ایک تیر سے تین شکار

tariq ch

ایک تیر سے تین شکار

اب جبکہ حتمی طور پر اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان کے دوسرے امیر ملا منصور جاں بحق ہو چکے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان کو پاکستانی علاقے میں ہلاک کر کے سپر طاقت کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟ اس کارروائی کے نتیجہ میں کیا وہ مقاصد حاصل کئے جا چکے ہیں؟ یا ابھی محض نکتہ آغاز ہے۔ اس خاکسار کے خیال میں یہ شروعات ہیں۔ اگرچہ اس حملہ کے بعد امریکی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ لیکن اپنے پتے پوری طرح شو نہیں کرائیں گے۔
امریکیوں کے مقاصد اس خطے میں ان کے عزائم کو سمجھنے سے پہلے کچھ بنیادی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی پہلے ان تمام سوالوں کے جوابات حاصل کرنا ہوں گے کہ جن کے جوابات ابھی تک نہیں مل سکے۔ ملا اختر منصور کی ہلاکت کے متعلق اگرچہ یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ لیکن اب تقریباً دو ہفتے گزرنے کے بعد دبے دبے سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ حتمی طور پر اس کی تصدیق تو نہیں ہوئی۔ لیکن بعض ماہرین، نئی تھیوریز دے رہے ہیں کہ ڈرون حملہ کی کہانی محض ٹوپی ڈرامہ ہے۔ جس کا مقصد بین الاقوامی دباﺅ سے بچنا ہے۔ کیونکہ سرحد پار سے کسی دوسرے ملک کی فضا سے فائر کرنے سے امریکیوں کو یہ جواز مل جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی۔ لیکن شواہد کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون سے حملہ کرتے وقت ہمیشہ دو میزائل فائر کئے جاتے ہیں۔ شائد ٹارگٹ کی یقینی ہلاکت کیلئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی ٹی وی فوٹیج میں فائر شدہ میزائل یا میزائلوں کا ملبہ نہیں دکھایا گیا۔ اس ملبے کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی۔ سو کلو میٹر دور سے فائر کیا گیا پہلا میزائل ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے جبکہ دوسرا میزائل گاڑی، عمارت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ اس واقعہ میں گاڑی کئی گھنٹے تک جلتی رہی۔ لیکن اس کا ڈھانچہ اور مرکزی فریم مکمل حالت میں موجود ہے۔ ایسی طاقت کا حامل میزائل گاڑی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے رکھ دیتا ہے۔ ملا منصور کی ہلاکت کے واقعہ میں ایسا بالکل نہیں ہوا جو کہ معاملہ کو مشکوک بناتا ہے۔ ملا منصور کا جائے حادثہ سے ملنے والا شناختی کارڈ، پاسپورٹ بھی، ایک مختلف داستان سناتا ہے۔ ابھی تک یہ شناخت دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آیا۔ ابھی تک ٹی وی پر دکھایا جانے والا یہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ فوٹیج کی شکل میں ہے۔ جو کہ واقعہ کے چند گھنٹوں بعد میڈیا نمائندوں تک پہنچا۔ بعض ذرائع کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ فوٹیج تفتان بارڈر پر ایران یا پاکستان کی کسی انٹری یا ایگزٹ پوسٹ پر بنائی گئی۔ ٹارگٹ ہٹ کرنے کے بعد یہ فوٹیج اس واردات کو الجھانے یا پاکستان کو پھنسانے کے لئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے ذریعے پھیلائی گئی۔ بعض بین الاقوامی اداروں کی یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملا منصور کو بارڈر پوسٹ پر کافی دیر تک روکا گیا۔ جس کا مقصد ان کو نشانہ بنانے کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دینا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ انہوں نے سرحد کراس کرتے ہی اپنے دو قاصدوں سے ملاقاتیں کیں اور طالبان شوریٰ کے لئے مصنوعی پیغامات بھی بھجوائے۔ جب تک یہ قاصد پیغام لیکر متعلقہ افراد تک پہنچے۔ تب تک امیر طالبان کو ہلاک کیا جا چکا تھا۔ ان پیغامات میں طالبان امیر نے ایران میں قیام کے دوران بعض ایرانی حکام اور روسی ذرائع سے ملاقات کی۔ بریفنگ دی تھی تاکہ رہبری شوریٰ کو تجزیہ کرنے میں آسانی رہے۔ بہرحال جائے حادثے جو کہ ایسے مقام پر ہے۔ جہاں سے افغانستان میں بھی داخل ہوا جا سکتا ہے۔ ایسے کسی قسم کے شواہد کا نہ ملنا۔ معاملے کی پراسراریت میں اضافہ کرتا ہے۔ ان عوامل سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ان کو کہیں اور مار کر مذکورہ جگہ لایا گیا۔ واردات کی فرضی سٹوری تیار کی گئی اور ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستانی حکام کہہ چکے ہیں کہ ان کو واردات کی اطلاع سات گھنٹے بعد دی گئی۔ فرضی جائے واردات کی تیاری کے لئے سات گھنٹے کا وقفہ کافی ہوتا ہے۔ ابھی تک خطہ میں موجود کسی رڈار نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔ فضا میں کوئی ڈرون موجود تھا یا نہیں۔ بہرحال جلد یا بدیر اس پیچیدہ گتھی نے بھی ماضی کی طرح سلجھ ہی جانا ہے۔ اب آتے ہیں اس پیچیدہ عمل کی طرف۔ جس سے امریکی رویہ کی جانب۔ جس کی وجہ سے یہ خطہ ایک طویل عرصہ سے انتشار اور افراتفری کا شکار ہے۔ اوبامہ انتظامیہ نے پہلے تو یہ پالیسی دی کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال رہا ہے۔ لہٰذا اس نے اپنی فوج کی بڑی تعداد کو افغانستان سے نکال لیا۔ اب تقریباً دس ہزار کے قریب لڑاکا فوجی موجود ہیں جو کہ حفاظتی قلعو تک محدود ہیں۔ چین نے گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ وسطی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور اس سے آگے۔ وسطی یورپ کی مارکیٹوں تک چین کی براہ راست رسائی ہو۔ امریکیوں کی پالیسی رہی ہے کہ وہ براہ راست جنگ لڑنے کی بجائے پراکسی وار لڑتا ہے۔ مشرقی وسطی میں اس نے داعش کو اتارا۔ جبکہ چین کا مقابلہ کرنے کے لئے اس نے بھارت کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ چین کو نکیل ڈالنے کے لئے پاکستان کو بھی اپنی مٹھی میں رکھنا ضروری ہے۔ کمزور، بے بس اور پھڑپھڑاتا پاکستان امریکہ کی ضرورت ہے۔ لہٰذا پاکستان میں بھارت اور افغانستان کی معاونت سے دہشت گردی کا بازار گرم کیا گیا۔ تاکہ پاکستان اس آگ میں جلتا رہے اور اس کے احکامات کی تعمیل کرتا رہے۔ ادھر جب داعش بعض ازبک گروپوں کی معاونت سے افغانستان میں آئی تو طالبان کے بھی کان کھڑے ہوئے۔ طالبان کی قیادت سمجھتی ہے کہ داعش کو سعودی عرب اور امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ کئی ازبک گروپوں نے طالبان کے امیر سے بیعت ختم کر کے داعش کے امیر کی بیعت کر لی۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ طالبان سعودی عرب سے دور ہونا شروع ہوئے۔ انہوں نے متبادل اتحادی تلاش کرنے شروع کئے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کو اب ایران میں کئی سہولتیں حاصل ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے روس سے بھی براہ راست رابطے استوار کر لئے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی چار فریقی مذاکرات کے لئے ان کی معاونت کر رہا ہے۔ لیکن یہ بات سب کو حیران کن لگے گی کہ مذاکرات کا سب سے بڑا حامی امریکہ مذاکرات کے بالکل حق میں نہیں۔ وہ خطے میں اپنی موجودگی کے لئے انتشار اور تصادم کی صورت حال کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت کو مضبوط بنانے کے لئے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کی آفر۔ اسلحہ کے انبار۔ امدادی پیکیج۔ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کی پیش کش کر کے اس نے بھارت کے غبارے میں ٹھیک ٹھاک ہوا بھر دی ہے۔ امریکہ کی ایران کے ساتھ ماضی کی تلخیاں ختم ہو چکیں۔ اب وہ ایران، بھارت، افغانستان کی شکل میں ایک نیا علاقائی گروپ کھڑا کر رہا ہے۔ جو پاکستان کی پشت پر سوار رہے اور چین کو بھی مستقل آنکھیں دکھاتا رہے اور وہ خود اس افراتفری سے فائدہ اٹھا کر اپنے پنجے خطے میں مزید گھرے کر لے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو امریکی عزائم واضح ہیں۔ ملا منصور کو پاکستانی علاقے میں مار کر اس نے ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ پاکستان اور طالبان کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لے آیا ہے۔ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائی کر کے یہ علاقے تقریباً کلیئر کرا لئے ہیں۔ امریکہ اس افراتفری اور دہشت گردی کو قبائلی علاقوں میں اٹھا کر بلوچستان میں لے آیا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ پاک چین تعاون دوستی کی علامت سی پیک اور گوادر پورٹ کا مرکز بلوچستان ہے۔ پاک، ایران، انڈیا مجوزہ پائپ لائن کا روٹ بھی اسی صوبہ بلچستان میں ہے۔ امریکہ نے سازشوں کا جال بن کر پہلی مرتبہ تین اطراف سے پاکستان کا گھیراﺅ کر لیا ہے۔ صرف چین کے ساتھ سرحد محفوظ ہے۔ تاریخ کے اس دوراہے پر پاکستان کے سامنے یہ چیلنج آ کھڑا ہوا ہے کہ اب خارجہ پالیسی کو جمود سے نکال کر نئی راہیں تلاش کرنا ہیں۔ اس سے بڑا چیلنج اور کوئی نہیں۔

چوہدری نثار صاحب آپ نے درست کہا

اقرار نامہ

اقرار نامہ
چوہدری نثار صاحب آپ نے درست کہا
تفتان کی سرحد کے قریب افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی حالیہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا اور بہت غلط بیانیاں سننے کو ملیں۔
ٹیلی ویژن پر بیٹھے ہوئے پیرا ٹروپر اینکرز بہت زور زور سے ہمیں یہ بات بتانے میں مصروف تھے کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت دراصل امن مذاکرات کے موت ہے اور ملا منصور تو امن کا داعی تھا۔وہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اگر وہ امن کا داعی نہ ہوتا تو مری میں جولائی 2015میں ہونے والے چار رکنی براہ راست مذاکرات میں شرکت کیوں کرتا؟۔یہ دونوں باتیں غلط بیانی پر مبنی ہیں اور حقائق کے منافی ہیں۔چین، امریکہ، پاکستان اور افغانستان کے مری میں ہونے والے امن مذاکرات میں ملا اختر منصور نے کبھی بھی شرکت نہیں کی تھی۔ان مذکرات میں طالبان کی طرف سے ملا محمد عباس، ملا عبد الجلیل اور ملا عبد الطیف منصور نے شرکت فرمائی تھی۔
جہاں تک ملا اختر منصور کی امن مذاکرات کے بار ے میں رائے کا خیال ہے تو اس کے پہلے بیان جو اس نے طالبان کا امیر بننے کے بعد دیا تھا سے پتہ چل جاتا ہے کہ و ہ کس حد تک امن کا داعی تھا۔ملا اختر منصور نے اپنے پہلے بیان سے لیکر آخر ی بیان تک صرف یہ کہا کہ جنگ جاری رہے گی۔پاکستان کی ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ امن مذاکرات کے لئے تیار نہ ہوا۔
ملا اختر منصور نے اپنے دور اقتدار میں افغانستان کی جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا اور طالبان کی تاریخ میں قندوز کے فاتح کے طور پر ہمیشہ جانا جائے گا۔ملا منصور کی قیادت میں افغان طالبان نے افغانستان کے تقریباََ18صوبوں میں ’’رات کی حکومت‘‘قائم کر دی تھی ۔وہ ایک جنگجو تھا اور صرف جنگ پر یقین رکھتا تھا۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ ملا اختر منصور امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں اسی رو ز مارا گیا جس روز اس کی اور ڈرائیور کی لاش اس ٹیکسی میں ملی جو حملے سے مکمل تباہ ہو چکی تھی،تو اس بار ے میں بہت سے سوالات یقیناًاٹھتے ہیں۔سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ لاشیں مکمل طور پر جل چکی تھیں اور ٹیکسی کا لوہا پگھل چکا تھا مگر ٹیکسی سے کچھ فاصلے پر ملنے والے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ اپنی اصل حالت میں تھے۔اس سوال کا جواب دینے کو کوئی تیار نہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔میرے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خود یہ کہا کہ وہ ابھی بھی حیر ت میں مبتلا ہیں اور یہی سوال وہ اپنے پورے عملے سے کر چکے ہیں مگر کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بات یقینی طور پر مثبت تھی کہ چوہدری نثار نے خندہ پیشانی سے ناصرف میڈیا سے بات کی بلکہ انتہائی اہم اور معقول گفتگو بھی کی۔جبکہ ہمار ا وزارت خارجہ کہیں دور چھپ کر بیٹھا ہو ا تھا اور واقعہ کے تین دن بعد جبکہ طالبان نے اپنا نیا امیر مقرر کر لیا تھا تب بھی ہمار اوزارت خارجہ خاموش تھا۔آخر کار تقریباََساڑھے تین دن بعد سر تاج عزیز صاحب میڈیا کے سامنے جلوا افروز ہوئے اور کہا کہ اب انہیں یقین ہے کہ ملا اختر منصور مر چکا ہے۔
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
اس واقعہ نے پوری دنیا میں ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ دہشت گرد پاکستان میں مختلف ناموں اور شناختوں کے ساتھ رہتے ہیں اور شاید ہمیشہ رہتے رہیں گے۔پچھلے 35سالوں میں پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی لوٹ سیل نے اس ملک کو بدنامی کے سوال کچھ نہیں دیا۔دنیا بھر میں پکڑے جانے والے پیشہ ور غنڈے، سمگلرز، انسانی سمگلنگ کرنے والے گروہ اور ناجائز اسلحہ کا کاروبار کرنے والے جب بھی پکڑے جاتے ہیں تو ان سے پاسپورٹ پاکستانی ہی بر آمد ہوتا ہے چاہے وہ افغان ہوں یا عرب۔عرب میڈیا کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ فلسطینی ،شامی ، عراقی اور سوڈانی پاکستانی پاسپورٹ خرید چکے ہیں اور بہت سوں نے تو پاکستانی شہریت بھی خرید رکھی ہے کیونکہ پاکستان میں سب بکتا ہے اور شاید سب بکتے ہیں۔
ہمیں پاسپورٹوں اور شناختی کارڈوں کی صفائی کہیں نہ کہیں سے شروع کرنی ہے ۔چوہدری نثار صاحب کے فیصلے پر منفی سوچ رکھنے کی بجائے مثبت طریقے سے ان کی مدد کرنی چاہئے۔ نئے شناختی کارڈ کے اجراء کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں کہ ہم اپنے ڈیٹا بیس کو صاف کر سکیں۔مگر یہ بات بہت اہم ہے کہ اگر حکومت پانامہ لیکس میں کرپشن کے خلاف صفائی 1947سے شروع کرنا چاہتی ہے تو اسے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ڈیٹا بیس کی صفائی بھی کم سے کم 1979سے شروع کرنی چاہئے۔کیونکہ 1979کے بعد ہم نے یہ ملک مسلما ن افغان اور عرب بھائیوں کے لئے کھلا چھوڑ دیا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ ایک سابق جرنیل جو آئی ایس آئی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کے دروازے مہاجرین کے لئے کھول دیئے تھے اور ہمیں نہیں معلوم کہ کون کون مہاجرین کی شکل میں پاکستان میں داخل ہوا۔میں ان کے اس انٹرویو پر صرف افسوس ہی کر سکتا تھا کہ جرنیل صاحب اپنے گھر کے دروازے کھول کر ہر کسی کو اس میں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔ اگر نہیں تو کیا وہ پاکستان کو اپنا گھر تسلیم نہیں کرتے؟۔
شناختی کارڈوں کی صفائی اتنا مشکل کام بھی نہیں جتنا سمجھا رہا ہے ۔جن لوگوں پر شک ہو کہ وہ افغان ہیں اور اب پاکستانی بن چکے ہیں ان سے 1976کے زمانے کی زمین یا مکان کی ملکیت کے کاغذات پوچھے جا سکتے ہیںیا تعلیمی ریکارڈ معلوم کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ 1976میں بنائے گئے راشن کارڈ کے ریکارڈ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔میں چوہدری نثار صاحب کے اس بیان کی تائید کرتا ہوں کہ کام مشکل ضرور ہے مگر ملکی سالمیت اسی کام میں چھپی ہے۔اگر ہم یہ کام نہیں کریں گے تو پھر ہر روز پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں ذلت ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔۔۔۔۔ چوہدری صاحب۔۔۔۔۔ دیر آید درست آید
آغا اقرار ہارون گزشتہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

پاک افغان تعلقات: حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

اقرار نامہ
پاک افغان تعلقات: حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
افغانستان کے صدرمحمد اشرف غنی نے گزشتہ جمعرات کو یورپ کے سب سے پرانے تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ(آریوایس آئی) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو آج جتنے مسائل بھی درپیش ہیں ان کا ذمہ دار پاکستان ہے۔
اشرف غنی نے یہ دعوی کیا کہ افغانستان میں دہشت گردی کا بیج پاکستان نے بویا ہے اور اس وقت بھی پاکستان طالبان کی قیادت کو پناہ دئیے ہوئے ہے۔افغان صدر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی حتی الامکان کوشش ہے کہ کابل حکومت کونہایت کمزور کرکے امن و امان اور ترقی کے راستے کو روکا جائے۔انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں کیو نکہ ان کی ’’امن کا گہوارہ اور سرسبز و شاداب سرزمین‘‘کو بنجر بنانے اور خون میں نہلانے کا ذمہ دار پاکستان ہیں۔
افغان صدر کے اس سخت ترین بیان اور پاکستان مخالف ہر زہ سرائی کے باوجود آج تک پاکستان کی وزارت خارجہ نے اشرف غنی کے اس بیان کا نہ تو کوئی جواب دیا ہے اور نہ ہی کسی بھی جگہ اس کی مذمت کی ہے۔وزارت خارجہ کا یہ رویہ انتہائی حیران کن اور پریشانی کا باعث ہے۔ایک طرف تو اشرف غنی دنیا کے ہر فورم پر تصویر کشی کر رہے ہیں کہ پاکستان ظالم ہے ،دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے اور افغانستان کے تمام حالات کا ذمہ دار ہے اور دوسری طرف ہماری خاموشی دنیا کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ اشرف غنی کے الزامات شاید درست ہیں کیونکہ اگر یہ غلط ہوتے تو پاکستان کی طرف سے کوئی مناسب جواب سامنے آتا۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب افغانستان کے صدر نے اپنے ملک میں جاری دہشت گردی کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا،تاہم اس بار انہوں نے براہ راست پاکستانی افواج کو نشانہ بنایا اور دعوی کیا کہ انہوں نے راولپنڈی میں قائم آرمی کے ہیڈ کوارٹر میں پاکستانی افواج کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقات میں طالبان کے کوئٹہ اورپاکستان کے دوسرے علاقوں میں موجودگی سے متعلق دستاویزی ثبوت پیش کئے تھے لیکن باوجود اس کے عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔اشرف غنی نے بلاواسطہ طور پر الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجودہ امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان ہے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ طالبان کی قیادت کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
اشرف غنی نے یہ تقریر افغانستان کی پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں کی اور یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آریوایس آئی ایک خود مختار دفاعی اور سیکورٹی تھنک ٹینک ہے جو کہ 1831میں پہلے ڈیوک آف ویلنگٹن سر آرتھر ولزلی نے قائم کیا تھا۔اس انسٹی ٹیوٹ کو یورپ کے سب سے پرانے تھنک ٹینکس میں شمار کیا جاتا ہے جہاں عالمی سطح پر دفاع اور سیکورٹی کے مسائل اور موضوعات پر تعمیری، سنجیدہ اور سیر حاصل گفتگو کی جاتی ہے۔
مجھے اب بھی یاد ہے رواں سال 6مارچ کو افغانستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدراشرف غنی نے کہا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کا آغاز کر رکھا ہے۔پھر اپریل کی آخری ہفتے میں افغان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے طالبان کے ساتھ مذکرات کی ناکامی کی وجہ پاکستان کو قرار دیا تھا۔تاہم پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان صدر کے ان الزامات کر رد کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پر عزم ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔افغانستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے کی گئی پاکستان کی کوششوں کے بارے میں کابل حکومت کو یاد دہائی بھی کروائی گئی تھی کہ اگرچہ پاکستان نے ہی افغان حکومت اور طالبان کے مابین پہلے براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی لیکن عسکریت پسندوں کو مذکرات کی میز پر لانے کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ہی عائد نہیں ہوتی۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے دفتر خارجہ کا مندرجہ بالا ردعمل بھی کمزور اور محض وضاحتی بیان تھا۔ پاکستان کی یہی کمزوری اس کے دشمنوں کو موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ اشرف غنی جیسے آلہ کار کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔اگردیکھا جائے تو پچھلے 40سالوں میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی بجائے صرف اور صرف افغانستان کے اچھے مستقبل کے بارے میں سوچا ہے جبکہ افغانستان سے پاکستان کے لئے کبھی خیر کی خبر نہیں آئی۔
تاریخی طور پر پاکستان کو افغانستان کی طرف سے مہاجرین، منشیات، کلاشنکوف اور فر قہ واریت کے علاوہ کچھ نہیں ملا اور پاکستان کے معاشرے کی بگڑی ہوئی شکل جو آج ہم دیکھتے ہیں ،دراصل پاکستان کی 40سالہ خارجہ پالیسی کا شاخ سانہ ہے ۔ابھی تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے پاکستان افغانوں کے لئے حاصل کیا تھا اور خدانخواستہ کہیں یہ وطن عزیز افغانوں کی نظر ہی نہ ہو جائے۔
میری نظر میں پاکستان ایک شیرکا دل رکھتا ہے جو کہ نا صرف افغان حکومت کے بے بنیاد الزامات کو برداشت کرتا ہے بلکہ وہاں امن و امان کے قیام اور خوشحالی کے لئے خلوص نیت سے اپنی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ پاکستان ایک ایسی آماجگاہ بن چکا ہے جو ہر وقت غیروں کو بھی خوش آمدید کہنے کے لئے اپنی بانہیں پھیلائے کھڑا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی کا مقصد صرف افغانوں کو خوش کرنا ہے۔
میں زمانہ طالب علمی سے ہی عظیم مفکر، فلسفی اور شاعر ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا گرویدہ رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ دوران تعلیم میں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے شعبے کا انتخاب کیا اور اب جب میں پاکستان اور افغانستان کے دہائیوں پر محیط دو طرفہ تعلقات اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ مختلف طرح کے برتاؤ کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس عظیم شاعر کے مجموعہ کلام بانگِ درا کی ایک نظم’’ غلام قادر روہیلہ‘‘یاد آتی ہے جس میں انہوں نے مغلوں کے زوال کے وقت کے ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا تھا کہ کیسے ایک قوم اپنی عزت کھو دیتی ہے اور اپنی غیرت کا سودا کر دیتی ہے۔
مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر
حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے
کیا آج ہم بھی ایک خود مختار ملک کے باسی ہونے اور ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنا وقار، انا اور قدر ومنزلت کھو چکے ہیں؟کیا ہمارے اندر غیرت ختم ہو چکی ہے؟کیا ہم فکر و جستجو کی صلاحیت کھو چکے ہیں؟اگر ایسا نہیں ہے تو کیوں ہم افغانستان کے بے بنیاد الزامات کا مناسب جواب نہیں دیتے اور سب سے پہلے پاکستان کا نہیں سوچتے؟۔ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کے اغراض و مقاصد پر نظر ثانی کرنی ہو گی ۔اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار اور اچھے تعلقات کی خواہش اور اس کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی کو مرتب کرنا اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کہیں ’’برادر اسلامی ملک‘‘ کرتے کرتے ہم اپنا پیار ا وطن ہی نہ کھو دیں۔وہی قومیں ہمیشہ سرخرو اور تابندہ رہتی ہیں جو اپنی عزت و وقار کو داؤ پہ نہیں لگاتیں بلکہ دوسروں کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی عظمت اور مفادات کو مقدم رکھتی ہیں۔
آغا اقرار ہارون گزشتہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

کاسا 1000منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

CASA1000 map

کاسا 1000منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا، وزیر اعظم نوازشریف کی طرف سے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے پاکستان کے مکمل عزم کا اظہار
دوشنبہ، تاجکستان(ڈی این ڈی): تاجکستان، کرغستان، افغانستان اور پاکستان کے باہمی اشتراک سے توانائی کے منصوبے کاسا 1000کا باقاعدہ سنگ بنیاد جمعرات کے روز دارلحکومت دوشنبہ کے قریبی شہر تورسونزادہ میں رکھ دیا گیا جس میں وزیر اعظم نواز شریف، تاجکستان کے صدرامام علی رحمان ،افغانستان کے چیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ اورکرغزستان کے وزیر اعظم سورن بے جینباکوف نے شرکت کی۔
کاسا 1000منصوبے کی پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک تجارتی اور توانائی کی راہداریوں سے منسلک ہو جائیں گے جس کے جلد سماجی اور اقتصادی ثمرات سامنے آئیں گے۔
وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ کاسا 1000 منصوبے سے تمام فریقوں کویکساں فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس منصوبے سے نہ صرف معاشی ،سماجی اورماحولیاتی فوائدحاصل ہونگے بلکہ بجلی کی قلت کم ہوگی۔روزگارکے مواقع پیدا ہونگے اورخطے میں کاروباری سرگرمیوں بہتری آئے گی۔انہوں نے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے پاکستان کے مکمل عزم کااعادہ بھی کیا۔
علاوہ ازیں وزیراعظم نے کہاکہ اس منصوبے سے علاقائی ہم آہنگی اورمنصوبے میں شامل ملکوں کے درمیان دوستی کوفروغ دینے میں بھی مددملے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ بات انتہائی خوشی کاباعث ہے کہ اس منصوبے پر کئی سال کے غورکے بعدہم عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔
گزشتہ دنوں لاہوراوردوشنبے کے درمیان پروازوں کے آغاز کاخیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اس سے نہ صرف بہترسفری سہولتیں میسرآئیں گی بلکہ اقتصادی تعلقات اورسیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
اس موقع پر تاجکستان اورافغانستان کے رہنماؤں نے بھی اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ کاسا 1000 منصوبے سے اقتصادی ہم آہنگی کوفروغ حاصل ہوگا اورخطے میں خوشحالی آئے گی جبکہ عالمی بنک کے نمائندے کا کہنا تھا کہ بنک منصوبے کیلئے امداد فراہم کریگا جس سے سستی اورماحول دوست بجلی پیدا کرنے میں مددملے گی۔
تقریباََ 117ارب روپے کی لاگت سے بننے والا کاسا 1000منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا آزمائشی منصوبہ ہے جس سے پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور کرغستان کے درمیان بجلی کی ترسیل ہوگی۔ منصوبے کے تحت تاجکستان اور کرغزستان پاکستان کو 1000جبکہ افغانستان کو 300 میگاواٹ بجلی فراہم کریں گے۔بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کا 16 فیصد حصہ تاجکستان، 75 فیصد افغانستان اور 9 فیصد پاکستان سے گزرے گا جبکہ منصوبہ 2018 تک مکمل ہوگا۔
کاسا 1000منصوبے کی سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کے لئے وزیر اعظم نواز شریف وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی خواجہ آصف اورمعاون خصوصی طارق فاطمی کے ہمراہ بدھ کے روز دوروزہ سرکاری دورے پرتاجکستان پہنچے تھے۔وسطی ایشیائی ریاست پہنچنے پر پاکستانی وفد نے کولوب میں عظیم صوفی بزرگ، مسلم سکالر، شاعر اور مبلغ میر سید علی ہمدانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان کے مزار پر حاضری بھی دی۔بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف نے دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت و توانائی سمیت مختلف شعبوں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سی پیک کی افادیت کو کم کرنے لئے بھارت ، افغانستان اور ایران کا نئی راہداری تعمیر کرنے کا فیصلہ

سی پیک کی افادیت کو کم کرنے لئے بھارت ، افغانستان اور ایران کا نئی راہداری تعمیر کرنے کا فیصلہ

سی پیک کی افادیت کو کم کرنے لئے بھارت ، افغانستان اور ایران کا نئی راہداری تعمیر کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈی این ڈی): بھارت نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو ایرانی بند ر گاہ چاہ بہار کے راستے دنیا بھر سے تجارتی طور پر منسلک کرنے کے لئے ایک نئی اقتصادی راہداری کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے جس کا بظاہر مقصد 46ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی افادیت کو محدود کر کے پاکستان کو اس کے کثیر الجہتی فوائد سے محروم کرنا ہے۔
یہ فیصلہ 27اپریل کو نئی دہلی میں افغانستان سے متعلق منعقدہ ڈائر یکٹر جنرل اور جوائنٹ سیکرٹری کی سطح کے بھارت ایران اور افغانستان سہ فریقی مشاورت کے پہلے دور میں کیا گیا۔فیصلے کے مطابق راہداری کی تعمیر کے لئے بھارت تقریباََ500کروڑ روپے افغانستان کو مہیاکر ے گااو ر یہ منصوبہ دو سال کی قلیل مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔
ذرائع نے بتا یا کہ مشاورت کے نتیجے میں جس نئے اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا اس کے تحت بھارت ایک نئی سڑک بنانے میں افغانستان کو مالی و دیگر معاونت فراہم کرے گا جو افغانستان کے صوبہ ہرات کو لیمان، بالامرغب اور مہمانے سے ہوتی ہوئی شبر گان اور پھر مزار شریف کو ملائے گی۔یہ سڑک وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے قریب سے گزرے گی جہاں پر افغان حکومت مضبوط ہے اور طالبان ابھی بھی وہاں اپنا اثرورسوخ قائم نہیں کر سکے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت پہلے ہی افغانستان میں 600کروڑ بھارتی روپوں سے 200 سے زائد کلومیٹر لمبی سڑک تعمیرکر چکا ہے جبکہ ہرات سے ایک بڑی سڑک پہلے ہی چاہ بہارتک جاتی ہے ۔
نئی سڑک جس کی تعمیر کے لئے بھارت افغانستان کو اپنے انجینئرز بھی فراہم کرے گا ہرات کو مزار شریف سے ملائے گی ۔چونکہ تمام وسطی ایشیائی ریاستیں پہلے ہی سڑکوں کے جال کے ذریعے مزار شریف سے منسلک ہیں لہذا یہ راستہ تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے ایران بندر گاہ چاہ بہار تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قریب ترین ہو گا۔
اس سے پہلے بھارت اور ایران افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ شمال جنوب راہداری (North-South Corridor) کے ذریعے منسلک ہیں مگر یہ راستہ بہت طویل ہے ۔ یہ راستہ ایران کے شہر مشہد سے ترکمانستان میں داخل ہو تا ہے اور پھر مارو سے ازبکستان کے شہر بخارہ سے ہوتے ہوئے تاشقند جاتا ہے۔اگرچہ یہ راستہ ایرانی بندر گاہ چاہ بہار کو ترکمانستان، ازبکستان، قزاقستان اور کرغستان سے ملاتا ہے مگر تاجکستان اس راستے سے براہ راست مستفید نہیں ہوتا اور تاجک تاجروں کو یاتو کرغستان سے گزر کر اس راستے پر آنا ہوتا ہے یا پھر ازبکستان سے گزرنا پڑتا ہے۔
شمال جنوب راہداری کے طویل ہونے کی وجہ سے تاجروں کو ناصرف اپنے سامان کی نقل و حمل میں بہت پیسہ خرچ کرناپڑتا ہے بلکہ اس دوران کئی دن بھی لگ جاتے ہیں کیونکہ ہر وسطی ایشیائی ریاست کی سرحد پر مال کو چیک کیا جاتا ہے۔
تاہم بھارت کے تجویز کردہ نئے منصوبے سے نا صرف تمام وسطی ایشیائی ممالک براہ راست چاہ بہار بندگاہ سے منسلک ہو جائیں گے بلکہ تاجروں کو سامان کی نقل و حمل کے لئے صرف افغانستان سے ہی گزرنا ہو گا۔
باثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بھارت تقریباََ500کروڑ روپے اس نئے راستے کے لئے افغانستان کو مہیاکر ے گااو دو سال کی قلیل مدت میں یہ سڑک بنالی جائے گی جس پر ہر طرح کی ٹریفک ہر موسم میں رواں دوں رہے گی۔
شمالی جنوب راہداری کی طوالت اور دیگر مسائل کی وجہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں نے چین پاکستان اقتصادی راہدار ی کے تحت گوادر بندر گاہ کے استعمال میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنا شروع کر دی تھی مگر بھارت کی کامیاب سفارتی اور تجارتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان سی پیک کے بیشتر فوائد سے محروم ہو سکتا ہے۔
بھارت کی معاونت سے وسطی ایشیاء کو افغانستان اور ایران کے راستے دیگر دنیا سے منسلک کرنے کے لئے بننے والی سڑک ناصرف سی پیک کی نسبت مختصر اور آسان راستہ ہے بلکہ یہ زیادہ محفوظ بھی ہے۔منصوبے کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری شورش زدہ بلوچستان اور طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کے مغربی علاقوں سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیاء میں داخل ہو گی لہذا اس منصوبے کے تحفظ اور وسطی ایشیاء تک رسائی کی تکمیل کے بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

ازبکستان علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے،سفیر

DSC_0554

ازبکستان علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے،سفیر
اسلام آباد(ڈی این ڈی): پاکستان میں تعینات ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقو ونے کہا کہ ازبکستان علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے اور دنیا کو درپیش دیگر خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
یہ بات انہوں نے ڈسپیچ نیوز ڈیسک (ڈی این ڈی) نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی۔
ازبک سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ تجارت، معیشت ، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں سمیت باہمی مفادپر مبنی تعلقات کو توسیع دینے میں بہت دلچسپی رکھتا ہے۔
فرقت صدیقو و پاکستان کے سرمایہ کاروں ، تاجرون اور صنعت کاروں کو دونوں ممالک کے بے مثال تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ازبکستان میں سرمایہ کاری اور دیگر منصوبوں کے اجراء کے لئے دستیاب بے پناہ وسائل اور مواقعوں سے مستفید ہونا چاہئے۔
ازبکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری افراد اور کسان ازبکستان میں تیار کردہ اعلیٰ معیار کے ٹریکٹرز، زرعی مشینری، ہیوی ڈیوٹی ٹرک اور بسیں در آمد کر کے اپنے ملک میں زرعی پیداوار اور نقل و حمل کی سہولیات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان خطے میں سیاحت کے میدان میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے ،لہذا پاکستان افراد کے لئے اس وسطی ایشیائی ریاست میں سیاحت کے کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے وسیع مواقع بھی موجود ہیں۔
گزشت سال نومبر میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے دورہ تاشقند سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقو وکا کہنا تھا کہ ان کا دورہ بہت کامیاب رہا تھا جس سے دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوا۔انہوں نے کہاکہ دورے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور ازبکستان کے صدر اسلام کریموف کے درمیان خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہونے والی ملاقات بہت موثر اور تعمیری رہی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اورعالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیاتھا۔
فرقت صدیقو و نے رواں سال جنوری میں پاک ازبک فورم کے قیام کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان کاروبار، تعلیم اور فنون لطیفہ جیسے شعبوں میں دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاک ازبک فورم کے تحت مختلف پروگرامز جیسے کہ نمائشوں ،لیکچرز اور دونوں ممالک کے کاروبار، تعلیم اور فنون لطیفہ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادکے دوروں کا انعقاد کیا جائے گا۔علاوہ ازیں آرٹ اور ثقافتی ترقی کے لئے مشترکہ منصوبے بھی پروگرام میں شامل ہیں۔
ازبکستان کی معیشت اور انسانی ترقی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر نے بتایا کہ ازبکستان گزشتہ 11سال سے شرح نمو آٹھ فیصد برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سال بجٹ میں کل اخراجات کا59.1فیصد سماجی شعبے کے لئے جبکہ تعلیم کے لئے 33.7فیصد مختص کیا گیا ہے۔اسی طرح گزشتہ سال کی نسبت رواں سال تعلیمی شعبے میں مزید بہتری لانے کے لئے 16.3فیصد اضافی رقم مختص کی جائے گی ۔
ازبک سفیر کا کہنا تھاکہ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے وہاں بہتر کاروباری مواقع پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ازبکستان میں 4200سے زائد غیر ملکی کاروباری اداروں بشمول جنرل موٹرز، مین، مرسڈیز بینز، اسوزو موٹرز، سی این پی سی، پیٹروناس، ایل جی ، گیز پروم، لک آئل، نیسلے، کوکا کولا ،برطانوی امریکن ٹوبیکواورکارلسبرگ نے اپنی صنعتیں قائم کرر کھی ہیں اور سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ازبکستان کے قدرتی ذخائر کے متعلق بات کرتے ہوئے فرقت صدیقو و کا کہنا تھا کہ ازبکستان میں 100سے زائد اقسام کے معدنی وسائل اور 2800سے زائدذخائر موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ازبکستان دنیا کے پہلے 10ممالک میں شامل ہیں جہاں بڑی تعداد میں سونے کے ذخائر، قدرتی گیس، یورینیم، چاندی، تانبااور دیگر قیمتی اور نایاب دھاتیں موجود ہیں۔ ازبکستان ان قدرتی ذخائر کا بر آمد کنندہ بھی ہے۔