کاسا 1000ایک خوبصورت خواب یا حقیقت

roznama-taqat

کاسا 1000ایک خوبصورت خواب یا حقیقت
بڑی تصویر کے لئے تصویر پر کلک کریں

آغا اقرار ہارون
کاسا 1000ایک خوبصورت خواب یا حقیقت
کاسا 1000منصوبہ وسطی ایشیائی ریاستوں، افغانستان اور پاکستان کے لئے بہت اہم سمجھا جاتا ہے ۔اس منصوبے کا سنگ بنیاد شا ید رواں سال مئی میں رکھا جائے گا اور پاکستانی حکومت کی طرف سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کی طرح اس منصوبے کو بھی بہت زیادہ مشتہر کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پاکستان، افغانستان کے راستے سے تاجکستان اور کرغستان سے1000میگاواٹ بجلی حاصل کر ے گا۔منصوبے کا تخمینہ 1.1بلین امریکی ڈالرہے۔اس منصوبے کا خیال دراصل امریکہ کے کچھ اداروں کو اس لئے آیا کہ و ہ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن کے منصوبے کی طرح افغانستان کو توانائی کا ایک مرکز بنانا چاہتے تھے اور یہ فلسفہ امریکی اسٹریجی کا حصہ تھا ۔مگر کوئی امریکی فرم اس منصوبے میں پیسہ لگانے کو تیار نہ تھی اس لئے ایشیائی ترقیاتی بینک کو اس خیال میں شامل کیا گیامگر ایشیائی ترقیاتی بینک نے کچھ سال اس منصوبے پر کاغذی کام کرنے کے بعد معذرت کر لی کہ یہ منصوبہ ایک خواب ہے جس کی حقیقت مشکل ہی نہیں بلکہ شاید ناممکن ہے۔
اس کے بعد عالمی بینک اور کچھ عرب ممالک کے گروپس کو شامل کیا گیا ہے کہ وہ منصوبے پر پیسہ لگائیں اور 1000میگاواٹ بجلی افغانستان اور پاکستان کو بیچ کر اپنا پیسہ واپس لے لیں۔مگر حیرت کی بات ہے کہ منصوبے پر کاغذی کام جاری رکھنے کے باوجود ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ پاکستان کو ایک یونٹ بجلی کی قیمت کیا ادا کرنا ہو گی۔اس منصوبے کے لئے تاجکستان 70فیصد بجلی فراہم کرے گا اور 30فیصد کرغستان سے لی جائے گی۔حیر ت کی بات یہ ہے کہ کرغستان میں بعض اوقات پانی کم ہونے کی وجہ سے بجلی اتنی کم پیدا ہو تی ہے کہ وہ سوویت یونین کے زمانے کے بجلی فراہم کرنے والے سسٹم سے بجلی حاصل کرتا ہے جو کہ دراصل اس کو قزاقستان، روس اور ازبکستان سے ملتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ان حالات میں کرغستان کا کاسا 1000منصوبے کو بجلی فراہم کرنا عملاََ نا ممکن ہے۔
دوسری طرف اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ تاجکستان کے کچھ معاملات پانی اور ڈیم کے حوالے سے دوسرے پڑوسی ملکوں سے بھی چل رہے ہیں اور کوئی نہیں جانتا ہے کہ آج سے پانچ سال بعد تاجکستان میں پانی کی فراہمی اور ڈیموں کے معاملات کیا ہوں گے جبکہ کاسا 1000سو فیصد پن بجلی کا منصوبہ ہے۔
750کلو میٹر کاسا کی ٹرانسمیشن لائن افغانستان میں ان تمام راستوں سے گرزتی ہے جو عرصہ دراز سے خانہ جنگی کا شکارہیں اور 80فیصد علاقے دشوار گزار پہاڑوں پر مشتمل ہیں۔تاجکستان سے یہ لائن قندوز جائے گی جو مسلسل طالبان کے حملوں کا شکار ہے۔اس کے بعد یہ لائن بامیان سے ہوتے ہوئے کابل پہنچے گی۔بامیان ابھی تک مکمل طور پر افغان حکومت کے زیر اثر نہیں ہے اور طالبان رات کو ان علاقوں میں اپنا راج جماتے رہتے ہیں۔
کاسا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی بجلی کی فراہمی کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا اور فراہمی کا راستہ دنیا کے ان مشکل ترین علاقوں میں سے ہے جہاں پچھلے 30سال سے جنگ جاری ہے۔
کاسا 1000کا منصوبہ جب کاغذوں میں شروع کیا گیاتھا تو اس کا راستہ تاجکستان سے واخان شمالی افغانستان سے ہوتے ہوئے پاکستا ن کی وادی چترال میں داخل ہو تا تھا۔مگر منصوبے کا نقشہ بار بار تبدیل کیا گیا کیونکہ افغان حکومت پشتون علاقوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دینا چاہتی تھی تاکہ انہیں حکومت کے قریب کیا جائے اور طالبان سے دور۔غیر ملکی کمپنیاں جو اس منصوبے کی کاغذی شکل کی ذمہ دار تھیں وہ افغان حکومت اور مغرب کے مطابق کاسا 1000کے نقشے تبدیل کرتی رہیں اور اب یہ منصوبہ ایک ایسے راستے سے پاکستان آنا چاہتا ہے جس کے بارے میں دنیا کے ماہرین صر ف ایک ہی رائے رکھتے ہیں وہ یہ کہ کاسا 1000ایک خوبصورت خواب ہے جو اس خطے کے معاشرتی حالات بد ل سکتا ہے مگر یہ صرف ایک خواب ہے حقیقت نہیں۔
آغا اقرار ہارون گزشتہ 26سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں ایک مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

نیشنل پریس کلب میں پریس کلب کی نومنتخب باڈی کے ارکان کی تقریب حلف برداری

نیشنل پریس کلب میں پریس کلب کی نومنتخب باڈی کے ارکان کی تقریب حلف برداری

نیشنل پریس کلب میں پریس کلب کی نومنتخب باڈی کے ارکان کی تقریب حلف برداری

اسلام آباد (ڈی این ڈی)
چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ صحافیوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آمریت کے خلاف جدوجہد کی، حق و سچ لکھنے کی پاداش میں صحافی اگر کسی ریاستی ستون سے عدم تحفظ کا شکار ہیں تو یہ قابل تشویش ہے۔ ہم پہلے بھی حق و صداقت پر قائم رہے اور اب بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ جدوجہد صرف آزادی صحافت نہیں بلکہ فوجی آمریت کے خلاف اور حق و انصاف کی جدوجہد ہے۔ صحافیوں نے مشکل حالات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اور اس راہ میں کئی صحافی شہید ہوئے، کوڑے کھائے، یہ راستہ کٹھن اور مشکل ضرور ہے مگر بہت عظیم ہے۔ وہ بدھ کو نیشنل پریس کلب میں پریس کلب کی نومنتخب باڈی کے ارکان کی تقریب حلف برداری سے خطاب کر رہے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے نومنتخب باڈی کے عہدیداران سے حلف لیا۔ اس موقع پر صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم اور سیکرٹری عمران یعقوب ڈھلوں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی ملک کے لئے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

npc oath taking ceremony photo

سابق صدر نیشنل پریس کلب شہریار خان نے باقاعدہ چارج نئی باڈی کے حوالے کیا۔ اس موقع پر صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ نے کہا کہ آج صحافیوں کا تحفظ سب سے بڑا مسئلہ ہے اور دہشت گردی کے علاوہ اگر حق اور سچ لکھنے کی پاداش میں بھی کچھ ریاستی ستون صحافیوں کے لئے اس عدم تحفظ کی وجہ ہیں تو یہ بہت تشویش کی بات ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ وہ صحافیوں کے حقوق کی آواز ایوان بالا میں بھی بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہم پہلے بھی حق و صداقت پر قائم رہے اور اب بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ جدوجہد صرف آزادی صحافت نہیں بلکہ فوجی آمریت کے خلاف اور حق و انصاف کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اس راستے میں شہید ہونے والوں کے خون کا بدلہ حق و انصاف کے راستے پر چل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اور موجودہ حکومت نے بھی بدقسمتی سے ویج بورڈ ایوارڈ کا مسئلہ بھی حل نہیں کیا ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ وہ پہلے بھی صحافیوں کی اس جدوجہد کا حصہ رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ انہوں نے تمام نومنتخب عہدیداروں کو حلف لینے پر مبارکباد پیش کی۔

یوکرائن کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی شدید مذمت، جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار

Ukraine-Flag-Map

یوکرائن کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی شدید مذمت، جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار
اسلام آباد(ڈی این ڈی): پاکستان میں یوکرائن کے سفیر ولادی میر لوکو مو نے کہا ہے کہ ان کا ملک گزشتہ ہفتے خیبر پختواہ کے شہر چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور حملے سے متاثر ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو کی جانب سے ولادی میر لوکو مو کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے خانہ جنگی اور داخلی عد م استحکام کا شکا ر ہے ۔یوکرائن کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کو درپیش ان مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ بھی اسی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوشاں ہے۔
واضح رہے کہ 20جنوری کو باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے میں شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین سمیت کم از کم 21افراد شہید ہو گئے تھے۔
یوکرائن اس سے پہلے بھی دنیا کے دیگر ممالک بشمول ترکی، کیمرون، افغانستان اور انڈونیشیا میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی سختی سے مذمت کر چکا ہے جن کے باعث کئی معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔

داعش کا ترکی میں روسیوں کو اغواء کرنے کا منصوبہ

russian tourists

داعش کا ترکی میں روسیوں کو اغواء کرنے کا منصوبہ

ماسکو(ڈی این ڈی )روس کی وفاقی سیاحتی ایجنسی نے گزشتہ روز انتباہ جاری کیا ہے کہ داعش کے ارکان روسی شہریوں کو ترکی میں اغواء کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس حوالے سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس کے رہنماؤں کا منصوبہ ہے کہ ترکی میں موجود روسی شہریوں کو اغواء کیا جائے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اغواء شدہ لوگوں کو اسلامک اسٹیٹ کے زیر قبضہ علاقوں میں لے جا سکتے ہیں اور انہیں عوامی سطح پر ان لوگوں کو ہلاک کرنے یا پھر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

اپنی سوچ مت روکو—— نسرین انجم بھٹی

محمد نواز طاہر

نسرین انجم بھٹی
نسرین انجم بھٹی

ہمیشہ مسکراتے،شیرینی لہجے اور پنائیت سے پوچھنا ، تسی ٹھیک او، خوش رہیا کرو، ۔۔۔ نسرین انجم بھٹی کے یہ الفاظ ، چاہت اور سمندر سی گہری آنکھیں آج بھی ریڈیو پاکستان لاہور مرکز پر میرا تعاقب کر رہی تھیں ، میں باز گشت سن رہا تھا ، جو کوئی مل رہا تھا ، افسردہ تھا، وہ آپی ‘ کی باتیں کررہا تھا جس نے کبھی کسی کو شکوے کا موقع نہیں دیاتھا، آج سب کے گلے سن رہی تھی ، سب کو شکایت تھی کہ وہ انہیں ناراض ، تنہا اور افسردہ کرگئی ہے ۔ میں نے بازگشت سنی ، بہت میٹھی آواز تھی ، جواب تھا ،سب کے شکوﺅں کا ، اس شکوے کے ساتھ ، بھلا کبھی کسی کو گلے ، شکوے کا موقع دیا ؟ پھر کیوں شکایت کرتے ہو؟ میں تم سب میں ہوں ، مجھے محسوس کرو ، پڑھو ، سمجھو ، میں کہیں نہیںگئی ، یہ وہ بازگشت ہے جو ریڈیو پاکستان کی راہداری ، سٹوڈیوز اورڈبوں ، الماریوں میںبند ان گنت ٹیپوں میں گونج رہی ہے۔۔۔۔ منگل وار کو میں جسم و روح پر چوٹ کھانے کے بعد رات گئے پریس کلب کے نیٹ کیفے میں ’ فیس بک‘ پر’ان باکس‘ میں انور سن رائے کا میسج دیکھا، لنک اوپن ہوا تو ان کی نظم تھی ؟ یہ بھی سوال تھا ؟ پوچھ رہے تھے ، تجھ سے کیا پوچھا انہوں نے ، اس دنیا میں جن کا کام مانیٹرنگ اور اگلے مرحلے میںابتدائی تفتیش ہے ؟ اب تک کن کن سے مل چکی ہو اور کون کون کیسے منتظر تھا ؟ تب مجھے نسرین انجم بھٹی سے آخری ملاقات یاد آئی جب انہوں نے بتایا تھا کہ میں انڈیا جا رہی ہوں ، مجھے عذرا عباس کا ٹیلی فون نمبر دو اور ہاں انور سن رائے کا بھی ۔۔ ، وہ اس ذبر، پیش ادبی جوڑے کے بارے میں ہمیشہ مجھ سے اس یقین کے ساتھ پوچھتیں جیسے میں ابھی ابھی کراچی سے لاہور پہنچا ہوں اورٹرین پکڑنے سے پہلے کراچی میں میری آخری ملاقات بھی انہیں دونوں سے ہی ہوئی ہو، ۔۔۔عذرا عباس اور انور سن رائے بھی ہمیشہ نسرین انجم بھٹی کا ذکر کرتے ، عذرا عباس نے ان دنوں میں لاہور آنا تھا ، وہ لہلہاتے کھیتوں اور وہاں رینگتے انسانوں، اور چھوٹی بڑی گاڑیوں کی تیز رفتاری کا ٹرین میں بیٹھ کر مشاہدہ کرنا چاہتی ہیں ، یا پھر ایسی سواری سے اپنا پاکستان بہت قریب سے دیکھنا چاہتی ہیں جو سواری انہیں ڈھابے پر ، لہلہاتے کھیت اور ویران جنگل میں خوش و خرم دکھائی دینے والے خوشحال عوام کے پاس رک کر بات چیت کا موقع فراہم کرے ۔ مجھے انور سن رائے کی نظم نے بے قرار کردیا تھا، نسرین انجم بھٹی کے ساتھ زبیر رانا بھی شدت سے یاد آرہے تھے
وہ ہماری بڑی بہن ، ادبی رہنما اور استاد تھیں ، ہیں اور رہیں گی ، شائد پنجاب میں ایسی کوئی بیٹی پیدا نہ ہو ، مجھے کچھ سمجھ ہے نہ ادراک ، نہ ہی نسرین انجم بھٹی کی فراست اور شعور پر بات کی تمیز ،پھر بھی توتلی زبان استعمال کر رہا ہوں حالانکہ نسرین انجم بھٹی نے گنگ بھی گائیک بنا دیے ،
میں علمی ادبی کسمپرسی پر کڑھ رھا تھا تب اپنے جیسے کھلنڈرے صحافی آغا اقرار ہارون کا اسلام آباد سے ٹیلی فون آیا جو بتا رہا تھا کہ نسرین انجم بھٹی ان کی علمی ماں ہیں جنہوں نے ابتدائی زندگمی میں انہیں اس طرح بولنا سکھایا جس کی بدولت گورنمنٹ کالج لاہور میں کئی مباحثوں میں انعامات حاصل کیے ، اگر وہ نہ ہوتیں تو شائد میں بھی گنگ ہی رہتا ، یہ تمام نسرین انجم بھٹی کے نام ہیں ، میری علمی ماں کے نام جس نے زمانہ طالب علمی میں جبکہ وہ ضیاءالحق کا بدترین مارشل لائی دور تھا ، وہ ریڈیو پاکستان پر بچون کی تربیت کرتی تھیں انہوں نے ایک بات بہت عمدگی کے ساتھ سمجھائی تھی کہ دل کی بات ، حق بات ہے ، اسے روکنا نہیںکہہ دینا ہے ۔۔۔۔ آج مجھ میں نسرین انجم بھٹی زندہ ہےں اپنی تربیت سے ۔۔۔۔۔ انور سن رائے نے نسرین انجم بھٹی سے جو سوالات کیے وہ پڑھنے میں تو نظم و نوحہ ہے ، درحقیقت وہ ایک لو لیٹر ہے ، یہ لو لیٹر بہت سے پیارے لکھنا چاہتے ہونگے لیکن انور سن رائے کی عقیدت ، محبت اور جلدی نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ، کل اور آج کا سوشل میڈیا یہی بتا رہا ہے جہاں صرف نسرین انجم بھٹی ہی دکھائی دیتی ہیں جیسے وہ اپنی خوشبو کے رنگوں کی رینبو بنائے بہت دور دور تک سب کو اپنی بانہوں میں سمیٹ رہی ہوں ۔۔۔ اور کہہ رہی ہوں کہ گوشت پوست سے یہ سب ممکن نہیںتھا ، شائد الفاظ میں بھی نہیں لیکن میری روح تم سب میں موجود ہے ۔ دیکھو تمہارے سب کیلئے میرے بانہیں کھلی ہیں مجھ میں سما جاﺅ بشرطیکہ نفرت دل سے نکال دو ، انسانوں سے پیار کرو ۔۔۔میرے بچو ، بھائیو! دوستو! میری بات یاد رکھنا ۔۔۔گھر کی کسی عورت کو ، بیٹی ، بہن کو کمتر نہ سمجھنا ، اپنی سانس اور شان کی طرح اس کی تعلیم ، تربیت اور آزادیوں کا پاسدار بننا اور ہوسکے تو اس غیرت پر جان دیدینا ، یہ غیرت اس کا زیور ہے،جسے وہ الفاظ ، چاہت اور آخر میں قربانیوں سے سجاتی ہے ، تم اس کے چوکیدار بننا م لٹیرے نہ بننا ، اس کے حق نہ چھیننا، اسے کاری بنا کر ، کوئی الزام لگا کر ، جھوٹی انا کا کوئی پہاڑ کھڑا کرکے ورنہ تمہارے لئے قربانی دینے والا ، دودھ کے دانت مضبوط کرنے والا کوئی بالغ انسان نہیں بچے گا اور دیکھو اگر نابالغ انسان تمہارے دودھ کے دانتوں کو ، کمزور نحیف جسم کو توانا نہیں بنا سکتا، گوشت کے لوتھڑ ے کو زبان نہیں بنا سکتا ، یہ صرف علم اور شعور سے ممکن ہے جو تم دلا سکتے ہو، ورنہ نہ تم ہیرو بن سکتے ہو نہ خوابوں کے شہزادے،۔۔۔ جو کسی کا ہیرو نہ ہو ، کسی کے خوابوں کا شہزادہ نہ ہو ، کسی کی آس، امید نہ ہو ، بھلا وہ انسان کیا ہے؟گھبرو کیا ہے اور اس کی شان کیا ہے؟ بس ایک چلتی پھرتی لاش ہی ہوسکتا ہے۔۔۔

کم عمری میں شادی ، 18سال تک کی37فیصد سے زائد بچیاں زچگی کے مراحل میں موت کا شکار ہو جاتی ہیں

کم عمری میں شادی ، 18سال تک کی37فیصد سے زائد بچیاں زچگی کے مراحل میں موت کا شکار ہو جاتی ہیں

  (ڈی این ڈی)

کم عمری میں شادی ، 18سال تک کی37فیصد سے زائد بچیاں زچگی کے مراحل میں موت کا شکار ہو جاتی ہیں

کم عمری میں شادی کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال18سال تک کی37فیصد سے زائد بچیاں زچگی کے مراحل میں موت کا شکار ہو جاتی ہیں اوراس مقصد کیلئے انگریز دور میں 87سال پہلے بنائے جانے والے بچوں کی شادی کی ممانعت کے قانون(Child Marriage Restraint Act 1927) میں وقت کے تقاضوں کے مطابق ترامیم بہت ضروری ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قائم محتسب پنجاب کے ذیلی ادارے کی چیف پراونشل کمشنر فار چلڈرن نسرین فاروق ایوب نے بچوں کے حقوق کیلئے موثر ابلاغ پر تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔چیف پراونشل کمشنر فار چلڈرن نے کہا کہ بچوں کی شادی کی ممانعت کے قانون مجریہ 1927کے مطابق شادی کیلئے لڑکی کی کم سے کم عمر 16اور لڑکے کی 18سال جبکہ کم عمری میں شادی پر ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 16سال کی عمر کی لڑکی نہ تو شناختی کارڈ حاصل کرسکتی ہے ،نہ خودمختار پاسپورٹ، نہ ڈرائیونگ لائسنس، نہ انفرادی بنک اکاؤنٹ اورنہ ہی اسے ووٹ دینے کا حق حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ قانون کی ستم ظریفی ہے کہ جس عمر میں ایک لڑکی اپنی کمسنی کی وجہ سے قانونی طور پر گاڑی نہیں چلاسکتی ، اس عمر میں اس کی قانونی طور پر شادی کرکے گھر چلانے پر مجبور کیاجاتا ہے ۔قانون میں ترمیم کے ساتھ ساتھ نکاح فارم میں لڑکی اورلڑکے کے شناختی کارڈ نمبر زکے اندراج کی شرط لازمی قرار دینے سے بھی کم عمری کی شادی کی روک تھام ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 18سال تک کی عمر کی37 فیصد سے زائد بچیاں زچگی کے دوران موت کاشکار ہوجاتی ہیں ۔ نسرین فاروق ایوب نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں سب سے زیادہ حق تلفی بچیوں کی ہو رہی ہے جنہیں خاندانی دشمنیاں اورجھگڑے نمٹانے کیلئے ونی اورسواراجیسی قبیح رسومات کے ذریعے بطور ہرجانہ استعمال کیاجاتاہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اورایسے مک میں اپنے گناہوں اورجرائم کے ازالے کے طورپر معصوم بچیوں کو استعمال کرنا ایک المیے سے کم نہیں ۔ انہوں غیر سرکاری تنظیموں سے کہا کہ وہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں اوربچیوں کے حقوق کیلئے بھی آواز بلند کریں اوربچوں کی حق تلفی کی صورت میں محتسب پنجاب کے ذیلی ادارے چیف پراونشل کمشنرفار چلڈرن سے رابطہ کریں تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ مزارات کے احاطوں اوراردگرد کے ہوٹلوں میں بچوں سے بھیک منگوانے اورچائلڈ لیبر کے ساتھ ساتھ جنسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی پر محکمہ اوقاف کی معاونت سے جلدکاروائی کی جائے گی ۔تربیتی نشست سے ڈائریکٹر جنرل وفاقی محتسب محمد ریاض، چیئرپرسن اپواپنجاب روحی سیداورانچارج چائلڈ کیئر سنٹریاسمین ذکاء نے بھی خطاب کیا جبکہ پنجاب کے مختلف محکموں کے افسران اورغیرسرکاری تنظیموں کے عہدیداران نے بھی تربیتی نشست میں شرکت کی ۔

یوکرائن کی پاکستان کو توانائی بحران سے نکلنے میں مدد کی پیش کش

یوکرائن کی پاکستان کو توانائی بحران سے نکلنے میں مدد کی پیش کش
یوکرائن کی پاکستان کو توانائی بحران سے نکلنے میں مدد کی پیش کش

یوکرائن کی پاکستان کو توانائی بحران سے نکلنے میں مدد کی پیش کش
اسلام آباد(ڈی این ڈی): یوکرائن پاکستان کے توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں جنوبی ایشیائی ملک کو تمام متعلقہ اور ضروری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کو تیار ہے۔
یہ بات پاکستان میں یوکرائن کے سفیر ولادی میر لوکو مونے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ولادی میر لوکو مو کا کہنا تھا کہ یوکرائن اور پاکستان تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں، سینکڑوں پاکستانی بزنس مین یوکرائن سے کاروبار کرنے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی تجارت 500ملین ڈالر کے قریب ہو چکی ہے۔
یوکرائن کے سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اپنی آزادی کے بعد سے لیکر کا م کرتا چلا آرہا ہے اور ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان قائم کیا گیا دو طرفہ دفاعی تعاون وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہا ہے ۔
اپنے ملک کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے 14جنوری کود یئے گئے اپنے بیان میں واضح طور پر ذکر کیا ہے کہ یوکرائن روس کی طرف سے شروع کی جانے والی عسکری اور معاشی جارحیت کا شکار ہے مگر یوکرائنی قوم ملک کے مشرقی حصے کے دفاع کے لئے کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کے طور پر کھڑی ہے۔
مزید برآں یوکرائن کے سفیر نے پاکستانی حکومت اور قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وقت پڑنے پر ہمیشہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرائن کی حمایت کی ہے۔

پاکستان اور ازبکستان کے باہمی تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے غرض سے غیر جانبدار ’’پاک ازبک فورم‘‘ کا قیام

پاکستان اور ازبکستان کے باہمی تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے غرض سے غیر جانبدار ’’پاک ازبک فورم‘‘ کا قیام

پاکستان اور ازبکستان کے باہمی تعلقات اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے غرض سے غیر جانبدار ’’پاک ازبک فورم‘‘ کا قیام
اسلام آباد(ڈی این ڈی): گہرے تاریخی، ثقافتی اور بھائی چارے کے رشتوں میں جڑے ہوئے پاکستان اور ازبکستان کی عوام کے درمیان باہمی دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ’’پاک ازبک فورم‘‘کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
پاکستان میں مختلف شعبوں بشمول کاروبار، تعلیم اور فن و ثقافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے ’’پاک ازبک فورم‘ ‘کی بنیاد رکھی جس کا مقصدپاکستان اور ازبکستان کے مابین کاروبار، تعلیم اور فنون لطیفہ جیسے شعبوں میں باہمی تعاون اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
دوستی، باہمی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کے فلسفہ کے بنیاد پر قائم کئے جانے والے اس’ غیر جانبدار‘ فورم کے تحت دونوں مذکورہ ممالک کے تعلقات اور تقافت پر مبنی نمائشوں، لیکچرز، دوطرفہ دوروں کے تبادلوں، اور آرٹ اور ثقافتی ترقی کے میدان میں مشترکہ منصوبوں جیسی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
پاکستان میں ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقو و نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ازبکستان کے پاکستان کے ساتھ گہرے تاریخی اور تقافتی تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارت ، زراعت، سیاحت اور تقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہے۔
فرقت صدیقو و کا کہنا تھا کہ وہ اس فورم کے قیام کے بارے میں بہت پر جوش ہیں اور اس سے یقیناًدونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات نا صرف مزید مضبوط ہوں گے بلکہ تقافتی تعلقات کو بھی مزید استحکام حاصل ہو گا۔
وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ میں مبصر کی حیثیت سے پہچان رکھنے والے اور پاک ازبک فورم کے صدر آغا اقرار ہارون نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ فورم پاکستان اور ازبکستان کے تاجروں، محققین، اساتذہ ، طلبا اور سماجی تنظیموں کو ایک دوسرے کے ملک میں رائج کاروباری قوانین، قوانین، طریقہ کار، کاروباری ضروریات، ثقافت، تاریخ، ذہنیت اور معیشت کو سمجھنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔