کاغذی نیٹو کیا کرے گی؟

tariq ch

کاغذی نیٹو کیا کرے گی؟

تو اب اسلامی ممالک کی نیٹو فورس بنے گی۔ ان اسلامی ممالک کی جن کی پہلے ایک او آئی سی بھی ہے۔ ایک طرح سے مسلم ممالک کی اقوام متحدہ۔ یہ فیصلہ تو بعد میں ہوگا کہ یہ مبینہ نیٹو فورس کون سے تیر کہاں چلائے گی؟ فی الحال دیکھتے ہیں کہ طاقتور، خوشحال اسلامی ممالک کی اس اقوام نے اب تک کیا کارکردگی دکھائی ہے۔ عالم اسلام کو لاحق خطرات اور مسائل کا کہاں تک اور کتنا سدباب کیا ہے؟ اگر پرفارمنس 50 فیصد بھی ہوئی تو فوراً مطالبہ کروں گا نیٹو فورس راتوں رات بنا دی جائے۔ صرف ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے۔
ویسے تو اس بات پر بھی اختلافات ہیں کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کے رکن ممالک ہیں کتنے؟ بہرحال شنید ہے کہ 57 اسلامی ممالک اس تنظیم کے رکن ہیں۔ سعودی عرب، ایسا عالم اسلام کا روحانی لیڈر بھی اس تنظیم کا رکن ہے اور برکینو فاسو ایسا چند مربع میل پر مشتمل افریقی ملک بھی اس میں شامل ہے۔ ترکی بھی اس کا حصہ ہے جو کہ مشرق و مغرب کا جدید امتزاج ہے۔ یورپ کی دہلیز پر واقعہ ہے اور ایک جمہوری ریاست ہے۔ پاکستان بھی اس کا حصہ ہے۔ جو عالم اسلام کی واحد ایٹمی ٹیکنالوجی کی حامل ریاست ہے۔ اسحلہ سازی کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ان گنت اشیاءکی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت بھی ہے۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا ایسے ممالک بھی اس میگا تنظیم کے رکن ہیں جو بین الاقوامی سیاست اور تنازعات سے الگ تھلگ رہ کر صرف اور صرف معاشی و اقتصادی ترقی کے حصول کو اپنا مطمع نظر بنائے ہوئے ہیں۔

درجنوں افریقی ممالک بھی اس تنظیم کا حصہ ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ نیل کے ساحلوں سے کاشغر تک تمام امہ اتحاد کی ایک لڑی میں پرو دی جائے۔ ماٹو، اس کا شاعر مشرق کا وہ شعر تھا کہ اگر کابل میں کسی مسلمان کے پاﺅں میں ہلکا سا کانٹا بھی چب جائے تو مشرق و مغرب میں پھیلے ملک ہندوستان کے ہر مومن بھائی کو اس کا درد محسوس ہو۔ مقصد تو اس تنظیم کا یہی تھا کہ دنیا میں بسنے والے ہر ایک کلمہ گو کے درد کا درماں بن جائے۔ اس کے ہر ضعفکا سہارا بن جائے۔ جہاں کہیں وہ ظلم کا شکار ہو۔ ظلم کے سامنے کھڑی ہو کر ظالم کا دست جفا صرف روکنے کی بجائے اس کو کاٹ ڈالے۔ کیونکہ اس تنظیم میں سات ایسے ممالک شامل ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرتے ہیں۔ عالمی معیشت کی رگوں میں ان کا پیدا کردہ تیل، لہو کی طرح دوڑتا ہے۔ جب کسی مظلوم کی پکار گونجے تو او آئی سی ایسے ہی لبیک کہہ کر بروئے کار آئے جیسے محمد بن قاسم، ایک بیٹی کی فریاد پر صحرائے عرب سے اٹھا اور وادی سندھ کے ریگزاروں سے کفر کی ظلمتوں کو پرنور اجالوں میں بدلتا گیا۔ جس طرح محمود غزنوی سترہ مرتبہ ہندوستان پر محض اس لئے حملہ آور ہوا کہ مشرک کے سومنات پاش پاش کر دیئے جائیں۔ او آئی سی تو اس لئے بنی تھی کہ کہیں کوئی مسلمان بچہ بھوک سے بلبلا رہا ہو تو وسائل سے مالامال اس کے دینی بھائی خوراک سے بھرے بحری جہاز لیکر دوڑ پڑیں۔ کیونکہ وسائل کی تو ایسی فراوانی ہے کہ یورپ کے عشرت کدے ان ممالک کے شاہی خاندانوں کے شہزادوں اور شہزادیوں کے دم قدم سے آباد ہیں۔ خوشبویات بنانے والی کمپنیاں ان کے ذوق لطیف کی تسکین کے لئے خصوصی برانڈ تیار کرتی ہیں۔ کوئی عام آدمی جیب میں مطلوبہ رقم ہونے کے باوجود اس برانڈ کو چھو بھی نہیں سکتا۔ ہوائی کمپنیاں ان کے لئے خاص طیارے ڈیزائن کرتی ہیں تاکہ ہواﺅں کے دوش پر بھی دنیا بھر کی مارکیٹوں سے نہ صرف رابطہ میں رہ سکیں۔ سٹاک مارکیٹوں کے اتار چڑھاﺅ کو مانٹیر کریں بلکہ چند بٹن دبا کر مرضی کا سودا کر کے اپنے اکاﺅنٹس میں اضافہ کر سکیں۔ یہ فضاﺅں میں اڑتے ہوئے عشرت کدے مرضی و منشا کے مطابق خلوت گاہوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پرتعیش، تیزرفتار گاڑیاں بنانے والی کارساز کمپنیاں ایسا اہتمام کرتی ہیں کہ ان ارب پتیوں کو ایسی کاریں فراہم کریں جو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی کشادہ سڑکوں پر برق رفتاری کا مظاہرہ کر سکیں۔ لیکن یہ کروڑ پتی شہزادے، افریقہ، ایشیا میں پھیلی بھوک، ننگ و افلاس کے لئے اگر کچھ کرتے ہیں تو زکوٰة کے نام پر، قربانی کا گوشت اور کھجوروں کا عطیہ دیتے ہیں۔ او آئی سی تو ایسے مواقع پر خاموش ہی رہتی ہے۔ اگر کبھی کبھار غیرت جاگ اٹھے تو فوری طور پر ہنگامی اجلاس طلب کرتی ہے۔ ایسا ہنگامی اجلاس جو کم از کم ایک ماہ بعد منعقد ہوتا ہے۔ سارے عالم اسلام کے وزرائے خارجہ خرطوم، کاسابلانکا، کوالالمپور، تہران یا اسلام آباد میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس دوران آفت زدہ دینی بھائی زلزلہ سے مارے، بمباری کے ہاتھوں دریدہ بدن، سیلاب کا شکار دم سادھے فیصلے کے منتظر رہتے ہیں۔ وزرائے خارجہ اپنی اپنی زبانوں میں تقاریر کرتے ہیں۔ وہ بھی پہلے سے لکھی ہوئی۔ کوئی عربی میں، کوئی خطہ عجم کی کسی زبان میں۔ لنچ اور ڈنر بھی جاری رہتا ہے۔ آخرکار طویل انتظار کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوتا ہے۔ اتحاد امت سے وعدے کئے جاتے ہیں۔ اس بات کا بھی عہد کیا جاتا ہے کہ عالم اسلام اپنے مصیبت زدہ، دکھی بھائی بہنوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اعلامیہ کے آخر میں مسلم ممالک میں بسنے والوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے دل کھول کر عطیات دیں تاکہ ان مصیبت زدوں کی زندگی اور آخرت سنور جائے۔ پھر اس کے بعد اپنے اپنے خصوصی طیاروں میں بیٹھ کر گھروں کو واپسی۔ یہ او آئی سی جو آج تک عالم اسلام کو لاحق ایک بھی مسئلے کا سدباب نہ کر سکی۔ جس کے ہوتے ہوئے روس، افغانستان میں جا گھسا۔ جس نے مقابلہ کرنے کی بجائے امریکی اشارے پر دنیا بھر کے مفرور اکٹھے کر کے افغانستان بھجوا دیئے تاکہ روس کو شکست دی جا سکے۔ اس او آئی سی کے ہوتے ہوئے عراق کا جاہ پرست حکمران صدام حسین، کویت میں جا گھسا۔ او آئی سی خاموش رہی۔

ایران اور عراق دس سال تک آپس میں لڑتے رہے۔ مسلمانوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا۔ اربوں ڈالر کے وسائل گولہ بارود کی آگ میں جھونک دیئے گئے۔ عالم اسلام میں عرب و عجم کی شیعہ و سنی کی تفریق مزید گہری ہوئی۔ لیکن او آئی سی عضو معطل بنی رہی۔ امریکہ نے عراق پر کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے چڑھائی کی۔ انبیاءاور اولیائے کرام کی سرزمین کو روند ڈالا۔ لاکھوں کلمہ گو شہید کر دیئے گئے۔ او آئی سی صرف قراردادیں پاس کرتی رہی۔ پاکستان نے ایٹم بم بنایا۔ امریکہ اور یورپ نے اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ او آئی سی کی زبان پر تالے پڑے رہے۔ سوڈان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ او آئی سی اس تاریخی تقسیم کو بھی ہضم کر گئی۔ کیونکہ وہ کسی اور کے گھر کی آگ تھی لہٰذا خاموشی بہتر جانی۔ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔ لیکن او آئی سی خواب غفلت میں غرق رہی۔ ایران پر عشروں پابندیاں رہیں۔ او آئی سی نے ایک قدم آگے نہ بڑھایا۔ لیبیا کے حصے بخرے ہو گئے۔ او آئی سی کے کانوںپر جوں تک نہ رینگی۔ شام کو ادھیڑ کر رکھ دیا گیا۔ او آئی سی کی زبان پر مصلحت کے تالے لگ گئے۔ نائیجریا میں بوکو حرام نے نفرت کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں القاعدہ کمزور پڑی ہے تو داعش قتل و غارت گری میں چنگیز خان کے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ صومالیہ میں الشباب دہشت گردی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان میں تحریک طالبان خود کش حملے کر رہے ہیں۔ عالم اسلام فرقوں اور مسالک میں بٹا ہوا ہے۔ او آئی سی آج تک عالم اسلام کو ایک بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی نہیں دے سکی۔ بین الاقوامی سطح کا کوئی ہسپتال 57 ملکوں میں موجود نہیں۔ ایک بھی انٹرنیشنل لیول کی نیوز ایجنسی ایسی نہیں، کوئی موقر اور موثر ٹی وی چینل نہیں۔ لیکن ارادے کیا ہیں۔ نیٹو طرز کی فورس بنانے کے۔
اگلے ماہ ترکی میں او آئی سی کا سربراہی اجلاس متوقع ہے۔ اس اجلاس میں متحدہ فورس بنانے کی تجویز بھی آئے گی۔ سوال بہت ہیں۔ بحث بھی کی جا سکتی ہے۔ میرا سوال اتنا سا ہے۔ کیا یہ فورس اسرائیل سے برسرپیکار ہوگی؟ کیا یہ امریکہ کے خلاف لڑے گی؟ کیا ہندوستان کے مقابلے میں آئے گی؟ اگر ایسا ہے تو ویلکم۔ لیکن اگر یہ تنظیم بھی کاغذوں میں بننی ہے، او آئی سی کی طرح۔ اگر اس فورس کا کام بھی محض مشقیں کرنا ہے تو ایسی نشتد کفند خوردن مشق سے توبہ ہی بھلی۔ اگر ایک اور او آئی سی بنانی ہے تو معذرت ہی کر لیں۔ کیا فائدہ مسائل ضائع کرنے کا۔ آخر میں مایوسی کے سوا ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔

یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈکو 3کروڑ سے زائد افراد نے ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھا

 یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈکو 3کروڑ سے زائد افراد نے ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھا

یوم پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈکو 3کروڑ سے زائد افراد نے ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھا
اسلام آباد(ڈی این ڈی): 23مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر اسلام آبادکے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں مسلح افواج کی روایتی پریڈ کا انعقاد کیا گیاجسے ایک اندازے کے مطابق 3کروڑ سے زائد افراد نے ٹیلی ویژن پر براہ راست دیکھا۔
تفصیلا ت کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)کے زیر انتظام23 مارچ کو یوم پاکستان پر وفاقی دارالحکومت میں قائم شکر پڑیاں پریڈ ایونیو میں منعقدہ تینوں مسلح افواج کی روایتی پریڈ کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے براہ راست نشر کیا گیا ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 3کروڑ سے زائد افراد نے پی ٹی وی اور دیگر ٹیلی ویژن چینلز پر پریڈ کو براہ راست دیکھا۔
یوم پاکستان کی پروقار تقریبمیں صدر مملکت ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر وفاقی وزراء، غیر ملکی سفارت کار اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے لڑاکا طیاروں کے شاندار فضائی مظاہرے سے ہوا جس کی قیادت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل سہیل امان کررہے تھے۔ایف 16،جے ایف17تھنڈر ،میراج، ایف سیون پی جی ، اواکس، پی تھری سی اور ئین کی فارمیشنز نے سلامی کے چبوترے کے اوپر پروازکرتے ہوئے مہمان خصوصی کو سلامی دی۔
پاکستان آرمی ،بحریہ ،فضائیہ، رینجرز ،پولیس، ایس ایس جی اور گرل گائیڈز کے دستے صدر کو سلامی دیتے ہوئے چبوترے کے سامنے سے گزرے۔ الخالد ٹینک، الضرار ٹینک، راکٹ لانچرز ، ملکی سطح پر تیار کئے گئے مختصر اور طویل فاصلے تک ما ر کرنے والے میزائل، ریڈ ارز اور بغیر پائلٹ جہازوں سمیت دیگر دفاعی آلات پریڈ کے موقع پر دکھائے گئے۔
چاروں صوبوں ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی ثقافت پر مبنی فلوٹس بھی پریڈ کا حصہ تھے۔سپیشل سروسز گروپ کے چھاتہ برداروں نے قومی پرچم تھام کر 10 ہزار فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگائی۔
تقریب کے اختتام پر مختلف سکولوں کے طلباء نے ملی نغمے پیش کئے۔اس موقع پر صدر، وزیراعظم اوربری فوج کے سربراہ مختلف علاقائی لباس پہنے طلباء میں گھل مل گئے۔

پشاور موڑ انٹر چینج منصوبے کا افتتاح 23مارچ کو نہ ہو سکا، عوامی مشکلات بدستور قائم

پشاور موڑ انٹر چینج منصوبے کا افتتاح 23مارچ کو نہ ہو سکا، عوامی مشکلات بدستور قائم
پشاور موڑ انٹر چینج منصوبے کا افتتاح 23مارچ کو نہ ہو سکا، عوامی مشکلات بدستور قائم

پشاور موڑ انٹر چینج منصوبے کا افتتاح 23مارچ کو نہ ہو سکا، عوامی مشکلات بدستور قائم
اسلام آباد(ڈی این ڈی): حکومتی دعوؤں کے باوجودوفاقی دارلحکومت میں کشمیر ہائی وے پر تعمیر کئے جانے والے پشاور موڑ انٹر چینج منصوبے کا افتتاح 23مارچ کو نہ ہو سکا جس کے باعث عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے کشمکش کی صورت حال بدستور قائم ہے۔
تفصیلا ت کے مطابق میٹرو بس منصوبے سے ملحق پشاور موڑ انٹر چینج کی تعمیر کا آغاز 29فروری 2014 کو کیا گیا تھاجسے 9ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہونا تھا۔تاہم اس منصوبے میں کئی بار توسیع کی گئی مگر اب تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکاہے۔
11مارچ کو سینیٹ میں وفقہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا تھا کہ نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کی جانب سے5سے 6ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے پشاور موڑ انٹر چینج کا افتتاح 23مارچ کو کیا جائے گا جبکہ پراجیکٹ منیجر کرنل ریٹائرڈ عبد القیوم کے 29فروری کو دیئے گئے ایک بیان کے مطابق منصوبے کا 95فیصد کام مکمل کیا جا چکا تھا۔لیکن ان مذکورہ دعوؤں کے برعکس 23مارچ کو منصوبے کا افتتاح ایک بار پھر حقیقت کاروپ نہ دھار سکا۔
اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ یوم پاکستان کے موقع پرتینوں مسلح افواج کی پریڈ کے لئے مرتب کئے گئے ٹریفک پلان کے مطابق ان سے کہا گیا تھا کہ شاہراہ دستور اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے کے لئے نائنتھ ایونیو کو استعمال کیا جائے۔لیکن دوسری جانب طے شدہ تاریخ پر پشاور موڑ انٹر چینج کا منصوبہ پائیہ تکمیل تک نہ پہنچنے کی وجہ سے انہیں اپنے اپنے متعلقہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید دشوار یاں پیش آئیں۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران ہر وقت دھول مٹی اور آلودگی سے بھی بہت سی بیماریاں اس علاقے میں جنم لے رہی ہیں۔شہریو ں نے حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ معمولات زندگی بحال ہو سکے۔

پنجاب کی عوام پٹرول اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے فوائد سے محروم، صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ خاموش تماشائی یا مبینہ ملوث؟

tran

پنجاب کی عوام پٹرول اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے فوائد سے محروم، صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ خاموش تماشائی یا مبینہ ملوث؟
لاہور(ڈی این ڈی): پنجاب حکومت کی طرف سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے اعلان کے باوجود صوبے بھر میں ٹرانسپورٹروں نے بسوں اور ویگنوں کے کرائے کم نہیں کئے ہیں اور ایک تحقیق کے مطابق ماہانہ اضافی 3ارب روپے ان کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشہ ماہ کے آخر میں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پٹرول کی قیمت میں 8روپے 48پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 4روپے 67پیسے کمی کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے انٹر سٹی اور انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 12فیصد کمی کا اعلان کیا تھا۔
تاہم ڈسپیچ نیوز ڈیسک (ڈی این ڈی) نیوزایجنسی کی کی گئی ایک تحقیق کے مطابق پٹرول کی قیمت میں مسلسل کمی اور نتیجتاً پنجاب حکومت کے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کے اعلان کے باوجود صوبے بھر کے 80فیصدٹرانسپوٹرز نے کرایوں میں کمی نہیں کی ہے او را س ضمن میں ٹرانسپورٹ انسپکٹر پنجاب بھی کوئی کاروائی کرتے دکھائی نہیں دیتے۔
تحقیق سے پتا چلا کہ پنجاب بھر میں ٹرانسپوٹروں نے انٹر سٹی اور انٹرا سٹی بسوں اور ویگنوں کے کرائے ابھی تک اسی شیڈول کے مطابق رکھے ہوئے ہیں جو کہ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور ٹرانسپورٹروں کے درمیان تب طے ہوا تھا جب پٹرول اور ڈیزل کے نرخ تقریبا 86روپے فی لیٹر تھے۔ٹرانسپوٹروں کی من مانی کے باعث عوام کے اضافی ادا کئے گئے 3ارب روپے ماہانہ ان کے جیبوں میں جار ہے ہیں۔
لیکن اس پر مزید افسوس کی بات یہ کہ سیکر ٹری ٹرانسپورٹ کا دفتر اس تمام معاملے میں مکمل خاموش اختیار کئے ہوئے ہے اورایک اندازے کے مطابق اگر سیکرٹری ٹرانسپورٹ کا دفتر بھی اس ناجائز سرگرمی میں ملوث ہے تو تقریبا ایک ارب روپے ماہانہ اس کے حصے میں آ رہا ہے۔
اس حوالے سے جب راولپنڈی کے ایک ٹرانسپوٹر سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کا عملہ ہم سے ماہانہ کے حساب سے پیسے وصول کرتا ہے لہذاٹرانسپوٹروں کا یہ حق ہے کہ وہ بھی ان حالات سے فائدہ اٹھائیں اور زندگی کا مزہ لوٹیں۔

معذرت کے ساتھ

معذرت کے ساتھ

 !محترم ابصار عالم صاحب 

چئیرمین پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی

میں آپ کی پیمرا قوانین اور غیرمعمولی طور پر آزاد ٹی وی صحافت پر ضابطہ اخلاق کے عملدرآمد کے لئے کی جانے والی کوششوں کا معترف ہوں ۔ ماضی قریب میں تمام صحافی تنظیموں اور تجزیہ کاروں نے اسی پیمرا کے قوانین کو کالے قوانین قرار دے کر نہ صرف احتجاجی مظاہرے کئے بلکہ ٹی وی ٹاک شوز بھی شاہراؤں پر کئے گئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ پیمرا جیسے ایک مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ اور پیمرا کے احکامات پر عملدرآمد بھی دکھائی دے رہا ہے ۔ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس فخر کا بھی اظہار کرسکوں کہ میں ان چند صحافیوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے سات برس قبل ٹی وی صحافت کی بے لگام اور بے ہنگم کوریج کو تہذیب کے دائرہ میں لانے کے لئے ازخود ضابطہ اخلاق پر کام کیا اور پھر اپنے ادارہ میں تمام خبر نگاروں اور عکس بندی کے ذمہ داران کو خصوصی تربیت بھی فراہم کی ۔

میری ایک تحریر کے ایک جملہ نے شائد آپ کی دل آزاری کی ہے ۔ جس پر میں معذرت خواہ ہوں ۔ میرا مقصد کسی کی دل آزاری ہرگز نہ تھا ۔ میں نے پیمرا کے چار سو زائد الفاظ پر مشتمل انتباہ ، آویزاں کرتے وقت اختصار سے کام لیا اور تین جملوں پر مبنی اس کا مفہوم درج کیا تھا ۔ جو ہرگز آپ کے انتباہ کا انگریزی ترجمہ تھا نہ حقائق کو مسخ کرنے کی غرض سے جملوں کو توڑا گیا۔ مجھے اس اعتراف میں بھی کوئی عار محسوس نہیں ہوگی کہ میری انگریزی آپ جیسی اچھی نہیں ۔ میں ایک واجبی سے سرکاری تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی کا فارغ التحصیل ہوں ۔ اور روز اول سے ہی اردو صحافت سے وابستہ رہا ۔ جبکہ آپ کی بیشتر صحافتی ذمہ داریاں انگریزی ذرائع ابلاغ سے وابستہ رہیں ۔ اور پھر سرکار کی مشاورت ہو یا غیرسرکاری تنظیم سے وابستگی، آپ کے فرائض منصبی نے آپ کی انگریزی زبان و اسلوب پر دسترس کو مزید نکھارا ۔ پیمرا کے اردو میں انتباہ کا مکمل متن اسی لئے آویزاں کیا گیا کہ کسی قسم کا ابہام نہ پیدا ہو اور اصل مفہوم سب کے پیش نظر رہے ۔

آخری بات انتہائی خوشگوار مزاج اور ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ تحریر کرنے کی جسارت چاہوں گا ۔ اسے سنجیدہ مت لیجئے گا ۔ آپ نے مستقبل میں پہلے سوچنے اور پھر بولنے کا مشورہ دیا ہے ۔ گذشتہ برس میری ایک خبر پر سول انٹیلی جنس میں تعینات پولیس گروپ کے ایک افسر نے بھی، ایک ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد میرے گھر کے تین دروازے توڑ کر تمام ڈیجیٹل آلات اور ڈیٹا چوری کرلیا گیا ۔ میرے ایک جملے کی دل آزاری پر میری معذرت قبول کیجئے ۔ میں مزید کسی توڑ پھوڑ اور چوری کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔

خالد جمیل

ناقابل فراموش ہیرو

tariq ch

ناقابل فراموش ہیرو

شاہراہ زندگی کا سفر اک حیرت کدہ سے کم نہیں، مسافر گھر سے نکلتا کس منزل کی جانب ہے۔ لیکن تقدیر کا غیبی ہاتھ اسے اپنی مرضی کی سمت لے جاتا ہے۔ رہی منزل جہاں شہرت، دولت اور عزت کی دیویاں پھولوں کے گجرے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے کھڑی ہوتی ہیں۔ حبیب الرحمن گھر سے فوجی افسر بننے نکلا۔ ائیرفورس کا پائلٹ بن کر فضاﺅں پر حکمرانی، دشمن کے جہازوں کو اپنی انگلی کی ایک پش سے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا ہی ایک ایسا سپنا تھا جو بچپن سے اس کی آنکھوں میں بسا تھا۔ اس ایک خواب کے سوا اس لمبے تڑنگے خوبرو نوجوان کی آنکھوں نے کوئی دوسرا سپنا دیکھا ہی نہ تھا لیکن تقدیر نے اس کے لئے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ حبیب الرحمن پائلٹ تو نہ بن سکا وہ حبیب کی شکل میں فلم سٹار بن گیا۔ ایسا ہیرو جو لاکھوں دلوں میں دھڑکن بن کر دھڑکتا رہا۔ خربرو حبیب فلمی پریوں کا ہی نہیں اردو اور پنجابی فلموں کے شائقین کا فیورٹ ہیرو تھا۔ ایسا جو ہیروئینوں سے بھی زیادہ مقبول تھا۔ حبیب نے اپنی وجاہت، خوبروئی، بے مثال اداکاری کے سبب ایسی پذیرائی حاصل کی جس کو وہ ساری زندگی بلینک چیک کی مانند کیش کراتا رہا۔ حبیب کا دامن سطحی قسم کے فنکاروں کے برعکس سادی زندگی، عامیانہ قسم کے سیکنڈلوں سے پاک رہا۔ یہی وجہ تھی کہ لاہور کی سماجی زندگی میں ہمیشہ ان کو عزت و احترام ہی ملتا رہا۔ صرف ایک فلمی ہیرو کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک تعلیم یافتہ، اعلیٰ خاندانی اقدار پر یقین رکھنے والے معزز شہری کے طور پر وہ لاہور کی مجلسی زندگی اور محفلوں کی جان تھے۔
حبیب کو ایک اتفاقی واقعہ نے چکا چوند اور گلیمر سے بھری فلمی زندگی کا ایک فرد بنایا۔ ایسا فرد جو اگلے پچاس سال اس رنگین و سنگین دنیا کا لازم و ملزوم حصہ رہا۔ آج تو پاکستانی فلم انڈسٹری ایک نیم مردہ مریض کی طرح ہے جس کو آکسیجن کے ذریعے تنفس فراہم کر کے زندہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ مریض کئی سالوں سے اسی طرح ”نہ زندوں میں نہ مردوں میں“ ایسی زندگی گزار رہی ہے کبھی اس کی سانسیں ڈوبنے لگتی ہیں تو کبھی اچانک اس کے تن مردہ میں جان پڑ جاتی ہے۔ کبھی کبھار کوئی فلم کامیاب ہو جاتی ہے تو فلم انڈسٹری جاگ اٹھتی ہے۔ ورنہ سال کے باقی دنوں میں وہی ویرانیاں اور تاریکیاں اس مقبول صنعت کا مقدر بنی رہتی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ دنیا کے باقی ممالک میں یہ انڈسٹری دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک کی فلم انڈسٹری تو بالی وڈ سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ سات براعظموں میں وہ کون سا خطہ ہے جہاں بھارتی فلمیں، اس کی موسیقی کا جادو سر چڑھ کر نہیں بولتا۔ عرب ممالک میں تو بھارتی فلموں کے ذریعے مقامی باشندے پاکستان سے زیادہ انڈیا کے متعلق معلومات رکھتے ہیں۔ افریقی ممالک میں ہندی اور اردو سے ناواقف نوجوان لڑکے لڑکیاں بھارتی گانے گنگناتے پھرتے ہیں۔ آج کے زمانے میں فلم کسی ملک کی امیچ بلڈنگ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بہرحال یہ آج کی بات ہے کبھی پاکستانی فلم انڈسٹری بھی لالی وڈ کہلاتی تھی۔ وہ اس انڈسٹری کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس سنہرے دور میں پاکستانی فلم انڈسٹری میں بے مثال حسن کی مالک ہیروئنیں ہی نہیں بلکہ ایسے ہیرو بھی آتے جو نہ صرف فنی صلاحیتوں سے مالا مال تھے بلکہ مردانہ حسن کے بھی شاہکار تھے۔ شائد ہی دنیا کی کوئی انڈسٹری ہو جس کو ایسے خوبرو مرد ہیرو دستیاب ہوں۔ رابن، سنتوش، اعجاز، محمد علی، وحید مراد، یوسف خان اور حبیب۔ یہ وہ دور تھا جب اچھی شخصیت اور پرسنیلیٹی کے مالک نوجوان ملک کے کونے کونے سے قسمت آزمائی کے لئے لاہور اور کراچی پہنچتے۔ ایسے نوجوان سٹوڈیو کے گیٹ پر اپنی قسمت کے بند دروازے کھلنے کے لئے منتظر رہتے۔ اکثر کیلئے یہ دروزاہ کبھی نہ کھلتا۔ سینکڑوں، ہزاروں نوجوان فلمی سٹوڈیو کی دیواروں کو چھوئے بغیر اپنی ناتمام حسرتوں کو دل میں لئے واپس لوٹ جاتے۔ کچھ انہی گلیوں میں زیادہ سے زیادہ ایکسٹرا کردار کی منزل بمشکل حاصل کر پاتے۔ اکثر جرائم پیشہ گروپوں کے ہتھے چڑھ جاتے۔ فلمی ہیرو بننے کے ان خواہشمندوں کے برعکس ایسے بھی تھے جن کو راہ چلتے شہرت کی دیوی کی نگاہ ناز نے چن لیا۔ حبیب بھی ایسا ہی نوجوان تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریزی ادبیات میں ماسٹر ڈگری ہولڈر، پائلٹ کے لئے مطلوبہ ٹیسٹ کو کلیئر نہ کر سکا تو اداسی اور بے چینی نے اس کے دل میں ڈیرہ ڈال لیا۔ یہی بے چینی اور اضطراب اس کو احباب کے ایک ٹولے کے ہمراہ فلم کی شوٹنگ کے لئے سجے سیٹ پر لے گیا۔ یہ سوچے بغیر کہ وہ اگلا موڑ اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دے گا۔ اس سیٹ پر اپنے زمانے کے نامور ہدایتکار لقمان کی فلم ”لخت جگر“ کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ لقمان ایک ایسے جوہری تھے جن کی نگاہوں کو ہیروں کی تلاش رہتی تھی۔ ان کی نگاہ حبیب پر پڑی تو ان کے لئے کردار ان کے ذہن میں کلبلانے لگا۔ انہوں نے شوٹنگ روک کر حبیب کو موقع پر ہی فلم میں کام کرنے کی پیشکش کر دی۔ حبیب نے پس و پیش کی تو لقمان بھی اڑ گئے اور حبیب کو قائل کر لیا۔ اس فلم کے ہیرو سنتوش اور ہیروئن نورجہاں تھے۔ اپنی فلمی زندگی کا پہلا سین انہوں نے نورجہاں ایسی لی جنڈ فنکارہ کے سامنے ایسی خوبی سے ادا کیا کہ سیٹ پر موجود منجھے ہوئے آرٹسٹ دنگ رہ گئے۔ یہ ان کے فلمی سفر کا آغاز تھا۔ اس آغاز کے بعد انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اس پہلی فلم میں وہ سائیڈ ہیرو تھے۔ بعد میں آنے والی فلموں میں انہوں نے ہیرو سمیت ہر طرح کے کردار ادا کئے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر میں 600 سے زائد فلموں میں شاندار کردار ادا کئے۔ انہوں نے اردو اور پنجابی فلموں دونوں میں ایک ہی مہارت کے ساتھ پرفارم کیا۔ حبیب کے فلمی کیرئیر کی ورق گردانی کی تو پتہ چلا کہ پاکستان میں بھی دیوداس کے نام سے فلم بنی۔ احساس کمتری کا شکار ہمارے فلمی نقادوں کو شائد معلوم ہی نہ ہو کہ کوئی ایسی فلم لاہور کی انڈسٹری نے تخلیق کی۔ آج کی نسل کو صرف شاہ رخ خان ہی کو دیوداس کے طور پر جانتی اور پہچانتی ہے۔ لیکن اس زمانے میں بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں دیوداس نام سے فلمیں بنیں۔ بھارت میں دلیپ کمار اور پاکستان میں حبیب نے یہ کردار ادا کئے۔ ان سطور میں حبیب کو دلیپ کمار سے بڑا اداکار ثابت کرنا ہر گز مقصود نہیں۔ لیکن اس دور کے فلمی ناقدین ایک عرصہ تک ان دونوں کرداروں کے حوالے سے طویل عرصہ تک بحث و مباحثہ میں الجھے رہے کہ کس اداکار کی پرفارمنس حقیقت کے کس قدر قریب ہے۔ شنید ہے کہ اکثر ناقدین کوئی حتمی فیصلہ نہ کرتے۔ حبیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان فنکاروں میں سے تھے جنہوں نے فلمی صنعت سے کمایا تو اس پیسے کو دوبارہ انوسیٹ کیا۔ انہوں نے کئی فلمیں پروڈیوس کیں۔ وہ پہلے فلم ساز تھے جنہوں نے بیرون ممالک میں فلمیں بنانے کا آغاز کیا۔ اپنی فلموں میں غیر ملکی فنکاروں سے کام کرانے کا کارنامہ بھی انہوں نے سرانجام دیا۔ حبیب کے ساتھ اپنے زمانے کی تمام فنکاراﺅں نے بطور ہیروئن کام کیا۔ حبیب ان فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کی مخالفت کی۔ اس لئے کہ وہ دو قومی نظریئے کے کٹر حامی تھے۔ فلم انڈسٹری کو چھوڑ دینے کے بعد انہوں نے ٹی وی ڈرامہ میں کام کیا تو اس میدان میں بھی جھنڈے گاڑے۔
لالی وڈ کا یہ خوبرو ہیرو حیات مستعار کی مقررکردہ سانسوں کی گنتی پوری کر کے رخصت ہو گئے۔ ان کا جنازہ فلمی دنیا کی بے وفائی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ ان کے عزیزواقارب تو بھاری تعداد میں موجود تھے لیکن فلمی دنیا سے صرف چند افراد نے شرکت کی۔ دنیا سے رخصت ہو جانے والے کو کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کے سفر آخر میں کون شریک ہوا کون نہیں؟ حبیب ہماری فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کا ناقابل فراموش نام ہے۔ یہ باب فلم بینوں کی یادوں میں مہکتا گلاب بن کر ہمیشہ تروتازہ رہے گا۔

امن مذاکرات: پاکستان افغان طالبان پر اپنا اثر کھو چکا

roznama-taqat

article afghanistan and taliban

آغا اقرار ہارون
امن مذاکرات:پاکستان افغان طالبان پر اپنا اثر ڈالنے کی طاقت کھو چکا
بیتے دنوں کی بات ہے جب افغان طالبان پاکستان کی وزارت خارجہ کی جیب میں ہو ا کرتے تھے۔مگر جب سے طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے ’’پہلے سے مرے ہوئے ملا عمر‘ ‘سے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی ہے صورت حال یکسر بد ل چکی ہے۔ا ب طالبان کا نظم ونسق کوئی مردہ قیادت نہیں بلکہ ایک زندہ اور حقیقی رہنما اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے جس نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ کے مفاد میں کیا ہے۔یہ طالبان کی حماقت ہو گی کہ وہ شمالی سے جنوب کی طرف کامیابی سے پیش قدمی جاری رکھیں اور ساتھ ساتھ اپنی بد عنوانیوں کے باعث جنگ ہار تی ہوئی اور ملک کے دیہی علاقوں پر کسی بھی قسم کے اثرو رسوخ سے محروم افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی کریں۔
افغانستان کے موجود حالات اور واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طالبان اپنے دور اقتدار (1996-2001)کے مقابلے میں اب اور بھی مضبوط طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ستمبر 2001 میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکہ کی قیادت میں عالمی افواج نے افغانستان پر جو چڑھائی کی اس وقت سے لیکر آج تک طالبان کے خاتمے سمیت تمام مقاصد کے حصول میں دنیا کو ناکامی کا سامنا کر نا پڑا ہے۔اپنے دور اقتدار میں طالبان احمد شاہ مسعو د کی موجودگی کے باعث کبھی شمالی علاقوں تک رسائی حاصل نہ کر پائے تھے لیکن اب افغانستان میں شمالی سے جنوب اور مشرق سے مغرب تمام صوبوں میں طالبان ایک حقیقت کے طور پر موجود ہیں۔
کابل میں سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان امن مذاکرات پر آمادگی کے لئے چاہتے ہیں کہ افغان حکومت غیر ملکی افواج کو ملک سے نکل جانے کو کہے اور مختلف جیلو ں میں قید جنگجوؤں کو رہا کر دیا جائے ۔دوسری صورت میں طالبان افغان سیکورٹی فورسز اور امریکی افواج کو کھلا چیلنج دینا چاہتے ہیں کہ وہ سب ملکر عسکریت پسندوں کے ساتھ مقابلے میں آئیں اورعبرت ناک تاریخی شکست اور ذلت و رسوائی کا سامنا کریں۔یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ پہلی صورت میں طالبان شاید افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے انعقاد کے لئے قطر کے دارلحکومت دوحہ کو ترجیح دیں۔
جب طالبان افغانستان کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ایسے میں امریکہ، چین ، پاکستان اور افغانستا ن کوشش کر رہے ہیں کہ جنگجوؤں کے ساتھ امن مذاکرات کئے جائیں جبکہ روس نے بھی طالبان کی قیادت کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور انہیں تجویز دی ہے کہ امن کو ایک موقع دیا جائے۔لیکن طالبان مذاکرات کے لئے قطعی تیار نہیں ہیں جب تک کہ امریکہ افغانستان سے چلا نہیں جاتایا کم از کم فضائی حملوں اور رات کے اوقات میں رہائشی مراکز میں چھاپے مارنا بند نہیں کر دیتا ۔
طالبان کی طرف سے امن مذاکرات سے انکار افغان مفاہمتی عمل کے لئے قائم امریکہ، پاکستان، چین اور افغانستان کے کو آرڈینیشن گروپ کے لئے ایک کڑوا پیغام ہے کہ افغانستان کے مقدر کا فیصلہ کرنے میں ان ممالک کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس بارے میں اختیار صرف طالبان کے پاس ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کو آرڈینیشن گروپ کا 23فروری کو کابل میں اجلاس ہو ا تھا جس کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات ممکنہ طور پر مارچ کے مہینے میں اسلام آباد میں منعقد ہو ں گے۔مذاکرات کے لئے جگہ اور دنوں کا انتخاب طالبان کو اعتماد میں لئے بغیر کیا گیا۔بعد ازاں ہفتے کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کاایک سخت ردعمل سامنے آیاجس میں امن مذاکرات اور ان میں طالبان کی شرکت سے متعلق خبروں کو محض ’’افواہیں‘ ‘قرار دیا گیا۔
مجاید کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے امیر ملا اختر منصور نے مذاکرات میں شرکت کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی ’’امارت اسلامی کی قیادت کونسل‘‘ کا اس بار ے میں کوئی اجلاس ہوا ہے۔
افغانستان کے حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار پہلے ہی مارچ میں امن مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں پر امید نہیں ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ چونکہ طالبان شریعت اور قرآن کا نفاذ چاہتے ہیں اور افغان حکومت موجودہ نظام اور آئین کو ہی قائم رکھنا چاہتی ہے اس لئے جب تک افغان حکومت موجودہ سیاسی ڈھانچے کا خاتمہ نہیں کر دیتی اور غیر ملکی افواج کوملک چھوڑنے کا نہیں کہتی تب تک مذاکرات ممکن نہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور امریکہ پاکستان کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے لئے اپنا کردار ادا کرے لیکن پاکستان ایسا کرنے کی صلاحیت بہت پہلے ہی کھو چکا ہے اور اب جبکہ طالبان کو بہت کامیابیاں مل رہی ہیں وہ پاکستان یا کسی کی بھی بات نہیں سنیں گے۔اب مذکرات تب ہی ممکن ہو سکتے ہیں جب طالبان ان صوبوں میں کامیابی حاصل کر لیں جہاں وہ پہلے سے کوششیں کر رہے ہیں۔طالبان پکتیکا صوبے سے فرح صوبے تک اپنا قبضہ جما رہے ہیں اور پاکستان اور ایران کی سرحدوں کے ساتھ تقریبا تمام علاقوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر رہے ہیں۔
سابق سفار تکار اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے افغان امور کے سابق ڈائر یکٹر ایاز وزیر کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہیں جب چار ملکی کو آرڈینیشن گروپ کسی بھی تاریخ کا اعلان کرنے سے پہلے طالبان کی قیادت کے ساتھ مشاورت کرے، جیلوں سے طالبان کی قیادت کو رہا کر دیا جائے اور سینئر کمانڈروں کو آزادانہ طور پر گھومنے کی آزادی دی جائے۔ایاز وزیر کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان کو یقین نہ ہو جائے کہ غیر ملکی افواج افغانستان کی سر زمین چھوڑنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے وہ مذاکرات کرنے سے گریزاں کرتے رہیں گے۔

آغا اقرار ہارون گزشتہ 26سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

…… اگر یہ سب سچ ہے

tariq ch

اگر یہ سب سچ ہے……

اب جبکہ کراچی انگڑائی لے کر جاگ اٹھا ہے تو ہمیشہ کے لئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہئے۔ ایسا نہ ہوا تو اس عروس مشرق کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس بدن دریدہ عروس البلاد پر لگے زخم ابھی ہرے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ انصاف ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہو جائے۔ الزام ثابت نہ کئے جا سکیں۔ ایم کیو ایم ایک مرتبہ پھر یہ کہنے کی پوزیشن میں آ جائے کہ اس کے خلاف الزام کی حقیقت ناوک دشنام سے زیادہ نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر ایم کیو ایم پہلے سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کر کے واپس آئے گی۔ اس صورت میں وہ یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوگی۔ ان کے خلاف الزامات کی نئی سیریز کی بوتل ہی نہیں۔ اس کی پیکنگ بھی پرانی ہے اور اس کا لیبل بھی۔
پاکستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ایک سیاسی جماعت کے بطن سے دوسری نئی جماعت نے جنم لیا ہو۔ ایسی نئی جماعتیں حقیقی بغاوتوں کے نتیجے میں بھی وجود میں آتی رہیں۔ ایسا بھی ہوتا رہا کہ جماعتوں کو سبق سکھانے کے لئے، ان کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے مصنوعی بغاوتیں بھی برپا کی گئیں۔ بس! کچھ ناراض لوگوں کو جمع کیا گیا۔ سر پر دست شفقت رکھا گیا۔ اچھے مستقبل کی نوید سنائی گئی۔ متبادل قوت بنا کر سیدھا ایوان اقتدار میں سب سے بڑی کرسی پر بٹھا دینے کے وعدے وعید ہوئے۔ مالی مدد فراہم کی گئی۔ مین پاور فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ایسی سیاسی جماعتیں کسی بے نام و نشان بغیر کسی نیم پلیٹ کے کسی گھر میں تخلیق ہوئیں۔ کسی بیس منٹ میں منشور تیار ہوا۔ عہدے بانٹے گئے۔ سربراہ، اس کے سیکرٹری کا تقرر ہوا۔ بس اعلان کسی ہوٹل یا کسی بڑے شہر کے پریس کلب میں ہوا۔ ایسی جماعتیں بڑی دھوم دھام کے ساتھ منظر عام پر آئیں۔ تبدیلی کے نعرے لگے۔ انقلاب کے خواب دکھائے گئے۔ اپنی پارٹی کے سابق قائدین کے ماضی کے کچے چٹھے کھل کر ایکسپوز کئے گئے۔ ان قائدین کے احتساب کے لئے جان تک قربان کرنے کے دعوے کئے گئے۔ کچھ وقتی طور پر کامیاب بھی رہیں۔ آنے والے الیکشن میں گنتی کی چند نشستیں بھی حاصل ہوئیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایسی طفیلی جماعتیں وقت کی کڑی دھوپ کے سامنے نہ ٹھہر سکیں۔ یوں غائب ہوئیں جیسے پانی کا بلبلہ غائب ہو جاتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، ایم کیو ایم سب نے اپنی جماعت کے اندر سے ایسی پارٹیوں کو جنم لیتے اور پھر مرتے دیکھا۔ کامیاب صرف وہ جماعتیں رہیں جن کو متحرک اور موثر لیڈر شپ میسر آئی۔ جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی، سازگار حالات سے فائدہ اٹھایا۔ عوام کے ساتھ اپنے رابطے مضبوط کئے۔ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھا اور وقت کے بہتے دھارے کو اپنی مرضی کا رخ دینے میں کامیاب رہے۔ لیکن ایسی مثالیں شاید انگلیوں پر گنی جا سکتیں ہیں۔ ضیاءالحق نے مارشل لاءلگانے کے بعد ابتدائی چند سال تو پیپلزپارٹی کے اپنی موت مر جانے کا انتظار کیا۔ لیکن اس کی مقبولیت میں کمی نہ آئی تو پھر اس کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ بھٹو پھانسی لگ چکے تھے۔ ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو بیرون ملک جلاوطن تھیں۔ لہٰذا انکلوں سے بات کی گئی۔ ایک انکل نے نیشنل پیپلزپارٹی بنائی۔ ایک اور دانشور انکل نے مساوات پارٹی کے نام سے جماعت بنا کر قسمت آزمائی کی۔ ایسے انکل بھٹو کے متبادل تو کیا بنتے اپنی شناخت بھی کھو بیٹھے۔ جناب غلام مصطفی جتوئی مرحوم کو 1988ءکے الیکشن میں بدترین شکست ہوئی۔ اسی الیکشن میں مصطفی جتوئی، پیر پگاڑا، محمد خان جونیجو، پیپلزپارٹی کے عام سے ورکروں کے مقابلے میں ہار گئے۔ جتوئی صاحب کو بعد میں خیراتی نشست پر ایوان میں لایا گیا۔ ان کو لیڈر آف دی اپوزیشن بھی بنایا گیا۔ لیکن چینی مصنوعات کی طرح یہ پراڈکٹ بھی دیرپا نہ نکلی۔ وزارت عظمیٰ کی صرف نگرانی ہی ملی۔ وہ بھی چند ہفتوں کے لئے۔ سچ مچ کی وزارت عظمیٰ کا ٹائم آیا تو موصوف کو جھنڈی کرا دی گئی۔ 1993ءتک مسلم لیگ (ن) حقیقی طور پر مقبول عوامی جماعت بن چکی تھی۔ لہٰذا اس کے پر کاٹنے کا فیصلہ ہوا۔ عمر رسیدہ صدر مملکت غلام اسحاق خان نے پس پردہ قوتوں کے ساتھ مل کر کھیل کھیلا اور مسلم لیگ (ج) کے نام سے ایک مسلم لیگ بنی۔ حروف تہجی کے باقی نام سے موسوم مسلم لیگیں پہلے سے ہی بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ اس جماعت کے غبارے میں کسی جدید سائنٹیفک پمپ سے ہوا بھری گئی۔ لیکن مرکز میں چھ نشستیں ملیں جبکہ پنجاب میں 18 سیٹیں اس کے حصہ میں آئیں۔ مسلم لیگ (ج) کو اقتدار میں حصہ اس کی حیثیت سے بہت زیادہ، تین وفاقی وزارتیں اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ۔ بے رحم گزرتے وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مسلم لیگ (ج) اب صرف کسی الماری میں پڑے لیٹر پیڈ پر ہی باقی رہ گئی ہے۔ اس کے سربراہ پاکستان تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں

۔ پرویز مشرف دور میں مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر مسلم لیگ (ق) بنائی گئی۔ پیپلزپارٹی کو توڑ کر پیپلزپارٹی پیٹریاٹ بنائی گئی۔ جب تک فوجی وردی کا ڈراوا قائم رہا یہ جماعتیں قائم بھی رہیں اور بہتی گنگا میں ہاتھ، پیر، سر دھوتی رہیں۔ وردی اتری تو یہ دونوں جماعتیں فلاپ فلم کی طرح سرکٹ سے غائب ہو گئیں۔ مسلم لیگ (ق) تو آج بھی ظہور الہٰی روڈ پر ایک چاردیواری کے اندر قائم ہے البتہ پیٹریاٹ کی تو قبر کا بھی کسی کو پتہ معلوم نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے توڑنے، جوڑنے کی تاریخ بہت لمبی ہے۔ بات بہت دور تک جائے گی۔ ایم کیو ایم کے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ کون نہیں جانتا کہ ایم کیو ایم کا پودا ضیاءالحق نے اپنے اقتدار کی نرسری میں اگایا۔ مقصد ایسا کانٹے دار پودا تخلیق کرنا تھا تاکہ کراچی میں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی، جے یو پی کو زخمی کیا جا سکے۔ ایم کیو ایم نے یہ ڈیوٹی خوب سرانجام دی۔ کراچی کے عوام کی محرومیوں اور مہاجر کمیونٹی کے نفسیاتی خوف سے ایم کیو ایم نے فائدہ اٹھایا۔ شاعروں، ادیبوں، مصنفوں اور مصوروں کے شہر کو کاہنوں، لنگڑوں، کن ٹٹوں کے حوالے کر دیا گیا۔ قلم، کتاب، برش کی جگہ ٹی ٹی، ڈرل مشین، بند بوریوں اور کلاشنکوف نے سنبھال لی۔ مشاعروں، موسیقی کی محفلوں کی بجائے ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری کی منافغ بخش صنعت نے لے لی۔ سیاستدان، صحافی، علمائ، ڈاکٹر، انجینئر، طالب علم، لیڈر قتل ہونے لگے۔ قائد کا حکم تھا ٹی وی بیچو اسلحہ خریدو۔ عملہ اپنی مرضی کا۔ حلقہ بندیاں من مرضی کی۔ کون مائی کا لعل تھا جو الیکشن جیت پاتا۔ لہٰذا کراچی کے 80 فیصد مینڈیٹ کی مالک بن گئی۔ 1992ءمیں ایم کیو ایم کا زور توڑنے کے لئے حقیقی بنائی گئی۔ تمام تر خفیہ سرپرستی کے باوجود یہ جماعت بیت الحمزہ تک محدود رہی۔ ایم کیو ایم پر لگے الزامات نئے نہیں۔ یہ الزام کراچی میں کئے گئے ہر آپریشن میں لگے۔ را سے تعلقات کا الزام بھی پرانا ہے۔ جناح پور کے نقشے بھی کئی بار دیکھے اور دکھائے گئے۔ کون نہیں جانتا کہ سیکٹر کمانڈر دراصل قاتلوں کے سرغنہ تھے؟ کون نہیں جانتا کہ بلدیہ ٹاﺅن کا واقعہ کیسے پیش آیا؟ کس کو معلوم نہیں کہ اربوں کا بھتہ لندن جاتا ہے؟ کس کو معلوم نہیں کہ ٹارگٹ کلر ساﺅتھ افریقہ اور دیگر کئی ملکوں سے کنٹرول ہوتے ہیں؟ یہ سب سوال اور ان کے جواب پرانے ہیں۔ اس کند ذہن قلمکار کے پاس صرف ایک سوال ہے۔ صرف ایک سوال۔ کیا اس مرتبہ بغاوت اصلی ہے؟ کیا مصطفی کمال اور انیس قائم خان کا حرف انکار سچائی پر مبنی ہے۔ کیا یہ نوزائیدہ جماعت ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی بجائے جنیوئن ہے۔ اگر ایسا ہو تو پھر دونوں نوجوان قائدین اس آٹھ سالہ دور کی بات ضرور کریں جب پرویز مشرف ان کا سرپرست اعلیٰ تھا۔ جب وہ کراچی کے میئر تھے۔ جب بارہ مئی کا سانحہ پیش آیا تھا۔ مصطفی کمال باغی بن کر آئے ہیں تو اس دور سیاہ کی کہانی ضرور بیان کریں۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ معاملہ کسی کو مائنس کرنے تک محدود ہے اور کچھ بھی نہیں.