کیا واقعی صرف عوام ذمہ دارہے؟

roznama-taqat

article april 29

کیا واقعی صرف عوام ذمہ دارہے؟
اقرار نامہ
پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف ڈرامہ سیریل ’’دھواں‘‘کے خالق عاشر عظم کی تحریر کردہ فلم ’’مالک‘‘ 18اپریل کوپاکستان بھر میں ریلیز ہوئی مگر 27اپریل کو حکومت پاکستان کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا اور فلم پر پابندی لگا دی گئی۔
سیاست کے موضوع پر بنی سسپنس سے بھر پور فلم ایک نجی ادارے نے بنائی تاہم فلم کے کچھ مناظر کی عکس بندی کے لئے افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے بھی مدد حاصل کی گئی۔باوثوق ذرائع کے مطابق یہ فلم نہ تو آئی ایس پی آر کی جوائنٹ پروڈکشن ہے اور نہ ہی اس فلم کے لئے پاک فوج کے ادارے نے کوئی مالی معاونت فراہم کی بلکہ اس کا کردار صرف کچھ فلمی مناظر کے لئے مدد فراہم کرنے تک محدود رہا۔
’’مالک ‘‘18اپریل کو ملک بھر کے سنیما گھروں کی زینت بننے کے چند دن بعد ہی وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے تحت پابندی کا شکار ہو گئی۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ پابندی کی وجہ فلم کے مناظر نہیں بلکہ فلم کے فلسفے کی بنیاد ہے جس کے مطابق پاکستان کے جمہوری اداروں میں ملک اور معاشرے کے دشمن موجود ہیں اور ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ غنڈہ اور بد معاش شخص ہے اور اسے اس کا محافظ اسی طرح قتل کر دیتا ہے جیسے کہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ ممتاز قادری نے جنوری 2011میں قتل کر دیا تھا۔
فلم کو سنسر بورڈ نے پاس کیا جس میں اسکرینینگ کے وقت صر ف پانچ اراکین کو بلا یا گیا،سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا گیا اور فلم سنیما ہالوں میں نمائش کے لئے پیش کر دی گئی ۔فلم بینوں کے دماغ میں جمہوری اداروں کے بارے میں سوالات ابھرے اور پھر فلم کو پابندی کی نظر کر دیا گیا۔
فلم پر تنقید کرنے والوں کاموقف ہے کہ یہ فلم جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے لئے بنائی گئی ہے جبکہ فلم بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کا منظر نامہ ہے۔
فلم کے حق اور مخالفت میں بہت سے دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں مگر یہاں دلائل دینا مقصود نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ فلم پر پابندی کی کیا ایسی وجوہات ہو سکتی ہیں جو ہمیں شاید آنے والے وقت میں پتہ چلیں۔
فلم اس وقت ریلیز کی گئی جب پاکستان میں ایک بار پھر جمہوری اداروں اور افواج پاکستان کے درمیان ایک تناؤ محسوس کیا جارہا ہے مگر یہ تناؤ نظر نہیں آرہا۔محسوس کرنے والے اس تناؤ کو مزید محسوس کرتے ہیں جب وہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی حالیہ تقریر کا متن بار بار پڑھتے ہیں۔اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے کچھ جوابات طلب کئے ہیں جس کا تعلق 1999کے زمانے سے ہے جب بے بنیاد الزامات کی بناء پر جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور منتخب وزیر اعظم کو پہلے جیل اور بعد میں ملک بد ر کر دیاگیا۔لگتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے زخم پھر سے ہرے ہو رہے ہیں اور وہ پھر سے درد محسوس کررہے ہیں۔
اداروں میں تناؤ کی کیفیت بڑھتی ہوئی محسوس کی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کرپشن کا مسئلہ، سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات اور جمہوری اداروں پر میڈیا کی سخت تنقید جیسے معاملات کو ایک سازش تصور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد شاید جمہوری اداروں کی بساط پھر سے پلٹنا ہے۔بالخصوص جمہوری ادارے ایسا اس لئے محسوس کررہے ہیں کیونکہ وہ یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں کہ سیاستدان کرپٹ ہیں اور جمہوری ادارے ایسے افراد کو طاقت اور تلوار فراہم کر رہے ہیں۔سیاست دان اور جمہوری ادارے یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ ملک میں جرائم، لاقانونیت اور غربت کے پیچھے کسی بھی سیاست دان یا پارلیمان میں براجمان افراد کا ہاتھ ہے۔
دوسرے طرف افواج پاکستان نے جب کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کی تو فوری طور پر اپنے حاضر سروس جرنیلوں، بریگیڈیروں سے لیکر میجروں تک کو گھر بھیج دیااور ایک پیغام دیا کہ ہم بات ہی نہیں کرتے بلکہ کرکے دکھاتے بھی ہیں۔مگر گھر بھیجنے سے آگے کیا اقدامات کئے جائیں گے اس کے بارے میں معلومات آنا ابھی باقی ہیں۔
’’مالک‘‘فلم دیکھنے والوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ملک میں کرپشن اور جرائم کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاست دان موجود ہوتا ہے ۔یہ پیغام سخت ہی نہیں ہے بلکہ ایک طویل بحث کا متقاضی بھی ہے اور ملک کے موجودہ حالات کا ذمہ دار صرف سیاستدانوں کو ٹھہرانہ اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے دریاؤں کا پانی جنوب سے شمال کی طرف بہتا ہے۔
دہشت گردی اور انتہاپسندی کا تحفہ تو ہمیں غیر جمہوری حکومتوں سے ملا جبکہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے ٹولے غیر جمہوری حکومتوں نے داخل کئے اورا نہیں مکمل تحفظ بھی فراہم کیا۔خیبر سے لیکر کراچی تک افغان دہشت گرد کلچر کو مدعو کیا گیااور یہ ملک دنیا بھر کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا دیا گیا۔کرپشن، دہشت گردی اور غنڈہ گردی کو جمہوری اور غیر جمہوری دونوں حکومتوں نے تحفظ دیا مگر ’’مالک‘‘فلم میں بات صرف جمہوری اداروں کے خلاف کی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فلم کو جمہوری ادارے ایک سازش کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو پڑوسی ملک بھار ت میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فلمیں ایسی بنی ہیں جن میں جمہوری اداروں اور سیاستدانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ملک میں لاقانونیت ،کرپشن اور غنڈہ گردی کی وجہ سیاست دانوں کو قرار دیا گیاہے۔مگر بھارت میں ایسی فلمیں چل سکتی ہیں کیونکہ وہاں جمہوری ادارے اپنے آپ کو مضبوط اور محفوظ سمجھتے ہیں اور کسی خوف کا شکار نہیں۔اس کے برعکس پاکستان میں چونکہ جمہوری اداروں کو ماضی میں اس قدر نقصان پہنچایا گیا کہ سیاستدان اب چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔
جمہوری ادارے اگرچہ خوف کا شکار ہیں مگر سیاست دان پھر بھی کرپشن اور غنڈ ہ گردی سے بعض نہیں آتے۔ہمارے سامنے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ کسی بھی علاقے کے تقریباََہر غنڈے کے پیچھے پولیس اور سیاستدانوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور معاشرے کو تباہ کرنے والے عناصر اپنی طاقت کسی نہ کسی طریقے سے جمہوری ایوانوں سے حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان میں بقول سیاست دانوں کے ان کا دامن بالکل صاف ہے جبکہ دوسرے ادارے بھی اپنی معصومیت کا پرچار کرتے ہیں۔ لیکن اگر سب ہی صاف اور معصوم ہیں تو اس ملک کی عوام جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کرنے پر کیوں مجبور ہے جہاں نہ تو کسی کی بچی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی اس کی جمع پونجی۔
کیا پاکستان میں دہشت گردی ، انتہاپسندی ، لاقانونیت ، غربت، جہالت اور افلاس کسی دوسرے خطے کے حکمرانوں نے بھیجی ہے اور ہم نے اسے قبول کیا ہے؟
پاکستان جو کہ دنیا میں انسانی ترقی کے 140اور 130نمبروں کے درمیان کھڑا رہتا ہے سب سے بڑا شکار اس رویے کا ہے جس کے تحت ہم سب اپنی غلطیاں چھپاتے ہیں اور اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔چاہے وہ شخص ایک چپڑاسی ہو یا سیاست دان یا وردی والا۔ہم اپنی غلطی کی ذمہ داری دوسروں پر تھونپنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور اندر سے اپنے آپ سے بھی ڈرے ہوئے ہیں اور ایک فلم بھی ہمیں ڈرانے کے لئے بہت ہوتی ہے۔معاملہ صرف ’’مالک‘‘فلم کا نہیں ہے بلکہ ہمارے رویوں کا ہے اور ایسا معاشرہ زیادہ دیر چلتا نہیں۔
اگر ہمارے سب ادارے ہی بر ی الذمہ ہیں تو پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے؟دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں یہ سوال کرنا بھی خطر ے سے خالی نہیں ہے کہ آج کے پاکستان کے حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
ریاستی ادارے اگر ذمہ دارنہیں تو کیا عوام ذمہ دار ہے؟و ہ عوام جسے تھانے میں ذلیل کیا جاتا ہے، جو عدالتوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتی ہے،ہسپتالوں میں پانی اور دوائی کی عدم دستیابی سے جن کے بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی رخصت ہو جاتے ہیں یا جن کی بچیاں’’ طاقتور اشرافیہ‘‘ کی ہوس کا شکار ہو جاتی ہیں۔
کیا واقع صرف عوام ذمہ دار ہے؟
آغا اقرار ہارون گزشہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

”اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا“

 ایڈووکیٹ زماں جان کی یاد میں“                                                                                       حمید اللہ وزیر”

حمید اللہ وزیر
حمید اللہ وزیر

”اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا“

دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے لیکن اس تلخ حقیقت کو دل سے تسلیم کرنے کے لئے ہم کسی صورت تیار نظر نہیں آتے،باوجود اسکےکہ آئے روز ہم اپنے عزیز واقارت اور دوست احباب میں سے کسی نہ کسی کے جنازے کو کندھا دیتے رہتے ہیں۔
ہم دنیاوی معاملات میں اس قدر الجھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اپنے والدین، بہن بھائی، عزیز واقارت اور دوست احباب کیا بعض اوقات تو ہمیں اپنے آپ کا بھی پتہ نہیں ہوتا کیونکہ ہم نے صدیوں پر محیط منصوبہ بندی کی ہوئی ہوتی ہے اور اسی دوڑ دھوپ میں اوپر سے بلاوا آجا تا ہے اور یوں عارضی زندگی کا سفر ختم ہو کر ایک نہ ختم ہونے والی زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ہمارے سارے کے سارے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں لیکن اس میں سیکھنے کے لئے ہمارے لئے پھر بھی کچھ نہیں ہوتا اور سراب کے پیچھے بھاگنے کا سفر ہمارا یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
ہمیں اس بات کا ادراک بھی ہے کہ دنیا میں آنا ایک ترتیب سے ہے لیکن دنیا سے جانے کے لئے قدرت نے ایک الگ ہی پیمانہ رکھا ہوا ہے جسے انسان سمجھنے سے قاصر ہے۔کیونکہ آئے روز ہم دیکھتے ہیں کہ والدین زندہ ہوتے ہیں اور ان کے لخت جگر اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں،بیمار زندگی کی جنگ لڑتا ہوا نظر آتا ہے اور صحت مند آناََفاناََزندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔اسی طرح بوڑھے اور بزرگ دنیا میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں لیکن قبرستان میں نوجوانوں کی قبروں کو گننا دشوار دکھائی دیتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جلتی وہی جگہ ہے جہاں آگ لگی ہوئی ہو لیکن اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ بعض لوگوں کی جدائی بہت سوں کو جلا دیتی ہے اور شہروں کے شہر وں کو ویران کر دیتی ہے کیونکہ ایسے لوگ ایسے انمٹ نقوش چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جنہیں مٹانے کے لئے صدیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔
یہ ساری بے ربط اور بے ہنگم سی تمہید اس بات کا عکاس ہے کہ جس دل خراش واقعہ نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اسے تحریر کرنے کی مجھ میں اتنی سکت نہیں۔اسے لکھنے کے لئے کے ٹوجیسا دل اور سمند ر جتنا سینہ چاہئے کیونکہ جو کل تک ہمارے ساتھ تھاوہ آج ہمیشہ کی جدائی ہمارے نام کر گیا۔میں کیسے اپنے دل کو سمجھاﺅں کہ وہ اب ہمارے ساتھ نہیں کیونکہ وہ تو سدا بہار پھول تھا جو مرجھایا نہیں کرتے۔
کل رات کو طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے رات کو جلدی سونا پڑا۔صبح اٹھکر بھی طبیعت میں بوجھل پن محسوس ہوا لیکن دفتر جانا بھی ضروری تھا۔دفتر پہنچ کر موبائل میں اپنے بھتیجے امداد اللہ کی جانب سے بھیجے گئے پیغام پر نظر پڑی جس میں لکھا ہوا تھا کہ ”آپ کا دوست ایڈووکیٹ زماں جان “اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ایسے مذاق کی گستاخی میرا بھتیجا میرے ساتھ نہیں کر سکتا ،لیکن زماں جان کی ایسی اچانک موت کا یقین دل کو دلانا بھی ناممکن تھا۔یہ پیغام تو میرے لئے جیسے صور اسرافیل ثابت ہوا،سمجھ نہ آئے کہ کروں تو کیا کروں۔فوراََاپنے دوست شفقت علی کو فون ملا نا چاہا لیکن کوئی جواب نہ ملاکیونکہ اس کا فون بند جا رہا تھا۔ایسے میں ایک دوسرے دوست عجب نور کو فون کیا ۔رابطہ ہونے پر اس نے اِس دلخراش واقعہ کی تصدیق کی اور کچھ تفصیلا ت سے آگاہ کیا۔بات کرنے کی مزید ہمت نہ رہی اور دفتر چھوڑ کر گھر واپس آگیا۔سارا دن اپنے آپ سے یہ سوال کرتا رہا کہ اس عارضی دنیا کے کاموں نے ہمیں اتنا مصروف کئے رکھا ہے کہ ”‘زماں جان “جیسے دوست کا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوا۔کبھی کہتا کہ امداداللہ لاکھ گستاخی کرتا لیکن کاش یہ مذاق ہی ہوتا،پر نہیں کیونکہ یہ یقین نہ کرنے والی دل شکن حقیقت تھی۔

ایڈووکیٹ زماں جان وزیر 25اپریل 2016کو ڈیر ہ اسماعیل خان کے علاقے لنڈہ میں موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے ایک ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرانے کے باعث جاں بحق ہو گیا
ایڈووکیٹ زماں جان وزیر 25اپریل 2016کو ڈیر ہ اسماعیل خان کے علاقے لنڈہ میں موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے ایک ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرانے کے باعث جاں بحق ہو گیا

میں اپنے دوست زماں جان کی شگفتہ مزاجی، خوش خلقی، خوش لباسی اور خوش گفتاری پر لکھنا بھی چاہوں تو انصاف نہیں کر پاﺅں گا کیونکہ وہ ایسا تابندہ ستارہ تھا کہ جس کی موجودگی سے ساری محفل روشن ہو جاتی تھی۔ وہ ایک ایسا پھول تھا جس کی تازگی سدا بہار تھی جو موسموں کی تغیر و تبدل کا محتاج نہیں تھا۔خوش گفتاری اور تنزومزاح میں جو ملکہ اس کو حاصل تھا وہ نصیب والوں کو ہی نصیب ہوتاہے۔
ایڈووکیٹ زماں جان خدمت خلق عبادت سمجھ کر کرتا تھا اورجنوبی وزیر ستان کے علاقہ شکئی کی ترقی اور خصوصاََتعلیم کے حوالے سے زمانہ طالب علمی سے ہی کافی سرگرم تھا۔
چاہے شکئی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں صدر کی حیثیت ہو یا وانا ویلیفئر ایسوسی ایشن میں نائب صدر کا عہدہ، ایڈووکیٹ زماں جان نے اپنے فرائض منصبی کو ہمیشہ انتہائی خلوص کے ساتھ سر انجام دیا۔یتیم بچوں کے ساتھ اسے خصوصی الفت تھی اور ان کے بارے میں ہمیشہ پریشان رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ اسے یتیم بچوں کے حوالے سے خصوسی ٹاسک دیا گیا تھا۔حال ہی میں زماں جان نے شکئی کے 100سے زائد یتیم بچوں میں نقد رقوم تقسیم کی تھیں۔لیکن واپسی پر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ڈیر ہ اسماعیل خان میں واقع اپنے گھر پہنچنے سے پہلے ہی ایک آدم خور ٹریکٹر ٹرالی نے اسے ہمیشہ کے لئے اپنے پیاروں سے چھین لیا۔
” بچھڑاکچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی“
”اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا“
نہ جانے ایسی آدم خور اوور لوڈڈ ٹریکٹر ٹرالیوں نے کتنوں کے گلشن اجاڑے ہیں لیکن کوئی ہے جو اس کے خلاف آواز اٹھائے ،کوئی ہے جو اس کا کوئی متبادل حل نکالے۔ورنہ آج اس نے ہمارا”زماں جان“ چھینا ہے ،اللہ نہ کرے کل کسی اور کے زماں جان کو چھین لے۔
بدقسمی سے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہمارے حریص حکمرانوں نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ سنگل سڑکوں پررواں دواں ایسی ٹریکٹر ٹرالیوں کا کوئی متبادل انتظام کیا جائے ، شاید حکمرانوں کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کے لئے ان کی اولاد میں سے کسی کو ایسی موت مرنا ہوگا۔
یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص دوسروں کے یتیم بچوں کی تعلیمی اور دیگر اخراجات کے لئے ہمہ تن مصروف رہے اور ان کی ضروریات کو پورا نہ کرنے تک چین سے نہ بیٹھے، ہے آج کوئی جو اس شخص کے بچوں کی تعلیمی اخراجات کا بیڑا اٹھائے؟۔

انقلاب کی پگڈنڈی

global pind by muhammad nawaz

انقلاب کی پگڈنڈی

گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر) لیجئے ! میاں نواز شریف نے قوم کو بتا دیا ہے کہ ان کا خاندان کسی بھی قسم کی کرپشن سے پاک ، غالباًوہ یہ باور کرا گئے ہیں کہ آرمی چیف نے کرپشن کیخلاف جو بولڈ سٹپ لیا ہے اس کی سول اداروں ، وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں یا دوسرے سیاستدانوں کیلئے شائد ضرورت ہی نہیں ہے ۔ ابھی وزراعظم کی تقریر جاری تھی جب میں نے ان کے کچھ الفاظ فیس بک پر پوست کردیے تو دوست احباب کے فون آنا شروع ہوگئے ۔۔ سوال صرف ایک تھا کہ وزیراعظم کو قوم سے خطاب کی دوبارہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور پھر خطاب میں اعلان کیا کیا؟ جواب ظاہر ہے تسلی بخش نہیں کہ وزیراعظم جو بات ایک پریس ریلیز میں کہہ سکتے تھے ، اس کیلئے خطاب کی کیا ضرورت تھی ؟

ان احباب کا تبصرہ یہ ہے کہ آرمی چیف کے بولڈ سٹیپ نے وزیراعظم کو خائف کردیا ہے اور وہ خود کو بند گلی میں محسوس کرنے لگے ہیں چنانچہ فیس سیونگ ضروری تھی لیکن کیا فیس سیونگ اس طرح ہوتی ہے ؟ کچھ بھی ہو آرمی چیف کے بولڈ سٹیپ نے ان لوگوں کو پھر سے امید بندھائی ہے جو یہ سمجھنے لگے تھے کہ وہ قوم و ملک کی بہتری اور لٹیروں کی سرکوبی کیلئے شائد بیک فٹ پر چلے گئے ہیں لیکن انہوں نے تو ابتدا ہی اپنے آنگن سے کی ہے ۔۔۔ آرمی چیف کا گراف پھر جمہوریت پسندوں کیلئے خوفناک حد تک اوپر چلا گیا ہے ۔۔۔ اب معلوم نہیں کتنے جمہوریت پسند اپنے آپ کو بچانے کیلئے متحد ہوتے ہیں ؟

ایک دوست نے تو یہ تک مشورہ دے ڈالا ہے کہ وزیراعظم اکثرت کی بنیاد پر آئین میں ترمیم کرلیں اور آرمی چیف کے اختیارات خود سنبھال لیں اور انہیں کسی قسم کی بیان بازی سے بھی روک دیں ساتھ ہی پابند بنائیں کہ وہ اسمبلی میں آ کر فوجی اور دفاعی معاملات پر سوالوں کے جواب دیں اورتر جنرل پرویز مشرف کے اقدامات کا حساب بھی دیں لیکن دوسرے دوست نے اس بات کو ٹوک دیا اور کہا کہ جس دن ایسا سوچا گیا اسی روز تختہ ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ اگر فوج کو صرف کلر ک یا کاکا شپائی بنایا گیا توملک کی بنیادیں ہل جائیں گی ۔۔۔ تیسرا ساتھی چپ نہ رہ سکا اور گرہ لگائی کہ جب قوم کا خون نچوڑا نچوڑ کر بیرونی بینک بھرے جارہے ہیں تو وہ کیا ہے ؟ وہ پوچھ رہا تھا کہ کیا فوج صرف جغرافیے کی محافظ ہے ؟ اگر جغرافیے کی محافظ ہے تو نیشنل ایکشن پلان ڈھونگ ہے ؟ حالانکہ ایسا نہیں ۔ یہ ایک جامع پروگرام ہے ۔۔اس کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بوریوں جیسے پیٹ پھاڑے جائیں تاکہ جمہور کو تحفظ ملے ۔۔ جمہوریت سے جمہور زیادہ اہم ہے ۔۔۔ اب معلوم نہیں لوگ مزید کیا کیا سوچیں گے اور تبصرے کریں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ عام آدمی کچھ نہ کچھ چاہتا ضرور ہے اور اس کا خواب بھی انقلاب ہے آرمی چیف کا بولڈ سٹیپ شائد یہ انقلاب کی پگڈنڈی ہو ۔۔۔۔

کاسا1000 منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، تاجکستان کے سفیر

tajik

کاسا1000 منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر اعظم نواز شریف بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، تاجکستان کے سفیر

اسلام آباد(ڈی این ڈی):کرغستان ، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان توانائی معاہدے کاسا1000 منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب رواں سال 12مئی کو دوشنبہ میں منعقد کی جائے گی جس میں شرکت کے لئے وزیر اعظم نواز شریف تاجکستان کادورہ کریں گے۔
یہ بات پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف نے ڈسپیچ نیوز ڈیسک (ڈی این ڈی) نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب کی تفصیلات بتاتے ہوئے تاجکستان کے سفیر نے کہا کہ 11مئی کو دوشنبہ میں دونوں ممالک کے توانائی کے وزراء کا مشاورتی اجلاس ہو گا جس کے بعد اسی روز شام کے وقت علاقائی تعاون کانفرنس منعقد کی جائے گی۔اگلے روز کاسا1000منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔
تاجکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ کاسا1000 منصوبے کے تحت تاجکستان افغانستان کے راستے پاکستان کو 500کے وی کی 750کلومیٹر طویل ٹرانسمیشنلائن کے ذریعے 1000 میگاواٹ ہائیڈل بجلی فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ 500کے وی کی یہی لائن کرغستان سے 300 میگاواٹ ہائیڈل بجلی کی ترسیل کے لئے بھی استعمال ہو گی۔
تاجکستان کی ہائیدل بجلی کی بر آمد کی صلاحیت کے بارے میں بتاتے ہوئے شیر علی جانانوف نے کہا کہ تاجکستان واحد ملک ہے جو پاکستان کو خصوصاموسم گرما میں ہائیڈل منصوبوں کے ذریعے 5000سے زائد میگا واٹ بجلی بر آمد کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کاسا منصوبہ انتہائی شفاف اور سستا ترین ذریعہ ہے۔
مستقبل میں منصوبے کی سلامتی سے متعلق پائے جانے والے خدشات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں تاجکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان نے بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کی حفاظت کے لئے تمام شراکت داروں کو خود مختار ضمانت دی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ منصوبے کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس منصوبے کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہو گی۔
تاجکستان کے سفیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18سالوں سے دو لائنوں کے ذریعے تاجکستان سے افغانستان کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جارہی ہے لہذا یہ یقین رکھنا چاہئے کہ کاسا 1000توانائی منصوبے کی ٹرانسمیشن لائن کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔

جمہوریت کو گالی نہ دیں

 

roznama-taqatarticle april 18

آغا اقرار ہارون
جمہوریت کو گالی نہ دیں
جب میر ا کالم’ خوف کے فلسفی‘ روزنامہ طاقت میں چھپا تو گورنمنٹ کالج لاہور کے وہ ہم جماعت جو میرے ساتھ فلسفہ پڑھتے تھے میرا فون نمبر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ تقریبا چھبیس سال بعد بقول ان کے انہیں میرے قلم سے ایسا کالم پڑھنے کو ملا جو مکمل طو رپر ایک فلسفے پر مبنی تھا۔وہ خوش تھے کہ میرے اندر کا طالب علم ابھی زندہ ہے اور صحافت میں ان کا دوست موجود ہے جو ابھی بھی فلسفے کی کتابوں کو یاد رکھے ہوئے ہے۔حالانکہ فلسفہ ہماری زندگیوں سے شاید نکل چکا ہے یا کلاسیکی فلسفہ ہم نے جان بوجھ کر تالے میں بند کر دیا ہے کیونکہ یہ فلسفہ ہمیں ایک سوچ دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے آج کا انسان سوچنا ہی نہیں چاہتا بلکہ سننا چاہتا ہے یا معاشرے کے دیئے ہوئے کامیابی کے فلسفے کو اپنانا چاہتا ہے۔سیاسی فلسفہ عوام کے لئے بدل چکا ہے مگر ہم پر حکومتیں کرنے والے آج بھی کلاسیکی فلسفہ کو بنیا د بنا کر ہم پر حکمرانی کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
اگر سمجھا جائے تو جمہوریت کا فلسفہ بھی کلاسیکی فلسفہ ہے مگر جو جمہوریت آج دنیا میں رائج ہے اس کے مقاصد بدل چکے ہیں۔گزرے وقتوں میں جمہوریت کا مطلب عوام کو اقتدار میں شامل کرنا تھا مگر آج جمہوریت زیادہ ممالک میں عوام کو خواب دیکھانے کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔جمہوریت پرایک طویل بحث ہو سکتی ہے مگر یہاں میرا مقصد جمہوریت کی اقسام ،فوائدیا نقصانات پر بات کر نا نہیں بلکہ دیکھنا ہے کہ اس مروجہ جمہوریت نے برصغیر کی لگ بھگ ڈیڑھ ارب عوام کو کیا دیا ہے؟
بھارت میں جمہوریت مسلسل چلتی رہی اور پاکستان میں رک رک کرمگر دونوں ممالک آج تک 1860کے بنائے گئے پینل کوڈ کی بنیاد نہیں بد ل سکے ۔یہ قانون انگریزوں نے برصغیر فتح کرنے کے دو سال بعد بنا لیا تھا اور یہ آج بھی کچھ ترامیم کے ساتھ بھارت اور پاکستان میں لاگو ہے ۔جبکہ کریمنل پروسیجر کوڈ یعنی عمل جرم کا اخلاقی کوڈ جو کہ 1886میں بنا تھا آج بھی ہماری عدالتوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک ان دونوں قوانین کو یکسر بدل کیوں نہیں سکے؟ پاکستان کے بارے میں تو کہا جا سکتاہے کہ یہاں جمہوریت کو مسلسل قتل کیا گیا لہذاقوانین پر کام نہ ہو سکا مگر بھارت میں تو صورت حال اس کے برعکس ہے وہاں جمہوریت کو پنپنے کا بھرپور موقع دیا گیا مگر پھر بھی بھارت ان قوانین کی بنیاد کیوں نہیں بد ل سکا؟
اس سوال کے ہزاروں جوابات ہو سکتے ہیں مگریہاں میرا ان سوالات کا صرف ایک ہی جواب دینا مقصود ہے اور وہ یہ کہ انگریز وں نے یہ قوانین محکوم قوم کے لئے بنائے تھے اور برصغیر کے جمہوری ادارے آج بھی اپنی قوموں کو محکوم ہی رکھنا چاہتے ہیں۔خرابی جمہوریت میں نہیں بلکہ اس سوچ میں ہے جو حاکم بناتی ہے اور حاکم محکوم رکھتا ہے۔حاکم بننے کے لئے ایک ریاست کا ہونا ضروری ہے جہاں حاکم اپنی حکومت کرے۔ریاست، حکومت اور حاکم دراصل ایک اکائی بن جاتے ہیں۔حاکم چونکہ ریاست کو چلاتا ہے لہذا اس کے خلاف کوئی بھی اٹھایا ہوا اقدام دراصل ریاست کے خلاف تصور کیا جاتا ہے اور اس سلسلے کو تقویت دینے کے لئے برصغیر میں 1886اور 1860کے قوانین استعمال کئے جارہے ہیں۔ان قوانین اور اس سوچ کی موجودگی میں کیسی جمہوریت اور کون سا جمہوری نظام زندہ رہ سکتا ہے؟
مشرق اورمغرب کی جمہوریت میں بڑا فرق یہ ہے کہ وہاں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم نے ریاستوں کو تباہ کر دیا اور نئی وجود میں آنے والی ریاستوں کو عوام نے خود بنایا جبکہ مشرق میں اقتدار یعنی حکومت ایک شخص یا ایک گروہ سے دوسرے شخص یا گروہ کو منتقل ہوتا رہا۔
مغلوں نے برصغیر کی چھوٹی ریاستوں پر قبضہ کرکے مغلیہ سلطنت قائم کی اور انگریزوں نے یہ سلطنت ان سے چھین لی اور پھر یہ سلطنت کئی ممالک میں تقسیم ہو گئی۔مگر اقتدار کی منتقلی عوام کی بجائے چند افراد یا گرو ہوں کو ہوئی۔بدقسمتی سے قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت نے پاکستان میں اقتدار کی عوام کو منتقلی کا عمل روک دیا اور تب سے لیکر آج تک صرف چند افراد یا گروہ ہی اقتدار پر قبضہ جماتے آرہے ہیں۔جمہوریت کے نام کو صرف مغرب کو خوش کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا، چاہے وہ ایوب خان کی بنیادی جمہوریت کا فلسفہ ہو یا ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ریفرنڈمز۔صرف چھ سال کے لئے حقیقی جمہوریت کا کچھ عکس دکھائی دیا جب ایک موچی اور چوب کار کو بھی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل ہوئی۔مگر 1977میں حقیقی جمہوریت نے مختصر سے قیام کے بعد خدا حافظ کہا اور اقتدار پھر سے چند افرد کے ہاتھوں میں چلا گیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
ہماری عوام جمہوریت کو کوستی ہے کیونکہ وہ بھوکی ہے اس کے پیٹ میں روٹی نہیں،اسے انصاف نہیں ملتا اور وہ جبر مسلسل کا شکا ر ہے۔اگر کوئی شخص ریاست کو کچھ کہے تو گرفتار ہوتا ہے اوراگر حاکم کو گالی دے تو پولیس کی مار اس کا مقدر ،ان حالات میں اس کے لئے اپنے غصے کی آگ کو ٹھنڈ ا کرنے کے لئے آسان ترین نسخہ جمہوریت کو گالی دینا ہے کیونکہ بے چاری جمہوریت کو گالی دینے کی کوئی سزا نہیں۔ جمہوریت کے پاس تو اپنے آپ کو گالی دینے والے کے خلاف بھی کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں تو وہ بے چاری عوام کو کیا دے سکتی ہے ،وہ تو صرف گالی سن سکتی ہے۔
جمہوریت کے فلسفہ کے مطابق جمہور (عوام) شریک اقتدار ہوتا ہے لیکن یہاں تو جمہور خود جمہوریت کا گالی دے رہا ہے۔ایسے حالات میں بھلا جمہوریت جمہورکے لئے کیا کر سکتی ہے؟
امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہ مذہب کبھی بنا م وطن
جمہور کو چاہئے کہ حاکم کا گلا پکڑے اور اس سے پوچھے کہ تمہارے بچے تو ناخن کٹوانے کے لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں چلے جاتے ہیں اور میرے بچے کو ہستپال میں پانی بھی میسر نہیں۔
جمہور یعنی عوام کو چاہئے کہ سوال ریاست اور حاکموں سے کرے ،جمہوریت سے نہیں۔کیونکہ اگر عوام صرف جمہوریت کو گالی نکالتا رہے گا تواس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔عوام یاد رکھے کہ:
فقیرشہر کے تن پہ لباس باقی ہے
امیر شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے؟
کارپوریٹ سیکٹر جو عوام کا خون ہر لمحہ چوستا ہے، جمہوریت کو گالیاں د لوانے کے لئے اپنی تمام طاقت فراہم کرتا ہے چاہے یہ طاقت وہ این جی او سیکٹر کے ذریعے فراہم کرے یا کارپوریٹ میڈیا سے۔کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اگر واقعی حقیقی جمہوریت آگئی توسب سے زیادہ نقصان اسی کا ہوگا۔
آغا اقرار ہارون گزشتہ 27سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور وسطی ایشیاء اور مشرق یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

قزاقستان میں اردو و دیگر زبانوں کے مفت کورسز کا اہتمام

urdu

قزاقستان میں اردو و دیگر زبانوں کے مفت کورسز کا اہتمام
آستانہ،قزاقستان(ڈی این ڈی): وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان میں اردو زبان کو بتدریج فروغ حاصل ہورہا ہے اورعوام کو اس سے متعلق آگہی دینے اور اس کی ترویج کے لئے دارلحکومت آستانہ میں یوریشین نیشنل یونیورسٹی کے اہتمام مفت کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
ڈسپیچ نیوزڈیسک (ڈی این ڈی) نیوز ایجنسی کے مطابق قزاقستان کے دارلحکومت آستانہ میں یوریشین نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کے ماتحت مختلف مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں شہریوں کواردو، عربی، روسی، فارسی، کورین، چینی ،انگریزی، فرانسیسی اورجاپانی زبانیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں ۔ یہ زبانیں سیکھانے کیلئے تیارکردہ کورسز عمر کی پابندیوں سے آزاد اور بلامعاوضہ دستیاب ہیں اور شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ یہ زبانیں سیکھیں۔
اس حوالے سے یونیورسٹی کے پروفیسر نے آئیگل جنہوں نے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگر ی حاصل کی ہوئی ہے طلبا کو اردو سیکھانے کے علاوہ اس کے تاریخی اور ثقافتی پہلوؤں کے متعلق بھی آگاہی فراہم کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں ایرانی سفارت خانے کے ثقافتی مرکز میں فارسی زبان، کورین کلچرل سنٹر میں کورین زبان اورکنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کے مفت کورسز بھی کروائے جا رہے ہیں۔

را کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا تعاون حاصل ہے، کل بھوشن یادیو کا انکشاف

پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے را کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا تعاون حاصل ہے، کل بھوشن یادویو کا انکشاف

پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے را کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی کا تعاون حاصل ہے، کل بھوشن یادیو کا انکشاف
کوئٹہ(ڈی این ڈی): گزشتہ ماہ گرفتار ہونے والے بھارتی خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے جاسوس کل بھوشن یادویو نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے لئے را کو افغانستان کی خفیہ ایجنسی دی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) کا تعاون حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق مارچ کے پہلے ہفتے میں بلوچستان سے گرفتاری کے بعد کل بھوشن یادویو نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ این ڈی ایس اسے رہائش کی سہولت کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے لئے لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کرتی رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کل بھوشن یادویو نے دوران تفتیش را اور این ڈی ایس کے گٹھ جوڑ سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں جن کی بناء پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چمن کے نواحی علاقے بوغرہ میں ایک کمپاونڈ پر کارروائی کر کے افغان خفیہ ایجنسی کے حاضر سروس افسر کو بھاری اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان خفیہ ایجنسی کے افسرکے قبضے سے پاکستان کا شناختی کارڈ بھی بر آمد ہوا اور وہ پاکستان میں عد م استحکام پھیلانے کے لئے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے کے غرض سے کافی عرصے سے اس ملک میں رہ رہا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اگرچہ نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکی اور دیگر بیرونی افواج نے افغانستان پر حملہ کر کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا تھا تاہم اس سارے عرصے کے دوران پاکستان افغانستان میں قیام امن اور سیاسی استحکام کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی پاکستان چین اور امریکہ کے ساتھ ملکر افغان حکومت اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات کے انعقاد کے لئے سفارتی سطح پر کوششیں کر رہا ہے۔لیکن اس کے برعکس افغانستان کی خفیہ ایجنسی نا صرف اپنے ملک میں دہشت گردو ں کو معاونت فراہم کرنے کا الزام پاکستان کے سیکورٹی اداروں پر لگاتی ہے بلکہ را کے ساتھ ملکر پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لئے بھی مصروف عمل ہے۔