پاکستان اور چین ۔۔۔ہم آواز اور ہم خیال برادر ملک

محمد عمران اسلم پاک چین دوستی قدیم سفارتی ورثہ ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے ہر موقع پر نہ صرف پاکستان کے موقف کی حمایت کی بلکہ پوری جرات اور قوت سے ساتھ نبھایا ہے۔پاک چین دوستی کا جب بھی ذکر کیا جائے گا وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی سفارتی کاوشوں کا سنہرے حروف سے ذکر کیا جائے گا۔ پاک چین دوستی کو بلندی کی انتہاتک پہنچانے میں محمد شہبازشریف نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔محمد شہبازشریف کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ مگر اب محمد شہبازشریف نے خود کو کامیاب معاشی سفارتکار کے طور پر بھی تسلیم کروایا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لانے کے لئے چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ چینی قیادت بھی محمد شہبازشریف کے خلوص نیت‘ انتھک محنت اور وطن عزیز سے بے لوث محبت کی معترف ہے۔  چینی صدر شی چن پنگ کے دورہ پاکستان کے دوران 46 ارب ڈالر کے 51سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ملکی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے۔ لاہور میٹرو اورنج لائن ‘ قائد اعظم شمسی توانائی کا منصوبہ‘ لاہور میں انڈسٹریل کمرشل بنک چائنہ کی برانچ کا قیام ‘چھوٹے پن بجلی منصوبے‘ پاک چین ریسرچ سنٹر‘ پاک چین کلچرل سنٹر‘ آپٹیکل فائبر کیبل پراجیکٹ‘ ایف ایم دوستی چینل سٹوڈیو سمیت پانچ انرجی پراجیکٹس کا سنگ بنیاد وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف اور چینی صدر شی چن پنگ نے رکھا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے 40ارب ڈالر کے تاریخ ساز پیکج کو 8کروڑ پاکستانیوں کے لئے چین کا عظیم تحفہ قرار دیا۔انہوں نے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے حوالے سے برادر ملک چین کی توقعات پر پورا اترنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین نے آج تک کسی بھی ملک میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان نہیں کیا اور عالمی مبصرین چینی صدر کے دورہ پاکستان کو گیم چینجر قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔  پاکستان اور چین کے تعلقات میں 1962ء کی سائنوانڈیا وار کے بعد نمایاں گرمجوشی پیدا ہوئی اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس سے شاہراہ قراقرم پر دوڑتے ہوئے پہیوں کے ساتھ لمحہ لمحہ پاک چین دوستی مضبوط ہو رہی ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد اور برابری کی بنیاد پر قائم ہیں۔ عالمی تبدیلیاں پاک چین دوستی کو متاثر کرنے میں ناکام رہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ فوجی‘ اقتصادی اور جوہری تعاون کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سلسلہ کاشغر تاگوادر پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی تعمیر سے مزید مضبوط اور مستحکم ہو گا اور خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں وا ہوں گی۔ چین نیشنل ٹیکسٹائل اینڈ ایپرل کونسل کے ایپرل پارک منصوبے میں سرمایہ کاری بھی کرے گا۔ مذکورہ بالا تمام تر اقتصادی کامیابیاں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی نگاہ دورس کا ثمر ہی تو ہیں۔  وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف توانائی‘ انفراسٹرکچر‘ ٹرانسپورٹ اور صحت کے شعبوں میں چین کے تعاون کو مزید بڑھانے کے لئے تین روزہ دورے کے پہلے روز 24 اگست کو اپنے وفد کے ہمراہ بیجنگ ایئرپورٹ پہنچے تو چینی حکام کی طرف سے پرتپاک اور گرمجوش استقبال کیا گیا۔ پاکستانی وفد میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال‘ صوبائی مشیرصحت خواجہ سلمان رفیق‘ چیئرمین لاہو رٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل تھے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے چین روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران سی پیک منصوبوں کو پورے خطے کے لئے مفید قرار دیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بیجنگ پہنچتے ہی ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان کے لئے چینی اقتصادی پیکج پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ چین کے تاریخی اقتصادی پیکج سے مستفید ہونے کے لئے پاکستانی سیاستدانوں‘ افسروں اور ماہرین کو شب و روز محنت کرنا ہو گی۔ چین کا اقتصادی تعاون ہمارے لئے عظیم تحفہ تو ہے ہی بلکہ وطن عزیز سے محبت کو ناپنے کی کسوٹی بھی ہے۔ پاکستانی قوم اپنی تمام تر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے محبت کے امتحان میں پوری اترے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ روایتی طرزعمل کی وجہ سے لوڈشیڈنگ اور دیگر سنگین مسائل درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم محمدنوازشریف کی ہدایت کے مطابق پاک چین اقتصادی پیکج پر عملدرآمد کے لئے جنگی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا کہ چین کے اقتصادی پیکج پر عملدرآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتاہے اور کسی محکمے یا وزارت کی طرف سے تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی۔  دورہ چین کے دوسرے روز وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی سے بیجنگ کے تاریخی گریٹ ہال میں ملاقات کی۔ چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی (Mr.Zhang Gaoli)نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لئے اپنی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے پر رضا مندی کا اظہارکیا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال ، چین میں پاکستان کے سفیر مسعودخالد، وزیراعظم کے خصوصی نمائندے ظفر محمود ، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان بھی ا س موقع پر موجود تھے۔ اعلیٰ سطح کی اس کمیٹی کو تشکیل دینے کی تجویز وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی نے اس موقع پر روایتی گرم جوشی اور برادرانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں چینی تعاون پر مبنی منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا اورمجوزہ کمیٹی میں چین کے مختلف مالیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام شامل ہوں گے۔دنیا کے کئی ممالک میں چینی تعاون سے ترقیاتی منصوبے زیر تکمیل ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ چین کے کثیر الجہت تعاون کی دوسری مثال موجود نہیں۔چینی نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت چین پاکستا ن میں توانائی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر ، صحت اور دیگر شعبوں میں وسیع تعاون کررہاہے ۔ پاک چین اقتصادی شاہراہ کی تکمیل سے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے 60دوسرے ملکوں سے بھی پاکستان کا اقتصادی ، تجارتی اور معاشی رابطہ ممکن ہو سکے گا۔ژانگ ہاؤلی نے وزیراعظم محمد نوازشریف کے طرز حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔چینی نائب وزیراعظم نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو انتھک اور محنتی لیڈر قرار دیتے ہوئے اہل پنجاب کی خوش قسمتی قرار دیااورپنجاب میں چینی تعاون پر مبنی منصوبوں پر پیشرفت کو سراہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے چینی نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چینی قیادت نے تاریخی اقتصادی پیکیج کے ذریعے پاکستان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے،پاکستان کی قیادت او رعوام اس پر پورا اتریں گے اور چین کے تعاون پر مبنی منصوبوں کو دن رات محنت کر کے مکمل کیا جائے گا ۔چینی نائب وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ملاقات کا طے شدہ دورانیہ آدھا گھنٹہ تھا لیکن یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بیجنگ میں چین کے ایگزم بینک کے صدر لی روگو(Mr.Li Ruogu)سے ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی سرمایہ کار کمپنیو ں کیلئے وسائل کی جلد فراہمی پر اتفاق کیا گیا اورکہا کہ یقین ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کیلئے وسائل میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔چین کے تعاون سے لگنے والے منصوبوں کے معیار،شفافیت اور تیزرفتاری سے تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،ساہیوال میں چین کے تعاون سے لگنے والے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عملدر آمد کیا جارہا ہے جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے اور میں منصوبوں پر پیش رفت کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہا ہوں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ صدر ایگز م بینک صدر لی روگو نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی منصوبوں کیلئے ہنگامی طورپر وسائل فراہم کیے جارہے ہیں۔ صدر ایگزم بینک نے وزیراعلیٰ کویقین دلایا کہ جلد سے جلد وسائل کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اوراس ضمن میں ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ چین کا خصوصی ترقیاتی پیکیج وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے بیجنگ میں چین کے صوبے شین ڈونگ (Shandong)کے نائب گورنرژاہ زنگ( Mr.Xia Zing)نے اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اورشین ڈونگ کو پنجاب کے ساتھ جڑواں صوبہ قرار دینے کی پیشکش کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے شین ڈونگ صوبے کے نائب گورنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شین ڈونگ کو پنجاب کے ساتھ جڑواں صوبہ بنانا ہمارے لئے اعزاز ہے اورشین ڈونگ جیسے ترقی یافتہ صوبے سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ بیجنگ میں چینی سرمایہ کار کمپنیوں‘ مالیاتی اداروں‘ قومی تعمیر کے محکموں اور مختلف وزارتوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مختلف اجلاسوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے پاکستان کے عوام کا مقدر نہیں ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل اور چین جیسے دوستوں کے تعاون سے توانائی بحران پر قابو پا لیں گے۔پاکستان میں چین کے تعاون پر مبنی توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے 2017تک تقریباً5ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان اور پاکستانی وفد میں شامل دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بتایا کہ چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی سے اقتصادی پیکیج پر مزید تیز رفتاری سے عملدرآمد ممکن ہوسکے گا۔پاکستان اور چین مختلف عالمی امور پر ہم خیال اور ہم آواز ہیں۔بجلی فراہم کرنے والے چینی سرمایہ کاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے خصوصی فنڈ مہیا کرکے چینی کمپنیوں کیلئے سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔محمد شہبازشریف کا کہنا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کی قیادت کے مشترکہ وژن کا ثمر ہے اور چین کے صدر کے دورہ پاکستان سے دنیا بھر کو یہ پیغام ملا کہ پاک چین دوستی کو دنیا کی کوئی قوت گزند نہیں پہنچا سکتی۔ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات سود مند معاشی روابط میں بدل چکے ہیں اور ہر گزرتے لمحے دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کو چین کی دوستی پر فخر ہے کیونکہ چین نے مشکل حالات میں پاکستان کے لئے اربوں روپے کا اقتصادی پیکیج دیاہے۔چین کی مدد سے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو بھگا کر دم لیں گے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے بیجنگ میں چینی کمپنی سائنوشور (Sinosure) کے اعلیٰ حکام نے چین کی جانب سے توانائی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں چین کے تعاون سے زیر تکمیل منصوبوں کے لئے وسائل میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے دورہ چین کے دوسرے روز بیجنگ میں غیرمعمولی طور پر مصروف دن گزارا۔انہوں نے ٹیکسٹائل ، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور دوسرے شعبوں کے سرمایہ کاروں سے ملاقات کرنے کے علاوہ چین کی مختلف وزارتوں، مالیاتی اداروں اور قومی تعمیر کے محکموں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت بھی کی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے جن اداروں کے اجلاسوں میں شرکت کی، ان میں زیڈ ٹی ای(ZTE ) ، سائنوشور (Sinosure) ،چائنہ ڈویلپمنٹ بینک جیسے اہم ادارے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن اور انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں چین کے تعاون سے زیر تکمیل توانائی کے منصوبوں کے لئے وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔چینی حکام نے ان ملاقاتوں کے دوران وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو یقین دلایا کہ چین کو پاکستان میں توانائی کے بحران کی سنگینی کا اندازہ ہے او روہ ان منصوبوں کے لئے وسائل کی فراہمی میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ دورہ چین کے آخری روز وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بیجنگ میں ایک استقبالیہ تقریب میں شرکت کی۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال اور وفد کے دیگر ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر انتہائی فکرانگیز خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ چین نے اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا جب حالات سرمایہ کاری کے لئے سازگار نہیں تھے۔ دھرنوں کی صورت میں چین کی سرمایہ کاری کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن چین کے معزز صدر شن ین پنگ نے اسلام آباد میں تاریخی تقریب کے دوران 46ارب ڈالر کے اقتصادی پیکج کا اعلان کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے دھرنوں کا ڈرامہ رچاکر ہمارے مخالفین نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ چین پاکستان کی کس طرح مدد کرسکتا ہے،لیکن چینی قیادت نے پاکستان کے ساتھ دوستی کاحق بھر پور طریقے سے نبھایا۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مخالفین کو چین نہیں آیا اوروہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ ان معاہدوں پر عملدر آمد کیسے ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی سیاست والے اب چین کے تعاون سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں کیخلاف کوششوں کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواشریف کی قیادت میں 16ماہ کی قلیل مدت میں توانائی منصوبوں کی تعمیر میں جس تیزرفتاری سے کام ہوا ہے، اس کی نظیر ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔چین کی قیادت کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ چینی سرمایہ کار کمپنیوں نے چینی بینکوں سے قرضوں کا انتظار کیے بغیر اپنے سرمائے سے توانائی کے منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام کاآغاز کردیا ہے اورہم چین کے تعاون پر مبنی منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے دن رات ایک کردیں گے،2017ء تک چینی تعاون سے توانائی کے بڑے منصوبوں سے5ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جس سے اندھیرے دور ہوں گے۔استقبالیہ میں چین کے مالیاتی اورتکنیکی اداروں کے اعلی حکام کے علاوہ بیجنگ میں مقیم پاکستانیوں نے بھی شرکت کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور ایگزم بینک آف چائنہ کی چیئرپرسن ہو ژیاؤلیان(Ms. Hu Xiaolian) کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں چینی تعاون پر مبنی منصوبوں کیلئے وسائل کی بروقت فراہمی پر بات چیت کی گئی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان اور ایگزم بینک کے وائس چیئرمین لیو لیان جی(Mr. Liu Liange)بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے چین کے کامیاب دور ے کے بعد اسلام آباد اےئر پورٹ پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دورہ نہایت نتیجہ خیز تھااوراس دورے کے بعدمنصوبوں کی رفتار میں اورتیزی آئے گی۔چینی قیادت اور عوام کی طرف سے ملنے والی پذیرائی ہمیشہ یاد رہے گی۔انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے توانائی کے منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اورتوانائی منصوبوں کو شفافیت تیز رفتاری اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی مضبوط معاشی ‘ تجارتی تعلقات میں بدل چکی ہے اور چین کا تاریخی اقتصادی پیکیج پاکستان کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے۔ چین نے پاکستان کو تاریخی اقتصادی پیکیج دے کر جو احسان کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے تعاون سے پاکستان میں ترقی و خوشحالی کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی تعاون پرمبنی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے جان لڑا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کو دنیا کی کوئی قوت گزند نہیں پہنچا سکتی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے انتھک کوششوں اور شب و روزمحنت سے ثابت کر دیا ہے کہ اگر لیڈرشپ عوام کے مسائل کے حل کے لئے پرخلوص مساعی کرنے پر آمادہ ہو تو اللہ تعالیٰ حالات کو خودسازگار بنا دیتے ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان سے بہت جلد لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کا خاتمہ ہو گا۔ پنجاب حکومت اورچین کے صوبے جیلن(Jillin ) کے درمیان وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کے دورہ چین کےُ ُآُ خری روز بیجنگ میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ معاہدے کے تحت پنجاب کے زرعی شعبے کے طلبا و طالبات چینی صوبہ جیلن میں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں گے ۔جیلن صوبے نے پنجاب کے طلبا وطالبا ت کی زرعی شعبے میں تربیت کے لئے خیر سگالی کے طورپر 40کروڑ روپے مختص کر دئیے ہیں جو پنجاب کے زرعی شعبہ سے وابستہ طلبا وطالبات کوصوبے جیلن میں زرعی تعلیم وتربیت پر خرچ کئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب زرعی صوبہ ہے ،جیلن صوبے کی جانب سے زرعی شعبہ کے طلبہ کے لئے تربیتی پروگرام خوش آئند ہے۔ معاہدے کے تحت چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔

محمد عمران اسلم
پاک چین دوستی قدیم سفارتی ورثہ ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے ہر موقع پر نہ صرف پاکستان کے موقف کی حمایت کی بلکہ پوری جرات اور قوت سے ساتھ نبھایا ہے۔پاک چین دوستی کا جب بھی ذکر کیا جائے گا وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی سفارتی کاوشوں کا سنہرے حروف سے ذکر کیا جائے گا۔ پاک چین دوستی کو بلندی کی انتہاتک پہنچانے میں محمد شہبازشریف نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔محمد شہبازشریف کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ مگر اب محمد شہبازشریف نے خود کو کامیاب معاشی سفارتکار کے طور پر بھی تسلیم کروایا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں لانے کے لئے چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ چینی قیادت بھی محمد شہبازشریف کے خلوص نیت‘ انتھک محنت اور وطن عزیز سے بے لوث محبت کی معترف ہے۔
چینی صدر شی چن پنگ کے دورہ پاکستان کے دوران 46 ارب ڈالر کے 51سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ملکی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے۔ لاہور میٹرو اورنج لائن ‘ قائد اعظم شمسی توانائی کا منصوبہ‘ لاہور میں انڈسٹریل کمرشل بنک چائنہ کی برانچ کا قیام ‘چھوٹے پن بجلی منصوبے‘ پاک چین ریسرچ سنٹر‘ پاک چین کلچرل سنٹر‘ آپٹیکل فائبر کیبل پراجیکٹ‘ ایف ایم دوستی چینل سٹوڈیو سمیت پانچ انرجی پراجیکٹس کا سنگ بنیاد وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف اور چینی صدر شی چن پنگ نے رکھا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے 40ارب ڈالر کے تاریخ ساز پیکج کو 8کروڑ پاکستانیوں کے لئے چین کا عظیم تحفہ قرار دیا۔انہوں نے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے حوالے سے برادر ملک چین کی توقعات پر پورا اترنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین نے آج تک کسی بھی ملک میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان نہیں کیا اور عالمی مبصرین چینی صدر کے دورہ پاکستان کو گیم چینجر قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات میں 1962ء کی سائنوانڈیا وار کے بعد نمایاں گرمجوشی پیدا ہوئی اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس سے شاہراہ قراقرم پر دوڑتے ہوئے پہیوں کے ساتھ لمحہ لمحہ پاک چین دوستی مضبوط ہو رہی ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد اور برابری کی بنیاد پر قائم ہیں۔ عالمی تبدیلیاں پاک چین دوستی کو متاثر کرنے میں ناکام رہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ فوجی‘ اقتصادی اور جوہری تعاون کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سلسلہ کاشغر تاگوادر پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی تعمیر سے مزید مضبوط اور مستحکم ہو گا اور خطے میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں وا ہوں گی۔ چین نیشنل ٹیکسٹائل اینڈ ایپرل کونسل کے ایپرل پارک منصوبے میں سرمایہ کاری بھی کرے گا۔ مذکورہ بالا تمام تر اقتصادی کامیابیاں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی نگاہ دورس کا ثمر ہی تو ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف توانائی‘ انفراسٹرکچر‘ ٹرانسپورٹ اور صحت کے شعبوں میں چین کے تعاون کو مزید بڑھانے کے لئے تین روزہ دورے کے پہلے روز 24 اگست کو اپنے وفد کے ہمراہ بیجنگ ایئرپورٹ پہنچے تو چینی حکام کی طرف سے پرتپاک اور گرمجوش استقبال کیا گیا۔ پاکستانی وفد میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال‘ صوبائی مشیرصحت خواجہ سلمان رفیق‘ چیئرمین لاہو رٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل تھے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے چین روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران سی پیک منصوبوں کو پورے خطے کے لئے مفید قرار دیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بیجنگ پہنچتے ہی ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان کے لئے چینی اقتصادی پیکج پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ چین کے تاریخی اقتصادی پیکج سے مستفید ہونے کے لئے پاکستانی سیاستدانوں‘ افسروں اور ماہرین کو شب و روز محنت کرنا ہو گی۔ چین کا اقتصادی تعاون ہمارے لئے عظیم تحفہ تو ہے ہی بلکہ وطن عزیز سے محبت کو ناپنے کی کسوٹی بھی ہے۔ پاکستانی قوم اپنی تمام تر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے محبت کے امتحان میں پوری اترے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ روایتی طرزعمل کی وجہ سے لوڈشیڈنگ اور دیگر سنگین مسائل درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم محمدنوازشریف کی ہدایت کے مطابق پاک چین اقتصادی پیکج پر عملدرآمد کے لئے جنگی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا کہ چین کے اقتصادی پیکج پر عملدرآمد کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتاہے اور کسی محکمے یا وزارت کی طرف سے تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی۔
دورہ چین کے دوسرے روز وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی سے بیجنگ کے تاریخی گریٹ ہال میں ملاقات کی۔ چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی (Mr.Zhang Gaoli)نے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لئے اپنی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے پر رضا مندی کا اظہارکیا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال ، چین میں پاکستان کے سفیر مسعودخالد، وزیراعظم کے خصوصی نمائندے ظفر محمود ، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان بھی ا س موقع پر موجود تھے۔ اعلیٰ سطح کی اس کمیٹی کو تشکیل دینے کی تجویز وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی نے اس موقع پر روایتی گرم جوشی اور برادرانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں چینی تعاون پر مبنی منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا اورمجوزہ کمیٹی میں چین کے مختلف مالیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام شامل ہوں گے۔دنیا کے کئی ممالک میں چینی تعاون سے ترقیاتی منصوبے زیر تکمیل ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ چین کے کثیر الجہت تعاون کی دوسری مثال موجود نہیں۔چینی نائب وزیراعظم نے بتایا کہ اس وقت چین پاکستا ن میں توانائی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر ، صحت اور دیگر شعبوں میں وسیع تعاون کررہاہے ۔ پاک چین اقتصادی شاہراہ کی تکمیل سے صرف چین سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے 60دوسرے ملکوں سے بھی پاکستان کا اقتصادی ، تجارتی اور معاشی رابطہ ممکن ہو سکے گا۔ژانگ ہاؤلی نے وزیراعظم محمد نوازشریف کے طرز حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔چینی نائب وزیراعظم نے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو انتھک اور محنتی لیڈر قرار دیتے ہوئے اہل پنجاب کی خوش قسمتی قرار دیااورپنجاب میں چینی تعاون پر مبنی منصوبوں پر پیشرفت کو سراہا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے چینی نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ چینی قیادت نے تاریخی اقتصادی پیکیج کے ذریعے پاکستان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے،پاکستان کی قیادت او رعوام اس پر پورا اتریں گے اور چین کے تعاون پر مبنی منصوبوں کو دن رات محنت کر کے مکمل کیا جائے گا ۔چینی نائب وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی ملاقات کا طے شدہ دورانیہ آدھا گھنٹہ تھا لیکن یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بیجنگ میں چین کے ایگزم بینک کے صدر لی روگو(Mr.Li Ruogu)سے ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی سرمایہ کار کمپنیو ں کیلئے وسائل کی جلد فراہمی پر اتفاق کیا گیا اورکہا کہ یقین ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کیلئے وسائل میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔چین کے تعاون سے لگنے والے منصوبوں کے معیار،شفافیت اور تیزرفتاری سے تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،ساہیوال میں چین کے تعاون سے لگنے والے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عملدر آمد کیا جارہا ہے جبکہ دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے اور میں منصوبوں پر پیش رفت کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہا ہوں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ صدر ایگز م بینک صدر لی روگو نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی منصوبوں کیلئے ہنگامی طورپر وسائل فراہم کیے جارہے ہیں۔ صدر ایگزم بینک نے وزیراعلیٰ کویقین دلایا کہ جلد سے جلد وسائل کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اوراس ضمن میں ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ چین کا خصوصی ترقیاتی پیکیج وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے بیجنگ میں چین کے صوبے شین ڈونگ (Shandong)کے نائب گورنرژاہ زنگ( Mr.Xia Zing)نے اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اورشین ڈونگ کو پنجاب کے ساتھ جڑواں صوبہ قرار دینے کی پیشکش کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے شین ڈونگ صوبے کے نائب گورنر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شین ڈونگ کو پنجاب کے ساتھ جڑواں صوبہ بنانا ہمارے لئے اعزاز ہے اورشین ڈونگ جیسے ترقی یافتہ صوبے سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
بیجنگ میں چینی سرمایہ کار کمپنیوں‘ مالیاتی اداروں‘ قومی تعمیر کے محکموں اور مختلف وزارتوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مختلف اجلاسوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے پاکستان کے عوام کا مقدر نہیں ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل اور چین جیسے دوستوں کے تعاون سے توانائی بحران پر قابو پا لیں گے۔پاکستان میں چین کے تعاون پر مبنی توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے 2017تک تقریباً5ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان اور پاکستانی وفد میں شامل دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بتایا کہ چین کے نائب وزیراعظم ژانگ ہاؤلی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی سے اقتصادی پیکیج پر مزید تیز رفتاری سے عملدرآمد ممکن ہوسکے گا۔پاکستان اور چین مختلف عالمی امور پر ہم خیال اور ہم آواز ہیں۔بجلی فراہم کرنے والے چینی سرمایہ کاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وزیراعظم محمد نواز شریف نے خصوصی فنڈ مہیا کرکے چینی کمپنیوں کیلئے سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔محمد شہبازشریف کا کہنا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کی قیادت کے مشترکہ وژن کا ثمر ہے اور چین کے صدر کے دورہ پاکستان سے دنیا بھر کو یہ پیغام ملا کہ پاک چین دوستی کو دنیا کی کوئی قوت گزند نہیں پہنچا سکتی۔ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات سود مند معاشی روابط میں بدل چکے ہیں اور ہر گزرتے لمحے دوستی کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کو چین کی دوستی پر فخر ہے کیونکہ چین نے مشکل حالات میں پاکستان کے لئے اربوں روپے کا اقتصادی پیکیج دیاہے۔چین کی مدد سے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کو بھگا کر دم لیں گے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے بیجنگ میں چینی کمپنی سائنوشور (Sinosure) کے اعلیٰ حکام نے چین کی جانب سے توانائی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں چین کے تعاون سے زیر تکمیل منصوبوں کے لئے وسائل میں کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے دورہ چین کے دوسرے روز بیجنگ میں غیرمعمولی طور پر مصروف دن گزارا۔انہوں نے ٹیکسٹائل ، توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور دوسرے شعبوں کے سرمایہ کاروں سے ملاقات کرنے کے علاوہ چین کی مختلف وزارتوں، مالیاتی اداروں اور قومی تعمیر کے محکموں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت بھی کی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے جن اداروں کے اجلاسوں میں شرکت کی، ان میں زیڈ ٹی ای(ZTE ) ، سائنوشور (Sinosure) ،چائنہ ڈویلپمنٹ بینک جیسے اہم ادارے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن اور انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنہ کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان میں چین کے تعاون سے زیر تکمیل توانائی کے منصوبوں کے لئے وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔چینی حکام نے ان ملاقاتوں کے دوران وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کو یقین دلایا کہ چین کو پاکستان میں توانائی کے بحران کی سنگینی کا اندازہ ہے او روہ ان منصوبوں کے لئے وسائل کی فراہمی میں کمی نہیں آنے دیں گے۔
دورہ چین کے آخری روز وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بیجنگ میں ایک استقبالیہ تقریب میں شرکت کی۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال اور وفد کے دیگر ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر انتہائی فکرانگیز خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ چین نے اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا جب حالات سرمایہ کاری کے لئے سازگار نہیں تھے۔ دھرنوں کی صورت میں چین کی سرمایہ کاری کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن چین کے معزز صدر شن ین پنگ نے اسلام آباد میں تاریخی تقریب کے دوران 46ارب ڈالر کے اقتصادی پیکج کا اعلان کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے دھرنوں کا ڈرامہ رچاکر ہمارے مخالفین نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ چین پاکستان کی کس طرح مدد کرسکتا ہے،لیکن چینی قیادت نے پاکستان کے ساتھ دوستی کاحق بھر پور طریقے سے نبھایا۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مخالفین کو چین نہیں آیا اوروہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ ان معاہدوں پر عملدر آمد کیسے ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی سیاست والے اب چین کے تعاون سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں کیخلاف کوششوں کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواشریف کی قیادت میں 16ماہ کی قلیل مدت میں توانائی منصوبوں کی تعمیر میں جس تیزرفتاری سے کام ہوا ہے، اس کی نظیر ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔چین کی قیادت کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ چینی سرمایہ کار کمپنیوں نے چینی بینکوں سے قرضوں کا انتظار کیے بغیر اپنے سرمائے سے توانائی کے منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام کاآغاز کردیا ہے اورہم چین کے تعاون پر مبنی منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے دن رات ایک کردیں گے،2017ء تک چینی تعاون سے توانائی کے بڑے منصوبوں سے5ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جس سے اندھیرے دور ہوں گے۔استقبالیہ میں چین کے مالیاتی اورتکنیکی اداروں کے اعلی حکام کے علاوہ بیجنگ میں مقیم پاکستانیوں نے بھی شرکت کی ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور ایگزم بینک آف چائنہ کی چیئرپرسن ہو ژیاؤلیان(Ms. Hu Xiaolian) کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان میں چینی تعاون پر مبنی منصوبوں کیلئے وسائل کی بروقت فراہمی پر بات چیت کی گئی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، چیئرمین لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی خواجہ احمد حسان اور ایگزم بینک کے وائس چیئرمین لیو لیان جی(Mr. Liu Liange)بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے چین کے کامیاب دور ے کے بعد اسلام آباد اےئر پورٹ پہنچنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دورہ نہایت نتیجہ خیز تھااوراس دورے کے بعدمنصوبوں کی رفتار میں اورتیزی آئے گی۔چینی قیادت اور عوام کی طرف سے ملنے والی پذیرائی ہمیشہ یاد رہے گی۔انہوں نے کہا کہ چین کے تعاون سے توانائی کے منصوبوں کی جلد تکمیل کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اورتوانائی منصوبوں کو شفافیت تیز رفتاری اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی مضبوط معاشی ‘ تجارتی تعلقات میں بدل چکی ہے اور چین کا تاریخی اقتصادی پیکیج پاکستان کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے۔ چین نے پاکستان کو تاریخی اقتصادی پیکیج دے کر جو احسان کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ چین کے تعاون سے پاکستان میں ترقی و خوشحالی کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی تعاون پرمبنی منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے جان لڑا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کو دنیا کی کوئی قوت گزند نہیں پہنچا سکتی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے انتھک کوششوں اور شب و روزمحنت سے ثابت کر دیا ہے کہ اگر لیڈرشپ عوام کے مسائل کے حل کے لئے پرخلوص مساعی کرنے پر آمادہ ہو تو اللہ تعالیٰ حالات کو خودسازگار بنا دیتے ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان سے بہت جلد لوڈشیڈنگ کے اندھیروں کا خاتمہ ہو گا۔
پنجاب حکومت اورچین کے صوبے جیلن(Jillin ) کے درمیان وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کے دورہ چین کےُ ُآُ خری روز بیجنگ میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ معاہدے کے تحت پنجاب کے زرعی شعبے کے طلبا و طالبات چینی صوبہ جیلن میں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں گے ۔جیلن صوبے نے پنجاب کے طلبا وطالبا ت کی زرعی شعبے میں تربیت کے لئے خیر سگالی کے طورپر 40کروڑ روپے مختص کر دئیے ہیں جو پنجاب کے زرعی شعبہ سے وابستہ طلبا وطالبات کوصوبے جیلن میں زرعی تعلیم وتربیت پر خرچ کئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب زرعی صوبہ ہے ،جیلن صوبے کی جانب سے زرعی شعبہ کے طلبہ کے لئے تربیتی پروگرام خوش آئند ہے۔ معاہدے کے تحت چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔

تو پھر ۔۔۔۔۔

       تو پھر ۔۔۔۔۔!

      تو پھر ۔۔۔۔۔!
 گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر)دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں سیاسی قیادت کے بھر پور مینڈیٹ، عسکری قیادت کے ویژن ،پاک فوج کے عزم اور سولجرز کے جزبوں نے آپریشن ضربِ عضب کو کم و بیش کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچا دیا ہے ۔
 پاک فوج اور اس کے دوسرے ادارے امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سیلاب سمیت قدرتی آفات کے متاثرین کی امدا میں بھی پیش پیش ہیں ۔ جتنی تیزی سے پاک فوج اپنے ٹارگٹ پورے کرتی جا رہی ہے اتنی ہی تیزی سے اس کا کام بھی بڑھتا جا رہا ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا وقت بھی اسی رفتار سے ان کی جانب بڑھتا جا رہا ہے ۔
 پرویز مشرف کے دور میں پاک فوج کا عوام میں مورال جتنا کم ہوا تھا اور جنرل کیانی اسے بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے ، وہ مکمل طور پر بحال ہوچکا ہے بلکہ گراف تیزی سے بلند ہو رہا ہے۔ اس عوقت جبکہ پاک فوج امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ احتساب کے عمل کے پیچھے بھی پوری طرھ کھڑی محسوس ہوتی ہے اور ’تھڑے ‘ پر بیٹھ کر سیاست کرنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنے والے ، خیال کر رہے ہیں کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے جاری عمل میں بھی پاک فوج پوری متعلق طرح متعلقہ اداروں کے پیچھے کھڑی ہے اور عملی طور پر ریاستی ذمہ داریاں پوری آزای سے ادا کررہی ہے یعنی اسے کسی معاملے میں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں رہی بلکہ حاکمِ وقت وقتاً فوقتاً اس ادارے سے’اپ ڈیٹ ‘ ہوتے ہیں اور پاک فوج ملک کے آئینی سربراہ کی خدمت میں پوری بریفنگ پیش کرتی ہے ۔ ملکی سیاسی، داخلی و خارجی صورتحال میں حالیہ ’ہِل جُُل‘ نے منظر نامے میں کچھ رنگ ہلکے و گاڑھے کیے ہیں تو کچھ لوگ طرح طرح کے’ سروے‘ کرتے نظر آنے لگے ہیں ، مثال کے طور پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کتنی مقبول و غیر مقبول ہو رہی ہیں ؟ اگلے سال پاک فوج کہاں کھڑی ہوگی؟ کس جماعت اور گروپ کے ساتھ کس کس مسلک اور فرقے کے کتنے علماءحضرات اور کتنی افرادی قوت ہے اور اس افرادی قوت کی مالی سپورٹ کہاں سے کتنی ہو رہی ہے ؟ مولوی اور ملا کہاں کھڑے ہیں ؟ پنجاب میں دہشت گردوں اور سہولت کاروں پر مکمل طور پر اور کھل کر کتنے دنوں تک ہاتھ ڈالا جاسکے گا ؟ بلدیاتی الیکشن میں اداروں کا کیا کردار ہوگا ، خونریزی ہوگی؟ کون روکے گا اور الیکشن کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے ریاستی مشینری کیا کردار ادا کرے گی؟ پاک فوج کی سیاسی و سماجی سطح پر مقبولیت کا گراف کہاں ہے اور کہاں ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
 کچھ لوگ بلدیاتی الیکشن پاک فوج کے کڑے پہرے میں کروانے کے حامی ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے پنجاب کی گڈ گورننس میں اس کی ضرورت نہیں ، پاک فوج بہت سے ریاستی امور میں مصروف ہونے اور خاص طور پر سندھ و خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی مصروفیات اور ان مصروفیات کی مخالفت کی وجہ سے تنہا کھڑی ہے ؟ایک حکمران جماعت کے سوا فوج کو کسی کی سپورٹ نہیں رہی جبکہ حکمران جماعت بھی خائف ہے اور دبے لفظوں میں اس کی مخالفت کر رہی ہے اسے سیاسی عمل میں مداخلت اور نگرانی کے عمل میں نہیں آنا چاہئے ۔۔۔ دوسری جانب عوامی سطح پر پاک فوج اور خاص طور پراس کے سپہ سالار کی مقبولیت کا بڑھتا ہوا گراف اگلے کچھ دنوں میںا ن سے مزید مطالبات کرتا نظر آتا ہے ۔ لوگ تو یہاں تک کہتے سنے جارہے ہیں کہ پاک فوج کو اپنی ادارے میں سکریننگ پہلے سے زیادہ سخت کرکے فوری طور پر نئی بھرتی کرنے اور جووڈیشل و مینجمنٹ کورسز شروع کروا دینا چاہئیں کیونکہ جس طرح محسوس کیا جارہا ہے کہ وہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے، احتساب کی بھی سپورٹ کر رہی ہے تو ملک کی بھاگ ڈور سنبھالے موجیں کرنے والے اسی ڈر سے اپنے گراف کی پتنگ کو کو کرپشن کے’ تُنکے‘ بھی مار رہے ہیں ، جب یہ سب کسی اور مقام پر ہونگے توریاستی نظام چلانے کیلئے ان سروسز کی شدید ضرورت پڑسکتی ہیں ۔۔۔ جمہوری سوچ تو مستقبل کے بارے میں بننے والے نقشے کی نفی کرتی ہے لیکن حالات و واقعات اور جمہور کی حالت نے جمہوری سوچ بھی آلودہ کردی ہے اور اس کا زمہ دار ی بھی جمہوریت کے کندھوں پر مال وز ر کے بل پر سوار ہونے والے ٹھہرتے ہیں اور کسی مرحلے پر جمہور کو جمہوریت بھی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔

دیار غیر میں پاکستان کا نام بلند کرنیوالے ہمارے سروں کے تاج ہیں

 دیار غیر میں پاکستان کا نام بلند کرنیوالے ہمارے سروں کے تاج ہیں

دیار غیر میں پاکستان کا نام بلند کرنیوالے ہمارے سروں کے تاج ہیں

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ دیار غیر میں رہنے والے پاکستانی وطن عزیز کے حقیقی سفیر ہیں جو قومی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایاہے۔طب ہو یا انجینئرنگ ، سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا بینکنگ ، یا پھر زندگی کا کوئی اور شعبہ پاکستانیو ں نے محنت سے کام کر کے ملک وقوم کا نام روشن کیاہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت دیار غیر میں اپنی صلاحیتوں او ر محنت کو بروئے کار لا کر پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے والے ان عظیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ پنجاب میں آزاد اورخود مختار اوورسیز پاکستانیز کمیشن تشکیل دیا گیاہے جو فعال طریقے سے کام کررہاہے اوریہ کمیشن اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں سرگرم عمل ہے۔ اوورسیز پاکستانیز کمیشن ،پنجاب کا قیام حکومت پنجاب کا ایک اور انقلابی اقدام ہے اوریہ ادارہ وطن سے دور رہنے والے ہم وطنوں کے مسائل اور شکایات کے ازالے میں اہم کردار اد ا کررہاہے۔پنجاب حکومت نے کمیشن کو آئینی حیثیت دی ہے اور کمیشن کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کی جارہی ہے او رمیں ذاتی طو رپر اس ادارے کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیتاہوں۔
وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج لند ن میں پاکستانیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔کمشنر اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب افضال بھٹی بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ہی اوورسیز پاکستانیز کمیشن تشکیل دیاگیاہے۔ کمیشن کے تحت اضلاع میں بھی کمیٹیاں بنائی گئی ہے جو مقامی سطح پر ان کے مسائل حل کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دیارغیر میں اپنی محنت کے ذریعے وطن عزیز کے لئے زرمبادلہ کمانے والوں کی جائیدادوں پر کسی کو ہاتھ صاف نہیں کرنے دیں گے اوران کے تمام مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے او رہم اس ذمہ داری کو نبھائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیو ں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی تکلیف سے بچانے کیلئے ہی اوورسیز پاکستانیز کمیشن تشکیل دیا گیاہے اور یہ ایک آئینی ادارہ ہے جو مکمل طو رپر با اختیار ہے ۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی آن لائن بھی شکایات کا اندراج کروا سکتے ہیں اوراوورسیز پاکستانیوں کی شکایات پر فوری ایکشن لیاجاتاہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی قومی معیشت کی مضبوطی میں کلیدی کردار اداکررہے ہیں ۔ ملک وقوم کی خدمت او رمعیشت کی بہتری کیلئے سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دیار غیر میں اپنی محنت کے ذریعے پاکستان کا نام بلند کرنے والے ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے اور کسی کو ان کی جائیدادوں پر ڈاکہ ڈالنے اور قبضے کی اجازت نہیں دیں گے،انہیں مکمل عزت واحترام دیا جائے گا۔بیرون ملک رہنے والے پاکستانی انجینئرز ، ڈاکٹرز ، محنت کش اوردیگر شعبوں میں کام کرنے والوں کے دکھ بانٹنے اوران کی تکالیف کے ازالے کے لئے ہی اوورسیز پاکستانیز کمیشن ،پنجاب کاقیام عمل لایا گیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ہر وہ قدم اٹھا یا جائے گا جس سے ان کو عزت واحترام ملے او رکوئی ان کی خون پسینے کی کمائی لوٹ نہ سکے۔انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے قیام سے ہم نے ایسے نئے نظام کی بنیاد ڈال دی ہے جس میں اوورسیز پاکستانیوں کو انصاف ملے گا او رکوئی ان کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈال سکے گا ۔وفد کے اراکین نے اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے قیام پر وزیراعلیٰ شہبازشریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے بلاشبہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سمجھتے ہوئے ان کے حل کے لئے عملی قدم اٹھایاہے ۔اوورسیز پاکستانیز کمیشن کا قیام حکومت پنجاب کاتاریخی او رلائق تحسین اقدام ہے جو وطن عزیز سے دوررہنے والوں کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کررہاہے ۔وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے اوورسیز پاکستانیز کمیشن ،پنجاب قائم کر کے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کیاہے ۔

دنیا بھر میں 800 ملین لوگ نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں، رپورٹ

دنیا بھر میں 800 ملین لوگ نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں، رپورٹ

دنیا بھر میں 800 ملین لوگ نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں، رپورٹ
اسلام آباد(ڈی این ڈی ): عالمی خواندگی فاونڈیشن(ڈبلیو ایل ایف) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں 800ملین لوگ نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں اور وہ غربت کی انتہائی نچلی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اس ناخواندگی کی قیمت عالمی معیشت کو 1.2ٹریلین امریکی ڈالر چکانا پڑیں گے۔
ڈبلیو ایل ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 796 ملین افراد مکمل طور پر ناخواندہ ہیں جو کہ دوائی کے اُوپر لگا لیبل بھی نہیں پڑھ سکتے۔امیر اور غریب دونوں ممالک میں محدود وسائل کی وجہ سے غربت کی نچلی سطح پر یہ افراد رہنے پر مجبور ہیں۔ تاہم معیشت کے لحاظ سے ایسے افراد کی تعداد مختلف ممالک میں مختلف ہے۔
اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق یہ فارمولا گھریلو مصنوعات کے تحمینہ کی لاگت کا ہے جو ترقی پذیر ممالک میں صرف0.5 فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کاری کا جی ڈی پی تقریبا 2فیصد لگایا گیاہے۔ اسی طرح بھارت اور چین جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کا 1.2فیصد ہے۔
ان تخمینوں کی طرح فلاح و بہبود ، صحت اور کم ترقی یافتہ ممالک میں انصاف کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کے بارے میں بھی ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے۔جس کے مطابق وہ ممالک جن کا جی ڈی پی زیادہ ہے ان کو ناخواندگی کی ایک بھاری قیمت برداشت کرنا پڑے گی۔یہی وجہ ہے کہ امیر ممالک ہر سال ناخواندگی کی وجہ سے898 بلین امریکی ڈالر کا نقصان اُٹھاتے ہیں۔جو کہ کاروباری پیداوار کو کم کر دیتا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق294 بلین امریکی ڈالر کا نقصان بھی ہو جاتا ہے۔اس نقصان کا جائزہ ہم اس طرح بھی لے سکتے ہیں کہ امریکہ نے سال 2015 میں 382.49 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کیا ۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جس نے 13.54 بلین ڈالر کا نقصان اٹھایا جبکہ جاپان نے 57 بلین ڈالرنقصان برداشت کیا۔
ترقی پذیر ممالک میں ناخواندگی کی وجہ سے نقصان کا تخمینہ ایک بلین امریکی ڈالر اور انگولا میں530 ملین ڈالر لگایا گیاہے ۔جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایک شخص جو عملی طور پر بالکل ناخواندہ ہو اُس کی تمام زندگی بے روزگاری کی وجہ سے متاثر ہو گی۔اور وہ روپے کمانے کے قابل نہیں ہو گا،اس بات پر تمام اقتصادی ماہرین متفق ہیں۔ اس رپورٹ سے ایک اور بات بھی پتہ چلتی ہے کہ کسی حد تک بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے 42 فیصد زیادہ کما سکتے ہیں با نسبت ان لوگوں کے جن کو بالکل پڑھنا نہیں آتا۔بنیادی تعلیم میں درج کردہ ہدایات کو پڑھنا شامل ہے جس میں دوا کا لیبل پڑھنا، خوراک بارے جاننا، چیک بُک کا استعمال کرنا، ملازمت کی درخواست پُر کرنا، گھر کے قرضے بارے جاننا،بینک اسٹیٹمنٹ کا پڑھنا ،دو چیزوں میں اہمیت کی حامل چیز کو چننا وغیرہ شامل ہیں۔

پی ٹی آئی علیم خان کی این اے 122ضمی انتخابات کے لئے نامزدگی کے بعد سیاسی طور پر الیکشن ہار چکی، عوام کی رائے

 پی ٹی آئی علیم خان کی این اے 122ضمی انتخابات کے لئے نامزدگی کے بعد سیاسی طور پر الیکشن ہار چکی، عوام کی رائے

پی ٹی آئی علیم خان کی این اے 122ضمی انتخابات کے لئے نامزدگی کے بعد سیاسی طور پر الیکشن ہار چکی، عوام کی رائے
لاہور (ڈی این ڈی): پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122کے آئندہ ضمنی انتخابات میں علیم خان پارٹی کے امیدوار ہوں گے ۔تاہم بعض سیاسی حلقے اور عوام عمران خان کے اس فیصلے کو پی ٹی آئی کی ساکھ کے لئے بہت نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
ہفتے کے رو ز لاہور میں عمران خان کے پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران این اے 122میں ضمنی انتخابات کے لئے پی ٹی آئی کے امیدوار کا نام سامنے آنے کے بعد ڈسپیچ نیوز ڈیسک (ڈی این ڈی) نیوز ایجنسی نے حلقہ این اے 122 کے لوگوں سے عمران خان کے اس فیصلے کے بارے میں رائے لی۔ تاہم بیشتر افراد نے عمران خان کے اس فیصلے پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا۔عوام کی رائے میں علیم خان ایک اچھی ساکھ کے حامل فرد نہیں ہیں اور انہیں لاہور کی مختلف عدالتوں میں مقدمات کا بھی سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کے رائے میں حالیہ دنوں میں پنجاب کے تین حلقوں بشمول این اے 125، این اے 122اور این اے 154میں الیکشن ٹریبونلز کی طرف سے پی ٹی آئی کے حق میں ٖفیصلے آنے کے بعد جو پارٹی کی حالیہ عرصے میں کھوئی ہو ئی ساکھ بحال ہوئی تھی اور پارٹی مستقبل کے ضمنی انتخابات میں بھر پور فائدہ بھی اٹھا سکتی تھی، عمران خان کے اس فیصلے کے بعد ان تمام فوائد کو شدید دھچکا لگا ہے۔
لوگوں کے مطابق عمران خان کے2013کے انتخابات کے لئے کی گئی مہم کے دوران کئے گئے یہ دعوے بھی غلط ثابت ہوئے جن کے مطابق پی ٹی آئی صرف درمیانے طبقے کے لوگوں کی نمائندہ جماعت ہو گی اور کسی بد عنوان فرد کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا جا ئے گا۔تاہم علیم خان کو این اے 122کے ضمنی انتخابات کے لئے اپنا امیدوار چننا عمران خان کے ان تمام دعووں کی نفی کر تا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سایٹس پر بھی پی ٹی آئی کے اپنے حمایتی علیم خان سے متعلق عمران خان کا فیصلے کو شدید تنقید کا نشا نہ بنا رہے ہیں اور بر ملا نا خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔لوگوں کی رائے میں عمران خان کے اس فیصلے کے بعد لاہور میں پی ٹی آئی جو کہ پہلے ہی دھڑے بندی کا شکار ہے اب مزید توڑ پھوڑ کا شکا ر ہو جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے حلقوں میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے اور انہوں نے بھی عمران خان کے اس فیصلے پر حیرانگی اور مسرت کا اظہار کیا ہے ۔

دہشت گردی کے مکمل صفایا کیلئے فیصلہ کن جنگ لڑی جا رہی ہے،جیت صرف پاکستان کی ہوگی:شہبازشریف

دہشت گردی کے مکمل صفایا کیلئے فیصلہ کن جنگ لڑی جا رہی ہے،جیت صرف پاکستان کی ہوگی:شہبازشریف

دہشت گردی کے مکمل صفایا کیلئے فیصلہ کن جنگ لڑی جا رہی ہے،جیت صرف پاکستان کی ہوگی:شہبازشریف

 وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت ملک کو درپیش دونوں بڑے مسائل دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ سے سنجیدگی سے نمٹ رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اورپوری قوم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحد ہوچکی ہے۔ انشاء اﷲعوام کی طاقت سے ملک سے دہشت گردی و انتہاء پسندی کے ناسور کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرکے دم لیں گے۔
وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدیداران اور کارکنوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہاکہ غیرمعمولی صورتحال غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے اور قومی و عسکری قیادت کے جرأت مندانہ فیصلے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد سے دہشت گردی وانتہاء پسندی کا خاتمہ کیا جا رہاہے اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف بلاامتیازسخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ قوم کے اتحاد اور اتفاق کی قوت سے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور قائدؒ اور اقبالؒ کے خوابوں کے مطابق پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی، مذہبی اور فوجی قیادت بھی دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے ۔ اتفاق اور یگانگت کا مثالی مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز سے دہشت گردوں کو ہمیشہ کیلئے نیست و نابود کرنے کا وقت آ گیا ہے اور پوری قوم افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں ساتھ کھڑی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ پاک افواج کے افسران، جوانوں، پولیس حکام و اہلکاروں،سیاستدانوں اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں اور اب تک 50 ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں وطن پرقربان کر چکے ہیں جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستانی قوم میں نیا جذبہ، عزم اور بھرپور قوت موجود ہے اور دہشت گردی کے ناسور کے مکمل صفایا کے لئے فیصلہ کن جنگ لڑی جا رہی ہے اور یہ جنگ پاکستان کے بقا کی جنگ ہے ۔ انشاء اللہ ہم سب قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے اور پاکستان کو بچانے کی جنگ ہر قیمت پر جیتیں گے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے برسراقتدار آ کر شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار قائم کئے ہیں اور ہمارے بدترین مخالفین بھی ہماری حکومت سے کوئی سکینڈل منسوب نہیں کر سکتے۔توانائی بحران کے حل کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں حکومت نے 2برس کے دوران بجلی کے پراجیکٹس کے لئے جتنی سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کی ہیں اس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔چین اور دیگر دوستوں ملکوں کے تعاون سے توانائی کے متعددمنصوبے زیر تکمیل ہیں اور 2017تک توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے 5ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کا آغاز ہو جائے گا۔

بھارتی فورسز کی سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر معصوم شہریوں پر فائرنگ انتہائی مذموم اقدام ہے

بھارتی فورسز کی سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر معصوم شہریوں پر فائرنگ انتہائی مذموم اقدام ہے

بھارتی فورسز کی سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر معصوم شہریوں پر فائرنگ انتہائی مذموم اقدام ہے،شہبازشریف
جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں،زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں
نقل مکانی کرنیوالوں کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے اور انہیں زندگی کی ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں:وزیراعلیٰ
لاہور29اگست:۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ بھارتی فورسز کی سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر معصوم شہریوں پر فائرنگ انتہائی مذموم اقدام ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بھارتی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ہدایت کی کہ بھارتی فائرنگ سے زخمی ہونے والے شہریوں کو علاج معالجہ کی ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ بھارتی فائرنگ کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کا ہر طرح سے مکمل خیال رکھا جائے اور انہیں زندگی کی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔