے پاکستانی عوام گزشتہ 35سال سے نبرد آزما ہے اور وہ ہے تباہی اور بربادی۔
آغا اقرار ہارون گزشہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔