Category Archives: کالم

پاکستان پڑوسیوں کے لئے ایک بوجھ یا سازشوں میں گھری لاچار ریاست؟

roznama-taqatarticle may 15 iqrar

 
پاکستان کو اس وقت ایک ناخوشگوار صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ اس کے تین ہمسائے اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ یہ ان کے دشمنوں کا سہولت کار بنا ہو ا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے نا صرف دہشت گرد گروپ جیش العدل کو پناہ دینے کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے بلکہ پاکستان کو دھمکی بھی ہے کہ وہ اس کی حدود کے اندر دہشت گردوں کو براہ راست نشانہ بنا سکتے ہیں ۔
دوسری جانب افغانستان پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ اس کی پشت پناہی میں حقانی گروپ کابل حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ بھارت بھی پٹھان کوٹ اور اووری حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان پر مسلسل سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہے۔
دریں اثناء پاکستان کا موقف ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے ساتھ ملکر پاکستان کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے ایرانی سرزمین کو بھی استعمال کیا جار ہاہے جس کا واضح ثبوت ایرانی سرحدکے ذریعے پاکستانی حدود میں داخل ہوتے وقت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے۔گزشتہ سال مارچ میں بلوچستان کے علاقے ماشخیل میں گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادو نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک جعلی نام کے ساتھ ایران میں رہ رہا تھا اورپاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے اسے این ڈی ایس کی آپریشنل حمایت حاصل تھی۔
کلبھوشن یاد و کے بیان سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان کے تین پڑوسی ایران، افغانستان اور بھار ت بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسے غیر مستحکم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی تھی، اور تہران کی اس وضاحت کو اسلام آباد نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔
کیایہ اتفاق تھا کہ 25مارچ 2016کو آئی ایس پی آر کی جانب سے کلبھوشن یادو کی گرفتاری سے متعلق خبر ایک ایسے وقت میں شائع ہوئی جب ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان کے دوروزہ سرکاری دورے پر تھے۔پاکستان میں سفارتی حلقوں کا خیا ل تھاکہ ایرانی صدر کے دورے کے موقع پر یہ مناسب نہیں تھا کہ کلبھوشن یادو کی گرفتاری کی خبر کو منظر عام میں لایا جائے۔تاہم پاکستان کے سفارتی کیڈر کا موقف تھا کہ ریاستی اداروں کا یہ استحقاق ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کونسی خبر کو کس وقت شائع کرنا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہو ا ہے لیکن پھر بھی اسے خطے میں دہشت گردوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر حمایت فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا جار رہا ہے۔گزشتہ10سالوں میں پاکستان میں 70,000سے زائد معصوم شہریوں کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے شہید کر دیا جس کے امیر ملا فضل اللہ بلاشبہ افغانستان میں روپوش ہیں۔ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے اعترافی بیان میں دنیا کو یہ واضح طور پر بتادیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے مالی جبکہ افغان حکومت کی طرف سے آپریشنل تعاون حاصل ہے۔
ایران کا دعوی ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں موجود دہشت گرد تنظیم جیش العدل کے جنگجوؤں نے سرحد پار سے حملہ کر کے ایرانی سرحد کی نگرانی پر مامور10 گارڈز کو ہلاک کر دیا۔حیرت کی بات ہے کہ ایران اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ جیش العدل سب سے خطرناک دہشت گرد گروپ جنداللہ کی ایک شاخ ہے اور جو گزشتہ چھ سالوں میں 500سے زائد پاکستانی شہریوں سے ان کی زندگیاں چھین چکا ہے۔جیش العدل دہشت گرد تنظیم جنداللہ (خدا کے سپاہی) کے سربراہ عبدالماک ریگی کی پھانسی کے بعد قائم کی گئی ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سن 2000کے وسط میں جنداللہ کراچی اور بلوچستان میں موجود تھی اور پاکستان اور ایران کے اندر بہت سی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہی۔پاکستان میں سرگرم جنداللہ کو ٹی ٹی پی چلاتی تھی جبکہ جنداللہ کا امیر عبدالمالک ریگی پاکستان میں ہی پلابڑا اور کراچی کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کرتا رہا۔جنداللہ مبینہ طور پر کراچی میں 2004میں پاکستان آرمی کے ایک جنرل پر حملے میں بھی ملوث رہی تاہم جنرل اس میں محفوظ رہے۔
عبدالمالک ریگی ایران میں گرفتار ہوا اور پھر 2010میں اسے پھانسی دے دی گئی۔اس کی گرفتاری کی تفصیلات کے مطابق،وہ 23فروری 2010کو دبئی سے کرغستان کے دارلحکومت بشکیک جانے والے ایک تجارتی ہوائی جہاز میں سوار تھا۔جب تجارتی جہاز خلیج فارس میں داخل ہوا تو ایرانی جنگی طیاروں نے پائلٹ کوجہاز ایران میں اتارنے کو کہا۔جہاز نے بند ر عباس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کیا ،ایرانی فورسز نے عبدالمالک ریگی کی شناخت کی اور اسے گرفتار کر لیا۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریگی کے پاس افغان پاسپورٹ ہونے کے علاوہ پاکستان، خلیجی ممالک، یورپین ممالک اور مشرق وسطی کے ممالک کے ویزے تھے جو اسے کابل میں قائم ان ممالک کے سفارت خانوں نے جاری کئے تھے۔اپنے اعترافی بیان میں ریگی نے دعوی کیا کہ وہ بشکیک شہر کے قریب قائم مناس ایئر بیس میں موجود امریکی فوجیوں کو اطلاع دینے جا رہا تھا۔
ایرانی حکام کہ معلوم ہے کہ عبدالمالک ریگی افغان حکام کے ساتھ رابطے میں تھا اور وہ افغان پاسپورٹ اور شناخت کو استعمال کر رہا تھا۔ایرانی حکام کو یہ بھی معلو م ہے کہ جنداللہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہی ہے اور اب وہ افغانستان میں موجود ہے۔
اسی طرح ایرانی حکام کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ جنداللہ ہی وہ دہشت گرد تنظیم ہے جس نے پاکستان میں بہت سے دہشت گرد حملوں بشمول 2013میں نانگا پربت میں سیاحوں پرحملے، 2013میں پشاور چرچ پر حملے، واہگہ بارڈر پر خودکش دھماکے اور 30جنوری 2015میں شکاپور میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔
جنداللہ پاکستان کے دشمن کے طور پر جانی جاتی ہے اور جیش العدل اسی کی ایک شاخ ہے۔
پاکستان نے 9مئی 2017کوایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے سرحد پار حملوں سے متعلق بیان پر اپنے تحفظات سے ایران کو آگاہ کیا ۔اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے مابین قائم دوستانہ تعلقات کی روح کے خلاف ہیں۔ایران سے کہا گیا کہ ایسے بیانات دینے سے گریز کیا جائے جس سے دوستانہ تعلقات کا ماحول خراب ہو جائے۔
پاک ایران تعلقات یقیناًگزشتہ ایک سال سے مشکل دور سے گزرہے ہیں لیکن پھر بھی دونوں ممالک اس حقیقت کو کھلے عام تسلیم کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ایران پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے زیر قیاد ت عسکری اتحاد کو فراہم کردہ فوجی حمایت سے خوش نہیں ہے۔ایران نے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ)راحیل شریف کی بطور سعودی عسکری اتحاد کے سربراہ کے تعیناتی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ جنرل (ریٹائرڈ)راحیل شریف سعودی عرب او رایران کے دو طرفہ تعلقات کو بہتر کرنے میں اپنا کردا ر ادا کر سکیں گے ،اور عسکری اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے استعمال ہو گا۔
تاہم علاقائی مبصرین کا ماننا ہے کہ 20فیصد سے بھی کم امکانات ہیں کہ سعودی عرب عسکری اتحاد میں ایران کی شمولیت کو تسلیم کرے گا۔پاکستان پر امید ہے کہ یہ سعودی عر ب اور ایران کے کشیدہ تعلقات کو بہتر کر نے میں اپنا تاریخی کردار نبھا پائے گا۔تاہم صرف وقت ہی یہ بتا پائے گا کہ کیسے عرب اور عجم اپنے ہزاروں سال پرانے نظریاتی اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کو قبول کر لیں گے یا نہیں، اور کیسے ایران کی شیعہ ریاست اپنی حریف سعودی عرب کی وہابی ریاست کے ساتھ گھل مل جائے گی؟
یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے باہمی اختلافات مشرق وسطی میں ان کے مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ ان کے ایک دوسرے سے مختلف نظریات بھی ہیں۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے ،اور اسلام آباد اور تہران کے درمیان ماضی میں خوشگوار روابط رہے ہیں لیکن ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد اس کی معیشت پر بھارتی اثرات نے تہران کو اسلام آباد کے لئے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا ہے۔امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیئے تھے لیکن بھارت اور چین نے باوجود امریکی پابندیوں کے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات قائم رکھے۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب اور سپر پاور امریکہ کے ساتھ پاکستان اپنے تعلقات بگاڑ نہیں سکتا ہے جبکہ یہ دونوں ممالک ایران کو اپنے لئے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان گزشتہ 40سالوں سے امریکہ اور مشرق وسطی کی جانب جھکاؤ رکھتی خارجہ پالیسی کو اپنائے ہوئے ہے، اور ان دونوں ممالک کے ساتھ ملکر افغانستان میں سابق سوویت یونین کے ساتھ جنگ لڑ چکا ہے۔پاکستان اب خود کو سعودی عرب سے الگ نہیں کر سکتا ہے کیونکہ وہ ایک اہم دروازہ ہے جس کے ذریعے پاکستان امریکہ اور مشرق وسطی میں اپنے داخلے کو یقینی بنائے رکھتا ہے۔
ایران پاکستان کے روائتی حریف بھارت کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے میں مکمل آزاد ہے لہذا پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ سعودی عرب اور امریکہ کا ساتھ دیکر اپنے مفاد ات کو پورا کرے۔
صرف چین اور ایران کے مابین تعلقات ایک ایسا معاملہ ہے جس پر پاکستان کے اعلیٰ حکام کو سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کے زیر انتظام گوادر بندگاہ کو ایران بجلی فراہم کرتا ہے اور ایران چین کو اپنے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا ایک اہم جزوسمجھتا ہے ۔چین نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو گوادرپورٹ کی سیٹلائٹ بندرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چابہار بندرگاہ وسطی ایشیاء کی ساتھ منسلک ہے۔
تہران کو یہ سمجھنا چاہئے کہ چین ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر رہا ہے،اور سعودی عرب کے بادشاہ کے حالیہ دورہ چین کے دوران دونوں ممالک نے 65ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئے۔
پاکستان کو دھمکیاں دینے یا اس پر جیش العدل کو پناہ دینے کا الزام لگانے سے ایران کو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ بھارت کو۔بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں رکاوٹ ڈال کر ناصرف جنوبی چین کی صنعتی ترقی کو روکا جائے بلکہ پاکستان اور ایران کی معاشی ترقی کو بھی جمود کا شکا ر کیا جائے کیونکہ سی پیک کے مکمل طور پر آپریشنل ہو جانے کے بعد گوادر کا شمار دنیا کے بڑی بندرگاہوں میں ہو گا اور چابہار بندرگاہ اس کا ایک اہم حصہ ہو گی۔
آغا اقرار ہارون گزشہ 29سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ماں تجھے سلام

ماں تجھے سلام

shakila jalil logoماں کی قدر اس کی زندگی میں کریں ، محبت بھرا سایہ اٹھ گیا تو پھر صرف پچھتاوا ہوگا
ماں کے رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں، کوئی لفظ، جملہ، عبارت ،مضمون اس کا حق ادا نہیں کر سکتا

گلاب کی خوشبو، چاندنی کی ٹھنڈک، لازوال محبت، شفقت ، تڑپ ، ےاس و قربانی اگر ان تمام لفظوں کو یکجا کیا جائے، تب تین لفظوں پر مشتمل لفظ ”ماں“ بنتا ہے۔ بلاشبہ دنیا میں ”ماں“ سے زیادہ میٹھا لفظ اور سچا رشتہ کوئی اور نہیں۔ ”ماں“ کے تصور میں جاتے ہی لگتا ہے کہ جیسے تپتی دھوپ میں ایک دم سر پر کسی نے سایہ تان دیا ہو، ماں بچے کےلئے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے ماںبچے کو ڈانٹ دے تب بھی بچہ اسی کی باہوں میںپناہ لیتا ہے۔کیونکہ اس کی ڈانٹ ڈپٹ میں بھی پیار چھپا ہوتا ہے ۔زندگی میں رشتے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور زندگی کی تمام تر خوبصورتیاں اس سے منسلک رشتوں میں ہیں ماں باپ، بہن بھائی ، دوست ، عزیز رشتہ دار یہ سب رشتے ہمیں زندگی کا احساس دلاتے ہیں انھی رشتوں سے ہم خوشیاں کشید کرتے ہیں ، مگر ان تمام رشتوں میں ماں باپ وہ واحد رشتہ ہے جو خود غرضی سے پاک ہوتا ہے جس میں حسد نہیں ہوتا،آج کے مادیت پرستی کے دور میں جب بہن بھائی ایک دوسرے کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے زمین جائیداد کے بٹواروں کے ساتھ دل بھی ایک دوسرے کی محبت سے خالی ہو چکے ہیں۔ ہر شخص صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے کوئی کسی کو ترقی کرتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتا بلکہ حسد میں مبتلا ہو جاتا ہے اس دور میں بھی ایک ایسا رشتہ موجود ہے جو باہیں پھیلا پھیلا کر اپنی اولاد کی ترقی و سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے۔ وہ رشتہ بھلا ماں کے سوا اور کون سا ہو سکتا ہے۔ ماں باپ کی ہستی ایسی ہے جو اپنی اولاد کوآگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتی ہے ،اور ماں باپ میں بھی ”ماں“ اپنی اولاد کے زیادہ نزدیک ہوتی ہے ماں جو اپنے بچے کی ایک تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے۔ بقول شاعر
اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ماں جس کے وجود سے دوسرے وجود کی تخلیق ہوتی ہے اور اسی تخلیق کی ذمہ داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنت کو اس کے قدموں کے نیچے رکھ دیا۔ وہ جنت جس کے حصول کیلئے لوگ ہزاروں سال عبادتوں میں گزار دیتے ہیں وہ ماں کے قدموں تلے موجود ہے ماں کا وجود تو بذات خود جنت ہے۔ جو گوشت کے ایک لوتھڑے کو جنم دینے کے بعد اس کی پرورش میں دن رات صرف کرتی ہے ابھی ایک ننھا منا وجود پروان چڑھنا شروع نہیں کرتا کہ اس کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بنانا شروع کردیتی ہے۔ کپڑے، موزے، سویٹر، جوتے ، کھلونے اور نہ جانے کیا کیا۔ جب ایک ننھے سے وجود کیلئے ماں کی محبت کا یہ حال ہے تو سوچیے جسے وہ بیس سال لگا کر جوان کرتی ہے اس کے لیے اس کے دل میں کیسی محبت ہوگی۔ ماں کی آغوش بچے کیلئے وہ پناہ گاہ ہے جس پر سر رکھ کر وہ سارے دکھ بھول جائے، سکون کی نیند سوئے، کیونکہ ماں کی آغوش محبتوں سے بھری ہوتی ہے۔
دھرتی کی طرح ماں مجھے آغوش میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
ماں کا رشتہ بھی کیسا عجیب رشتہ ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں کوئی لفظ، جملہ، عبارت ،مضمون اس کا حق ادا نہیں کر سکتا بھلا انسان کس طرح اس رشتے کا قرض اتار سکتا ہے،
ایک بار حضور پاک سے کسی صحابی ؓنے سوال کیا کہ مجھ پر سب سے زیادہ حق کس ہستی کا ہے ،آپ نے جواب دیا تمہاری ماں کا ،صحابی ؓنے پھر سوال کیا اس کے بعد مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے آپ نے پھر فرمایا تمہاری ماں کا ۔صحابی ؓنے پھر پوچھا تو آپ نے پھر کہا کہ تم پر سب سے زیادہ حق تمہاری ماں کا ہے چوتھی دفعہ پوچھنے پر کہا کہ تمہارے باپ کا ۔
اسی طرح ایک صحابی ؓ نے اپنی معزور والدہ کو کندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ،حج سے واپسی پر اس صحابی ؓ نے حضورپاکسے سوال کیا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنی والدہ کو حج کو کندھوں پر بٹھا کر حج کروایا کیا میں نے ان کا حق ادا کر دیا ،آپ نے جواب دیا تم اس ایک رات کا قرض بھی نہیںاتار سکے جب تم نے رات کو بستر گیلا کر دیا تھا اور تمہاری ماں نے تمہیں وہاں سے اٹھا کر خشک جگہ پر لٹا دیا اور اسی جگہ پر رات بسر کی ۔
حضورپاک کے ان چند ارشادات سے پتا چلتا ہے کہ”ماں “ کی ہستی کیا ہے ۔اور اس کا ہم پر کس قدر حق ہے ۔اور ساری زندگی کی خدمت کر کے بھی ان کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا ۔
بھوک اپنی مٹا کر کھلایا ہم کو
نیند اپنی بھلا کر سلایا ہم کو
دکھ نہ دینا کبھی اس ہستی کو
زمانہ کہتا ہے ماں جس کو
عام طور پر ماﺅں کو بیٹے بہت پیارے ہوتے ہیں مگر ہنستی مسکراتی، چہکتی بیٹیاں بھی ماﺅں کے دلوں کی ٹھنڈے ہوتی ہیں اگر بیٹے آنکھوں کا نور ہوتے ہیں، تو بیٹیاں دلوں کی دھڑکن مائیں شروع ہی سے بچیوں پر روک ٹوک جاری رکھتی ہیں۔ انہیں ”پرائے گھر“ کے ڈراﺅے دیتی ہیں، مگر انہیں ذرا سا افسردہ اور پریشان دیکھ کر تڑپ جاتی ہیں ماں کی اس ڈانٹ ڈپٹ میں بھی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوتا ہے اور وہ صرف اس لیے بیٹی کو کم توجہ دیتی ہیں کہ پرائے گھر جا کر اسے ماں کی یاد نہ ستائے، لیکن ماں اپنی محبت بیٹی کے دل میں اس کی اولاد کے لیے ضرور ڈال دیتی ہے کیونکہ یہی بیٹی جب خود ماں بنتی ہے تو اسے ماں کی ممتا کااحساس ہوتا ہے ۔
آج ماں بن کے یہ احساس ہوا
کس قدر چاہتی ہے ماں مجھ کو
ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو پوری دنیا میں ماں کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن منایا جا تا ہے ویسے تو زندگی کے ہر اک لمحے بھی ماں کو خراج تحسین پیش کیا جائے تو کم ہے۔ لیکن عالمی دن کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ دنیاوی ضرورتوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اور ترقی کے راستوں پر گامزن ہونے کے لئے بہت سے دیگر رشتوں کے ساتھ اس خوبصورت رشتے کو بھی فراموش کئے ہوئے ہیں ان کے ذہنوں پر یہ دن ایک دستک ہے کہ اپنے وقت میں سے اپنی جنت کے لئے سال میں ایک دن ضرو ر نکالیں ،کیونکہ اگر وہ ماں کی محبت کھو دیتے ہیں تو وہ دنیا کی حکمرانی حاصل کر کے بھی بد نصیب ہی کہلائیں گے ،اسی طرح بعض لوگ ماں کی نصیحتوں کو اپنے لئے بوجھ سمجھتے ہیں اور اگر ماں کسی بات کا پوچھے تو ان کو ناگوار گزرتا ہے مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ اسی ماں نے ان کی توتلی زبان کو سمجھتے ہوئے اس کی ضرورتیں پوری کیں ۔اور اس کوبولنا، چلنا ،دنیا میں آگے بڑھنا سکھایا ۔کوشش کرئیں کہ کبھی آپ کے لہجے سے دکھی ہو کر ماں کو یہ نہ کہنا پڑے ۔
بیٹا جب تو چھوٹا تھا
تیری ہر بات سمجھ آتی تھی
جب سے تو بڑا ہوا ہے
تیری کوئی بات سمجھ نہیں آتی
ماں جب تک حیات ہو شائد اس وقت تک اس کی محبت کا احساس دل میں نہ جاگے ،مگر جب ماں کا سایہ ان کے سر سے اٹھ جاتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ بھری دنیا میں تنہا رہ گئے اس لیے عہد کیجئے کہ کچھ بھی ہو جائے ماں کی پناہ گاہ اس کی آغوش سے دور نہیں ہونا اس کے قرب میں ہی اطمینان و سکون ہے اور اس کی خوشی میں ہی جنت الفردوس ، ماں کو سلام پیش کریں اور قدر کریں کیونکہ آپ کاوجود اس ”ماں“کے ہی مرہون منت ہے۔

چیئرمین پیمرا ابصار عالم کو دھمکیاں

خالد جمیل
Khalid Jamil
ابصار عالم سے پہلا تعارف بیس سال قبل ہوا تھا ، جب میں نوائے وقت میں تھا اور ابصار عالم دی نیشن میں ۔ بطور صحافی ابصار کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اعلی صحافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فرائض سرانجام دئے ۔ وہ ایک سبک رفتار رپورٹر ، دوست نما منیجر اور معاملہ فہم ایڈیٹر/ڈائریکٹر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ تاہم جب سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سربراہ کی حیثیت سے کام شروع کیا تو مختلف سیاسی و صحافتی حلقوں میں تنقید بھی کی گئی ۔
معاشرہ کے ہر فرد کی طرح صحافی کی بھی کسی نہ کسی نظریہ ، سوچ ، فکر ، سیاسی جماعت یا ریاستی ادارہ سے وابستگی یا ہمدردی ہوتی ہے ۔ اچھے صحافی کا یہی کمال ہوتا ہے کہ وہ کسی قسم کی وابستگی سے بالا ہوکر عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے ۔ ابصار عالم نے دوران صحافت ایسی ہی اقدار کی حتی الامکان کوشش کی ۔ تاہم مسلم لیگ نون کے قائد کا انتخابی نتائج کی تکمیل سے قبل ہی جشن فتح کا خطاب شروع ہوا تو ابصار عالم بھی ان چند افراد میں نوازشریف کے شانہ بشانہ موجود تھے ۔ یہیں سے پہلے چند نامور صحافیوں نے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا اور پھر جب ابصار عالم کو چیئرمین پیمرا تعینات کیا گیا تو سیاسی مخالفین نے بھی تنقید کے نشتر برسائے ۔
بطور چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے متعدد اچھے اقدامات بھی کئے ۔ بے لگام آزادی صحافت کے نام پر ٹی وی سکرین پر جس قسم کی بےہودہ نشریات اور پروگرام دکھائے جا رہے تھے ، کوئی بھی شریف النفس فرد انہیں خاندان کے ہمراہ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ اطلاعات و معلومات اور اصلاح کے نام پر جس نوعیت کے مجرمانہ افعال و کردار کی تشہیر کی جارہی تھی ، اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی ۔ ابصار عالم نے کم وقت میں اس نوعیت کی بیشتر نشریات کو ضابطہ اخلاق کے دائرہ کار میں لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی ۔
ابصار عالم کی ان کوششوں کے سبب ، ٹی وی مالکان اور ان کے محکمہ اشتہار والے اشتہاری کارندے بھی ان سے ناراض ہوگئے ، جن کا سارا دھندا ہی اس سستی شہرت کے ریٹنگ سسٹم پر کھڑا تھا ۔ پھر بول ٹی وی کا مسئلہ شروع ہوا اور ایسی طول پکڑی کہ معاملہ پہلے تنازعہ بنا اور پھر انا کی جنگ میں بدل گیا ۔ بول ٹی وی کے معاملہ میں حکومت اور پیمرا کے کردار پر متعدد جائز سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔ اٹھائے بھی گئے اور مستقبل میں بھی یہ کیس بطور حوالہ استعمال کیا جاتا رہے گا ۔ مگر جو کچھ بول کی سکرین پر کیا جارہا ہے ، شاید وہ بھی مستقبل میں ایک منفی صحافت کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا ۔
ابصار عالم کی قیادت میں پیمرا کے کچھ ایسے اقدامات بھی ہیں ، جن کو تنقید اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتاہے ۔ ایک سال قبل اسی فیس بک پر ایک حساس معاملہ کی کوریج کے تناظر میں میں نے بھی پیمرا کو تنقید کا نشانہ بنایا ، ابصار عالم کے جوابی ردعمل پر طنز کے نشتر سے بھرا جواب بھی دیا ، مگر صحافتی روایات و اقدار کے دائرہ میں رہ کر یہ مباحثہ ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ہمارے دلوں میں نفرت کی بجائے آج بھی ایک دوسرے کے لئے نیک خواہشات پائی جاتی ہیں ۔
ابصار عالم کی ذات یا پیمرا سے کسی کو لاکھ اختلافات ہوسکتے ہیں ، ہونے بھی چاہیں ، مگر ان اختلافات کا اظہار تہذیب کے دائرہ میں ہی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے ۔ اختلاف کرنے والے ان اداروں اور افراد کو ، جو خود آزادی اظہار اور اعلی صحافتی اقدار کا دعوی کرتے ہوں ، یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قومی اداروں کے سربراہوں یا اہلکاروں کو دھمکیاں دیں ۔ الفاظ کی مدد سے حقوق کی جنگ لڑنے کے دعویداروں کو گولی یا گالی کی زبان میں بات کرنے سے قبل قلم اور کیمرہ ترک کردینا چاہیے ۔

پاک افغان تعلقات: یکطرفہ محبت کی المناک داستان

jinnaharticle may 9

پاک افغان تعلقات: یکطرفہ محبت کی المناک داستان
افغان فورسز کی جانب سے چمن سرحد کے نزدیک حالیہ بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 11 پاکستانی شہید ہو گئے جبکہ بچوں، عورتوں اور پاکستانی فوج کے جوانوں سمیت 50 سے زائد افرا د زخمی ہو گئے۔افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے اس حملے میں بلوچستان کے علاقے چمن میں جاری مردم شماری میں سرگرم عمل ٹیم کی سیکورٹی پر تعینات ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ 5مئی کو ہونے والا یہ حملہ اسی ہفتے میں کیا گیا جب پاکستان کے اعلیٰ سول اور عسکری حکام بشمول ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور چیف آف جنرل سٹاف (سی جی ایس) لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر کابل کے دورے پر گئے تھے۔
ایسے ہائی پروفائل دوروں کے بعد سرحد پار سے حملہ کر کے کابل نے کیا پیغام دیا ہے؟ اسے سمجھنے کے لئے منطق کی بھاری بھر کم کتابوں کی ضرورت نہیں ہے۔
پاکستان کا خیال ہے کہ افغان اس کے بھائی ہیں اور پاک افغان تعلقات کو بگاڑنے میں اس کے روایتی حریف بھارت کا ہاتھ ہے ۔ تاہم تاریخ کچھ اورہی بتاتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے 2000 کے اوائل سے افغانستان میں موجود ہے لیکن پاکستان اس بات پر تبصرہ کرنے سے کیوں کتراتا ہے کہ را کو ایسا کرنے کی دعوت کس نے دی اور اس کا مقصد کیا تھا؟۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین 1947 سے جاری دو طرفہ تعلقات دراصل یکطرفہ محبت کی طرح ہیں لیکن یہ محبت دیگر عام محبتوں سے مختلف ہے۔
محبت اور نفرت کی اس داستان میں ایک کردار (پاکستان) نے دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو کر اس کے بچوں کو پناہ دی اور اپنی زندگی (معاشرے) کو تباہ کر دیا جبکہ دوسرے نے اس یکطرفہ محبت کا جواب گولیوں اور خون خرابے سے دیا۔
پاکستان افغانستان سرحدی جھڑپوں کی تاریخ کئی دہائیوں پرانی ہے جب 1955 میں افغانستان نے پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بڑنے پیمانے پر حملے کئے جس کے بعد دونوں ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا، اور کابل حکومت کی ایما پر شرپسند لوگوں نے کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے اور قندھار اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانوں پر حملے بھی کئے۔
سن 1960میں افغان فورسز نے پاک افغان سرحد پر ٹینکوں سے حملہ کیا اور بعد ازاں سرحد کے تحفظ کے لئے پاکستان ائیر فورس کی مدد حاصل کی گئی۔پاکستان اور افغانستان کے مابین سفارتی تعلقات ایک بار پھر 1961 میں کشیدہ ہو گئے اور طور خم سرحد پر ہر قسم کی نقل و حمل ایک سال سے زائد عرصے تک معطل رہی۔
سن 60 سے  70 کی دہائی کے وسط تک پاک افغان تعلقات کشیدہ رہے اور پھر جب کابل حکومت کی دعوت پر سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان نے کابل کی محبت میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی۔سوویت فوجوں کے خلاف امریکہ کے شروع کئے گئے ’’آپریشن سائیکلون‘‘ میں پاکستان نے فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کیا اور لاکھوں افغانوں کو پاکستان کے اندر پناہ لینے کی دعوت دے دی۔یوں افغان اکیلے پاکستان میں نہیں آئے بلکہ اپنے ساتھ منشیات ،AK47،انتہا پسندی اور عسکریت پسندی پر مبنی سوچ اور روایات لے کر آئے جنہوں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔افغانستان سے آنے والوں کی اکثریت نے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے سے انکار کر دیا اور پاکستان میں پہلے سے مقیم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہنا شروع کر دیا ۔رشتہ داروں نے افغانوں کی پاکستان میں زمین کی خریداری، پاکستانی پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ کے حصول، کاروبار کرنے اور شادیاں کرانے میں مدد کی ۔یوں پہلی دہائی میں ہی پاکستانی معاشرے میں افغان معاشرے نے اپنا رنگ جمانا شروع کر دیا اورایک ایسی نئی نسل نے جنم لیا جو کسی پاک افغان سرحد پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ ان کے رشتہ دار سرحد کی دونوں جانب رہتے ہیں۔اس صورت حال نے ایک آزاد اور روادار پاکستانی معاشرے کو تباہ کر کے رکھ دیا ،اور انتہاپسندی اور دہشت گردی کی پھینٹ چڑھ کر اس ملک نے گزشتہ 10سالوں میں اپنے  70,000 معصوم شہریوں کو کھو دیا۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے افغانستان کے بارے میں اپنائی گئی ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ کی پالیسی نے افغان معاشرے کے لئے پاکستان کو ’’گھر کا پچھواڑہ‘‘بنا دیا ہے جہاں افغانستان سے لائی گئی منشیات و ہتھیار ، اور وسطی ایشیا ء سے لائی گئی انتہا پسندی پھینکی جاتی ہے۔
پاکستان کا خیال تھا کہ 3.5ملین افغانوں کی مہمان نوازی کر کے یہ ان کی اور مستقبل کی افغان حکومتوں کی محبت پا لے گا تاہم یہ ایک ایسا خواب تھا جو کبھی سچ نہ ہوا۔پاکستان کی دعوت پر پناہ کے لئے آنے والے 3.5ملین افغانوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق اب 12ملین سے بڑھ چکی ہے اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے ہاں 60,000سے 80,000بچے پیدا ہوتے ہیں۔
سابق سوویت یونین 1989میں افغانستان سے واپس چلی گئی اور پھر وہاں ایک ایسی خانہ جنگی کا آغاز ہوا جو اب بھی جاری ہے۔پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے مبینہ طور پر 1995 کے اوائل میں طالبان کی حمایت کی لیکن 9/11کے واقعے کے بعد امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی افواج کے افغانستان پر حملے کے باعث طالبان کی حکومت 2001 میں ختم ہو گئی۔
افغانستان میں امریکہ نواز حامد کرزئی ، جو کہ خود بھی روس افغان جنگ کے بعد پاکستان میں ایک پناہ گزین کی حیثیت سے رہے تھے، کی حکومت بننے کے بعد سے اب تک کسی آزاد حکومت کا قیام عمل میں نہیں آیا ہے۔
حامد کرزئی بطور افغان صدر پاکستان کے معاملے میں بہت سخت رہے تھے اور افغانستان کے اند ر ہونے والی ہر کاروائی کا الزام پاکستان پر لگاتے تھے۔پاکستان کا خیال تھا کہ حامد کرزئی بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور جب افغانستان میں نئی حکومت قائم ہو گی تو دونوں ممالک کے تعلقات دوستانہ ہو جائیں گے تاہم پاکستان کا یہ خواب بھی کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی پاکستان کے معاملے میں اپنے پیشروسے بھی زیادہ سخت نکلے ۔اگرچہ اشرف غنی بھی 1978 میں روس افغان جنگ کے آغاز کے بعد کئی سال تک پاکستان میں پناہ گزین رہے تھے۔
حامد کرزئی کے دور میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی بڑھی اور افغان فورسز نے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے شروع کر دیئے۔ایسا پہلا واقعہ تقریبا 10سال پہلے 13مئی 2007 کو رونما ہوا۔
13مئی 2007 سے پاکستان میں افغانستان کی جانب سے سرحد پار سے حملوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔افغان فورسز کی جانب  سے پاکستانی سرزمین پر سب سے بدترین حملہ 13جون  2016 میں کیا گیا جس میں افغان آرمی نے بھاری توپ خانہ استعمال کرتے ہوئے طور خم سرحد پر میجر علی جواد چنگیزی سمیت کئی پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا ۔
کوئی نہیں جانتا کہ افغانوں کے لئے پاکستان کی یکطرفہ محبت کب تک جاری رہے گی اور افغان حکومت کے ہاتھوں اور کتنے پاکستانی اپنی جان گنوائیں گے؟۔
مجھے معروف آنجہانی امریکی گلوکارایولس پریسلے کی 1956 کی البم کا ایک گانا یا د آرہا ہے؛
اگر تم چاہتے ہو کہ تم سے محبت کی جائے
تو تمہیں بھی مجھ سے محبت کرنی ہوگی
کیونکہ میں یکطرفہ محبت کا قائل نہیں ہوں
ویسے ایک منصفانہ تبادلہ کوئی ڈکیتی نہیں ہے
اور ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ سچ ہے
کیا پاکستان بھی ایسا پیغام افغانستان کو دے گا؟
آغا اقرار ہارون گزشتہ 29سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرقی یورپ میں مبصر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔