Category Archives: صحت

سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے لئے تمام انتظامات مکمل رکھیں جائیں۔

ڈینگی کی آؤٹ ڈور اور انڈور سرویلنس کو زیادہ موثر بنایا جائے، خواجہ سلمان رفیق کی متعلقہ سرکاری محکموں کو ہدایت
لاہور۔6 مارچ(ڈی این ڈی ) حکومتی خبر رساں ادارے اے پی پی کی خبر کے مطابق وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کےئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے تمام متعلقہ سرکاری محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ڈینگی کی آؤٹ ڈور اور انڈور سرویلنس کو زیادہ موثر بنایا جائے تاکہ ڈینگی کے ساتھ چکن گنیاکی بیماری کی بھی روک تھام ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چکن گنیازیادہ خطرناک بیماری نہیں تاہم ڈینگی اور چکن گنیا کو پھیلانے والا ویکٹر مچھر ہی ہے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈینگی کے مریض کا چکن گنیا کا بھی ٹیسٹ کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکموں کے سینئر افسران کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ ٹھوس فیصلے لینے میں آسانی ہو۔انہوں نے یہ بات یہاں کابینہ کمیٹی برائے ڈینگی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں رکن پنجاب اسمبلی لبنی فیصل ، پیر اشرف رسول کے علاوہ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ علی جان خان، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر فیصل ظہور، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر آصف ، پروفیسر فیصل مسعود کے علاوہ تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ راولپنڈی ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد، ملتان ، قصور، شیخوپورہ ، جھنگ، اٹک، رحیم یار خان، چکوال اور سرگودھا کے ڈپٹی کمشنرز اور CEOsہیلتھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی کارروائی میں حصہ لیا اور ڈینگی کنٹرول کے سلسلے میں اقدامات بارے اجلاس کو بتایا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈینگی کنٹرول ڈاکٹر فرخ سلطان نے صوبے میں ڈینگی کی صورتحال بارے بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آؤٹ ڈور اور انڈور سرویلنس میں ڈینگی لاروا رپورٹ ہونا شروع ہو گیا ۔ ڈینگی ایکسپرٹس ایڈوائزی گروپ کی سیکرٹری ڈاکٹر صومیہ اقتدار نے بتایا کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسز کو کیس مینجمنٹ کے حوالے سے ریفریشر کورسز کرا دےئے گئے ہیں اور نئے آنے والے ڈاکٹرز کو تربیتی کورسز ڈسٹرکٹ کی سطح پر بھی کرائے جا رہے ہیں۔ سیکرٹری ہیلتھ علی جان خان نے کہا کہ ڈینگی کے حوالے سے ہائی رسک ڈسٹرکٹس کو مزید اینٹامولوجسٹ اور سینٹری پیٹرول دےئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کو سینکشنڈ سیٹوں پر بھرتی کرنے کا پورا اختیار ہے اور اس سلسلہ میں کوئی پابندی نہیں ہے ۔ چیف منسٹر ڈینگی ریسرچ سیل کے ہیڈ پروفیسر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ کراچی میں چکن گنیا کے کیس بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ وائرس پنجاب میں بھی آ سکتا ہے کیونکہ ڈینگی مچھر سے ہی چکن گنیا بھی پھیلتا ہے۔وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ہدایت کی کہ چکن گنیا کی روک تھام اور مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کے لئے کٹس کی فراہمی اور دیگر معاملات بارے لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے فوری طور پر ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے ۔ پروفیسر فیصل مسعود کا کہنا تھا کہ جہاں ڈینگی ہو گا وہاں چکن گنیا بھی پایا جائے گا تا ہم چکن گنیا خطر ناک مرض نہیں لیکن بخار اور جوڑوں کے درد کی وجہ سے مریض کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے ڈینگی اور چکن گنیا کے بارے بھر پور آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے لئے تمام انتظامات مکمل رکھیں جائیں۔

ادرک کا استعمال

Health-Benefits-of-Gingerادرک کا استعمال
سائنسدانوں نے سال ہا سال کی تحقیق کا نچوڑ یہ نکالا ھے کہ ادرک ہماری جمانی ضروت اور دفائی نظام کے لیے انتہائی ضروری جُز ھے۔
جسمانی دفاعی نظام کی مضبوطی کے لیے ادرک سے بہتر کوئی چیز نہیں ھے۔ ادرک میں سردی اور زکام سے بچانے والا ایک اہم مرکب پایا جاتا ہے جو اس مرض کو پھیلانے والے رائنووائرس کو حملے سے روکتا ہے۔ ادرک سینے میں جکڑن اور فلو کو روکتی ہے۔ کارڈف یونیورسٹی کے مطابق ادرک قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈنٹس سے لبریز ہوتی ہے جو بخار اور درد کو کم کرتی ہے۔ بخار میں ادرک کی چائے بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔
یہاں تک کہ جن لوگوں کو جوڑو ں کے درد کی شکایت ھے تو وہ بھی یاد رکھیں کہ جوڑوں کے درد کا علاجادرک میں پوشیدہ ھے۔غذائی ماہرین کے مطابق ادرک میں گٹھیا اور جوڑوں کا درد کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، ادرک میں موجود جنجرول نامی مرکب سوزش اور درد دور کرتا ہے۔ ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کو ادرک کے اجزا کھلائے گئے تو تکلیف میں کمی محسوس ہوئی۔پٹھوں کے اینٹھن میں کمی۔جو لوگ جم میں جاکر وزن اٹھاتے ہیں یا سخت ورزش کے بعد پٹھوں میں کھنچاؤ سے پریشان ہیں وہ ادرک سے اس کا علاج ضرور کریں۔ ایک چمچہ ادرک روزانہ کھانے سے ورزش کرنے والے پٹھوں کی تکلیف میں 25 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔ تیز دوڑنے والے کھلاڑی بھی ادرک سے اپنی تکلیف دور کرسکتے ہیں۔ادرک نظامِ ہاضمہ کے لیے ایک بہترین نسخہ ہے۔ یہ پیٹ سے گیس خارج کرتی ہے اور معدے کے بھاری پن کو دور کرتی ہے۔ ہمارے معدے اور آنتوں سے خارج ہونے والے ہاضماتی رس کو بہتر بناکر ہاضمے کو تیز کرتی ہے۔ اس میں موجود ایک خامرہ (اینزائیم) زنجابین اہم پروٹین کو توڑ کر اسے ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔خواتین کو ہر مہینے تکلیف دہ ایام کا سامنا ہوتا ہے جو ان کے مزاج اور جسمانی کیفیت کو متاثر کرتا ہے۔ ادرک میں پائے جانے والے بعض اہم اجزا اس تکلیف کو کم کرتے ہیں۔جن لوگوں کو یاداشت کمزور ہونے کی شکایت ھے اُن کے لیے بھی اس سے بہتر کوئی شے نہیں ادرک کا روزانہ دو گرام استعمال ہماری جسمانی ضرورت کے لیے کافی ھے اس سے یادداشت کو بہتر کرنے میں مدد ملتی ھے۔ادرک الزائیمر جیسے دماغی مرض کو کم کرتی ہے۔ یہ دماغی خلیات کو ٹوٹ پھوٹ سے بھی بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ دماغی اور نفسیاتی امراض کو بھی بڑھنے سے روکتی ہے۔ اس لیے ادرک کو شروع سے ہی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے

صحت مند طرز زندگی دل کی بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے

health-is-wealthصحت مند طرز زندگی دل کی بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے
واشنگٹن ۔ 15 فروری (ڈی این ڈی) حکومتی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت مند طرز زندگی دل کی بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین صحت کے مطابق دل کو صحت مند رکھنے اور مختلف امراض سے بچانے کے لئے کھانے پینے میں صحت بخش اشیاء جس میں پھل ،سبز پتوں والے سلاد شامل ہیں کا استعمال کریں اور چینی ،سرخ گوشت اور چکنائی والی اشیاء کا استعمال ترک کر دیں ،گھر کے بنے ہوئے کھانے کھائیں ، باقاعدگی سے ورزش نہایت اہم ہے ، ہر ہفتے150 منٹ کی واک جسمانی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ آپ کی صحت بھی ٹھیک رہے گی اور دل بھی صحت مند رہے گا جبکہ واک وزن کو برقرا رکھنے اور وزن کو کم کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے ۔ڈاکٹروں نے مغیر صحت مند عادات جس میں سگریٹ نوشی اور شراب سے پرہیز کریں سیگریٹ نوشی نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دل کے امراض کا بھی سبب ہوتی ہے

ہماری صحت

safeہماری صحت

لا ہور (ڈی این ڈی) جب ہم گھر سے باہر ہوتے ہیں تو پیاس لگنے پر سادہ پانی پینے کی بجائے منرل واٹر کا استعمال اور انتخاب کرتے ہیں تاکہ صحت دُرست رہے۔اگر کسی کے گھر بھی ہوں تو منرل واٹر ہی طلب کر تے ہیں تاکہ ہر طرح کی بیماری سے بچا جائے لیکن وہاں آپ کیا کریں گئے جب آپ کو یہ پتہ چلے کہ صو با ئی دا را لحکومت سمیت ملک بھر میں بو تل کا پانی فرو خت کر نے وا لی 42کمپنیو ں کے برا نڈ کا پا نی غیر محفوظ اور آلو دہ قرا ر دے دیا گیا ہو۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ھے کہ ان میں سے زیا د ہ تر کمپنیو ں کے بو تل کے پا نی میں آرسینیک کی مقدا ر حد سے زیا د ہ ر یکا رڈ ہو ئی ہے۔جبکہ بعض کمپنیو ں کے پانی میں مائیکروبیا لو جیکل بیکٹریا پا یا گیا ہے جبکہ کُچھ برا نڈ کے پا نی میں سوڈ یم اورپو ٹیا شمیم کی مقدا ر مقررہ حد سے خطر نا ک حد تک تجاوز کرگئی جس کی تصد یق پی سی ار ڈ بیلوآر کی ر پو رٹ میں کی گئی ہے۔2013کے مقابلے میں 2016میں قرا ر د ئیے گئے غیر محفوظ پا نی والی کمپنیو ں میں 105فیصد اضا فہ ہواہے۔ ان کمپنیو ں میں سے 16برا نڈ کے پانی میں آر سینک کی مقدا ر دس پی پی بی کی بجا ئے بڑ ھ کر 12سے 85پی پی بی تک پا ئی گئی ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہا ئی مضر صحت قرا ر د ی گئی ہے۔ ایساپا نی استعما ل کر نے والو ں میں کڈ نی کے فیلئیر ، جلد ی امرا ض ، بلڈ پر یشر کی بیما ر یا ں ، د ل کے امرا ض ، خواتین میں زچگی کے مسائل جیسی بیماریاں پھیلنے کا امکا ن ہو تا ہے۔
پا نی پر تحقیق کر نے والے سر کا ر ی ادرے پا کستا ن کو نسل آف ر یسرچ ان واٹر ر یسورسز کی ر پو رٹ کے مطا بق پا کستا ن کے بڑ ے شہرؤ ں جن میں لا ہور ، پشاور ، کرا چی ، اسلام آبا د ،کو ئٹہ شامل ہیں سے مختلف کمپنیو ں کے برا نڈ کی بو تلو ں میں بند پا نی کے 124نمونہ جا ت حا صل کئے گئے اور ان کا تجزیہ کیا گیا جس میں 42برا نڈ کا پا نی غیر محفوظ قرا ر د یا گیا۔3قسم کے ٹیسٹ کئے گئے جس میں سے زیا د ہ تر بو تلو ں کے پا نی میں آر سینک یعنی “سینکیا ں “پا یا گیا ہے۔ دوسرے ٹیسٹ میں بو تل کے پا نی کے مائیکروبیا لو جیکل ٹیسٹ ہو ئے ان میں بیکٹر یا سامنے آیا اور پا نی کو آلو دہ قرا ر دیا گیا۔ تیسرے ٹیسٹ میں سوڈ یم جن کمپنیو ں کے پانی کو غیر محفوظ قرا ر دیا گیا ان میں الحیدر ، نو بل ، ڈرا پ آئس ، الثناء4 واٹر، ڈ یز پیو ر ،ایکواسیف ، ایفٹ واٹر ، بٹ واٹر، ا?ئی سی او واٹر ،کو رل واٹر ، فر یش واٹر ، پا ک ایکوا ، الحبیب واٹر کمپنی ، ایکوا عریبا ء4 ، سلور واٹر ،صو فی واٹر ،ویل کیر واٹر ، نیو ڈ پ لا ئٹ واٹر ،ایکوا واٹر ، ایکواسما رٹ ، نیو سما رٹ ایکوا، رائل بلیوواٹر ،ایکوا نیشنل ، میزا ن پیور واٹر ، سکا ئی بلیو واٹر ، سکا ئی واٹر ،این جی فریش واٹر ،ٹو ٹل واٹر ، ایچ ایف سی واٹر ،نیو نیشنل واٹر ،ڈیذرٹ پیور واٹر شامل ہیں۔ کو نسل نے ر پورٹ وفاقی اور صوبا ئی حکو متو ں کو ارسال کر د ی ہے۔ اس حوالے سے کو نسل نے مزکو ر ہ برا نڈ ز کے پانی کو انسانی صحت کے لئے غیر محفوظ قرا ر دیا ہے۔اور پو ٹا شیم کی مقدا ر ضرورت سے زیا د ہ پا ئی گئی۔

بڑھاپا کسیے جلدی آتا ھے اور اس سے کسیے بچا جا سکتا ھے

oldبڑھاپا کسیے جلدی آتا ھے اور اس سے کسیے بچا جا سکتا ھے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق سست یا غیر فعال رہنے والی خواتین میں زیادہ تیزی سے بڑھاپا آنے کا خطرہ رہتا ہے۔اس تحقیق کے لیے 64 سے95 سال کی1500 خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ وہ خواتین تھیں جو دن کا زیادہ تر وقت یا تو بیٹھ کر گزارتی تھیں یا پھر ہر روز 40 منٹ سے کم ورزش کرتی تھیں۔
تحقیق کیا تو پتہ چلا کہ ایسی خواتین کی خلیے فعال ہیں لیکن زیادہ ورزش کرنے والی خواتین کے خلیات کے مقابلے میں نامیاتی طور پر وہ آٹھ سال بڑی ہیں۔ایک شخص کی جیسے جیسے عمر دراز ہوتی ہے اس کی خلیات کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے۔ اس سے ڈی این اے کی حفاظت کرنے والے عناصر بھی کمزور پڑتے جاتے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ اگر صحت اچھی نہ ہو اور ہماری طرز زندگی ٹھیک نہ ہو تو بڑھاپا تیزی سے آتا ہے۔ اگر بڑھاپے سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بڑھاپے میں بھی انسان کو فعال رہنا چاہیے اور دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے دراصل جب ہم بوڑھے ہو رہے ہوتے ہیں تو ڈی این اے کے سرے پر جو ننھی سی ٹوپی ہوتی ہے وہ سکڑنے لگتی ہے۔ ڈی این اے کی اس ننھی ٹوپی کو ٹیلومیر کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیلومیر جوتے کے فیتے کے سرے پر لگی پلاسٹک کی طرح ہوتی ہے۔ہماری نامیاتی عمر کتنی ہوگی یہ ٹیلومیر کی لمبائی سے پتہ چلتا ہے۔ یہ ہماری کررونولوجیکل عمر سے ہمیشہ مطابقت نہیں رکھتی ہے۔
ٹیلومیر کے سکڑنے یا چھوٹا ہوجانے سے امراض قلب، ذیابیطس اور سنگین قسم کے کینسر جیسی بیماریوں کے ہونے کا خطرہ پیدہ ہوجاتا ہے۔ اس کی لمبائی یہ بھی بتاتی ہے کہ اس شخص کو باقاعدگی سے کتنی ورزش کرنی چاہیے۔یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر علاالدین شاداب کہتے ہیں: ‘ہم نے تحقیق میں پایا ہے کہ جو خواتین کام کے بغیر طویل وقت تک بیٹھی رہتی ہیں لیکن پھر بھی باقاعدہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش کرتی ہیں تو ان کا ٹیلومیر چھوٹا نہیں پڑتا ہے۔’
شاداب کے مطابق: ‘ورزش کرنا تبھی سے شروع کرنا چاہیے جب ہم نوجوان ہوں، جسمانی طور پر ہمیں فعال رہنا چاہیے، اس وقت بھی فعال رہنا چاہیے جب ہم 80 سال کی عمر میں پہنچ جائیں

نیند یا قیلولہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے

sleepingرپورٹ(ڈی این ڈی) ہماری صحت کے لیے دوپہر کو ایک گھنٹے کی نیند یا قیلولہ آپ کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے اس وقت آرام کرنے سے خاص طور پر دماغی امراض سے تحفظ ملتی ہے۔ یہ بات یوں بھی ثابت ہوتی ھے جب امریکن ہیلتھ ان ایجنگ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے دوران تین ہزار افراد کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ یہ عادت دماغ کی عمر بڑھنے سے بچاتی ہے جبکہ یاداشت بھی بہتر رکھتی ہے۔یہ بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہ قیلولہ یا دوپہر کو کچھ دیر سونا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر میں ایک گھنٹے تک سونا دماغ کے لیے فائدہ مند ہے تاہم یہ دورانیہ اس سے زیادہ یا کم نہیں ہونا چاہئے ورنہ فائدہ نہیں ہوتا۔تحقیق کے مطابق جو لوگ دوپہر میں ایک گھنٹے سونے کے عادی ہوتے ہیں وہ یاداشت، ریاضی کے مختلف سوالات اور دیگر چیزوں کو زیادہ بہتر طریقے سے کرپاتے ہیں۔محققین نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی کارکردگی میں کمی آنے لگتی ہے مگر دوپہر کو سونے کی عادت ان افعال کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جبکہ الزائمر یا دیگر امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس عادت سے دور رہنے والے افراد میں دماغی تنزلی کی رفتار زیادہ ہوتی ہے جبکہ کچھ منٹ کا قیلولہ کرنے والوں کو بھی مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔اس سے قبل مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند دل کی صحت کو بہتر بناتی ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔چین میں ایک کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے دوپہر آدھے گھنٹے کی نیند لازمی قرار دی ھے۔چینی حکومت کے مطابق اس انوکھے اقدام سے کمپنی کی پیداوار میں30 فیصد اضافہ ہوا ھے۔حکومت کا کہنا ھے کہ اس انوکھے تجربے سے یہ ثابت ہوتا ھے کہ کارکردگی کی بہتری کے لیے آدھے گھنٹہ کی نیند بہت ضروری ھے۔ پیداورا میں اضافے کے لیے دیگر کمپنیوں کو بھی اس انوکھے تجربے کا اطلاق کرنا چاہیے۔

آج مشروم پلاؤ پکائیں

masroom-japani           آج مشروم پلاؤ پکائیں     imig-2
1۔سب سے پہلے چاول دھو لیجیے۔ 300 گرام چاول چھلنی میں ڈال کر چھلنی کو پانی سے بھرے پیالے میں رکھیے۔ ہاتھ کی مدد سے چاول کے دانوں کو چھلنی میں کئی بار گھمائیے۔ اسکے بعد چھلنی کو پیالے سے باہر نکال کر چاول کو چھلنی کے اندر ہی ہتھیلی سے مسلیے۔ یہ عمل کوئی دس بار دہرائیے۔ پیالے کا پانی بدلیے اور چھلنی کو پیالے میں ڈبو کر چاول کھنگالیے۔ جب پانی دودھیا ہو جائے تو ایک بار پھر پانی بدل کر چاول کھنگالیے۔ اب چھلنی کو پانی کے برتن سے باہر نکال کر تقریباً دس منٹ تک چھوڑ دیجیے تاکہ چاولوں سے فالتو پانی نکل جائے۔
ایک پتیلی میں چاول اور 400 ملی لیٹر پانی شامل کر کے 30 منٹ تک بھگو دیجیے۔ اس طرح چاولوں کے اندر تک پانی جذب ہو جاتا ہے۔
شیمیجی کھمبیوں کیڈنٹھلوں کا خشک اور سخت حصہ کاٹ کر پھینک دیجیے۔ اب ان کھمبیوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر لیجیے۔ شیتاکے کھمبیوں کے ڈنٹھل کاٹ کر ضائع کر دیجیے اور چھتری نما حصے کی تقریباً 5 ملی میٹر چوڑی پٹیاں بنا لیجیے۔ تمام مشروم چھلنی میں ڈال کر فوراً کھنگال لیں اور زائد پانی ہٹانے کے لیے چھلنی کو ہلاتے رہیں۔
2۔شکرقندی کو اچھی طرح سے دھو کر اسکی سطح صاف کر لیجیے اور گولائی میں ایک ایک سینٹی میٹر کے قتلے بنا لیجیے۔ اب ان قتلوں کو ایک مکعب سینٹی میٹر کے ٹکڑوں میں کاٹ لیجیے۔ کٹی ہوئی شکر قندی کو پانی میں بھگو دیجیے تا کہ رنگت تبدیل نہ ہو۔ گاجر چھیل کر چار سینٹی میٹر کے ٹکڑے کاٹ لیجیے۔ ان ٹکڑوں کی لمبائی میں پتلی پٹیاں بنا کر ایک دوسرے کے اوپر رکھیں اور مزید باریک جولئین پٹیاں کاٹ لیجیے۔
چاول والی پتیلی میں کھانے کے دو چمچ سویا ساس ڈال کر ملا لیجیے۔ اب چاولوں کے اوپر سبزیاں اور مشروم رکھیے۔ انہیں چاولوں میں ملائے بغیر پتیلی پر ڈھکن رکھ کر درمیانی آنچ پر اْبالیے۔
.3۔جب اْبال آ جائے اور ڈھکن کے کناروں سے تیزی سے بھاپ نکلنے لگے تو انہیں تقریباً 30 سیکنڈ تک اسی طرح ابلنے دیں۔ اسکے بعد چاولوں کو دھیمی آنچ پر 12 منٹ پکائیں۔ اس دوران کسی بھی وقت ڈھکن نہ اتاریں
4۔تقریباً 12 منٹ بعد چولہا بند کر دیں۔ تاہم اسکے بعد بھی تقریباً 10 منٹ تک ڈھکن نہ اتاریں تاکہ چاولوں کو اچھی طرح سے دم آ جائے۔ دس منٹ بعد ڈھکن اتار کر لکڑی کے گیلے چمچ سے تمام اجزا کو تقریباً 3 بار اچھی طرح سے اس طرح ملائیں کہ پیندے کے چاول بھی اوپر آ جائیں۔ مشروم پلاؤ، پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

غذاؤں کو لازمی جزوبنانے سے جسم میں پھرتی اور دماغ میں تازگی اور یکسوئی پیدا ہوتی ہے

healthہر صبح الارم بجنے پرہم اٹھتے ہیں اورمعمولات کے بعد زندگی کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہوجاتے ہیں لیکن پورا دن ہم سے کام پر توجہ اور یکسوئی کا تقاضہ بھی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض غذاؤں کو لازمی جزوبنانے سے جسم میں پھرتی اور دماغ میں تازگی اور یکسوئی پیدا ہوتی ہے لیکن کافی اور چائے کے مقابلے میں یہ زیادہ پرتاثیر اور بہتر ثابت ہوتی ہیں۔
جان لیں کہ ذہنی طور پر حاضر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ  جاگتے رہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا حافظہ بھی بہتر ہو اورفیصلہ کرنے کی قوت بھی بہترین ہو۔
سیب:
سیب میں قدرتی شکر اور فائبر (ریشے) کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ جسم میں جاکر سیب دھیرے دھیرے ہضم ہوتا ہے اور گلوکوز خارج کرتا رہتا ہے جو دماغ کو توانا رکھتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ سیب میں ایک اہم شے کیورسٹن موجود ہوتی ہے جو اعصابی خلیات کی سوزش کو دور کرتے ہیں۔ ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سیب کا باقاعدہ استعمال نیوروٹرانسمیٹر کو طاقتور بناکر الزائیمر اور دیگر امراض کو دور کرتا ہے۔
مگرناشپتی: (ایواکیڈو)
ایواکیڈو یا مگرناشپتی اب پاکستان کے بڑے اسٹورز پر دستیاب ہے لیکن یہ باہر سے درآ مد کیا جاتا ہے۔ اس میں موجود کئی اہم اجزا دماغی کیفیت، صلاحیت اور افعال کو بڑھاتے ہیں۔ اس کے خاص لحمیات یعنی فیٹس دماغی اعصاب اور ان کے سگنلز کو بہتر بناکر دماغ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں۔
گہرے سبز پتوں والی سبزیاں:
پالک اور گہری رنگت والے پتوں کی سبزیاں دماغ کو برق رفتاری عطا کرتی ہیں۔ ان میں فولک ایسڈ اور وٹامن بی 9 کی وافر مقدار ہوتی ہے جنہیں فولیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر جسم میں ان اجزا کی کمی ہوجائے تو ا سے ڈپریشن کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس سے دماغ کے اندر کیمیائی توازن متاثر ہوجاتا ہے۔
ناشتہ:
جی ہاں صبح کا ناشتہ آپ کے ذہن کو تازہ و بہتر رکھنے کی سب سے پہلی کلید ہے۔ خواہ دلیہ کھائیں، انڈہ یا دہی۔ ناشتے میں ان کا استعمال مختصر مدت کی یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔ جو لوگ صبح کے ناشتے میں یہ چیزیں استعمال کرتے ہیں وہ امتحانات میں اعلی کارکردگی دکھا پاتے ہیں۔