مشترکہ عرب فوج کے قیام کے لیے سعودی عرب اور مصر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری

مشترکہ عرب فوج کے قیام کے لیے سعودی عرب اور مصر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری

مشترکہ عرب فوج کے قیام کے لیے سعودی عرب اور مصر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری
قاہرہ، مصر (ڈی این ڈی): مشرق وسطی کی سلامتی اور عرب اقوام کو درپیش سکیورٹی خطرات کے پیش نظر سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک مشترکہ عرب فوج کے قیام کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ممالک نے اپنے دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ کے لئے مزید اقدامات کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
جمعرات کے روز قاہرہ میں ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ گریجوایشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا تھا کہ مصر اور سعودی عرب خطے کی سلامتی کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔اس موقع پر سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے۔
مصر کے سرکاری اخبار الاہرام کی رپورٹ کے مطابق عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ سعودی نائب ولی عہد کی تقریب میں موجودگی سے دونوں ملکوں کے عوام کے لیے تعاون کا ایک مضبوط پیغام گیا ہے کہ آپ ہمیں اکٹھے دیکھیں گے۔ السیسی نے کہا کہ خطے کے انتہائی نامساعد حالات میں سکیورٹی کی صورت حال کی غیر معمولی نگرانی اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق مصر اور سعودی عرب کا خطے میں اپنی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عرب فوج کے قیام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لئے مذاکرات کا عمل ترکی کی اہمیت کو کم گرداننے کے مترادف ہے۔ذرائع کے کہنا ہے کہ ترکی جو اس خطے میں بہت اہم کر دار ادا کر رہا ہے اور آگے بھی کرنا چاہتا ہے اس نئی صورت حال کے بعد اسے الگ کر دیا گیا ہے۔
درایں اثناء سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی بہتری خطے کی سکیورٹی کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔
مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان یک جہتی علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔
عادل الجبیرکا اس موقع پر کہنا تھا کہ سعودی عرب مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ میں گہری دل چسپی رکھتا ہے۔انھوں نے کہا کہ مارچ میں عرب وزرائے خارجہ نے مصر میں منعقدہ اپنے اجلاس میں ایک مشترکہ عرب فوج کے قیام سے متعلق جو اصولی اتفاق کیا تھا اس سلسلے میں مصر کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی جاسوسی مشن ’’ ٹارگٹ ٹوکیو ‘‘ سے متعلق وکی لیکس کا انکشاف

امریکی جاسوسی مشن ’’ ٹارگٹ ٹوکیو ‘‘ سے متعلق وکی لیکس کا انکشاف

امریکی جاسوسی مشن ’’ ٹارگٹ ٹوکیو ‘‘ سے متعلق وکی لیکس کا انکشاف
اسلام آباد(ڈی این ڈی): وکی لیکس نے امریکی جاسوسی مشن ’’ ٹارگٹ ٹوکیو ‘‘ کا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق امریکہ کی قومی سلامتی کا ادارہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی جاپان کی حکومت کے اہم اداروں اور عہدیداران کی جاسوسی کر رہی ہے۔
جمعے کے روز اپنی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک رپورٹ میں وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ ’’ ٹارگٹ ٹوکیو ‘‘ کے تحت نیشنل سیکورٹی ایجنسی جاپان میں 35اہم اداروں کی جاسوسی کر رہی ہے جن میں جاپان کی کابینہ اور جاپانی کمپنیاں جیسے کہ دوستسبشی بھی شامل ہیں۔
وکی لیکس کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سیکورٹی ایجنسی جاپانی وزیر اعظم شینزو ایبے کی پہلی انتظامیہ جو کہ ستمبر 2006سے ستمبر 2007تک رہی اس وقت سے جاپان کے اعلیٰ حکام، وزارتوں اور سینئر مشیروں کی جاسوسی کر رہا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی جن اداروں اور حکام کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کرتی رہی ہے ان میں جاپانی کابینہ کے دفتر، چیف کیبنٹ سیکرٹری کے ایگزیکٹو سیکر ٹری ، جاپانی مرکزی بینک کے گورنر سمیت متعدد حکام، جاپانی وزارت خزانہ کے حکام، جاپانی وزیر برائے معیشت ، تجارت اور صنعت، دوستسبشی قدرتی گیس ڈویڑن اور متسوئی پٹرولیم ڈویڑن بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی سینئر جاپانی حکام کی جاسوسی سے ملنے والی معلومات کو آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ کو بھی فراہم کر تی رہی ہے۔
وکی لیکس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے جاپانی اہم اداروں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جاسوسی کے بعد جو معلومات اکٹھی کیں ان میں زرعی درآمدی اور تجارتی تنازعات، دوحہ میں منعقدہ عالمی تجارتی تنظیم کے اجلاس، جاپانی تکنیکی ترقی کی منصوبہ بندی، موسمیاتی تبدیلی پالیسی، جوہری اور توانائی کی پالیسی اور کاربن اخراج کے منصوبوں، بین الاقوامی اداروں جیسے کے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ خط و کتابت اور امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات سے متعلق جاپانی اعلیٰ حکام کی گفت و شنید شامل ہیں ۔اس کے علاوہ جاپانی وزیر اعظم کو دی گئیں خفیہ بریفنگ سے متعلق معلومات بھی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کی جاسوسی سے حاصل کی گئیں۔

داعش کے بھارت پر حملے سے متعلق برطانوی میڈیا کی رپورٹ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کا حصہ ہے، ذرائع

داعش کے بھارت پر حملے سے متعلق برطانوی میڈیا کی رپورٹ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کا حصہ ہے، ذرائع

داعش کے بھارت پر حملے سے متعلق برطانوی میڈیا کی رپورٹ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کا حصہ ہے، ذرائع
اسلام آباد(ڈی این ڈی): عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام “داعش” کے بھارت پر حملہ کرنے کے منصوبے سے متعلق برطانوی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی ایک رپورٹ پر پاکستانی ذرائع نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی خبریں بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی میڈیا کی یہ پورٹ ایک افسانوی قصہ معلوم ہو تی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایسی بے بنیاد رپورٹس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو مغربی ذرائع ابلاغ کا سہار ا لے کر پاکستان کو دنیا بھر میں بد نام کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں مشرقی سرحد پر بھارت افواج کی طرف سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزی اور گرداسپور جیسے واقعات میں بناتحقیقات کئے پاکستانی حساس اداروں کو مورزالزام ٹھہرانا، نئی دہلی کے اسلام آباد کے خلاف مذموم مقاصد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس خطے میں بظاہر ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے اور بھارت کی بھر پور کوشش ہے کہ ہر ممکن حربہ استعمال کر کے پاکستان کے خلاف ایک عالمی رائے عامہ قائم کی جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں برطانوی اخبار “ڈیلی میل” نے ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق “داعش” دنیا بھر میں اپنی خلافت قائم کرنے کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے عسکریت پسند تنظیم پوری دنیا کو عالمی جنگ کی گھسیٹنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اس خطرناک منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے داعش نے بھارت کو میدان جنگ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
برطانوی اخبار نے یہ رپورٹ امریکا میں سامنے آنے والی ایک نئی دستاویز کو بنیاد پر شائع کی ہے ۔اخبار کے مطابق اردو زبان میں تحریر کردہ یہ مستند دستاویز امریکی خفیہ اداروں کو ملی ہے اور یہ مبینہ طور پر بھارت اور پاکستان میں سرگرم جہادی عناصر بالخصوص داعش کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی تیار کردہ ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وہ بھارت پر حملہ کر کے امریکا کو بھی اس جنگ میں براہ راست شامل کرنا چاہتے ہیں۔امریکا اور یورپی اخبارات میں سامنے آنے والی اس دستاویز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک پاکستانی نڑاد شخص سے ملی ہے جس کے مبینہ طور پر تحریک طالبان کے ساتھ بھی روابط ہیں۔
داعش کے جنگجوؤں کی تیار کردہ اس دستاویزمیں پاکستان میں سرگرم طالبان اور القاعدہ عناصر کو داعش کی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ عالمی خلافت کے قیام کے لیے دولت اسلامی کا ساتھ دیں۔
اس غیر مصدقہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ داعش بھارت پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکا کو بھی جنگ میں گھسیٹ کر اسے عالمی جنگ میں تبدیل کیا جائے گا۔ جب امریکا اور اس کے اتحادی اس جنگ میں کود پڑیں گے تو پوری مسلم اْمہ متحد ہو جائے گی اور یہ آخری جنگ ہوگی جس کے بعد دنیا میں اسلامی خلافت کا پرچم لہرائے گا۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجو افغانستان سے انخلاء کرنے والے امریکی فوجیوں، امریکی، مغربی سفارت کاروں اور پاکستانی حکام پر بھی قاتلانہ حملے کریں گے۔

نیب کا رینٹل پاور پراجیکٹ نوڈیرو ون میں مبینہ بدعنوانی پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سابق سیکرٹری پانی وبجلی شاہد رفیع سمیت واپڈا کے دیگر افسران کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

نیب کا رینٹل پاور پراجیکٹ نوڈیرو ون میں مبینہ بدعنوانی پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سابق سیکرٹری پانی وبجلی شاہد رفیع سمیت واپڈا کے دیگر افسران کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

نیب کا رینٹل پاور پراجیکٹ نوڈیرو ون میں مبینہ بدعنوانی پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سابق سیکرٹری پانی وبجلی شاہد رفیع سمیت واپڈا کے دیگر افسران کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ۔ 31 جولائی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو( نیب) نے رینٹل پاور پراجیکٹ نوڈیرو ون میں مبینہ بدعنوانی پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ، سابق سیکرٹری پانی وبجلی شاہد رفیع سمیت واپڈا کے دیگر افسران کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی صدارت میں نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ہوا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے رینٹل پاور پراجیکٹ نوڈیرو ون میں مبینہ بدعنوانی پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق سیکرٹری پانی وبجلی شاہد رفیع، سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی فیاض الہی ، سابق ایم ڈی پیپکو فیاض احمد خان، سابق ایم ڈی پیپکو طاہر بشارت چیمہ اور دیگر کے خلاف کرپشن ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پررینٹل پاور
پراجیکٹ کے 51 میگا واٹ کا ٹھیکہ رینٹل سروسز کنٹریکٹ، آر پی پی رولز اور نیپرا ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈبلیو پی آئی کو دیا اور قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا۔

چھٹی مردم شماری اگلے سال مارچ کے آخری ہفتے میں ہوگی ، مردم شماری مسلح افواج کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ

چھٹی مردم شماری اگلے سال مارچ کے آخری ہفتے میں ہوگی ، مردم شماری سول انتظامیہ اور مسلح افواج کی نگرانی و مانیٹرنگ میں کرانے کا فیصلہ

چھٹی مردم شماری اگلے سال مارچ کے آخری ہفتے میں ہوگی ، مردم شماری سول انتظامیہ اور مسلح افواج کی نگرانی و مانیٹرنگ میں کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد ۔  (اے پی پی) چھٹی مردم شماری اگلے سال مارچ کے آخری ہفتے میں سول انتظامیہ و مسلح افواج کی نگرانی میں ہوگی۔ مردم شماری کی سرگرمیاں تین ہفتے تک جاری رہیں گی۔ اعداد و شمار میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے مردم شماری سول انتظامیہ اور مسلح افواج کی نگرانی و مانیٹرنگ میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فیلڈ سرگرمیوں کے دوران مسلح افواج امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہوں گی۔ چھٹی مردم شماری 2016ء کے لئے تیاریوں کا جائزہ لینے کی غرض سے جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر محکمہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے محکمہ کی جانب سے مردم شماری کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے محکمہ شماریات کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ مردم شماری ایک اہم عمل ہے کیونکہ یہ آبادی کی نوعیت‘ طاقت اور کمزوریاں ماپنے کا اہم ذریعہ ہے اس کے علاوہ یہ مستقبل کے لئے منصوبہ بندی میں بھی مددگار ہوتی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مردم شماری میں شامل سول و فوجی اہلکار اعداد و شمار جمع کرنے میں شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چھٹی مردم شماری اگلے سال مارچ کے آخری ہفتے میں ہوگی جو تین ہفتے تک جاری رہے گی۔ متعلقہ صوبوں میں سکولوں میں امتحانات کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی محکمہ تعلیمات کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے مردم شماری کے دوران سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی کی ہدایت کردی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چھٹی مردم شماری سول و مسلح افواج کی نگرانی میں کرائی جائے گی۔

تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ 2017ء میں مکمل ہو گا، واپڈا ذرائع

تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ 2017ء میں مکمل ہو گا، واپڈا ذرائع
تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ 2017ء میں مکمل ہو گا، واپڈا ذرائع

تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ 2017ء میں مکمل ہو گا، واپڈا ذرائع
اسلام آباد (ڈی این ڈی): تربیلا ڈیم کا چوتھا توسیعی منصوبہ 2017ء میں مکمل ہو جائے گا۔ واپڈا ذرائع کے مطابق توسیعی منصوبے کے ذریعے سرنگ نمبر 4 پر 1410 میگاواٹ مجموعی پیداواری صلاحیت کے حامل تین یونٹوں کی تنصیب سے تربیلا ہائیڈل پاور اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت 3ہزار 4 سو 78میگاواٹ سے بڑھ کر 4 ہزار 8 سو 88 میگاواٹ ہو جائے گی۔ عالمی بنک اس پراجیکٹ کے لئے 840 ملین ڈالر مہیا کر رہا ہے۔ اپنی تکمیل پر تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ نیشنل گرڈ کو 3 ارب 84 کروڑ یونٹس کم لاگت بجلی مہیا کرے گا۔ پراجیکٹ کے سالانہ فوائد کا تخمینہ تقریباً 30 ارب روپے ہے۔ پراجیکٹ تین سال میں اپنی تعمیراتی لاگت پوری کر دے گا۔ تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے سے نہ صرف ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ نیشنل گرڈ میں کم لاگت پن بجلی کی شامل ہونے سے صارفین کو ریلیف بھی ملے گا۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ماہانہ حاضری کا الیکٹرانک نظام متعارف کروایا

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ماہانہ حاضری کا الیکٹرانک نظام متعارف کروایا
لاہور(ڈی این ڈی) : پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایجوکیشن وؤچر سکیم سے منسلک سکولوں کی سہولت کے لیئے الیکٹرانک حاضری کا جدید نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس نظام کے تحت پارٹنر سکول اپنے طا لب علمو ں کی ماہانہ حاضری بذریعہ الیکٹرانک نظام پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو مہیا کریں گے۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق الیکٹرانک حاضری کے نظام کو چلانے کے حوالے سے پارٹنر سکولوں کو ضروری تربیت دی گئی ہے۔اس حوالے سے پارٹنرسکول مزید راہنمائی کے لیئے ہیلپ لائن 042-35772032,042-99268250پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں ۔ ترجمان کے مطابق ایجوکیشن وؤچر سکیم سے منسلک پارٹنر سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد اپنی ماہانہ حاضری پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو 5تاریخ تک مہیا کر دیا کریں۔اس اقدام کا مقصد پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے نظام کو مزید شفاف ، مربوط اور منظم بنانا ہے ۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ایجوکیشن وؤچر سکیم کے ذریعے صوبے کے 36اضلاع میں بے وسیلہ بچوں کو مفت تعلیم مہیا کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے ۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر مبنی اس تعلیمی نظام کے تحت ضرورت مند بچوں کو اپنی پسند کے نزدیکی پارٹنر سکولوں میں مفت تعلیم کی سہولت دی گئی ہے جس کے مفیدنتائج بر آمد ہوئے ہیں ۔

چین اور ترکی کا دوطرفہ تجارت 100بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

چین اور ترکی کا دوطرفہ تجارت 100بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

چین اور ترکی کا دوطرفہ تجارت 100بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
بیجنگ، چین (ڈی این ڈی): ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف دا پیپل‘ میں ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کو 100بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے اور چین کی طرف سے ترک النسل ایغور مسلم اقلیت پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ترکی اور چین کے مابین پائی جانے والی کشیدگی پر بات چیت کی۔
چینی اور ترک میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ طیب اردگان کے چینی صوبے سنکیانگ میں بسنے والی ایغور اور ہوئی مسلم آبادی کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے منصوبے کو چینی خکام نے خوش آئند قرار دیا۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اردگان کا کہنا تھا کہ ترکی چین کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور چین کے اندر کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
ذرائع نے ڈی این ڈی کو بتایاکہ ملاقات کے دوران طیب اردگان اور شی جن پنگ نے چین اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 100بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک کے تاجروں کو ایک دوسرے کے ملک میں مدعو کیا جائے گا۔
ملاقات کے دوران چینی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان قائم معاشی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور یہ امید ظاہر کی کہ ان میں مزید بہتری آئے گی۔
ملاقات سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان 2010میں اسٹریٹجک تعاون قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور اب وقت آ چکا ہے کہ وہ اسے عملی شکل دیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کی فضاء قائم کرنے اور دوستی کو رشتے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
چین اور ترکی نے اس موقع پر کئی معاہدوں پر دستخط بھی کئے جن میں دونوں ممالک کے درمیان نائب وزرائے اعظم کی سطح پر تعاون کی کمیٹی قائم کرنے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط پر شامل ہیں۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے تحفظ اور باہمی حوصلہ افزائی سے متعلق درمیانی اور طویل مدت کے ایک ترقیاتی منصوبے پر بھی دستخط کئے گئے۔
یاد رہے کہ 2010میں چین اور ترکی کے درمیان اسٹر یٹیجگ تعاون کے قیام اور ترقی سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ طے پایا تھا اور اس وقت دونوں ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم 24بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔
شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات سے پہلے ترکی کے صدر نے چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ سے بھی بیجنگ کے ’گریٹ ہال آف دا پیپل‘ میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جن مختلف معاہدوں پر دستخط کریں گے، وہ ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک اور تعاون پر مبنی تعلقات استوار ہونے سے بعد کا اہم ترین دورہ بنا دیں گے۔ جبکہ چینی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چین، چین اور ترکی کے باہمی تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
ترکی کے صدر طیب اردگان بدھ کے روز چین کے تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین اپنی ترک نسل کی مسلم اقلیتی ایغور آبادی کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے جبکہ ترکی اور چین کے درمیان چینی میزائل سسٹم کی ممکنہ خرید کے حوالے سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔
چین کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ترکی کے صدر انڈونیشیا کے دورے پر روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ انڈو نیشیا کے صدر جوکو ویڈوڈو سے ملاقات کریں گے اس کے علاوہ وہ ترکی انڈونیشیا بزنس فورم میں بھی شرکت کریں گے۔