پاک افغان تعلقات: پاکستان تاریخ کا نالائق شاگرد

roznama-taqatarticle june 20

اقرار نامہ
پاک افغان تعلقات: پاکستان تاریخ کا نالائق شاگرد
افغان فوجیوں کے ہاتھوں طورخم بارڈ پر شہید ہونے والے پاکستانی فوج کے افسر میجر جواد علی چنگیزی کا خون کبھی معاف نہ کرنے کے بیانات دینے والے اب پاکستانی قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ افغانستان کی حکومت اور افغان قوم تو بہت مخلص لوگ ہیں ، بہت اچھے دوست ہیں اور پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں مگر بھارت ان کو گمراہ کر رہا ہے۔یہ وہی نقطہ نظر ہے جسے بنیاد بنا کر گزشتہ35سال سے افغانستان سے آنے والی ہر برائی پرکسی نہ کسی طریقے سے پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے چاہے وہ ہیروئن ہو، افغان معاشرے سے منسلک ہر غیر قانونی کام ہو، فرقہ واریت ہو ، پاکستان سے الگ عید منانے کا رواج ہو ،اغواء برائے تاوان ہو یا جہالت کا پھیلاؤ ۔
افغانستان سے آنے والے شر کی ذمہ داری بھارت پر تھونپنے سے یہ طبقہ ایک بار پھر ایک خطر ناک عمل کر رہا ہے، کیونکہ یہ طبقہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ افغان تو ہمارا دوست ہے مگر بھارت کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔
بھارت یقیناافغانستان کی حکومت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے مگر کیا بھارت نے آج سے 37سال پہلے پاکستان میں دو عیدیں کرنے کا رواج ڈالا تھا؟
کیا بھار ت نے 35سال پہلے ہیروئن اور کلاشنکوف کو پاکستانی معاشرے میں متعارف کروایا تھا؟
کیا بھارت نے 36سال پہلے فرقہ واریت کوجلوزئی کیمپ سے آگے آنے دیا تھا؟
کیا بھارت نے ہمارے صوبہ سرحد جو اب خیبر پختونخواکہلاتا ہے کے سادہ لوح افراد کی زمین، کاروبار اور ذریعہ معاش پر قبضہ جمایا تھا؟
کیا بھارت نے 35سال پہلے افغان معاشرے کو خیبر سے کراچی تک پھیلانے میں افغانستان کی مدد کی تھی ؟اور کیا بھارت نے 35سال پہلے افغانوں کو کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کے قوانین کو ماننے سے انکار کر دیں اور غیر قانونی طور پر پاکستانی معاشرے میں پھیل جائیں، جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوالیں، غیر قانونی طور پر جائیدادیں خرید لیں اور پاکستان کی سرزمین کو غیر قانونی افغان ٹرانزٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اسمگلنگ کریں؟
اگر ان سب کاموں کے پیچھے آج سے 35یا 40 سال پہلے بھی بھارت کا ہاتھ تھا تو پھر ہمیں ان افغانوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دے کر پاکستان سے نکال باہر کر دینا چاہئے تھا اور ہمیں قوم کو بتانا چاہئے تھا کہ افغان ہمارے مسلمان بھائی نہیں بلکہ بھارت کے کٹھ پتلی ہیں۔
ہر معاشرے کی ایک تاریخ اور ایک مزاج ہوتا ہے اور افغانستان کی تاریخ اور مزاج کے بارے میں وسطی ایشیاء میں رہنے والے اس کے ہمسائے ہمیشہ سے یہ کہتے ہیں کہ افغانستان سے کبھی خیر کی خبر نہیں آتی ۔دوسری طرف پاکستان افغانستان سے آنے والی ہر خبر کو خیر کی خبر بنانے پر بضد رہا ہے چاہے وہ خبر پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والی ہی کیوں نہ ہو۔

 ہمیں ہمیشہ یہ بتایا گیا ہے کہ افغانستان ہماری اسٹرٹیجک ڈیبتھ ہے جبکہ دیکھا جائے تو عملاََہم ہمیشہ افغانستان کے اسٹرٹیجک ڈیبتھ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ۔ مہاجرین ہمار ے یہاں پارک کیے گئے ،خوراک پاکستان سے حاصل کی گئی اور تعلیم و صحت کے لئے بھی ہمارے سکول، مدارس اور ہسپتال استعمال کئے گئے۔
آپ خود فیصلہ کریں کہ کون کہاں پارک ہوا؟
اسٹرٹیجک ڈیبتھ کا سب سے بڑا عنصر پارکنگ ہوتا ہے اور یہ پارکنگ اسٹرٹیجک ہوتی ہے اور وقت آنے پر استعمال کی جاتی ہے ۔جناب والا ہم ساری عمر یعنی پچھلے 40سال سے افغانستان کے ہر گند اور برائی کی پارکنگ لاٹ رہے ہیں۔

افغانوں سے پاکستان کی محبت بجا اور یہ عشق شاید ہمیشہ جاری رہے مگر اس محبت کا خمیازہ پاکستانی قوم ہمیشہ سے بھگتتی رہی ہے اور شاید ہمیشہ بھگتتی رہے۔ہم افغانستان کو ایک دوسرے ملک اور افغانوں کو ایک دوسرے ملک کے شہری کے طورپر تسلیم کرنا تو شروع ہو گئے ہیں اور شاید اسی لئے تو طور خم بارڈ ر پر پہلی دفعہ کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ہو گئی ہے مگر لگتا ہے کہ ابھی بھی کہیں نہ کہیں پاک افغان بھائی بھائی اور مہاجرین اور انصار والا فلسفہ زندہ ہے اور کسی بھی وقت یہ فلسفہ پھر سے پاک افغان تعلقات پر ہاوی ہو سکتا ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ پاکستان جو اس وقت خطے میں اپنے آپ کو اپنی خارجہ پالیسی کی شدید ناکامی کی بعد تنہا محسوس کر رہا ہے اپنی ہر ممکن کوشش کرے گا کہ افغانستان میں اس کی اسٹرٹیجک انویسٹمنٹ ڈوب نہ جائے ۔اسی لئے شاید وہ اپنی کوششیں جاری رکھے گا کہ پاک افغان عشق تنہائی کا شکار نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے پچھلے 40سال سے اپنی تمام تر انویسٹمنٹ صرف اور صرف مشرقی اور جنوبی افغانستان کے لوگوں پر کی ہے جن کے بارے میں تاریخ کا کہنا ہے کہ وہ آنکھیں پھیرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاتے اور صرف وہی کرتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہوتا ہے، جبکہ بھارت اور ایران کی ماضی قریب میں کی گئی اسٹرٹیجک انویسٹمنٹ شمالی افغانستان کے لوگوں پر زیادہ ہے تاہم جنوبی لوگوں پر بھی ہے مگر دونوں ممالک نے اپنی خارجہ پالیسی اور افغانستان میں ترقی کے منصوبوں میں شمالی افغانستان کو ترجیحی بنیادوں پر رکھا ہے۔
پاکستان جو کہ تاریخ کے ایک نالائق شاگرد کے طور پر منظرعام پر آیا ہے نے کبھی بھی شاید افغانستان کی تاریخ کو غور سے نہیں پڑھا اور اگر پڑھا تو سمجھ نہیں پایا۔اگر پاکستان سابقہ سوویت یونین کے سابقہ پولٹ بیورو میں کی گئی 1981 سے 1986 تک کی بحث پڑھ لے تو شاید پاکستان کو افغان سوچ اور افغان سیاست سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔اس کے علاوہ انگریزوں کی 1880 سے لیکر 1930 تک لکھی ہوئی افغان تاریخ بھی پاکستان کی کچھ مدد کر سکتی ہے۔
وسطی ایشیاء میں کہاوت مشہور ہے کہ اگر تم افغان کو اپنا دشمن بنا نا چاہتے ہو تو اس کو پیٹ بھر کے کھانا کھلاؤ کیونکہ بھوکا افغان آپ کا دوست اور پیٹ بھرا افغان صرف اپنا دوست ہے،اسے آپ کا دشمن بننے میں دیر نہیں لگے گی۔یہی وجہ ہے کہ وسطی ایشیاء کے بادشاہوں نے افغانستان میں حکومت تو کی مگر یہاں اتنی ترقی نہ ہونے دی جتنی باقی علاقوں میں کی گئی ۔ 80 کی دہائی میں پولٹ بیورو میں ہونے والی کچھ تقریروں میں روسی سیاسی فلسفیوں کا کہنا تھا کہ سابقہ روس جتنی ترقی جس میں سکول، سڑکیں، ہسپتال اور زراعت کا شعبہ شامل ہیں کر رہا تھا وہ غلط تھا اور بہت جلد افغان روسیوں کا گلا کاٹنا شروع کردیں گے اور پھرایسا ہی ہوا۔
پاکستان کے علاوہ افغانستان کے تمام ہمسائیوں کا خیال ہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑ دو اور اپنی سرحدیں ان کے لئے بند کر دو تو تم سکون کی زندگی بسر کر سکتے ہو۔دیکھنا یہ ہے کہ بھارت اور ایران جو اپنی نئی محبت کر رہے ہیں ان کے گلے کب کاٹے جاتے ہیں ۔یہ ہو گا تو ضرور اور شاید اسی دہائی میں ہو گا۔

آغا اقرار ہارون گزشتہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ماہ صیام اورپنجاب حکومت کا خصوصی ریلیف پیکیج

ماہ صیام اورپنجاب حکومت کا خصوصی ریلیف پیکیج

ماہ صیام اورپنجاب حکومت کا خصوصی ریلیف پیکیج
تحریر : سید مبشر حسین
لازوال رحمتوں اور برکتوں کا مظہرماہ صیام ایک بار پھر ہماری زندگی میں دستک دے رہاہے۔ رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا 9واں مہینہ ہے جسے دنیا بھر کے تمام اسلامی ممالک میں انتہائی عقیدت واحترام، مذہبی جوش وخروش ، صلہء رحمی اور بھائی چارے کے جذبات کے ساتھ منایا جاتاہے۔اکثر مسلم ممالک میں توتاجر و دکاندار ازخودرمضان المبارک میں اشیاء خوردونوش و ضروریہ کی قیمتیں عام معمول سے قابل ذکر حد تک کم کردیتے ہیں تاکہ تمام اہلیان اسلام رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے مساوی طورپر بہرمندہوسکیں تاہم معاشی ناہمواریوں اور غیر مناسب سماجی رویوں کی وجہ سے پاکستان میں حالات کسی حد تک اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں کیونکہ بعض تاجر و دکاندار حضرات اس ماہ مقدسہ میں روزے داروں کو ریلیف دینے کی بجائے ناجائز منافع خوری کی غرض سے اشیاء کی مصنوعی قلت کے ساتھ ساتھ گراں فروشی کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔حکومت پنجاب ہر سال صوبے کے عوام کوماہ صیام میں اشیاء خورد ونوش و ضروریہ میں ریلیف دینے کے لئے خصوصی پیکیج متعارف کرواتی رہی ہے۔وزیراعلی محمد شہبازشریف نے گزشتہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے رواں سال بھی باکفایت خریداری کے ویژن کے تحت ایک جامع اور تاریخی رمضان پیکیج متعارف کروایاہے جس کے تحت عوام کو ریلیف کی فراہمی کے پیش نظر سستے آٹے اور دیگر اشیاء خورد ونوش کی فراہمی پر 5ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے۔رمضان بازاروں میں 10کلو آٹے کاگرین تھیلے کا نرخ290روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں اورنج کلر 10کلو تھیلے کا نرخ 310روپے اور 20کلو آٹے کا تھیلا620روپے میں فروخت ہوگا۔پاکستان شوگر مل ایسوسی ایشن رمضان بازاروں میں 15ہزار ٹن چینی بازار سے 8روپے کم قیمت پر فراہم کرے گی۔صوبہ بھر میں 300سے زائد رمضان بازار اور25ماڈل بازار قائم کئے گئے ہیں اس کے علاوہ مخیر حضرات کے تعاون سے2ہزار سے زائدمدنی دسترخوان کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہاہے۔پاکستان بناسپتی مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن رمضان بازاروں میں فی کلو /لیٹر 10روپے ارزاں نرخ پر گھی اور آئل فراہم کرے گی۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن رمضان بازار میں مرغی کا گوشت مارکیٹ سے 10 روپے فی کلو جبکہ انڈے پانچ روپے فی درجن ارزاں نرخوں پر فراہم کرے گی۔ حکومت پنجاب نے کسی بھی شکایت کے اندارج کے لئے ٹال فری نمبر 0800-02345 بھی جا ری کیا ہے جس پر شہری کسی خلاف ورزی کی صورت میں شکایت درج کروا سکتے ہیں۔قائم کئے گئے رمضان بازاروں میں الیکٹرانک پرائس بورڈز اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے ، سٹالوں پرزیادہ سے زیادہ غذائی اجناس کی فراہمی کی ہدایت کی گئی ہے۔ 3جون سے صوبہ بھر میں رمضان بازاروں کاآغاز کر دیا گیا جوصبح .00 9بجے سے شام.00 6بجے تک کھلے رہیں گے۔رمضان بازاروں میں پنکھوں ، بیت الخلاء ، بزرگ شہریوں کے بیٹھنے ، فسٹ ایڈاور پارکنگ کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، سول سیکرٹریٹ اور ڈی جی آئی پی ڈبلیو ایم کے دفاتر میں مانیٹرنگ کے حوالے سے خصوصی کنٹرول رومز قائم کئے گئے ہیں ۔اشیاء خورد ونوش کی وافر اور ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لئے صوبائی وزراء، سیکرٹریز اور سینئر افسران کے رمضان بازاروں کے دوروں کا شیڈول بھی جاری کیا جاچکاہے۔ رمضان بازاروں میں ایگریکلچر فیئرپرائس شاپس پر دال چنا، دال ماش، دال مسور ، بیسن اور کھجوریں مارکیٹ سے 10روپے کم قیمت پر دستیاب جبکہ آلو، بھنڈی ، سیب ، پیاز، کدوں،مسور ثابت، ٹماٹر، چنا، چاول ، کیلا، کھیراتھوک ریٹ پر فروخت کئے جائیں گے۔ انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے محکمہ خزانہ کی طرف سے اڑھائی ارب روپے کے گردشی فنڈز کا اجراء کیا جا چکاہے۔ وزیراعلی محمدشہبازشریف بیرون ملک ہونے کے باوجود بذریعہ ویڈیولنک باقاعدگی کے ساتھ رمضان بازاروں میں مقرر کردہ نرخوں پر اشیاء خوردونوش کی فراہمی اور متعارف کروائے گئے تاریخی رمضان پیکیج پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کررہے ہیں اور اس حوالے سے انتظامیہ کو ضروری ہدایات جاری کر رہے ہیں۔انہیں امید ہے کہ رمضان پیکیج کی پائی پائی عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی پر صرف کی جائے گی۔شہبازشریف کا عزم ہے کہ اشیائے خورد ونوش کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔اس تاریخی پیکیج پر عملدرآمد کے لئے اربوں روپے کے وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔ وزیراعلی محمد شہبازشریف کی طرف سے رمضان بازاروں میں بہترین انتظامات اور عوام کو معیاری اشیاء صرف ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کی ہدایت گئی ہے۔رمضان بازار میں اشیائے صرف کے معیار اور نرخ کی مانیٹرنگ کے لئے اینڈ رائیڈ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کی مدد لی جائے گی۔ ایگریکلچر فیئر پرائس شاپس پراشیاء کے نرخ بتانے کے لئے الیکٹرانک پرائس بورڈز لگائے گئے ہیں۔ رمضان بازاروں میں اوزان و پیمائش کی جانچ کیلئے خصوصی کاؤنٹر قائم اور عملہ بھی تعینات کیاگیا ۔گزشتہ سال یکم مئی سے اس سال یکم مئی 2016تک اوزان و پیمائش کا تعین کرنے والے انسپکٹرز کی کارکردگی کچھ اس طرح رہی کہ مجموعی طو رپر 2لاکھ 27ہزار سے زائد انسپکشنز کی گئیں، قوانین کی خلاف ورزیوں کے 20830 واقعات سامنے آئے جبکہ 19110 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی جن میں 4193 مقدمات کے عدالتی فیصلے ہوئے جن میں40لاکھ سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا۔صوبہ بھر میں دال چنا کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لئے آئی سی اینڈ آئی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے وزارت برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو دال درآمد کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کی طرف سے 1756پرائس مجسٹریٹ کا تقررکیاگیاہے اور یہ تعداد متعلقہ ڈی سی او کی درخواست پر بڑھائی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پرائس مجسٹریٹس نے اشیاء خورد ونوش و ضروریہ کی قیمتوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے صوبہ بھر میں 78 ہزار سے زائد معائنے کئے ،اوورچارجنگ کے 11514 مقدمات قائم کئے گئے ،ایک کروڑ 8لاکھ 12ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیااور 1494افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے خلاف ورزی کے مرتکب 2163افرادکی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔رمضان المبارک میں تمام کمشنرز اور ڈی سی اوز کو پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے ذریعے اشیاء صرف کے نرخ پر عملدرآمد کی سخت مانیٹرنگ کی ہدایات کی گئی ہے۔ صوبہ بھر میں 2ہزار سے زائد افطاراور مدنی دسترخوان قائم کئے جائیں گے۔رمضا ن بازاروں میں یوٹیلٹی سٹورز کے کاؤنٹر بھی قائم کئے جائیں گے۔ان بازاروں میں ایک کلو او ردو کلو کی پیکنگ میں چینی 57روپے فی کلو فروخت کی جائے گی۔
حکومت پنجاب کے ان اقدامات کے پیش نظر قوی امید ہے کہ رواں سال رمضان المبارک میں عوام کو اشیاء خوردونوش کے حوالے سے خصوصی ریلیف حاصل ہوگا تاہم رمضان بازاروں کے ساتھ ساتھ عام مارکیٹو ں میں بھی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جانے ازحد ضروری ہے۔خاص طور پر سکیورٹی کے نظام کوموثر بنایا جانا چاہیے تاکہ ملک دشمن عناصر کسی بھی قسم کی منفی سرگرمی میں کامیاب نہ ہوسکیں۔تاجر برادری کا بھی فرض ہے کہ وہ اس ماہ مقدس میں عوام کو معیاری اشیاء ضروریہ وخورد ونوش کی ازراں نرخوں پر فراہمی کے لئے اپنے مذہبی اور اخلاقی فریضے کا ادراک کریں اور ناجائز منافع خوری و مصنوعی قلت پیدا کرنے سے گریز کریں۔

میرا بچپن

میرا بچپن

میرا بچپن
محمد  اظہر حفیظ

گاؤں 258 رب پھرالہ کے علاوہ میں نے صرف فیصل آباد ھی دیکھا تھا رزلٹ آیا تو اپریل کے مہینے اباجی گاؤں تشریف لائے اور بتایا کہہ اس دفعہ چھٹیاں راولپنڈی میں گزاریں گے,میں چوتھی کلاس میں نیا نیا گیا تھا بہت ڈرپوک اور سادہ انسان تھا, سامان پیک کیا گیا اور ایک کرائے کی گاڑی میں ھم نے سفر شروع کیا ھم تینوں بہن بھائی اور امی ابو یہ پہلا لمبا سفر تھا مجھے نہر سے بہت ڈر لگتا تھا ابھی یہی سوچ رھا تھا کہہ کوئی نہر ھی نہ آجائے ابا جی سے پوچھا ابا جی راہ وچ کوئی نہر تے نہی آندی ابا جی نے کہا پتر چناب دریا آنے والا ھے اور وہ نہر سے بہت بڑا ھوتا ھےاور نہریں دریا سے نکلتی ھیں میں اتنا خوفزدہ ھوا کہ سیٹ سے اتر کر گاڑی کے فرش پر بیٹھ گیا ابا جی یار کی ھوگیا اباجی بہت ڈر لگتا اے پانی کولوں میرا پتر اسی پل توں گزراں گے ڈرن دی کی گل اے جب چناب گزر گیا تو تھوڑی دیر بعد ابا جی مسکرائے میں رونے لگ گیا امی جی ابو میرا مذاق بنا رھے ھیں ابا جی او نئ یار جہلم دریا آن لگا اے لک جا بس جناب ڈرتے ڈرتے روالپنڈی پہنچ گئے اور مریڈ چوک کزن کے گھر ٹھرے لیکن ڈر کا سفر جاری رھا طاہر افضل بھائی کا پہلا سوال ھی جان لیوا تھا اظہر تیری چونگی ادا کیتی اے راولپنڈی آن تے نہیں بھائی جان اوھو تو تے پھڑیا جائیں گا بس جناب اب جب سیر کے لیے جاتے میں چھپ چھپا کے ھی جاتا ایک دن ابا جان میرا بیٹا اننا ڈردا کیوں اے میں رونے لگ گیا تسی میری چونگی کیوں نہیں ادا کیتی ابا جی بیٹے وہ سامان کی ھوتی ھے انسانوں کی نہیں اس دن چونگی کا ڈر ختم ھو گیا اور جناب میں ایوب پارک جاتارنگ برنگی مچھلیوں کے باکس دیکھتا میری رنگوں سے پہلی ملاقات تھی دامن کوہ پتھریلی سڑک اور چیتے کے آجانے کا نیا ڈر اور شکرپڑیاں بھائی یار ایتھے ساریاں فلماں دی شوٹنگ ھوندی اے کچھ دن بعد پتہ چلا آج بہت برا ھوگیا ضیاءالحق نے بھٹو کو پھانسی دے دی ھے میں الحمدللہ دونوں کو نہیں جانتا تھا اور نہ ھی پتہ تھا پھانسی کیا ھوتی ھے اور تارامسیح نام کا بندہ کون ھے جو پھانسیاں دیتا ھے ان سب کو ڈھونڈنے میں نکل کھڑا ھوا اور جنا ب یہ سب تو مجھے مل گئے آواز آ رہی ضمیمہ لے لو ضمیمہ اور میں نے 50 پیسے کا ضمیمہ خرید لیا اور یہ پہلا اخبار تھا جو میں نے خود خریدا یہ اس وقت کی بریکنگ نیوز کا ذریعہ تھا جب میں گھر آیا تو پتہ چلا سب مجھے ڈھونڈنے نکلے ھوئے تھے خوب مار پڑی اور اس دن ابا جی کافی پٹائی کرنے کے بعد چل ھن نہالے کجھ زیادہ ھی مار پے گئی میرے پتر نوں جب نہا کے آیا تو ھم طباق ریسٹورانٹ گئے ابا جی ھمیشہ مارنے کے بعد بہت پیار بھی کرتے تھے سمجھاتے تھے یار انج نہ کریا کر سلسلہ جاری تھا کہہ پتہ چلا کہہ کوہ مری جانا اے اوتھے بادلوں کو آپ چھو سکتے ھیں اور آپ بادلوں سے اوپر ھو جاتے ھیں پر بڑی مایوسی ھوئی وہاں بادل تو نہیں پر دھواں سا تھا میں نے حسب عادت پوچھا ابا جی اگ کتھے لگی ھوئی اے ھسدیاں کہن لگے پتر اے ای بادل نے پر اے پہلی گل سی ابا جی دی جس دا میں یقین نہیں کیتا,واپس راولپنڈی آکر ابا جی نے مجھے پہلی نیکر شرٹ سلوا کر دی کئی دن باعث شرم میں نے زیب تن نہیں کی کہ اے کی لباس اے لتاں تے باواں ننگیاں بس جناب ایک دن پہننی ھی پڑھ گئی جب پتہ چلا کل سکائی لیب کا راولپنڈی پر گرنے کا خطرہ ھے سوچا کپڑے ضائع نہ ھو جائیں اور سوچتا رھا کیوں نہ تنگ پلی کے نیچھے رات گزاریں وہ بہت مضبوط ھے پر سکائی لیب کہیں اور گر گیا بدتمیز

دو دفعہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی سیروتفریح اور گاؤں کی میری بے جا مصروفیات کو دیکھنے کے بعد والدین نے فیصلہ کیا کہ نوجوان کو راولپنڈی شفٹ کیاجائے, کیا یاد دلا دیا کیا ھی دور تھا 26 روپے کا 18 کلو آٹے کا تھیلا 7 روپے لیٹر پیٹرول اور اسلامی حکومت اسلامی حکومت سے یاد آیا ہم 82 میں راولپنڈی شفٹ ھوچکے تھے اور ٹسٹ اور سفارش کے بعد ایک عظیم درسگاہ مدرسہ ملیہ اسلامیہ ھائی سکول سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں کلاس 6 میں داخل کرادیا گیا اور میں بقول جنرل ضیاء صآحب کی اسلامی حکومت اور آخری چٹان جیسے ڈراموں کو ذھن میں لئے ایک اسلامک ذھن بنائے راولپنڈی آگیا لیکن پہلی ھی رات سب خواب چکنا چور ھو گئے میں سارا دن رات ھونے کا انتظار کرتا رھا اور رات کو کھڑکی کا پردہ ہٹائے کمرے کی بتی بجھائے گلی میں کچھ دیکھنے کی کوشش کر رھا تھا امی جی کا دھیان پڑا تو فورا پوچھا کیا بات ھے ھم ٹھرے سچے اور کھرے انسان فورا بتا دیا امی جی ضیاءالحق صاحب کو دیکھنے کی کوشش کر رھا ھوں امی وہ یہاں کیاکرنے آئیں گے تم آرام سے سو جاؤ میں نے فورا یاد دلایا آپ ھی تو کہتی تھیں کہ اسلامی مملکت میں بادشاہ رات کو گلیوں میں چکر لگاتے ھیں اور عوام کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور انکی مدد کرتے ہیں امی نے کہا سونے کی دعا پڑھو اور سو جا کل سکول بھی جانا ھے اور میں سونے کی اداکاری کرنے لگا جب امی جی دوسرے کمرے میں چلی گئی تو میں پھرے بادشاہ کو دیکھنے کھڑکی میں بیٹھ گیا کوئی رات 12 بجے کے قریب گلی میں ایک سائیکل سوار آیا میں سمجھ گیا یہ ھی بادشاہ ھے اب دور بدل گیا اب بادشاہ پیدل تھوڑی آئے گا ابھی سوچ ھی رھا تھا کہ زور دار سیٹی کی آواز مجھے واپس گلی میں لے آئی اور بادشاہ سلامت نے کوئی آواز لگائی پہلی دفعہ تو سمجھ ھی نہ آئی پر دوسری دفعہ توجہ جب کی تو سمجھ آئی بادشاہ سلامت آواز لگا رہے تھے جاگدے رھنا ساڈے تے نہ رھنا بہت دکھ بھی ھوا اور مایوسی بھی کہ جس کی وجہ سے میں اس شہر میں آہا وہ میری حفاظت کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں دل کیا واپس چلا جاؤں پر کیسے سب ھی تو یہاں آگئے, صبح آنکھ بہت مشکل سے کھلی اور سکول چلا گیا سکول میں پہلا دن تھا وہ ایک عظیم درسگا ہ تھی میر ے سب کلاس فیلو ھی اعلی سوچ اور سمجھ کے حامل تھے سلام دعا کے بعد تعارف ھوا پوچھا یار کیا بننا چاہتے ھو وہ مسکرایا اور بولا اپنا ٹانکہ بناساں ساتھ والے سے پوچھا تیرا کیا پروگرام ھے بولا ماڑی اپنی سوزوکی اے میں ھور کی کرساں تقریبا ساری کلاس ھی بزنس مائنڈڈ اور میں اکیلا پڑھنے کا شوقین اتنے میں حافظ صاحب کی آمد اسلامیات کے ٹیچر سب کھڑے ھو گئے میں نیا چہرا تھا ھاں جی تعارف استاد جی محمد اظہر حفیظ مطلب محمد کی نمایاں حفاظت کرنے والا شاباش شاباش نیک بچہ اے چل سنا دعائے قنوت میں بھی شروع ھو گیا اللھم نستعینوکا ونستغفیروکا و نو شاباش شاباش شکر اے کسے نو تے آندی اے ھاں جی ھور کس کس نے یاد کیتی اے کلاس کو سانپ سونگھ گیا اچھا راجے تے عباسیو ٹانگے تے سوزوکی وچوں دھیان نکلے تے گل یاد رہے کن پکڑلو سارے نوے منڈے تو علاوہ ھاں کی ناں دنیا سی استاد جی محمد اظہر حفیظ ھاں جی حفیظو جوتی لا لے تے ھر ایک نو چیھکی چیھکی کے پنج پنج لا اب ھوا مشکل مرحلہ شروع بندہ سوچ میں پڑھ گیا سزا مجھے ھے یا ان کافروں کو جن کو دعائے قنوت نہیں آتی بھلا یہ کیا سزا چھینک چھینک کر جوتے مارو قاری صاحب غصے میں بولے کی سوچداں اے اور میں نے پہلے لڑکے کو اپنی پرابلم سنائی تو ہنسا اور بولا او موٹے زور زور سے کو چیکی کے آخنے نے پھر میں ھوگیا شروع چیھکی چیھکی کے,اسی طرح پانچ سال گزر گئے کوئی بہت ھی برا دن تھا اسلامیات کی کلاس دسویں جماعت اور استاد حافظ صاحب تشریف لائے ھاں حفیظو دعائے قنوت سنا اور میں حسب عادت برق رفتاری سے ھو گیا شروع لیکن آج وقت نے ساتھ نہ دیا اور حافظ صاحب نے کہا حفیظو سب نو آج تو یاد کرا اوے ھوئے حافظ صاحب کی کہ دیتا میری جان ھی نکل گئی کیونکہ مجھے بھی پہلے چار لفظ ھی آتے تھے جب وہ دھرا دئیے تو حافظ صاحب نے کن آکھیوں سے مجھے دیکھا آگے چل ھن آگے پر کیتھوں آگے آتی ھو تو آگے چلو جناب فر کجھ نہ پوچھو حافظ صاحب نے پانچ سال کی مار ایک کلاس میں نکال دی اور سارے القاب اس دن عطا کر دئیے خنزیر حرام خور پتہ نہیں کیا کیا اتنی مار کھا کر نہ بیٹھا جاسکتا تھا اور نہ لیٹا جا سکتا تھا گھر آیا تو امی جی نے کھانا رکھ دیا اور میں کھڑا ھو کر کھانے لگا امی بیٹے بیٹھ جاؤ امی کھڑا ھی ٹھیک ھوں نہیں بیٹے بیٹھ کے کھانا سنت ھے تو بتایا امی میں بیٹھ نہیں سکتا اور ساری واردات امی کو سنائی امی پہ بڑا غصہ آیا مجھے کہنے لگی مار تو تمہیں ٹھیک پڑی ھے اتنے بڑے ھو گئے اور دعائے قنوت نہیں آتی لیکن جب انھوں نے میرے جسم پر سوٹیوں کے نشان دیکھے تو روتے ھوئے میرے جسم کو گرم کپڑے سے سینکتی اور کہتی جاتی میرا قصور اے میرا قصور میں نے یاد نہیں کرائی اب مجھے امی پر ترس بھی ایا اور اپنے آپ پر غصہ کہ امی جی میری وجہ سے رو دیں لیکن ایک بات ھے دعائے قنوت ابھی تک یاد نہیں ھوئی.

اللہ اللہ کرکے اب ساتویں جماعت میں پہنچے اور جنرل سائنس پڑھنا شروع کی اور سوچا کو ئی ایسی ایجاد کی جائے کہ رھتی دنیا تک نام ھو بہت ساری عمران سیریز کی کتابیں پڑھیں یہ اس وقت کی سی آئی.ڈی پروگرام ھوتا تھا پر کچھ سمجھ نہ آئی تو اپنے استاد اور دوست رانا تنویر مرحوم جو میرے نیچے والے گھر میں رھتے تھے اور ایک عظیم انسان اور سائنسدان بھی تھے میریٹ دھماکے میں وہ شہید ھو گئے ان سے رابطہ کیا تو انھوں نے پہلے تو کچھ ٹیلی پیتھی کرنا سکھائی تو میں بولا بھائی میں کچھ ایجاد کرنا چاہتا ھوں تو انھوں نے کچھ سامان لانے کو کہا کوائل کچھ پیتل کی تار ائیر فون اور ایک ماچس الحمد للہ شام تک میں ایک ریڈیو ایجاد کرچکا تھا بہت خوش تھا کہ فارغ ھو کر جب امی نے تندور پر رات کے لیئے نان لینے بھیجا تو بہت مایوسی ھوئی دل ھی ٹوٹ گیا ھر طرف ریڈیو بج رہے تھے حالانکہ میں نے ابھی تک مارکیٹ بھی نہیں کیئے تھے اگلے ھی دن ٹیچر سے پوچھا سر یہ ریڈیو کس نے کل ایجاد کیا وہ مسکرائے اور بولے بیٹا یہ کل نہیں 1895 میں مارکونی نے ایجاد کیا سوچ لیا اب سائنس نہیں پڑھنی یہاں تو سب پہلے ھی بنا ھوا ھے,اور نئے منصوبے پر کام شروع کردیا وہ تھا چاند پر کیسے جایا جائے زمین گول ھے یہ پہلی اطلاع تھی اب جناب تیاریاں شروع ھو گئی نیا لاچا کرتا بنوایا اور چاند پر تیاری کا سوچتاسوچتا سوگیا اب کیا دیکھتا ھوں میری اور امریکی صدر ریگن کی ون ٹو ون میٹنگ جی میں آپ کے لئے کیا کرسکتا ھوں سر میں چاند پر جانا چاھتا ھوں وہ مسکرائے پر کیسے جی میں پہلا مسلمان بننا چاہتا ھوں جو چاند پر قدم رکھے اور پہلا انسان جو دھوتی کرتا پہن کر چاند پر جائے وہ مسکرائے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا یہ کوئی مذاق نہیں چاند پر جانا اور میں بھی ٹھرا ضدی کہ ھی دیا میں آپ بڑا ضدی آں فر جناب یاد آیا زمین گول اے اور راتیں چاند کنوئیں کے اوپر دن کو اس کے نیچے جناب صبح ٹھیک آٹھ بجے دھوتی لاچہ پہن کر کنوئیں میں چھلانگ لگا دی اور اللہ کی کرنی دیکھیں سیدھا جا کر گرا تو گرا کہاں چاند پر ابھی سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ امریکہ کی خلائی شٹٹل اتر آئی مجھے دیکھ کر بہت ھی سرمشار ھوئے کیونکہ میری دھوتی ھوا میں معلق تھی میں نے فورا درست کی اور سوال جواب شروع آپ کون جی محمد اظہر حفیظ یہاں کیسے آئے جنرل سائنس پڑھ کر اب انھوں نے میرے گرد ایک 360 چکر لگایا اور پوچھتے ہیں تم جن ھو یا پری او بھائی میرے سر پر نہ سینگ ھیں اور یہ میری دھوتی ھے پر نہیں انسان ھوں وہ ڈرتے بھاگ گئے پتہ نہیں کیا چیز ھے اور میں چاند کی سیر کو نکلا کافی تحقیق کی پر چندا ماموں نام کی کوئی چیز نہ تھی پوچھنے پر پتہ چلا آجکل دوبئی ھوتے ہیں بہنوں کا جہیز بنانے گئے ھوئے اب واپسی سوچا کہ اور کنوئیں میں شکر ھے سیڑھی تھی ڈر بھی تھا بہوش نہ ھو جاؤں آئے دن لوگ کنوئیں میں بہوش ھو جاتے ھیں پر ایسا کچھ نہ اور سوچا لوجی بن گیا پہلا انسان چاند پر جانے والا لیکن کیا بتاوں اخبار کیااٹھایا بس جان ھی نکل گئی خبر تھی سپر مین کی چاند پر دریافت جو اڑ کر کہیں بھی جا سکتا ھے اور ساتھ ایک اسکا خیالی سکیچ پر ایک غلطی لال لاچا کمر کی بجائے گلے سے باندھا ھوا تھا اور میری یہ خوشی بھی اس وقت چکنا چور ھوگئی جب بھائی نے ایک تھپڑ لگایا اپنا لاچا سہی کر جے بننا نہی آندھا تے پایا کیوں سی بس جناب میں بڑے کام کر ے کے خواب ھی دیکھتا رھا کر نہیں سکا میری امی جی مجھے بٹا آدمی بنانا چاہتیں تھیں پر میں نے کہا ماں جی میں تو بہن بھائیوں میں بھی چھوٹا ھوں بڑا کیسے بن سکتا ھوں

تایا زاد بڑے بھائی میاں طاھر کا زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بہت ھاتھ تھا وہ لائلپور میں حاجی آباد رھتے تھے اور اکثر گاؤں اپنے سکوٹر پر آتے ساتھ اپنا کیمرہ بھی لے کر آتے بچپن کی زیادہ تر تصاویر انہی کی بنائی ھوئی ھیں اور کیمرہ سے پہلی ملاقات بھی ان کے ذریعے ھی ھوئی جب راولپنڈی ھم شفٹ ھوئے تو وہ اپنی پہلی کار کے ساتھ ھمارے پاس آے اور فوکسی سے بھی ھماری پہلی ملاقات تھی پھر فوکسی کو سمجھنے کا موقع بھی ملا کئی اھم راز کھلے کہ فوکسی ھمیشہ دھکا سٹارٹ ھوتی ھے اس کا انجن پیچھے ھوتا ھے اس کی وائرنگ کو کبھی بھی آگ لگ سکتی ھے اس کے وائپر کام نہیں کرتے ساتھ تولیہ ضرور رکھیں بارش میں شیشہ صاف کرنے کے کام آتا ھے اور اگر تولیے دو ھوں تو کیا کہنے ایک اپنے اوپر اوڑھ لیں اور دوسرا وائیپر کے طور پر استعمال کریں,اسی سلسلے میں ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ آلو چیل کر اگر شیشے پر رگڑا جائےتو بہت مفید ھے پانی نہیں ٹھرتا کافی کارآمد ثابت ھوا اس وقت زبیدہ آپا کا نہیں پتہ تھا اس لیے زیادہ تر ٹوٹکے اِدھر اُدھر سے ھی جمع کیئے جاتے تھے, ھاں جی فوکسی کے آنے سے اب ھم دوسرے شہروں کی سیر کے قابل ھوگئے تھے جس میں سرفہرست واہ کینٹ اور ٹیکسلا تھے وجہ طاہر بھائی کی ایک دوست فیملی تھی بس شرمندگی کی بات سلطان تھا جو ھمارا ھم عمر تھا مگر اس کو اے بی سی کے ساتھ کچھ نظمیں بھی یاد تھی اور انگلش میڈیم سکول میں پڑھتاتھا پتہ چلا ھمارا عظیم سکول اردو میڈیم ھے بہت دکھ ھوا پر بعد میں پتہ چلا علامہ اقبال بھی اردو میڈیم سکول کے پڑھے ھوئے تھے تو شکر بجا لایا ورنہ جینے کا کوئی مقام نہ تھا سلطان ٹوئینکل ٹوئینکل لٹل سٹار سناتا تو طاہر بھائی بہت خوش ھوتے پر ھماری کتاب میں ایسی کوئی نظم نہی تھی ھم ابھی اے ایپل اور بی بک پڑھتے تھے ابھی میری بیٹیاں جب وہی نظم پڑھتی ھیں تو دکھ ھوتا ھے کہ کتنی دفعہ یہ نظم ھماری سبکی کا باعث بنی,الحمدہ للہ سمجھ ابھی بھی نہیں آئی کہ یہ ٹوئینکل کیا ھوتا ھے,پر ایک دیکھ ھی لیا ٹوئینکل کھنہ کو ایک انڈین فلم میں پر پتہ نہیں سب بچے اور بڑے اسکو اتنا یاد کیوں کرتے ھیں,واہ کینٹ اپنے تعلیمی نظام اور صفائی کی وجہ سے بہت مشہور تھا آپ شرط لگاکر بھی مکھی نہیں ڈھونڈ سکتے تھے اب ویسا ماحول نہیں اور تعلیمی نظام بہتر ھوا ھے کئی یونیورسٹیز بن گئیں ھیں اور ھاں مغل گارڈن واہ کینٹ ایک مثالی جگہ تھی فیملی کے لیے ٹھنڈے پانی کے چشمے رنگ برنگی مچھلیوں کے تالاب تاریخی عمارات کھنڈرات اس باغ کو شاندار بنا دیتے تھے صد افسوس ھم نے قدر نہ کی اور یہ تاریخی ورثہ قدر کھو رھا ھے اس سے تھوڑا فاصلے پر پنجہ صاحب سکھوں کی مذھبی عبادتگاہ اور اس کے سامنے وہ تالاب جس کے بارے میں مشہورتھا کہ کوئی یہاں سے مچھلیا ں پکڑے تو اندھا ھوجاتا ھے واپس پر ٹیکسلا چوک وھاں کھڑا شاندار ٹینک آجکل شائد باڈر پر چلا گیا ھے کیونکہ کچھ دن پہلے وہاں نہیں تھا اور میوزیم پہلا میوزیم جو میں نے دیکھا شاندار بلڈنگ نوادرات اور لان پر اب سب کچھ ویسا نہیں ھے نہ نوادرات اور نہ ھی لان اس کے پڑوس میں جولیاں کے کھنڈرات اور سرکپ کے کھنڈرات کیا عظیم جگہ ھے میں اب بھی اکثر جب پریشان ھوں وہاں جاکر سکون محسوس کرتا ھوں یقینن گوتم بدھ ایک عظیم اور نیک انسان تھے اور ساتھ ھی مارگلہ کی پہاڑیاں اور ان میں بنے غار نما گھر کیا خوبصورتی تھی افسوس اب نہ وہ پہاڑ ھیں اور نہ غار سب بجری بن چکے,