افغانستان میں امریکی فوجیوں کو متعین رکھے جانے سے حالات بہتر نہیں ہونگے ،روس

افغانستان میں امریکی فوجیوں کو متعین رکھے جانے سے حالات بہتر نہیں ہونگے ،روس

افغانستان میں امریکی فوجیوں کو متعین رکھے جانے سے حالات بہتر نہیں ہونگے ،روس
ماسکو،روس(ڈی این ڈی):روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوو نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کو مسلسل رکھے جانے سے حالات بہتر نہیں ہو سکیں گے لہذامغرب کو جنگ سے متاثرہ ملک کوحقیقی مدددینی چاہیے ۔
اپنے ایک بیان میں ضمیر کابلوو کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف افغان حکومت کی اخلاقی سیاسی حمایت تک محدود ہو سکتا ہے جو کسی وجہ سے سمجھتی ہے کہ غیر ملکی فوجیوں کو برقرار رکھنے سے اس کی زندگی مکمل آسان ہو جائے گی۔
ضمیر کابلوو نے کہا کہ افغانستان کی حکومت اور افغان عوام کو سب سے پہلے اپنے طاقت پربھروسہ کرنا چاہیے اور مغرب کو چاہیے کہ انہیں بطور امداد ہتھیار دے ۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ روس کو افغانستان کی سی دلدل میں کھینچا جائے مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔
مزید برآں ان کاکہنا تھا کہ امریکی صدر باراک اوبامہ 2016 کے بعد بھی افغانستان میں 9,800 امریکی فوجی متعین رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اُمید ہے کہ 2016 کے آخر میں ان کی تعداد کم کرکے5,500 فوجی کر دی جائے گی۔

بھارت میں مہنگائی کے ہاتھوں عوام پریشان ،مرغی سے مہنگی دال

بھارت میں مہنگائی کے ہاتھوں عوام پریشان ،مرغی سے مہنگی دال

بھارت میں مہنگائی کے ہاتھوں عوام پریشان ،مرغی سے مہنگی دال
نئی دہلی،بھارت(ڈی این ڈی):بھارت میں مہنگائی کی وجہ سے عوام سخت پریشانی کی کیفیت سے دو چار ہیں جہاں دیگر کھانے کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ماش کی دال کی قیمت بھی گذشتہ ایک برس میں تقریباً دو گنا ہوگئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق ملک میں اس وقت مرغی کا گوشت تقریباً 170 روپے فی کلو اور عام گوشت تقریباً 190 یا 200 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے،جبکہ اس کے مقابلے میں ماش کی دال 200 روپے فی کلو تک فورخت کی جارہی ہے جو گذشتہ برس اس مہینے میں یہ صرف 90 روپے فی کلو فروخت ہورہی تھی۔ماش کی دال کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ ملک میں مانگ کے مقابلے میں مذکورہ دال کی پیدوار میں کمی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کئی سارے تہواروں کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اور اضافہ ہونے کا امکان ہے ۔
حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ماش کی دال کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دال کو ہر برس بیرونی ممالک سے درآمد کرنا پڑتا ہے اور اس سال وقت پر دال درآمد نہ ہونے کی وجہ سے حکومت پر نکتہ چینی بھی ہورہی ہے ۔ اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیوالی کے وقت تک دالوں کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد تک اور اضافہ ہو سکتا ہے۔ تھوک تاجروں کا کہنا ہے کہ اس وقت خود انھیں 140 روپے فی کلو کے حساب سے دال مل رہی ہے اور تیار ہونے کے بعد خوردہ بازار میں یہ صارفین کو 180 سے 200 روپے کی قیمت میں مل رہی ہے ۔
ماہرین کا خیا ل ہے کہ اگر حکومت بڑے گھرانوں کو درمیان سے ہٹا دے تو دال پرانے ریٹ پر لوٹ آئے گی۔ جب تک یہ نہیں کریں گے تو بیرون ملک سے آنے والی دال سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا۔ جو مال آیا ہے ، وہ پہلے ان بڑے لوگوں کے گوداموں میں پہنچ رہا ہے ۔دوسری جانب کچھ کسانوں کا کہنا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے لیے حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق دال کی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت کسانوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے تو کسان اس کی طرف کیوں متوجہ ہوگا۔

پاکستان اورروس کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط

پاکستان اورروس کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط

پاکستان اورروس کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط
اسلا م آباد(ڈی این ڈی):پاکستان اور روس نے کراچی سے لاہورتک 1100کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس پر روس دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
شمال جنوب گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے تعاون کے معاہدے پر جمعہ کے روز اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور روس کے وزیر توانائی الیکساندر نوواک نے دستخط کئے ،وزیراعظم محمد نواز شریف بھی دستخطوں کی تقریب میں موجود تھے۔
اس پروجیکٹ پر عمل درآمد روس کی سرکاری کارپوریشن “روس تیک” میں شامل کمپنی “آر ٹی گلوبل ریسورسز” کرے گی۔ 1100کلومیٹر لمبی گیس پائپ لائن سے سالانہ12 ارب40 کروڑ مکعب میٹر گیس ترسیل کی جائے گی۔پروجیکٹ کو عملی شکل دینے والی روسی کمپنی 25 سال تک گیس پائپ لائن کی مالک رہے گی۔ اس دوران تیل کی ترسیل کی قیمت وصول کر کے سرمایہ کاری کی رقم کمائی جائے گی جس کے بعد گیس پائپ لائن کا کنٹرول پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔
اس موقع پر روس کے وزیر توانائی نے کہا کہ روس اور پاکستان کو سوویت زمانے سے باہمی تعاون کا وافر تجربہ حاصل ہے ، اب اس پروجیکٹ سے دوطرفہ تعاون نئی سطح پر پہنچے گا۔ توقع ہے کہ اس سے روس کی کمپنیوں کو شعبہ توانائی کے انفراسٹرکچر تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
شاہد خاقان عباس نے کہا کہ پاکستان کے مرکزی اور شمالی علاقوں میں توانائی کی قلت موجود ہے اس لیے گیس پائپ لائن کی تعمیر اس مسئلہ کو حل کئے جانے میں نا صرف مددگار ثابت ہو سکے گی بلکہ اس سے روس کے ساتھ پاکستان کے تعاون کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔

مشرق وسطی کے انقلابات کیا پاکستان میں انقلاب لا سکتے ہیں؟

roznama-taqat

naheed article
بڑی تصویر کے لئے تصویر پر کلک کریں

مشرق وسطی کے انقلابات کیا پاکستان میں انقلاب لا سکتے ہیں؟
ناہید نیازی
انقلاب کے کئی رنگ کئی روپ ہوتے ہیں،انقلاب لانے سے پہلے کُچھ خواب دیکھے جاتے ہیں اور کُچھ دکھائے جاتے ہیں۔ان خوابوں کے بدلے میں کُچھ منصوبے بنائے جاتے ہیں ،اور منصوبے بنانے والے اکیلے نہیں ہوتے بلکہ اپنی دلیلوں سے عوام کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں ۔آنے والے دنوں کے سنہرے خواب دکھاتے ہیں اور اپنے فائدے کے لیے موجودہ نظام کو ناکارہ بتایا جاتا ھے تو بس پھر کیا ھے موجودہ نظام کوہٹانے کے لیے عوام کا ایک جمِ غفیر درکار ہوتا ھے جو صرف اُن کو سنے ،اُن کے مطابق سوچے اور اُن کے مطابق عمل کرئے مگرصحیح کیا ھے اور غلط کیا ھے اس کے بارے سوچے بھی نہیں۔بس انقلاب لانے کی مہم شرو ع اور انقلاب کی تیاریاں عروج پر ۔،اب کوئی مرے یا جئے اس سے کوئی سروکار نہیں۔انقلاب لانے کے لیے کتنا عرصہ چاہیے ، انقلاب کم وقت میں بھی آسکتا ہے اورزیادہ وقت بھی درکار ہو سکتا ھے یہ پرتشدد بھی ہو سکتا ھے اور پر امن بھی۔یہ یا تو بہت تیزی سے آتا ھے یا پھر آہستہ آہستہ آتا ہے ۔ ہر انقلاب مختلف ہوتا ھے اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اس کو باقاعدہ ڈیزائن کیا جاتاھے مگر کچھ چیزیں ہر انقلاب میں مشترکہ ہوتیں ہیں۔ جیسے کہ مصر کے انقلاب میں یہ پیٹرن دیکھنے کو ملا جس میں ٹروٹسکی نے یہ کہا تھا کہ اگر غربت ہی انقلاب کی وجہ بنتی ہے تو دنیا میں ہر وقت انقلاب ہی آتے رہیں گے کیونکہ دنیا میں زیادہ تر لوگ غریب ہیں تو اُن کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ایک وجہ چاہیے۔اور اس وجہ سے لوگوں کو کیا ملتا ھے اس کو ہم پچھلے تیس سالوں میں آئے انقلابوں کی صورت میں جان سکتے ہیں جس میں لوگوں کو تشدد کے نتیجے میں ہوئی موت نے وجہ دی اور انقلاب پھیلتا گیا ۔ کئی دفعہ تو یہ وجہ نہایت پرتشدد ہوتی ہے جیسے کہ 1978 میں سینکڑوں افراد ایران کے سینما میں مارے گئے جس کا الزام شاہ ایران کی خفیہ پولیس پرلگایا جاتا ہے ۔لیکن کئی بار ایک شخص کی خودکشی بھی ہجوم کو اکٹھا کر دیتی ہے جیسے کہ پچھلے سال بیس دسمبر کو تیونس میں محمد موعزیزی کی خودکشی تھی۔۔کئی بار افواہیں بھی لوگوں کو اکٹھا کر دیتی ہیں۔ جیسے کہ 1989 میں پراگ میں کمیونسٹ پولیس نے دو طلبہ کے گلے کاٹ دیے ۔موت نے چین میں بھی 1989 میں انقلاب کی صورتحال پیدا کر دی اگرچہ کہ یہ موت تشدد کے باعث نہیں ہوئی تھی۔ اس موت کے بعد چینی طلبہ نے بیجنگ کے تیانیمن سکوائر پر قبضہ کر لیا اور کمیونسٹ پارٹی کی بدعنوانی اور آمرانہ طرزِ حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ۔اگرچہ بیجنگ میں ہوئے اس مظاہرے نے لوگوں کو بتا دیا کہ کس طرح مظاہرے کیے جاتے ہیں اور کسی طرح شہر کے اہم سکوائرز پر قبضہ کرتے ہیں لیکن یہ مظاہرے واضح طور پر 146لوگوں کی طاقت145 کی ناکام مثال تھی۔
دوسرے عمر رسیدہ آمروں سے مختلف طور پر چینی رہنما ڈینگ ژیاؤپنگ نے نہایتسمجھ داری اورعقلمندی سے مظاہرین کا سامنا کیا۔ ان کی حکومت نے کروڑوں چینی کسانوں کے لیے بہتر زندگی مہیا کی تھی اور انہی کسانوں کو بھیجا گیا کہ وہ مظاہروں کو ناکام بنائیں۔سنہ 1998 کے مارچ میں انڈونیشیا کے رہنما سہارتو کے دوبارہ منتخب ہونے پر مظاہرے ہوئے ۔ ان مظاہروں میں فائرنگ کے باعث چار طلبہ ہلاک ہوئے ۔ ان ہلاکتوں کے باعث مظاہرے پھیل گئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔اس واقع سے تیس سال قبل سہارتو ہزاروں اور سینکڑوں افراد کو مار سکتا تھا اور اس کو کسی چیز کا خوف نہ ہوتا۔ لیکن بدعنوانی اور ایشیا میں معاشی بحران نے حکومت کی حمایت کو کمزور کر دیا تھا۔ بتیس سالہ اقتدار نے سہارتو اور اس کے قریبی افراد کو امیر سے امیر تر کر دیا جبکہ لوگوں کو غریب۔
یوں بھی دیکھنے میں آتا ھے کہ حکومت کا اس وقت خاتمہ ہوتا ہے جب حکمران کے قریبی لوگ حکومت کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ جب تک پولیس، فوج اور اعلیٰ عہدیدار یہ سمجھیں کہ انقلاب سے ان کو زیادہ نقصان ہوگا تو بڑے بڑے مظاہرے بھی حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکتے ۔ جیسے کہ تیانیمن سکوائر میں ہوا۔لیکن اگر یہی لوگ یہ سمجھیں کہ حکومت کی حمایت سے نقصان ہوگا تو وہ حکومت فوراً گر جاتی ہے ۔تیونس کے صدر بن علی نے ملک سے بھاگنے کا اس وقت فیصلہ کیا جب فوج نے ان کو بتا دیا کہ وہ عوام پر گولی نہیں چلائیں گے ۔ دسمبر 1989 میں رومانیہ کے رہنما چسسکو نے دیکھا کہ جس جنرل پر وہ بھروسہ کرتے تھے کہ وہ مظاہرین کو روکیں گے ۔ لیکن وہی جنرل اس سال کے آخر میں جب چسسکو کا مقدمہ شروع ہوا تو وہ اس عدالت کے چیف جج تھے ۔
بیرونی دباؤ بھی حکومت کے تبدیل ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مشرقی یورپی ممالک کو جب مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا تو 1989 میں سوویت رہنما مخائل گورباچوف نے ریڈ آرمی کے استعمال سے انکار کر دیا۔ اس انکار سے ان ممالک کے جرنیلوں کو سمجھ آگئی کہ قوت کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ نے کئی بار اپنے حلیف آمروں پر زور ڈالا ہے کہ وہ سمجھوتا کریں۔ اور ایک بار جب یہ آمر اسراستے پر چل پڑتے ہیں اور ان کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے تو امریکہ ان کو مستعفی ہونے کا کہہ دیتا ہے ۔
طویل عرصے سے چلی آرہی حکومت اور حکمرانوں کی زیادہ عمروں کے باعث حکومت ایسی صورتحال میں فوری طور پر اقدامات نہیں کر سکتی۔ جب انقلاب شروع ہو جاتا ھے تو انقلاب کی مہم چوبیس گھنٹے چلتی ہے یا اس سے زیادہ اور اس کے لیے مظاہرین اور حکمرانوں دونوں کو تیز سوچ اور فوری ردِ عمل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر ہمارے لیڈر کی عمر یا رہنما کی عمر زیادہ ہو اور سمجھوتا نہ کرنے والے رہنما کے باعث بحران بڑھ بھی جاتا ہے ۔اس کی مثال ایسی ھے جیسے سرطان کے مرض میں مبتلا شاہ ایران سے اور انڈونیشیا کے سہارتو تک، کئی دہائیوں تک حکومت میں رہنے کے باعث سیاسی چال بازی ناممکن ہوگئی ۔اوریہ کہ مصر نے ہمیں باور کرایا ہے کہ انقلاب نوجوانوں کا کھیل ہے ۔انقلاب میں باعزت حکومت سے مستعفی ہونا نایاب ہے ۔ ہاں ایسا ضرور ہوتا ھے کہ ان حکمرانوں کی ریٹائرمنٹ کے لیے کوئی جگہ مل جائے تو ان کے مستعفی ہونے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ۔ اس کی مثال ہمیں سنہ دو ہزار تین میں جارجیا کے شوردنادزے کو چسسکو سے مل سکتی تھی لیکن ان کو مستعفی ہونے کے بعد ان کے گھر پر رہنے دیا گیا۔ سہارتو کے جرنیلوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سہارتوں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارتے ہوئے انتقال کریں لیکن انہوں نے سہارتو کے بیٹے ٹومی کو جیل میں ڈال دیا۔اکثر لوگ چاہیے ہیں کہ مستعفی ہونے والے حکمرانوں کو سزا ملے ۔ اور ان کے بعد آئی حکومت بھی چاہتی ہے کہ ایسا ہو تاکہ ایسا کرنے سے معاشی اور سماجی مشکلات سے لوگوں کی توجہ ہٹ سکے ۔
ویسے تو برصغیر میں انقلاب کی تاریخ نہیں ملتی اور یہ بھی کہا جاتا ھے کہ برصغیر کی مٹی انقلاب پیدا نہیں کرتی مگر پھر بھی انقلاب کی کوششں
تاریخ میں ملتی ہیں اور ایسی ھی ایک کوشش پاکستان کے تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کر رہے ہیں۔عمران خان کے طرز طریقہ پر بحث تو کی جا سکتی ھے اورانکی شخصیت کا وہ پہلو جو کسی کی بات نہ ماننے کے لیے مشہور ھے اُسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا سکتا ھے مگر یہ حقیقت ھے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مُلک میں بھی کسی انقلاب کی منتظر ھے ۔سڑکو ں پر ہوتی خو دسوزیاں اور انصاف کا نہ ملنا پاکستانی عوام کو انقلاب کے قریب لے کر آسکتا ھے مگر مشرق وسطی میں حال ہی میں آنے والے انقلابوں نے یہ بات ثابت کر دی ھے کہ اگر انقلاب گالی گلوچ اور بندوق کی نوک پر آئے تو قومیں تاریک راہوں پر چل پڑتی۔

دو ہزار سولہ کے دوران عمرے کے ایک کروڑ ویزے جاری کیے جائیں گے

 دو ہزار سولہ کے دوران عمرے کے ایک کروڑ ویزے جاری کیے جائیں گے

سعودی عرب نے جلد ہی نیا عمرہ نظام اور اس کے قواعد وضوابط متعارف کرانے کا اعلان کردیا تاکہ ہرسال ہر سال آنیوالے عمرہ زائرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جاسکے۔
العربیہ کے مطابق وزیرحج ڈاکٹر بندر بن محمد بن حمزہ حجار نے بتایا ہے کہ آئندہ ہجری سال کے دوران ہر ماہ قریبا ساڑھے بارہ لاکھ زائرین عمرہ کی سعودی عرب آمد متوقع ہے جبکہ اس وقت قریبا چار لاکھ مسلمان دوسرے ممالک سے عمرے کے لیے سعودی عرب آرہے ہیں۔ نئے نظام کو متعارف کرانے کا مقصد زائرین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ خادم الحرمین الشریفین کی حکومت نے مسجد الحرام اور مکہ کی تعمیر وتوسیع کے جن بڑے منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے،ان سے استفادہ کیا جاسکے۔

 2016ءکے دوران عمرے کے ایک کروڑ ویزے جاری کیے جائیں گے
ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد عمرہ کمپنیوں کے مالکان سے ملاقات کریں گے اور ان سے نئے ہجری سال 1437ھ کے عمرہ سیزن کے حوالے سے منصوبے پر تبادلہ خیال کریں گے۔وزارت حج اپنے ای پورٹل کو استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی جس کے تحت ویزے کے اجراء کے لیے چند منٹ درکار ہوں گے، آئندہ پانچ سال کے دوران عازمین عمرہ کی تعداد کو بڑھا کر دگنا کرنے کے لیے آن لائن منصوبے کو بہتر بنانے پر کام کریں گے۔
توقع ہے کہ 2016ءکے دوران عمرے کے ایک کروڑ ویزے جاری کیے جائیں گے اور 2018ءتک یہ تعداد بڑھ کر چھے کروڑ ہوجائے گی۔

بیلا روس کے صدارتی انتخابات شفاف نہیں ہیں، امریکہ

بیلا روس کے صدارتی انتخابات شفاف نہیں ہیں، امریکہ

بیلا روس کے صدارتی انتخابات شفاف نہیں ہیں، امریکہ
واشنگٹن(ڈی این ڈی):امریکہ نے کہا ہے کہ گیارہ اکتوبر کو ہونے والے بیلا روس کے صدر کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھے مگر امریکہ صدارتی انتخابات کے پُرامن انعقاد کا خیر مقدم کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی ترجمان مارک سی ٹونر نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ا مریکہ اس بات پر خوش نہیں کہ بیلا روس نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں کرائے اور بین الاقوامی اداروں کی رپو رٹس کے مطابق بیلا روس نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کا خیال نہیں رکھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ OSCE کی رپورٹ کے مطابق انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھے اور وٹوں کی گنتی کا طریقہ انتہائی ناقص اور غیر قانونی تھا ۔بیان میں کہا کہ بیلا روس کی سول سوسائٹی، غیر حکومتی تنظیمیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں ان انتخابات کو صرف ایک ڈھونگ سمجھتی ہیں کیونکہ ملک میں نہ تو آزادانہ میڈیا ہے اور نہ ہی کوئی اور طریقہ جس کے تحت غیر حکومتی اداروں کو ووٹوں کی گنتی کے وقت موقع دیا جائے کہ وہ انتخابات کی شفافیت کو سمجھ سکیں۔
امریکہ نے کہا کہ دسمبر 2010 کو بیلا روس نے امریکہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے لیے بہتر انسانی ماحول فراہم کرے گا۔یہ بات 2015مئی میں ہونے والے بیلا روس اور امریکی مذاکرات میں زیربحث لائی گئی تھی۔جس میں کہا گیا تھا کہ بیلا روس ملک میں ایسا نظام قائم کر ے جس سے ملک میں شفاف انتخابات کروائے جا سکیں۔

بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار

بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار

بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار
اقوام متحدہ (ڈی این ڈی): اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں لڑکیوں کی پرائمری ایجوکیشن کے حوالے سے افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔
11اکتوبر کو بچیوں کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے بچوں کے فلاح و بہبود کے ادارے یونیسکو اور یو این گرلز ایجوکیشن کے ایک پروگرام کی طرف سے تیار کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ افریقی ممالک بشمول وسطی افریقی جمہوریہ، چاڈ، نائجر، گینی، اریٹریا اور آئیوری کوسٹ میں بھی بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے صورتحال پریشان کن ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوششوں کے باوجود افریقہ کے زیریں صحارا ریجن کے اسکولوں میں بچیوں کو درپیش صنفی امتیاز کا مسئلہ بدستور برقرار ہے، تاہم مجموعی طور پر دنیا بھر میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے بہتری نوٹ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے نصف ممالک کے اسکولوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد تقریبا برابر ہے لیکن اس فہرست میں زیریں صحارا کا ایک ملک بھی شامل نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق خصوصی کوششوں کی بدولت متعدد ممالک کے اسکولوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد میں برابری پیدا ہوئی ہے، تاہم صرف 66 ممالک میں ہی ایسے ہیں جہاں یہ مثبت پیشرفت دیکھی گئی ہے۔